طلاقِ ثلاثہ ایک مجلس میں: 9 اعتراضات کے مدلل جوابات

طلاقِ ثلاثہ ایک مجلس میں: 9 اعتراضات کے مدلل جوابات

طلاقِ ثلاثہ کا مسئلہ صدیوں سے فقہی مباحث کا موضوع رہا ہے۔ ایک طرف جمہورِ امت — چاروں ائمہ اور ان کے پیروکار — کا موقف ہے کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تینوں واقع ہو جاتی ہیں، اور دوسری طرف ایک اقلیتی رائے ہے کہ یہ صرف ایک شمار ہوں گی۔ اس مضمون میں اس مسئلے پر پیش کیے جانے والے نو مشہور اعتراضات کے مدلل اور باحوالہ جوابات پیش کیے جا رہے ہیں۔

شروع میں ایک بنیادی بات ذہن نشین کر لیجیے: احناف کے نزدیک ایک مجلس میں تین طلاق دینا بدعت اور گناہ ہے، لیکن اگر کسی نے تین طلاقیں دے دیں تو تینوں واقع ہوں گی۔ یعنی “طریقۂ طلاق غلط تھا” سے یہ لازم نہیں آتا کہ “طلاق کا شرعی اثر بھی ختم ہو گیا”۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو اکثر مباحث میں خلط ملط کر دیا جاتا ہے۔

پہلا اعتراض: نمازِ فجر کے ساتھ ظہر و عصر پڑھ لینے کی مثال

اعتراض کا خلاصہ: اگر شرعی طریقہ اختیار نہ کرنے کے باوجود حکم نافذ ہو جاتا ہے، تو کیا فجر کے وقت ظہر اور عصر پڑھ لی جائیں تو تینوں نمازیں ادا ہو جائیں گی؟

جواب

یہ قیاس دو بالکل مختلف قسم کے شرعی ابواب کو خلط کر دیتا ہے: عبادتِ محضہ اور تصرفِ قولی۔ نماز میں وقت محض ایک “بہتر طریقہ” نہیں بلکہ خود نماز کی شرطِ صحت اور اس کی حقیقت کا جزو ہے۔ “ظہر” کا مطلب ہی ہے زوال سے عصر تک ادا کی جانے والی نماز؛ اسے فجر کے وقت پڑھنا “غلط طریقے سے ظہر پڑھنا” نہیں بلکہ اصلاً ظہر کا وقوع ہی نہیں ہو سکتا — یہ ایک منطقی استحالہ ہے۔

طلاق اس کے برعکس ایک تصرفِ قولی ہے جس کا نفاذ اہلیت رکھنے والے شخص کے واضح الفاظ سے متعلق ہے، نہ کہ کسی خاص وقت سے مشروط۔ طہر میں الگ الگ طلاق دینا مسنون طریقہ ہے، مگر یہ طلاق کے وقوع کی شرطِ صحت نہیں بلکہ حسنِ ادا کا معاملہ ہے۔ اسی لیے دورانِ حیض دی گئی طلاق “طلاقِ بدعی” یعنی گناہ ضرور ہے، مگر خود منکرینِ ثلاثہ بھی اسے واقع مانتے ہیں — کوئی بھی مکتبِ فکر یہ نہیں کہتا کہ حیض میں دی گئی طلاق سرے سے واقع ہی نہیں ہوئی۔

یہی نکتہ اصل جواب ہے: “غلط طریقے سے کیا گیا تصرف پھر بھی نافذ ہو جاتا ہے” — اس اصول پر تو دونوں طرف پہلے ہی متفق ہیں۔ سوال صرف “کتنی واقع ہوئیں” کا ہے، “واقع ہوئیں یا نہیں” کا نہیں۔ اصولِ فقہ میں اسی نوعیت کی ایک اور معروف مثال ہے: جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت قرآن کی رو سے حرام ہے:

فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ

مگر جمہور فقہاء بشمول احناف کے نزدیک اگر کوئی اس وقت میں سودا کر ہی لے تو گناہ کے باوجود سودا منعقد اور نافذ ہو جاتا ہے، کیونکہ ممانعت لین دین کی اصل ماہیت پر نہیں بلکہ اس کے وقت پر ہے۔ طلاقِ بدعی بھی اسی اصول کے تحت آتی ہے۔

دوسرا اعتراض: دس (یا ہزار) طلاقیں ایک مجلس میں تین کیوں، ایک کیوں نہیں؟

جواب

اس اعتراض کی بنیاد ایک مغالطے پر ہے: یہ فرض کر لیا گیا کہ زائد طلاقیں “تین میں سمٹ” جاتی ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ طلاق کے وقوع کے لیے ایک زندہ نکاح کا وجود (محل) شرط ہے۔ تیسری طلاق مکمل ہوتے ہی عورت بائنہ بینونتِ کبریٰ ہو کر مکمل طور پر نکاح سے خارج ہو جاتی ہے۔ اب چوتھے سے دسویں (یا ہزارویں) لفظ تک — جو اسی سانس میں بولے گئے ہوں — ان کے وقت تک شرعاً کوئی نکاح باقی ہی نہیں بچا جس پر یہ الفاظ واقع ہو سکیں؛ یہ الفاظ لغو ہیں، اس لیے نہیں کہ دس کو تین میں تقسیم کر دیا گیا، بلکہ اس لیے کہ ان کا کوئی محل ہی نہیں رہا۔

یہ بالکل الگ دلیل ہے اس دعوے سے کہ “دوسری اور تیسری طلاق بھی واقع نہیں ہوتیں”۔ پہلی دو طلاقیں رجعی ہوتی ہیں، یعنی ان کے بعد بھی نکاح بدستور قائم رہتا ہے، لہٰذا جب دوسرا اور تیسرا لفظ بولا جاتا ہے تو اس وقت نکاح موجود ہوتا ہے — محل موجود ہے۔ اسی اصول کا اطلاق خود صحابہ کے دور میں موجود ہے: ایک شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دی ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: “تین نے اسے تجھ پر حرام کر دیا، باقی (نو سو ستانوے) اپنی دوسری بیویوں میں تقسیم کر لے۔” (السنن الکبریٰ للبیہقی، ۷/۳۳۵، رقم: ۱۴۷۳۸؛ سنن الدارقطنی، ۴/۲۱، رقم: ۵۶؛ مصنف ابن ابی شیبہ، ۴/۶۲، رقم: ۱۷۸۰۲؛ کنزالعمال، ۹/۲۹۱)۔ یہی وہ جواب ہے جو اس اعتراض کو ایک جلیل القدر صحابی و خلیفہ راشد کے فیصلے سے حل کر دیتا ہے۔

تیسرا اور چوتھا اعتراض: “خیرالقرون کا اجماع” بمقابلہ حضرت عمرؓ کا فیصلہ

اعتراض کا خلاصہ: دورِ نبویﷺ، دورِ ابوبکرؓ اور دورِ فاروقیؓ کے ابتدائی دو سال تک تین ایک مانی جاتی تھیں اور اس پر اجماع تھا؛ پھر حضرت عمرؓ کے تعزیری فیصلے کے بعد اختلاف بھی رہا اور وہ خود اس پر پشیمان بھی تھے — تو اب کس فیصلے کو ترجیح دی جائے؟

جواب

پہلی بات: ابتدائی دور کے عمل کو “اجماع” کہنا خود محلِ نظر ہے۔ جس روایت کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے، وہ صرف ایک صحابی (ابن عباسؓ) کی خبرِ واحد ہے، جسے صرف ابوالصہباء نے ان سے نقل کیا:

كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ

(صحیح مسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث، رقم: ۱۴۷۲)۔ یہ ایک واقعاتی خبر ہے، نہ کہ تمام مجتہدینِ صحابہ کا متفقہ، مدوّن فیصلہ۔ اصطلاحی اجماع اس سے کہیں زیادہ متقاضی ہے۔ اس کے برعکس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ پوری صحابہ کی موجودگی اور موافقت کے ساتھ نافذ ہوا، اور اس کے بعد چودہ سو سال تک چاروں ائمہ اور جمہور تابعین و سلف و خلف کا اسی پر عمل رہا:

وقد اختلف العلماء فیمن قال لامرأتہ: أنت طالق ثلاثا، فقال الشافعیؒ، ومالکؒ، وأبو حنیفۃؒ، وأحمدؒ، وجماہیر العلماء من السلف والخلف: یقع۔ وقال طاؤس وبعض أہل الظاہر: لایقع بذٰلک إلا واحدۃ۔

(شرح السلم للنووی، کتاب الطلاق؛ مرقاۃ شرح مشکاۃ؛ بذل المجہود شرح ابی داود)۔ یعنی نامزد مخالفت طاؤس (جو صحابی نہیں بلکہ تابعی اور ابن عباسؓ کے شاگرد ہیں) اور بعد میں چند اہلِ ظاہر تک محدود ہے — یہ کوئی “جید صحابہ کا تسلسل سے اختلاف” نہیں۔

دوسری بات: نہ خیرالقرون کا فیصلہ غلط تھا، نہ فاروقی فیصلہ۔ حقیقت یہ ہے کہ شریعت کا اصول نہیں بدلا، حالات بدلے۔ فتح الباری میں ابن سریج وغیرہ کی توجیہ نقل کی گئی ہے، جسے قرطبی نے پسند کیا اور امام نووی نے “اصح الاجوبۃ” قرار دیا:

…وكانوا أولا على سلامة صدورهم يقبل منهم أنهم أرادوا التأكيد، فلما كثر الناس في زمن عمر وكثر فيهم الخداع ونحوه مما يمنع قبول من ادعى التأكيد، حمل عمر اللفظ على ظاهر التكرار فأمضاه عليهم…

(فتح الباری، کتاب الطلاق، ج:۹، ص:۳۶۴)۔ مطلب یہ کہ ابتدا میں “تاکید” کے دعوے کو دیانت داری کی بنا پر قبول کر لیا جاتا تھا؛ جب فاروقی دور میں لوگوں نے اسی رخصت کا ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کر دیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے — جن کی سنت کی پیروی کا حکم خود نبی ﷺ نے دیا:

عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ مِنْ بَعْدِي

— الفاظ کے ظاہری تکرار پر حکم لگا دیا۔ یہ شریعت میں تبدیلی نہیں بلکہ ایک ہی اصول کا بدلے ہوئے حالات پر اطلاق ہے۔

تیسری بات: کیا حضرت عمرؓ واقعی “پشیمان” تھے؟ جس روایت کا سہارا لیا جاتا ہے:

ما ندمت على شيء ندامتي على ثلاث: أن لا أكون حرمت الطلاق، وعلى أن لا أكون أنكحت الموالي، وعلى أن لا أكون قتلت النوائح

(نقل کیا: ابن قیمؒ، إغاثۃ اللھفان، ۱/۳۳۶، بحوالہ حافظ اسماعیلی، مسند عمر)۔ اس پر دو بنیادی اشکالات ہیں: سند کا مسئلہ — یزید بن ابی مالک کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں، یعنی سند میں انقطاع ہے؛ اور متن کا مسئلہ — بالفرض روایت ثابت بھی ہو تو “أن لا أكون حرمت الطلاق” کا مفہوم ہے “کاش میں طلاق کو (مزید) محدود کر دیتا”، یعنی مزید سختی کی خواہش، نہ کہ اپنے فیصلے سے رجوع۔ نہ حضرت عمرؓ نے اپنی باقی خلافت میں یہ فیصلہ منسوخ کیا، نہ حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما نے اسے بدلا۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: “ایک مجلس میں تین طلاق دینا سنت کے مطابق ہے یا نہیں؟” اور “اگر کسی نے تین طلاقیں دے دیں تو وہ تین واقع ہوں گی یا ایک؟” — یہ دونوں الگ مسائل ہیں۔ اور جو یہ دعویٰ کرے کہ حضرت عمرؓ کا فیصلہ شرعاً غلط تھا، اسے چار باتیں ثابت کرنا ہوں گی: (۱) فیصلہ شرعاً غلط تھا، (۲) صحابہ نے اسے غلط قرار دیا تھا، (۳) بعد کے فقہاء نے اس غلط فیصلے کو بلا دلیل اپنا لیا، (۴) خصوصاً احناف نے نصوص و آثار کے باوجود اسے اختیار کیا۔ ان چاروں دعوؤں کے بغیر محض یہ کہنا کہ “صریح مرفوع حدیث دکھاؤ” علمی فیصلہ نہیں۔

پانچواں اعتراض: حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا اثر

الف: سائلین کا امید لے کر آنا

سائلین کا کسی بڑے مفتی کے پاس امید لے کر جانا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ مفتی واقعی وہی فتویٰ دیتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما ترجمان القرآن تھے؛ لوگ مشکل مسئلے میں بہترین ممکنہ رائے کی امید کے ساتھ بڑے علماء کے پاس جاتے ہیں — یہ ان کی امید کی دلیل ہے، مفتی کے حتمی فتوے کی نہیں۔ اصل فیصلہ یہ ہے کہ ابن عباسؓ نے عملاً کیا فتویٰ دیا۔

ب: کیا “تعزیری لہجہ” اس بات کی دلیل ہے کہ حقیقتاً ایک ہی واقع ہوئی؟

یہ استدلال خود اپنے خلاف جاتا ہے۔ طحاوی کی مشہور روایت ملاحظہ ہو:

جاء رجل إلى ابن عباس فقال: إن عمي طلق امرأته ثلاثا، فقال: إن عمك عصى الله فأتمه الله وأطاع الشيطان فلم يجعل له مخرجا. فقلت: كيف ترى في رجل يحلها له؟ فقال: من يخادع الله يخادعه

(شرح معانی الآثار للطحاوی، کتاب الطلاق، ج:۳، ص:۵۷)۔ غور فرمائیں: اگر ابن عباسؓ کا اصل موقف یہ ہوتا کہ حقیقت میں صرف ایک طلاق واقع ہوئی ہے تو ان کے الفاظ “لَمْ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا” (اللہ نے اس کے لیے کوئی نکلنے کا راستہ نہیں چھوڑا) بے معنی ہو جاتے ہیں — کیونکہ ایک طلاق میں رجوع کا راستہ موجود ہی ہے۔ ان کی خفگی اور “کوئی راستہ نہیں” کہنا دونوں ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: تینوں طلاقیں واقعتاً نافذ ہو چکیں۔

ج: غیر مدخولہ کا مسئلہ — کیا احناف “پک اینڈ چوز” کرتے ہیں؟

یہ اعتراض غلط بنیاد پر کھڑا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احناف غیر مدخولہ کے مسئلے میں ابن عباسؓ کے حلقے کے موقف کو رد نہیں کرتے بلکہ اسی پر عمل کرتے ہیں۔ ان کے شاگردوں — بالخصوص طاؤس اور عطاء — سے منقول ہے:

عن لیث، عن طاؤس وعطاء، أنھما قالا: إذا طلَّق الرجل امرأتہ ثلاثا، قبل أن یدخل بھا فھی واحدۃ

(مصنف ابن ابی شیبہ)۔ یعنی غیر مدخولہ بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دی جائے تو صرف ایک واقع ہوتی ہے۔ وجہ وہی محل والا اصول ہے: غیر مدخولہ عورت پر عدت نہیں (سورۃ الاحزاب: ۴۹)، اس لیے پہلا ہی لفظ اسے بائنہ کر دیتا ہے، اور دوسرا و تیسرا لفظ اس وقت بولا جاتا ہے جب نکاح کا محل باقی ہی نہیں رہا۔ اور یہی خود حنفی مسلک بھی ہے — کوئی تضاد اور کوئی “چننے چھاننے” کا معاملہ نہیں۔

چھٹا اعتراض: وہ کون سی نصوص تھیں جو ابن عباسؓ سے مخفی رہ گئیں؟

جواب

یہ سوال غلط زاویے سے اٹھایا گیا ہے۔ معاملہ کسی “پوشیدہ نص” کا نہیں بلکہ حضرت عمرؓ کے بطور خلیفہ اپنے مشاہدے اور مشاورت کا ہے۔ مسند احمد کی تخریج میں اس نکتے کی صراحت ملتی ہے:

وأما ابن عباس، فلعله ما اطلع على المشاورة، أو على اطلاع عمر ما أطلع عليه، على أنه ما نفى ذلك صريحا أيضا، فهذا سر إمضاء عمر ذلك الحكم، وموافقة الصحابة لعمر على ذلك

یعنی ممکن ہے ابن عباسؓ اس مشاورت میں شریک نہ رہے ہوں — اور نہایت اہم بات یہ ہے کہ ابن عباسؓ نے خود کبھی حضرت عمرؓ کے فیصلے کی صراحتاً تردید نہیں کی بلکہ اپنی عملی زندگی میں اسی پر فتویٰ دیا۔ رہا حضرت عمرؓ کا قول “استعجلوا فی أمر کانت لہم فیہ أناۃ” تو “اناۃ” سے مراد وہی رخصت ہے جو اللہ نے قرآن میں دی: “الطلاق مرتان” — ایک ایک طہر میں الگ الگ طلاق دینے اور ہر مرحلے پر رجوع کا موقع باقی رکھنے کی سہولت۔ اور “استعجال” سے مراد یہ ہے کہ لوگوں نے اس تدریجی راستے کو چھوڑ کر یکبارگی تینوں طلاقیں دے کر خود اپنے ہاتھوں یہ مہلت ضائع کر دی۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ یکبارگی تین طلاق پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار خود نبی ﷺ کے دور میں بھی موجود ہے۔ سنن نسائی میں محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

أُخبر رسول الله ﷺ عن رجل طلَّق امرأته ثلاث تطليقات جميعا، فقام غضبانا، ثم قال: ‘أيُلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم؟’ حتى قام رجل وقال: يا رسول الله، ألا أقتله؟

(سنن نسائی، کتاب الطلاق، باب الثلاث المجموعۃ وما فیہ من التغلیظ)۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ یکبارگی تین طلاق کا مسئلہ نبوی دور میں بھی نہایت سنگین سمجھا جاتا تھا۔

خلاصہ اور ایک علمی احتیاط

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں صدیوں سے اہلِ علم کے مابین سنجیدہ علمی اختلاف چلا آ رہا ہے — امام ابن تیمیہؒ اور امام ابن قیمؒ جیسے جبالِ علم نے بھی اقلیتی موقف اختیار کیا اور اپنے دلائل کے ساتھ اسے مدلل کیا۔ اوپر بیان کردہ جوابات جمہورِ امت کے موقف کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرتے ہیں، مگر دیانت داری کا تقاضا یہی ہے کہ مخالف نقطۂ نظر کو بھی بلا تحقیر، خالص علمی انداز میں دیکھا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

عام سوالات

کیا ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تین شمار ہوتی ہیں یا ایک؟

جمہورِ امت یعنی چاروں ائمہ (امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ) اور جمہور سلف و خلف کے نزدیک ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تینوں واقع ہوتی ہیں، اگرچہ ایک ساتھ تین طلاق دینا بدعی اور گناہ ہے۔

کیا حضرت عمرؓ نے تین طلاق والا فیصلہ خود واپس لے لیا تھا؟

نہ حضرت عمرؓ نے اپنی باقی خلافت میں یہ فیصلہ منسوخ کیا اور نہ حضرت عثمانؓ و حضرت علیؓ نے اسے بدلا۔ جس “پشیمانی” والی روایت کا سہارا لیا جاتا ہے وہ سنداً ثابت نہیں، اور اس کے الفاظ بھی مزید سختی کی خواہش پر دلالت کرتے ہیں نہ کہ فیصلے سے رجوع پر۔

غیر مدخولہ بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دینے کا کیا حکم ہے؟

احناف کے نزدیک صرف ایک طلاقِ بائن واقع ہوتی ہے، کیونکہ پہلے لفظ کے بعد نکاح کا محل باقی نہیں رہتا — اور یہی ابن عباسؓ کے حلقے (طاؤس و عطاء) سے منقول موقف بھی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *