اذکار و دعائیں
اس صفحے میں زندگی کے عام روحانی مسائل کے لیے وہ وظائف جمع کیے گئے ہیں جو قرآن مجید اور صحیح احادیث سے ثابت ہیں، اور ہر وظیفے کے ساتھ اس کا مکمل حوالہ درج ہے تاکہ اصل ماخذ تک پہنچنا آسان رہے۔ وظیفے کے ساتھ دنیاوی اسباب اختیار کرنا اور اہل علم سے رہنمائی لینا بھی اسی شرعی طریقے کا حصہ ہے۔ اگر آپ کو اپنے کسی ذاتی روحانی مسئلے کے بارے میں رہنمائی درکار ہو تو اس ویب سائٹ کے سوال و جواب کے نظام کے ذریعے اپنا سوال بھیج سکتے ہیں۔
زمرہ 1: حفاظت و نظرِ بد
وظیفہ 1.1: صبح و شام تین سورتیں (ہر شر سے حفاظت)
مسئلہ
نظر بد، حسد، شیطانی اثرات اور ہر طرح کے شر سے مستقل حفاظت چاہیے۔
وظیفہ
سورۃ الاخلاص:
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ﴿١﴾ اللَّهُ الصَّمَدُ ﴿٢﴾ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿٣﴾ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿٤﴾
ترجمہ: کہہ دیجیے کہ وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔ اور اس کا کوئی ہم سر نہیں۔
سورۃ الفلق:
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ﴿١﴾ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ ﴿٢﴾ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ﴿٣﴾ وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ﴿٤﴾ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ﴿٥﴾
ترجمہ: کہہ دیجیے کہ میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی، اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے، اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
سورۃ الناس:
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴿١﴾ مَلِكِ النَّاسِ ﴿٢﴾ إِلَٰهِ النَّاسِ ﴿٣﴾ مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ﴿٤﴾ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ﴿٥﴾ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿٦﴾
ترجمہ: کہہ دیجیے کہ میں انسانوں کے رب کی پناہ لیتا ہوں، انسانوں کے بادشاہ کی، انسانوں کے معبود کی، وسوسہ ڈالنے والے، چھپ جانے والے کے شر سے، جو انسانوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، خواہ وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
مرحلہ وار طریقہ
- صبح فجر کے بعد اور شام مغرب کے بعد کا وقت مقرر کریں۔
- سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس، تینوں میں سے ہر سورت تین تین بار پڑھیں۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سورتیں صبح و شام تین تین بار پڑھنا ہر چیز کے مقابلے میں کافی ہے۔ یہ عمل روزانہ جاری رکھیں۔
ماخذ و حوالہ
سنن ابی داؤد 5082؛ جامع ترمذی 3575 (حضرت عبد اللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کی روایت)۔ یہی اذکار کتاب الاذکار (نووی) کے باب اذکار الصباح والمساء اور حصن المسلم میں بھی درج ہیں۔
احتیاطی نوٹ
تعداد (تین تین بار) اور اوقات (صبح و شام) خود حدیث سے ثابت ہیں، اس سے کم زیادہ کو اسی حدیث کی فضیلت سے نہ جوڑیں۔
وظیفہ 1.2: سوتے وقت آیۃ الکرسی
مسئلہ
رات کو سوتے وقت شیطانی اثرات اور برے خوابوں سے حفاظت چاہیے۔
وظیفہ
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
ترجمہ: اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ ہے، سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ اسی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے؟ وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے، اور ان کی حفاظت اس پر بھاری نہیں۔ اور وہی سب سے بلند، سب سے عظیم ہے۔
مرحلہ وار طریقہ
- بستر پر لیٹنے کے بعد سونے سے پہلے آیۃ الکرسی ایک بار مکمل پڑھیں۔
- حدیث کے مطابق جو شخص بستر پر آ کر آیۃ الکرسی پڑھ لے، اللہ کی طرف سے ایک محافظ اس کے ساتھ رہتا ہے اور صبح تک کوئی شیطان اس کے قریب نہیں آتا۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ البقرہ، آیت 255؛ صحیح بخاری 2311 (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور صدقۂ فطر کی نگرانی والا واقعہ، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کی تصدیق فرمائی)۔
احتیاطی نوٹ
ماخذ میں وقت سوتے وقت اور مقدار ایک بار ہے؛ اسی پر اکتفا کریں۔
وظیفہ 1.3: بچوں کی حفاظت کے مسنون کلمات
مسئلہ
بچوں کو نظر بد، شیطانی اثرات اور نقصان دہ چیزوں سے محفوظ رکھنا مقصود ہے۔
وظیفہ
أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ
ترجمہ: میں اللہ کے مکمل کلمات کے ذریعے پناہ مانگتا ہوں، ہر شیطان سے، ہر زہریلے اور نقصان دہ جاندار سے، اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے۔
مرحلہ وار طریقہ
- بچے کے پاس بیٹھ کر یہ کلمات پڑھیں اور بچے پر دم کریں (ہلکی پھونک یا دایاں ہاتھ پھیرنا بھی اسی عمل کی صورت ہے)۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لیے یہی کلمات پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اسماعیل و اسحاق علیہما السلام کے لیے یہی پڑھا کرتے تھے۔
- بچے کے لیے پڑھتے وقت شارحین کی وضاحت کے مطابق خطاب کی صورت یہ ہو گی: ایک بچے کے لیے «أُعِيذُكَ» اور دو بچوں کے لیے «أُعِيذُكُمَا» (یعنی میں تجھے، یا تم دونوں کو، اللہ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں)۔ حدیث کے اصل الفاظ اوپر درج ہیں۔
- ماخذ میں کوئی تعداد مقرر نہیں؛ صبح و شام یا ضرورت کے وقت پڑھنا مناسب ہے، مگر کسی خاص عدد کو سنت نہ سمجھیں۔
ماخذ و حوالہ
صحیح بخاری 3371 (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت)۔ حصن المسلم میں بھی یہ دعا بچوں کی حفاظت کے باب میں درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
یہ مسنون دم بچے کی عام حفاظت کے لیے ہے۔ بچہ بیمار ہو تو بروقت طبی علاج بھی کرائیں؛ وظیفہ علاج کا متبادل نہیں۔
وظیفہ 1.4: نظر بد یا تکلیف کی صورت میں مسنون رقیہ (سورۃ الفاتحہ اور دعائے جبریل)
مسئلہ
نظر بد لگنے، اچانک بیماری یا جسمانی تکلیف کی صورت میں شرعی رقیہ کرنا ہے۔
وظیفہ
(الف) سورۃ الفاتحہ:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿١﴾ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿٣﴾ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ﴿٤﴾ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴿٥﴾ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿٦﴾ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ﴿٧﴾
ترجمہ: اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے۔ جزا کے دن کا مالک ہے۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے، ان لوگوں کے راستے کی جن پر تو نے انعام کیا، نہ ان کے راستے کی جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کے راستے کی۔
(ب) دعائے جبریل علیہ السلام:
بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اللَّهُ يَشْفِيكَ، بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ
ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ میں تمہیں دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو تمہیں تکلیف دیتی ہے، ہر نفس کے شر سے اور حاسد کی آنکھ (نظر بد) کے شر سے۔ اللہ تمہیں شفا دے۔ اللہ کے نام کے ساتھ میں تمہیں دم کرتا ہوں۔
مرحلہ وار طریقہ
- خود بیمار ہوں تو سورۃ الفاتحہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کریں، یا کسی اہل خانہ سے کرائیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ڈسے ہوئے شخص پر سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصویب فرمائی تھی۔
- دوسرے کو دم کرنا ہو تو سورۃ الفاتحہ کے ساتھ اوپر درج دعائے جبریل بھی پڑھیں؛ یہ وہ دعا ہے جو حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں آپ پر پڑھی تھی۔
- احادیث میں اس رقیے کے لیے کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی؛ حسب ضرورت دم کریں اور شفا کی امید اللہ سے رکھیں۔
ماخذ و حوالہ
سورۃ الفاتحہ کا رقیہ: صحیح بخاری 5736؛ صحیح مسلم 2201 (حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا واقعہ)۔ دعائے جبریل: صحیح مسلم 2186۔
احتیاطی نوٹ
رقیہ وہی معتبر ہے جو قرآن و مسنون دعاؤں پر ہو۔ نامعلوم کلمات، شرکیہ تعویذات اور پیسے لے کر دم کرنے والوں سے بچیں۔ بیماری میں ڈاکٹر کا علاج جاری رکھیں۔
زمرہ 2: صحت و بیماری
زمرے کا عمومی احتیاطی نوٹ: اس زمرے کے تمام وظائف دعا و رقیہ ہیں، طبی علاج کا متبادل نہیں۔ بیماری میں ماہر ڈاکٹر سے رجوع اور علاج جاری رکھنا شرعی تقاضا بھی ہے اور اسباب کا حصہ بھی؛ وظیفے کے ساتھ علاج ترک نہ کریں۔
وظیفہ 2.1: مریض کے لیے نبوی دعائے شفا
مسئلہ
خود بیمار ہوں یا کسی مریض کی عیادت و تیمار داری کا موقع ہو، مسنون دعائے شفا پڑھنی ہے۔
وظیفہ
اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، أَذْهِبِ الْبَاسَ، اشْفِهِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
ترجمہ: اے اللہ، انسانوں کے رب! تکلیف دور فرما دے، اسے شفا عطا فرما، اور تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا عطا فرما جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے۔
مرحلہ وار طریقہ
- مریض کے پاس بیٹھ کر دایاں ہاتھ تکلیف کی جگہ پر پھیریں، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل خانہ میں سے کسی کو دم کرتے وقت دائیں ہاتھ سے مسح فرمایا کرتے تھے۔
- پھر اوپر درج دعا پڑھیں۔
- حدیث میں اس دعا کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی؛ عیادت کے وقت اور ایام بیماری میں پڑھتے رہیں۔
ماخذ و حوالہ
صحیح بخاری 5743 اور 5675؛ صحیح مسلم 2191 (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت)۔ حصن المسلم میں بھی یہ دعا بیماری کے باب میں درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
اوپر والا عمومی نوٹ ملاحظہ کریں: وظیفہ علاج کا متبادل نہیں۔
وظیفہ 2.2: درد کی جگہ کے لیے مسنون عمل (تین بار اور سات بار)
مسئلہ
جسم کے کسی حصے میں درد یا تکلیف ہے اور اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی ترکیب چاہیے۔
وظیفہ
بِسْمِ اللَّهِ (تین بار)
پھر یہ دعا (سات بار):
أَعُوذُ بِاللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ
ترجمہ: میں اللہ کی اور اس کی قدرت کی پناہ لیتا ہوں، اس چیز کے شر سے جس کی تکلیف اب پا رہا ہوں اور جس (تکلیف) کے آنے سے ڈرتا ہوں۔
مرحلہ وار طریقہ
- اپنا ہاتھ جسم کی اس جگہ پر رکھیں جہاں درد ہے۔
- «بِسْمِ اللَّهِ» تین بار کہیں۔
- پھر اوپر درج دعا سات بار کہیں۔
- یہ ترکیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ کو ان کے جسمانی درد پر سکھائی تھی؛ دونوں اعداد خود حدیث میں مذکور ہیں۔
ماخذ و حوالہ
صحیح مسلم 2202 (کتاب السلام)۔ کتاب الاذکار (نووی) میں بھی یہ عمل باب رقیہ میں درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
مسلسل یا بڑھتے ہوئے درد میں طبی معائنہ ضرور کرائیں؛ یہ عمل دعا ہے، تشخیص کا متبادل نہیں۔
وظیفہ 2.3: عیادت کے وقت مریض کے لیے سات مرتبہ دعا
مسئلہ
کسی مریض کی عیادت کو جائیں تو اس کے حق میں مسنون انداز میں دعا کرنی ہے۔
وظیفہ
أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ
ترجمہ: میں اللہ عظیم سے، جو عرش عظیم کا رب ہے، سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہیں شفا عطا فرمائے۔
مرحلہ وار طریقہ
- عیادت کے لیے مریض کے پاس جائیں اور اس کے قریب بیٹھیں۔
- یہ دعا مریض کے سامنے سات بار کہیں۔
- حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت نہ آیا ہو اور یہ دعا سات بار کہے، اللہ تعالیٰ اسے اس بیماری سے عافیت عطا فرماتا ہے۔
- تعداد (سات بار) خود حدیث میں مذکور ہے۔
ماخذ و حوالہ
سنن ابی داؤد 3106؛ جامع ترمذی 2083 (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت)۔ حصن المسلم میں بھی عیادت کی یہ دعا درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
عیادت کے آداب (مختصر قیام، مریض کو تسلی) بھی اسی موقع کا حصہ ہیں؛ دعا کے ساتھ مریض کی عملی خدمت کو دینی عمل سمجھیں۔
وظیفہ 2.4: بیماری میں حضرت ایوب علیہ السلام کی قرآنی دعا
مسئلہ
لمبی بیماری، تکلیف کی شدت یا مایوسی کے عالم میں اللہ کی طرف رجوع کی قرآنی دعا چاہیے۔
وظیفہ
أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
ترجمہ: (اے میرے رب!) مجھے تکلیف نے آ لیا ہے، اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ حضرت ایوب علیہ السلام کی وہ دعا ہے جو انہوں نے طویل بیماری میں اپنے رب سے کی تھی اور اللہ تعالیٰ نے قبول فرما کر انہیں صحت اور اس سے بڑھ کر عطا فرمایا (اس کے بعد کی آیت میں قبولیت کا ذکر ہے)۔
- بیماری کی حالت میں، خصوصاً تنہائی اور نماز کے بعد کے اوقات میں، حضور قلب کے ساتھ یہ دعا پڑھیں۔
- قرآن مجید میں اس دعا کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی؛ عدد ایجاد کیے بغیر، حسب توفیق تکرار کریں۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ الانبیاء، آیت 83 (قبولیت کا ذکر آیت 84 میں ہے)۔
احتیاطی نوٹ
بیماری کو اللہ کی طرف سے آزمائش اور گناہوں کا کفارہ سمجھ کر صبر کرنا بھی اسی قرآنی نمونے کا حصہ ہے۔ علاج جاری رکھیں۔
زمرہ 3: رزق و کاروبار
زمرے کا عمومی احتیاطی نوٹ: رزق کے وظائف کے ساتھ حلال کمائی کے اسباب (محنت، دیانت، نماز کی پابندی، حقوق العباد کی ادائیگی) اختیار کرنا لازمی ہے۔ وظیفہ اسباب کا متبادل نہیں۔
وظیفہ 3.1: استغفار، رزق کی قرآنی کنجی
مسئلہ
رزق کی تنگی، کاروبار کی بندش اور برکت کا اٹھ جانا محسوس ہوتا ہے۔
وظیفہ
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ﴿١٠﴾ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ﴿١١﴾ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا ﴿١٢﴾
ترجمہ: تو میں نے کہا کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش بھیجے گا، اور مال اور اولاد کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے لیے باغ بنائے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کرے گا۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ حضرت نوح علیہ السلام کی اپنی قوم کو نصیحت ہے، جس میں استغفار کے دنیوی ثمرات (بارش، مال، اولاد) اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمائے ہیں۔
- روزانہ کے معمول میں استغفار کو مستقل جگہ دیں: «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ» اور سید الاستغفار سمیت مسنون استغفار نمازوں کے بعد اور چلتے پھرتے پڑھتے رہیں۔
- قرآن مجید نے استغفار کے لیے کوئی مقررہ تعداد نہیں بتائی؛ کثرت مطلوب ہے، مگر کوئی خاص عدد اپنے پاس سے مقرر کر کے اسے شرعی شرط نہ سمجھیں۔
- استغفار کے ساتھ کمائی کے حلال اسباب پر محنت اور گناہوں سے توبہ بھی اسی قرآنی ترکیب کا حصہ ہے۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ نوح، آیات 10 تا 12۔ یہی مضمون اعمال قرآنی (حضرت تھانوی رحمہ اللہ) میں رزق کے باب میں بھی درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
استغفار کو محض زبان کی تکرار نہ بنائیں؛ گناہ چھوڑنے اور حقوق ادا کرنے کا عزم اس کی روح ہے۔
وظیفہ 3.2: حلال رزق اور قرض سے نجات کی دعا
مسئلہ
قرض کا بوجھ ہے، یا آمدنی میں حرام کے شائبے سے بچتے ہوئے حلال پر کفایت چاہیے۔
وظیفہ
اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ
ترجمہ: اے اللہ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے بے نیاز کر دے (حلال ہی پر کفایت عطا فرما)، اور اپنے فضل سے مجھے اپنے سوا ہر کسی سے بے نیاز کر دے۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ وہ دعا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سکھائی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مقروض شخص کو یہی دعا بتائی اور فرمایا کہ پہاڑ کے برابر قرض بھی ہو تو اللہ اس کی ادائیگی کا انتظام فرما دے گا۔
- دعا کو نمازوں کے بعد اور ضرورت کے اوقات میں پڑھتے رہیں۔
- حدیث میں اس دعا کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی؛ عدد مقرر کیے بغیر التزام کریں۔
- ساتھ قرض کی ادائیگی کی عملی تدبیر (آمدنی کا حساب، قسط وار ادائیگی، قرض خواہ سے مہلت کی بات) بھی اسی دعا کا تقاضا ہے۔
ماخذ و حوالہ
جامع ترمذی 3563 (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت)۔ یہ دعا حصن المسلم میں قرض کی ادائیگی کی دعاؤں میں بھی درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
قرض شرعی مسئلہ بھی ہے؛ ادائیگی میں دشواری ہو تو قرض خواہ سے رعایت کی بات کرنا اور ارادۂ ادائیگی سچا رکھنا لازمی ہے۔
وظیفہ 3.3: کاروباری مشکل اور خوف کے وقت توکل کا کلمہ
مسئلہ
کاروبار میں نقصان کا خوف، مخالفین کی دھمکی، یا حالات کی سنگینی دل کو گھبراہٹ میں ڈالتی ہے۔
وظیفہ
حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ
ترجمہ: ہمارے لیے اللہ کافی ہے، اور وہ بہترین کارساز ہے۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ کلمہ مشکل کے ٹھیک اس لمحے میں کہا جائے جب خوف یا دباؤ سامنے آئے، جیسا کہ قرآنی واقعات میں آیا ہے۔
- حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں ڈالے جانے کے وقت یہی کہا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دشمن کے بڑے لشکر کی خبر پر یہی کہا تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوا۔
- اسباب اختیار کرنے کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑنا ہی اس کلمے کا مفہوم ہے؛ اسباب چھوڑ کر صرف کلمہ پڑھنا توکل نہیں۔
- قرآن و حدیث میں اس کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ آل عمران، آیت 173؛ صحیح بخاری 4563 (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت و تفسیر)۔
احتیاطی نوٹ
کاروباری فیصلوں میں شرعی حدود (سود، دھوکا، ذخیرہ اندوزی سے اجتناب) کی پابندی اسی توکل کا عملی ثبوت ہے؛ خلاف شرع کمائی پر وظیفے کی برکت کا دعویٰ درست نہیں۔
وظیفہ 3.4: فجر کے بعد پاکیزہ رزق کی دعا
مسئلہ
دن کا آغاز اللہ سے علم نافع، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کی دعا کے ساتھ کرنا ہے۔
وظیفہ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں۔
مرحلہ وار طریقہ
- فجر کی نماز کے سلام کے بعد یہ دعا ایک بار پڑھیں؛ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ فجر کے سلام کے ساتھ یہ دعا فرماتے تھے۔
- دن بھر کی کمائی کی نیت اسی دعا سے جوڑیں: روزی بھی پاکیزہ ہو اور عمل بھی مقبول۔
- مقدار اور وقت (فجر کے بعد ایک بار) ماخذ کے معمول سے مطابق ہیں۔
ماخذ و حوالہ
سنن ابن ماجہ 925 (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت)۔ یہ دعا حصن المسلم کے اذکار الصباح میں بھی شامل ہے۔
احتیاطی نوٹ
«رزقًا طیبًا» کا مفہوم صرف زیادہ روزی نہیں، پاکیزہ اور حلال روزی ہے؛ دعا کے ساتھ کمائی کے ذرائع کی چھان بین بھی اسی کا حصہ ہے۔
زمرہ 4: قرض و مالی پریشانی
زمرے کی قرآنی بنیاد: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے (مشکل سے) نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے روزی دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا، اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو اللہ اس کے لیے کافی ہے (سورۃ الطلاق، آیات 2 تا 3)۔ اس زمرے کے تمام وظائف اسی دو بنیادوں، تقویٰ اور توکل، کے گرد ہیں۔
اس زمرے کے عمومی اصول:
1. قرض صرف روحانی مسئلہ نہیں، شرعی اور عملی مسئلہ بھی ہے۔ وظیفے کے ساتھ ادائیگی کی سچی نیت، آمدنی و خرچ کا حساب، قسط وار ادائیگی کا منصوبہ اور ضرورت پڑے تو ماہر مالی مشورہ، یہ سب اسی شرعی ترکیب کا حصہ ہیں۔
2. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص لوگوں کا مال اس نیت سے لیتا ہے کہ اسے ادا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادائیگی کا انتظام فرما دیتا ہے، اور جو اس نیت سے لے کہ اسے ضائع کر دے، اللہ اسے ضائع کر دیتا ہے (صحیح بخاری 2387)۔ اس لیے نیت کی درستگی اس زمرے کی بنیاد ہے۔
3. قرض کی ادائیگی کی کوشش کے دوران سودی قرض یا سودی سہولت کی طرف جانا اس پورے عمل کی روح کے خلاف ہے؛ اس سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
4. وظیفہ اسباب کا شرعی درجہ رکھتا ہے؛ روزی کی فراخی اور قرض سے نجات کا اصل انتظام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ کسی وظیفے کو مقررہ مدت میں نتیجے کی ضمانت نہ سمجھا جائے۔
وظیفہ 4.1: قرض کے بوجھ اور غم سے پناہ کی نبوی دعا
مسئلہ
قرض کا بوجھ بڑھ گیا ہے، دل غم اور پریشانی میں گھرا رہتا ہے، اور ذہنی سکون ختم ہو گیا ہے۔
وظیفہ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ
ترجمہ: اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں غم اور رنج سے، عاجزی اور سستی سے، بخل اور بزدلی سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبے (دباؤ) سے۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ دعا خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کثرت سے پڑھی جانے والی دعاؤں میں سے ہے اور صحیح بخاری میں آپ کے معمول کے طور پر ثابت ہے۔ اس میں «ضَلَعِ الدَّيْنِ» سے مراد قرض کا وہ بوجھ ہے جو انسان کو دبا لے۔
- حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن وہ نماز کے وقت کے علاوہ مسجد میں بیٹھے تھے؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو انہوں نے غموں اور قرضوں کی گھیرے میں ہونے کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کلمات سکھائے اور فرمایا کہ یہ کلمات صبح اور شام کہا کرو۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے عمل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کا غم بھی دور فرما دیا اور قرض بھی ادا کرا دیا۔
- اس ترکیب پر صبح و شام اس دعا کو معمول بنائیں۔ روایت میں الفاظ کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی، اس لیے کوئی عدد مقرر کیے بغیر حضور قلب سے پڑھیں۔
- دعا کے ساتھ قرض کی ادائیگی کا عملی منصوبہ (کل قرض کی فہرست، ماہانہ قسط کی ترتیب، قرض خواہ سے رابطہ) بھی اسی ہدایت کا تقاضا ہے، کیونکہ اسی دعا میں سستی اور عاجزی سے بھی پناہ مانگی گئی ہے۔
ماخذ و حوالہ
دعا کا ثبوت: صحیح بخاری 6369 (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت)۔ صبح و شام کی ترکیب اور قرض سے متعلق واقعہ: سنن ابی داؤد 1555 (حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ)۔ یہ دعا حصن المسلم کے اذکار الصباح والمساء میں بھی درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
روایت میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا نتیجہ ان کا واقعہ ہے، ہر پڑھنے والے کے لیے مقررہ مدت کی ضمانت نہیں۔ قرض میں دشواری بڑھ جائے تو قرض خواہ سے صاف بات اور مہلت کی درخواست شرعی راستہ ہے، چھپنا یا ٹال مٹول نہیں۔
وظیفہ 4.2: فقر اور تنگ دستی سے پناہ کی دعا
مسئلہ
تنگ دستی اور محتاجی کا خوف دل پر چھایا رہتا ہے؛ ایسی دعا چاہیے جو فقر کو کفر کے ساتھ جوڑ کر اس کی سنگینی بھی بتائے اور اس سے پناہ بھی سکھائے۔
وظیفہ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
ترجمہ: اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں کفر سے اور فقر (محتاجی) سے، اور تیری پناہ لیتا ہوں قبر کے عذاب سے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ دعا صبح و شام کے مسنون اذکار میں شامل ہے؛ حصن المسلم میں یہ صبح و شام تین تین بار کے ساتھ درج ہے، اسی ترتیب پر عمل کریں۔
- دعا میں فقر کا ذکر کفر کے ساتھ آیا ہے، اس سے اہل علم نے یہ نکتہ لیا ہے کہ تنگ دستی کی دعا کے ساتھ ایمان کی حفاظت کی فکر بھی اسی پیکج کا حصہ ہے؛ مالی پریشانی میں دین پر ثابت قدمی کی دعا بھی ساتھ مانگیں۔
- دعا کے بعد دن کی کمائی کے لیے حلال اسباب کی طرف قدم بڑھانا اسی عمل کی تکمیل ہے۔
ماخذ و حوالہ
سنن ابی داؤد 5090 (حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کی روایت)۔ حصن المسلم، اذکار الصباح والمساء میں بھی یہی دعا اسی تعداد کے ساتھ درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
فقر سے پناہ کا مطلب محنت سے فرار نہیں؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود کسب و محنت کی ترغیب دیتے تھے۔ دعا، محنت اور قناعت تینوں ساتھ چلیں۔
وظیفہ 4.3: ہدایت، تقویٰ، عفاف اور بے نیازی کی دعا
مسئلہ
آمدنی کم ہے اور دل چاہتا ہے کہ اللہ اتنا دے دے کہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے اور حرام کی طرف نظر نہ اٹھے۔
وظیفہ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى
ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاک دامنی اور بے نیازی (دل کی دولت مندی) کا سوال کرتا ہوں۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی دعا ہے؛ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔
- اس دعا میں «الغنى» سے مراد صرف مال کی زیادتی نہیں، دل کی بے نیازی اور قناعت بھی ہے۔ اسی لیے یہ دعا مالی پریشانی کے اس پہلو کا علاج ہے جہاں اصل تکلیف دوسروں کی محتاجی اور نظر کی بے قراری ہوتی ہے۔
- نمازوں کے بعد اور تنہائی کے اوقات میں اس دعا کو معمول بنائیں۔ حدیث میں اس کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی۔
ماخذ و حوالہ
صحیح مسلم 2721 (حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے)۔
احتیاطی نوٹ
اس دعا میں مانگی گئی «الغنى» صرف مال کی زیادتی نہیں، دل کی بے نیازی اور قناعت ہے؛ اسے مال کی کسی مقررہ مقدار یا کسی مقررہ مدت میں نتیجے کی ضمانت نہ سمجھا جائے۔ دعا کے ساتھ حلال کمائی کی کوشش، فضول خرچی سے پرہیز اور دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچنے کی نیت بھی اسی ہدایت کا حصہ ہے۔ حدیث میں اس کی کوئی تعداد نہیں آئی، اس لیے اپنی طرف سے کوئی عدد ایجاد نہ کیا جائے۔
وظیفہ 4.4: حضرت یونس علیہ السلام کی دعا
مسئلہ
پریشانی چاروں طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے، قرض اور تنگی میں کوئی راستہ نظر نہیں آتا، اور دل چاہتا ہے کہ وہ دعا ملے جو سخت ترین گھڑی میں قبول ہوئی تھی۔
وظیفہ
لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
ترجمہ: تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو (ہر عیب سے) پاک ہے، بے شک میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے تھا۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ حضرت یونس علیہ السلام کی وہ دعا ہے جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں میں اللہ تعالیٰ کو پکار کر کی تھی؛ اللہ تعالیٰ نے اسی دعا کے بعد ان کی تکلیف دور فرمائی۔
- قرآن مجید میں اس دعا کے فوراً بعد قبولیت کا ذکر ہے کہ ہم نے ان کی دعا قبول کر لی اور انہیں غم سے نجات دی، اور اسی طرح ہم ایمان والوں کو نجات دیتے ہیں۔ اس لیے یہ دعا ہر طرح کی گھٹن اور پریشانی میں قرآن کی سکھائی ہوئی دعا ہے۔
- جامع ترمذی کی روایت کے مطابق جو مسلمان کسی بھی معاملے میں ان کلمات کے ساتھ اللہ کو پکارتا ہے، اللہ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔ قرض اور تنگی کی حالت میں تنہائی کے وقت، خاص طور پر نمازوں کے بعد اور رات کے اوقات میں، حضور قلب سے یہ کلمات پڑھیں۔
- اس دعا کی جان اپنی خطا کا اعتراف ہے؛ اس لیے پڑھتے ہوئے اپنے گناہوں پر توبہ اور اللہ کی طرف سچا رجوع بھی اسی عمل کا حصہ رکھیں۔
- قرآن و حدیث میں ان کلمات کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی، اس لیے کوئی عدد مقرر نہ کیا جائے؛ جتنی توجہ اور دل کی حاضری کے ساتھ پڑھا جائے، وہی اصل ہے۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ الانبیاء، آیت 87؛ قبولیت اور غم سے نجات کا ذکر آیت 88 میں ہے۔ جامع ترمذی 3505 (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت)۔
احتیاطی نوٹ
قبولیت اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تابع ہے؛ اس دعا کو کسی مقررہ مدت یا مقررہ نتیجے کی ضمانت نہ سمجھا جائے۔ دعا کے ساتھ قرض کی ادائیگی کے عملی اسباب (ادائیگی کا منصوبہ، قرض خواہ سے رابطہ، فضول خرچ کی کٹوتی) اختیار کرنا بدستور ضروری ہے، کیونکہ دعا اسباب کو چھوڑنے کا نام نہیں۔
وظیفہ 4.5: صدقہ اور صلہ رحمی (عملی وظیفہ)
مسئلہ
مالی تنگی کے باوجود دل چاہتا ہے کہ ذکر و دعا کے ساتھ کوئی عملی شرعی سبب بھی اختیار کیا جائے جس سے رزق میں وسعت اور برکت کی امید ہو۔
وظیفہ
اپنی استطاعت کے مطابق باقاعدہ صدقہ دینا اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کو معمول بنانا۔ یہ زبانی وظیفے کے بجائے عملی وظیفہ ہے، اس لیے اس میں کوئی مخصوص الفاظ یا تعداد نہیں۔
مرحلہ وار طریقہ
- آمدنی میں سے صدقے کے لیے ایک مقررہ حصہ الگ کرنے کا معمول بنائیں، خواہ مقدار کم ہو؛ اصل قدر استقامت اور اخلاص کی ہے۔ حدیث میں ہے کہ صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا۔
- صلہ رحمی اختیار کریں: والدین اور قریبی رشتہ داروں کی خبر گیری، ضرورت مند رشتہ دار کی مدد اور قطع تعلقی ختم کرنا۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی عمر میں اضافہ ہو، وہ صلہ رحمی کرے۔
- صدقے کی رقم قرض کی ادائیگی کی رقم سے الگ اور اپنی اصل استطاعت کے اندر رکھیں، اور اس ترتیب میں نیچے والا احتیاطی نوٹ ضرور پیش نظر رہے۔
- صدقہ اور صلہ رحمی چھپا کر اور بے ریا کریں، تاکہ یہ عمل اللہ کی رضا کے لیے خالص رہے۔
ماخذ و حوالہ
صلہ رحمی سے رزق کی وسعت اور عمر کی زیادتی کی بشارت: صحیح بخاری 5985 اور صحیح مسلم 2557۔ صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا: صحیح مسلم 2588۔
احتیاطی نوٹ
صدقہ کوئی لین دین نہیں ہے کہ اس کے بدلے دنیا میں مقررہ مالی فائدہ لازم آئے؛ اس کا اصل اجر اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور دنیوی برکت بھی اسی کی حکمت کے تابع ہے، اسے نتیجے کی ضمانت نہ سمجھا جائے۔ دوسری اہم بات یہ کہ قرض کی حالت میں قرض خواہ کا حق نفلی صدقے پر مقدم ہے؛ پہلے ادائیگی کی ذمہ داری نبھانے کی کوشش کریں، اور صدقہ اسی مال سے دیں جو اپنی اور اہل خانہ کی بنیادی ضرورت اور قرض کی قسط سے بچا ہوا ہو۔
زمرہ 5: شادی و رشتے
زمرے کی قرآنی بنیاد: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی (سورۃ الروم، آیت 21)۔ اور ارشاد ہے کہ اپنے میں سے بے نکاح مردوں و عورتوں کا نکاح کر دیا کرو (سورۃ النور، آیت 32)۔ اس زمرے کے تمام وظائف اسی بنیاد پر ہیں: نیک شریک حیات کی دعا، فیصلے میں استخارہ، اور رکاوٹوں کی آسانی کے لیے اللہ کی طرف رجوع۔
اس زمرے کے عمومی اصول
- شادی دین کا حصہ اور انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔ اس معاملے میں شرعی راستہ دعا کے ساتھ عملی کوشش ہے: گھر والوں کو اعتماد میں لینا، مستند اور معتبر ذرائع سے رشتے دیکھنا، اور کردار و دین داری کو دولت و صورت پر ترجیح دینا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتے کے انتخاب میں دین دار کو ترجیح دینے کی ہدایت فرمائی ہے (صحیح بخاری 5090؛ صحیح مسلم 1466)۔
- اس زمرے میں کوئی عمل، تعویذ یا گنڈا شامل نہیں، اور کسی خاص شخص کو حاصل کرنے، قابو کرنے یا اس کی مرضی کے خلاف اسے آمادہ کرنے کی قسم کا کوئی مواد اس سیکشن میں ہرگز شامل نہیں کیا جائے گا۔ دعا عام نیک رشتے کے لیے ہوتی ہے؛ کسی خاص شخص کے بارے میں فیصلہ استخارے، مشورے اور شرعی طریقے سے ہوتا ہے، کسی عمل سے نہیں۔
- رشتے میں رکاوٹیں اکثر عملی وجوہ کی بنا پر ہوتی ہیں: غیر شرعی مطالبات (مثلاً بھاری جہیز یا فضول رسموں کا بوجھ)، ذات پات اور خاندانی اونچ نیچ کی شرطیں، یا محض تاخیر کی عادت۔ ایسی رکاوٹوں کا حل غیر شرعی اسباب کو چھوڑنا اور اہل خانہ کے ساتھ بیٹھ کر معاملہ سلجھانا ہے۔ ایسی رکاوٹوں کو بلا ثبوت جادو یا بندش قرار دے کر عاملوں کے پاس جانا درست نہیں۔
- وظیفہ اسباب کا شرعی درجہ رکھتا ہے؛ رشتے کا انتظام اور اس کا صحیح وقت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ کسی وظیفے کو مقررہ مدت میں نتیجے کی ضمانت نہ سمجھا جائے، اور تاخیر کو اللہ کی حکمت سمجھ کر صبر و نماز کی پابندی اختیار کی جائے۔
وظیفہ 5.1: نیک شریک حیات اور نیک اولاد کی قرآنی دعا
مسئلہ
ابھی رشتہ طے نہیں ہوا اور دل کی خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک، دین دار اور آنکھوں کی ٹھنڈک بننے والا شریک حیات عطا فرمائے۔
وظیفہ
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں ہمارے شریک حیات اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ قرآن مجید میں اللہ کے نیک بندوں (عباد الرحمن) کی بیان کردہ دعا ہے، جس میں شریک حیات اور اولاد کی نیکی و سکون کی دعا ایک ساتھ آئی ہے۔
- اس دعا کو روزمرہ کی دعاؤں، خاص طور پر نمازوں کے بعد اور قبولیت کے اوقات (تہجد، افطار، جمعہ کی گھڑی) میں معمول بنائیں۔
- قرآن مجید میں اس دعا کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی؛ عدد مقرر کیے بغیر حضور قلب سے پڑھیں۔
- دعا کے ساتھ رشتے کی عملی تلاش بھی سنت طریقہ ہے: گھر والوں کو اعتماد میں لیں، معتبر لوگوں کے ذریعے رشتے دیکھیں، اور انتخاب میں دین و اخلاق کو پہلی شرط رکھیں، جیسا کہ اوپر عمومی اصولوں میں حدیث کے حوالے سے آیا ہے۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ الفرقان، آیت 74۔ یہی دعا اعمال قرآنی (حضرت تھانوی رحمہ اللہ) میں نیک بیوی و اولاد کی دعاؤں میں بھی درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
یہ دعا عمومی نیک رشتے کے لیے ہے۔ کسی خاص شخص کا نام لے کر اسے حاصل کرنے کی نیت سے اسے پڑھنا اس دعا کا مفہوم نہیں؛ خاص تجویز آئے تو اس کا فیصلہ استخارے اور مشورے سے کریں (وظیفہ 5.3 ملاحظہ کریں)۔
وظیفہ 5.2: تنہا رہ جانے کی کیفیت میں حضرت زکریا علیہ السلام کی دعائیں
مسئلہ
عمر بڑھتی جا رہی ہے، رشتہ نہیں ہو رہا، اور تنہا رہ جانے کی فکر دل کو گھیرے ہوئے ہے۔
وظیفہ
(الف)
رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ
ترجمہ: اے میرے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑ، اور تو سب وارثوں سے بہتر وارث ہے۔
(ب)
رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ
ترجمہ: اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بے شک تو ہی دعا کو سننے والا ہے۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ حضرت زکریا علیہ السلام کی دعائیں ہیں۔ بڑھاپے اور بظاہر اسباب کی کمی کے باوجود انہوں نے اللہ سے ساتھی و اولاد کی دعا کی، اور اللہ تعالیٰ نے قبول فرما کر انہیں حضرت یحییٰ علیہ السلام عطا فرمائے۔ قبولیت کا ذکر پہلی دعا کے فوراً بعد کی آیت میں ہے کہ ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کے لیے ان کی بیوی کو بھی درست فرما دیا۔
- پہلی دعا اصل میں «تنہا نہ چھوڑ» کی دعا ہے، اس لیے اہل علم اسے رشتے اور اولاد دونوں کی حاجت میں پڑھنا تجویز کرتے ہیں؛ دوسری دعا پاکیزہ اولاد کے لیے ہے۔
- ان دعاؤں کو نمازوں کے بعد اور تنہائی کے اوقات میں التزام سے پڑھیں۔ قرآن مجید میں ان کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی؛ کوئی عدد اپنے پاس سے مقرر نہ کریں۔
- دعا کے ساتھ اپنی طرف سے جائز اسباب میں کوتاہی نہ کریں: رشتے دیکھنے کے عمل کو رسموں اور غیر شرعی شرطوں کے بوجھ سے آزاد رکھیں، اور جہاں تجویز آئے وہاں بلا وجہ تاخیر نہ کریں۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ الانبیاء، آیت 89 (قبولیت کا ذکر آیت 90 میں ہے)؛ سورۃ آل عمران، آیت 38۔ کتاب الاذکار (نووی) کے باب دعاؤں میں بھی یہ قرآنی دعائیں درج ہیں۔
احتیاطی نوٹ
قبولیت کا وقت اور صورت اللہ کے علم میں ہے۔ کسی مقررہ مدت میں رشتہ ہو جانے کو اس وظیفے کی ضمانت نہ سمجھیں، اور مایوسی میں خلاف شرع راستوں (عامل، تعویذ، غیر محرم سے تعلق) کی طرف ہرگز نہ جائیں۔
وظیفہ 5.3: رشتے کے فیصلے میں نماز استخارہ اور اس کی مسنون دعا
مسئلہ
کوئی رشتے کی تجویز آئی ہے یا دو تجاویز میں سے انتخاب کرنا ہے، اور شرعی رہنمائی چاہیے کہ فیصلہ کیسے کیا جائے۔
وظیفہ
دو رکعت نماز استخارہ کے بعد یہ دعا:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاصْرِفْهُ عَنْي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ
ترجمہ: اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں، اور تیری قدرت کے ذریعے تجھ سے طاقت مانگتا ہوں، اور تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں۔ بے شک تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (اپنی حاجت کا نام لیں) میرے لیے میرے دین میں، میری زندگی میں اور میرے انجام میں بہتر ہے، تو اسے میرے مقدر میں کر دے، اسے میرے لیے آسان فرما دے، پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین میں، میری زندگی میں اور میرے انجام میں برا ہے، تو اسے مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے، اور میرے لیے خیر مقدر فرما جہاں کہیں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔
مرحلہ وار طریقہ
- فرض نماز کے علاوہ الگ سے دو رکعت نماز پڑھیں، پھر اوپر درج دعا پڑھیں۔ یہی ترکیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تمام معاملات کے لیے اس طرح سکھائی تھی جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔
- دعا میں جہاں «هَذَا الْأَمْرَ» (یہ کام) آیا ہے، وہاں اپنی حاجت کا نام لیں، یعنی یہ شادی یا یہ مخصوص تجویز۔
- استخارے کے بعد دل کا رجحان اور اسباب کی صورت دیکھیں: جس طرف دل مطمئن ہو اور اسباب آسان ہوتے جائیں، اسی کو اللہ کی طرف سے رہنمائی سمجھ کر اختیار کریں۔ استخارے کے لیے خواب آنا شرط نہیں؛ عام حالات میں رہنمائی دل کے اطمینان اور اسباب کی آسانی کی صورت میں ہوتی ہے۔
- حدیث میں استخارے کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی؛ ایک بار کا شرعی استخارہ کافی ہے۔ مزید اطمینان کے لیے تکرار کرنا چاہیں تو اسے خواب کی شرط سے نہ جوڑیں۔
- استخارے کے ساتھ بزرگوں اور اہل تجربہ سے مشورہ بھی اسی شرعی ترکیب کا حصہ ہے؛ دونوں کو ساتھ لے کر چلیں۔
ماخذ و حوالہ
صحیح بخاری 1166 (حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی روایت)۔ یہ دعا حصن المسلم میں «دعاء صلاة الاستخارة» کے عنوان سے اور کتاب الاذکار (نووی) میں باب الاستخارہ میں درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
استخارہ کسی دوسرے سے کرانا ضروری نہیں؛ ہر شخص اپنا استخارہ خود کرے، یہی سنت ہے۔ عاملوں کے «استخارہ کرا کر» نتیجہ بتانے کے دعووں پر بھروسا نہ کریں۔ استخارے کا مقصد فیصلے کی رہنمائی ہے، غیب کی خبر نہیں۔
وظیفہ 5.4: رکاوٹوں کی آسانی کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا
مسئلہ
رشتے کے معاملے میں ہر طرف سے رکاوٹیں ہیں: کبھی بات بنتے بنتے رہ جاتی ہے، کبھی معاشی حالت آڑے آتی ہے، اور دل چاہتا ہے کہ اللہ آسانی پیدا فرما دے۔
وظیفہ
رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ
ترجمہ: اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو میری طرف اتارے، میں اس کا محتاج ہوں۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ دعا ہے جو انہوں نے مدین پہنچ کر اپنی بے سروسامانی کی حالت میں کی تھی۔ اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے روزگار کا بھی انتظام فرمایا اور نیک گھرانے میں ان کا نکاح بھی ہوا، جس کا ذکر اسی سورت کی آئندہ آیات میں ہے۔
- اس دعا کو اپنی حاجت کے اظہار کی نیت سے نمازوں کے بعد اور عام اوقات میں پڑھیں۔ اس کا مضمون ہر قسم کی بھلائی کی طلب ہے، اس لیے اسے رشتے کے ساتھ روزی اور سکون کی دعا کے طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔
- قرآن مجید میں اس دعا کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی؛ تعداد مقرر کیے بغیر التزام کریں۔
- دعا کے ساتھ رکاوٹوں کی اصل وجہ تلاش کریں اور اس کا جائز حل اختیار کریں: غیر شرعی رسموں اور مطالبات کا بوجھ اتاریں، اہل خانہ کے تحفظات بیٹھ کر سنیں اور دور کریں، اور معاشی ذمہ داری کے لیے حلال محنت کو اپنا شیوہ بنائیں۔ یہی عملی قدم اس دعا کی روح ہے۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ القصص، آیت 24 (اس کے بعد اہل مدین کے گھرانے میں قیام اور نکاح کا ذکر آیات 25 تا 28 میں ہے)۔ یہ دعا اعمال قرآنی (حضرت تھانوی رحمہ اللہ) میں حاجت و آسانی کی دعاؤں میں بھی درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
بار بار بات ٹوٹنے کو خود بخود جادو یا بندش نہ سمجھیں۔ شرعی وجوہ اور عملی اسباب پہلے دیکھیں۔ اگر واقعی کسی کے ظلم یا رکاوٹ کا معاملہ ہو تو بھی حل دعا، مشورہ اور جائز کوشش ہی ہے؛ کسی عامل کے عمل یا تعویذ کا سہارا نہ لیں۔
زمرہ 6: اولاد و حمل
اس حساس زمرے کے خصوصی اصول: (1) اس زمرے کی تمام دعائیں اولادِ صالح کی طلب اور حمل و زچگی کی خیریت و آسانی کے لیے ہیں۔ اولاد ہو گی یا نہیں، کب ہو گی اور بیٹا ہو گا یا بیٹی، یہ سب سراسر اللہ تعالیٰ کی مشیت و حکمت ہے؛ کسی وظیفے میں جنس یا پیدائش کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔ (2) حمل اور زچگی خالص طبی مراحل ہیں۔ باقاعدہ طبی نگرانی، ڈاکٹر کی ہدایات اور بروقت علاج ان دعاؤں کے ساتھ لازمی ہے؛ وظیفہ طبی نگہداشت کا متبادل ہرگز نہیں۔ (3) اس زمرے میں کوئی تعویذ، گنڈا یا غیر مسنون عمل شامل نہیں؛ صرف قرآن مجید اور صحیح احادیث کی دعائیں درج ہیں۔
زمرے کا عمومی احتیاطی نوٹ: بیٹا ہو یا بیٹی، دونوں اللہ تعالیٰ کی نعمت اور امانت ہیں۔ بیٹی کی پیدائش پر دل گرفتگی یا اسے بوجھ سمجھنے کی قرآن مجید نے مذمت کی ہے (سورۃ النحل، آیات 58 تا 59)، اور بیٹیوں کی اچھی پرورش پر بڑے اجر کی بشارت احادیث میں آئی ہے (صحیح بخاری 1418؛ صحیح مسلم 2631)۔ اولاد نہ ہونے کی صورت میں میاں بیوی دونوں کا طبی معائنہ اور علاج بھی انہی شرعی اسباب میں شامل ہے جن کے اختیار کرنے کی شریعت ترغیب دیتی ہے۔
وظیفہ 6.1: نیک اولاد کے لیے حضرت زکریا علیہ السلام کی قرآنی دعا
مسئلہ
شادی کو عرصہ ہو گیا اور اولاد کی نعمت سے محرومی ہے، یا دل میں نیک اولاد کی شدید خواہش ہے اور اس کے لیے قرآنی دعا چاہیے۔
وظیفہ
(الف) سورۃ آل عمران والی دعا:
رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ
ترجمہ: اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بے شک تو ہی دعا کو سننے والا ہے۔
اسی مقصد کی دوسری قرآنی دعا بھی حضرت زکریا علیہ السلام ہی کی ہے:
(ب) سورۃ الانبیاء والی دعا:
رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ
ترجمہ: اے میرے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑ، اور تو سب وارثوں سے بہتر ہے۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ حضرت زکریا علیہ السلام کی وہ دعا ہے جو انہوں نے بڑھاپے اور بظاہر اسباب کے ختم ہونے کے باوجود اپنے رب سے مانگی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قبول فرما کر انہیں حضرت یحییٰ علیہ السلام عطا فرمائے؛ پہلی دعا کے فوراً بعد بشارت کا ذکر ہے اور دوسری دعا کے بعد قرآن نے صراحت کی: «تو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں یحییٰ عطا کیا»۔
- نمازوں کے بعد، سجدے کی حالت میں، تہجد اور جمعہ کے اوقات جیسے قبولیت کے مواقع پر حضور قلب کے ساتھ یہ دعائیں پڑھیں۔
- قرآن مجید میں ان دعاؤں کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی؛ عدد ایجاد کیے بغیر حسب توفیق التزام کریں۔
- دعا کے ساتھ اسباب بھی اختیار کریں: میاں بیوی دونوں اپنا طبی معائنہ کرائیں اور ڈاکٹر کی راہنمائی پر علاج جاری رکھیں۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ آل عمران، آیت 38 (قبولیت و بشارت کا ذکر آیت 39 میں ہے)؛ سورۃ الانبیاء، آیت 89 (قبولیت کا ذکر آیت 90 میں ہے)۔ یہی دعائیں اعمال قرآنی (حضرت تھانوی رحمہ اللہ) میں اولاد کے باب میں بھی درج ہیں۔
احتیاطی نوٹ
دعا کے الفاظ «ذریۃ طیبہ» ہیں، یعنی نیک و پاکیزہ اولاد۔ دعا کا مقصد اولاد کی نیکی ہے، جنس کی تعیین نہیں؛ اولاد ہو گی یا نہیں اور بیٹا ہو گا یا بیٹی، یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر چھوڑنا ہی اس قرآنی نمونے کی روح ہے۔ طبی علاج کو دعا کے خلاف نہ سمجھیں؛ دونوں ساتھ چلتے ہیں۔
وظیفہ 6.2: اولادِ صالح کی مختصر قرآنی دعا (حضرت ابراہیم علیہ السلام)
مسئلہ
اولاد کی خواہش کے لیے ایک مختصر، جامع قرآنی دعا چاہیے جو دن بھر کی دعاؤں میں آسانی سے شامل ہو سکے۔
وظیفہ
رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ
ترجمہ: اے میرے رب! مجھے نیک لوگوں میں سے (اولاد) عطا فرما۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے، جو انہوں نے اولاد کی عطا کے لیے اپنے رب سے مانگی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں انہیں ایک حلیم فرزند کی بشارت دی۔
- ہر نماز کے بعد کی دعاؤں میں، سجدے میں اور چلتے پھرتے اس مختصر دعا کو اپنے معمول میں شامل کریں۔
- قرآن مجید میں اس کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی؛ کسی خاص عدد کو شرعی شرط نہ سمجھیں۔
- کسی کے ہاں پہلے سے اولاد ہو تو یہ دعا آنے والے بچوں کے لیے بھی اسی طرح مانگی جا سکتی ہے؛ مطلوب ہمیشہ اولاد کی نیکی ہے۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ الصافات، آیت 100 (بشارت کا ذکر آیت 101 میں ہے)۔
احتیاطی نوٹ
بشارت میں بیٹے کا ذکر اس واقعے کی تفصیل ہے؛ دعا کے اپنے الفاظ «من الصالحین» ہیں، یعنی جو بھی اولاد ملے وہ نیکوں میں سے ہو۔ کسی دعا یا وظیفے سے بیٹے کی ضمانت لینا درست نہیں۔ اولاد نہ ملنے کی صورت میں مایوسی کے بجائے وظیفہ 6.1 والا قرآنی رویہ اختیار کریں اور طبی اسباب بھی جاری رکھیں۔
وظیفہ 6.3: بیوی اور اولاد کی خیر و آنکھوں کی ٹھنڈک کی دعا
مسئلہ
حمل چل رہا ہے اور ماں و بچے کی خیریت کی دعا چاہیے، یا بچے پیدا ہو چکے ہیں اور ان کی نیکی، صحت و فرمانبرداری کے لیے مستقل دعا چاہیے۔
وظیفہ
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں (عباد الرحمن) کی وہ دعا ہے جو قرآن مجید نے ان کی پہچان کے طور پر نقل کی ہے؛ شوہر اور بیوی دونوں اسے اپنے اور آنے والے بچے کے لیے مانگ سکتے ہیں۔
- حمل کے ایام میں روزانہ کی دعاؤں میں اسے شامل رکھیں، اور پیدائش کے بعد بھی بچوں کے حق میں یہی دعا جاری رکھیں، کیونکہ اس میں اولاد کی محض پیدائش نہیں، ان کی نیکی اور آنکھوں کی ٹھنڈک مانگی گئی ہے۔
- قرآن مجید میں اس دعا کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی؛ حسب توفیق پڑھیں۔
- دعا کے ساتھ ماں کی صحت کے اسباب بھی پورے کریں: مقررہ طبی معائنے، ڈاکٹر کی بتائی ہوئی غذا و پرہیز اور آرام کا اہتمام اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ الفرقان، آیت 74۔ یہ دعا کتاب الاذکار (نووی) کے متفرق دعاؤں کے ابواب اور اعمال قرآنی میں بھی اسی مقصد کے تحت درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
آنکھوں کی ٹھنڈک کا مطلب بچے کی صحت کے ساتھ اس کی نیکی و تابعداری بھی ہے؛ یہ مفہوم صرف نماز روزے کی اولاد سے پورا ہوتا ہے، اس لیے دعا کے ساتھ خود والدین کا اپنا دینی ماحول بھی اسی دعا کا تقاضا ہے۔ حمل کے دوران کوئی بھی تکلیف (خون آنا، شدید درد، بچے کی حرکت کم ہونا وغیرہ) ظاہر ہو تو دعا کے ساتھ فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں، انتظار نہ کریں۔
وظیفہ 6.4: مشکل کی آسانی کی نبوی دعا (حمل کی تکالیف اور زچگی کے وقت)
مسئلہ
حمل کے دوران کوئی تکلیف یا پریشانی پیش آئی ہے، یا زچگی کا وقت قریب ہے اور اس مرحلے کی آسانی و خیریت کے لیے مسنون دعا چاہیے۔
وظیفہ
اللَّهُمَّ لَا سَهْلَ إِلَّا مَا جَعَلْتَهُ سَهْلًا، وَأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ إِذَا شِئْتَ سَهْلًا
ترجمہ: اے اللہ! کوئی کام آسان نہیں مگر وہی جسے تو آسان کر دے، اور تو دشواری و سختی کو جب چاہے آسان کر دیتا ہے۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ دعا ہر اس موقع کے لیے ہے جہاں کوئی کام دشوار محسوس ہو؛ حمل کے معائنوں، کسی پیچیدگی کی خبر، یا زچگی کے آغاز پر اسے پڑھیں اور اللہ سے آسانی مانگیں۔
- زچگی کے دوران جب سانس اور توجہ کی گنجائش ہو تو اسی دعا اور اللہ کے ذکر کی طرف دل متوجہ رکھیں؛ مقدار کی کوئی شرعی پابندی ماخذ میں نہیں آئی۔
- اس دعا کے ساتھ وظیفہ 1.3 والے بچوں کی حفاظت کے مسنون کلمات اور زمرہ 1 کے حفاظتی اذکار بھی حسب موقع جاری رکھیں۔
- عمل سے پہلے اسباب مکمل کریں: زچگی کی جگہ (اسپتال یا مستند دائی) کا پہلے سے تعین، ضروری سامان کی تیاری اور ڈاکٹر کی ہدایات پر مکمل عمل۔
ماخذ و حوالہ
صحیح ابن حبان 2427؛ ابن السنی، عمل الیوم واللیلہ 351 (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت)۔ حصن المسلم میں یہ دعا «جسے کوئی کام دشوار لگے اس کی دعا» کے باب میں درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
زچگی محض روحانی نہیں، طبی مرحلہ ہے۔ دردِ زہ شروع ہونے پر بروقت اسپتال یا دائی تک پہنچنا، ڈاکٹر کی نگرانی اور طبی ہدایات پر عمل شرعی ذمہ داری بھی ہے؛ وظیفے کی وجہ سے اسپتال جانے میں تاخیر ہرگز نہ کریں۔ قرآن مجید میں حضرت مریم علیہا السلام کے لیے اس موقع پر تازہ کھجوروں کا تذکرہ آیا ہے (سورۃ مریم، آیت 25)؛ یہ غذائی تذکرہ ہے، کوئی مقررہ وظیفہ نہیں، لہٰذا غذا و طاقت کے معاملات بھی ڈاکٹر ہی کے مشورے سے طے کریں۔
زمرہ 7: ذہنی سکون و وسوسے
اس حساس زمرے کے خصوصی اصول:
1. اس زمرے کے تمام وظائف قرآن مجید اور صحیح احادیث سے لیے گئے ہیں۔ کوئی عمل، تعویذ، گنڈا یا نامعلوم کلمات والا وظیفہ شامل نہیں۔
2. مستقل بے چینی، لگاتار اداسی، ڈپریشن اور قابو سے باہر وسوسے صرف روحانی مسئلہ نہیں، طبی مسئلہ بھی ہیں۔ ایسی کیفیت میں ماہر ڈاکٹر یا ماہر نفسیات سے رجوع کرنا ضروری ہے اور یہ دین کے خلاف ہرگز نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری نازل کی ہے اس کی شفا بھی نازل کی ہے (صحیح بخاری 5678)، اس لیے علاج کی طرف جانا خود سنت کی پیروی ہے۔ یہ وظائف روحانی سہارا ہیں، علاج کا متبادل نہیں، اور کسی وظیفے کو بیماری کے ٹھیک ہونے کی ضمانت نہ سمجھا جائے۔
3. عام وسوسے اور مرضی وسوسے کا فرق اہل علم یوں بیان کرتے ہیں: عام وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے والا گزرتا خیال ہے جو ہر مومن کو پیش آ سکتا ہے؛ اس کا آنا اور اس سے کراہت محسوس ہونا خود ایمان کی علامت ہے (صحیح مسلم 132)، اور دل میں آنے والے خیال پر اس وقت تک کوئی مواخذہ نہیں جب تک اسے زبان پر نہ لایا جائے یا اس پر عمل نہ کیا جائے (صحیح بخاری 2528؛ صحیح مسلم 127)۔ مگر جب خیالات بے اختیار بار بار لوٹ کر آئیں، نماز، وضو اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہونے لگے اور انسان چاہ کر بھی انہیں روک نہ سکے، تو اسے اہل علم و اطباء ایک قابل علاج بیماری (وسوسۂ قہری) شمار کرتے ہیں۔ ایسی کیفیت میں مبتلا شخص گناہ گار نہیں؛ اسے علاج، ہمدردی اور سہارا درکار ہے۔ یہ وضاحت کسی قاری کی تشخیص کے لیے نہیں، صرف پہچان کی راہنمائی ہے۔
4. کبھی دل میں خود کو نقصان پہنچانے کا خیال آئے تو تنہا نہ رہیں؛ اسی وقت کسی قریبی اہل خانہ یا قابل اعتماد شخص کو بتائیں اور ماہر ڈاکٹر سے فوری رابطہ کریں۔ مدد مانگنا کمزوری نہیں، شریعت کے بتائے ہوئے اسباب کا حصہ ہے۔
زمرے کی قرآنی بنیاد: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں؛ خبردار، اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے (سورۃ الرعد، آیت 28)۔ اس زمرے کے تمام وظائف اسی بنیاد پر ہیں: اللہ کی طرف رجوع، اس کی پناہ اور اس کا ذکر۔
زمرے کا عمومی احتیاطی نوٹ: اوپر درج خصوصی اصول نمبر 2 اور 3 اس پورے زمرے پر لاگو ہیں۔ وظیفے کے ساتھ علاج، نیند و خوراک کی درستگی اور زندگی کے اصل مسائل کا عملی حل تلاش کرنا، سب اسی شرعی ترکیب کا حصہ ہیں۔
وظیفہ 7.1: وسوسوں کا مسنون علاج (پناہ، اعراض اور «آمنت باللہ»)
مسئلہ
نماز، وضو، طہارت یا عقیدے کے بارے میں بار بار وسوسے آتے ہیں۔ دل میں ایسے خیالات اٹھتے ہیں جنہیں زبان پر لانا بھی مشکل لگتا ہے اور دل گھبرا جاتا ہے کہ ایمان کو کچھ ہو گیا ہے۔
وظیفہ
(الف) شیطان سے پناہ کے کلمات:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
ترجمہ: میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں شیطان مردود سے۔
(ب) ایمان کی تجدید کے کلمات:
آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ
ترجمہ: میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔
مرحلہ وار طریقہ
- وسوسہ آئے تو اس سے بحث اور اس کا جواب تلاش کرنے میں نہ پڑیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے کہ جب شیطان کسی کے دل میں یہ سلسلہ چھیڑے کہ یہ کس نے پیدا کیا، وہ کس نے پیدا کیا، یہاں تک کہ کہے کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا، تو اس مقام پر بندہ اللہ کی پناہ مانگے اور رک جائے، یعنی سلسلہ آگے نہ بڑھائے۔
- اسی وقت «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» پڑھیں اور ذہن دوسری طرف لگا لیں؛ نماز میں ہوں تو نماز جاری رکھیں، وضو میں ہوں تو آگے بڑھ جائیں۔
- عقیدے سے متعلق وسوسہ ہو تو «آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ» کہیں۔ یہی کلمات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت کے لیے سکھائے ہیں۔
- اس گھبراہٹ کو ایمان کے خلاف نہ سمجھیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہمارے دلوں میں ایسی باتیں آتی ہیں جنہیں کہنا ہم بڑا گناہ سمجھتے ہیں؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو خالص ایمان کی نشانی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس امت سے وہ باتیں معاف فرما دی ہیں جو ان کے سینوں میں وسوسے کے طور پر آئیں، جب تک وہ ان پر عمل نہ کریں یا انہیں زبان پر نہ لائیں۔
- نماز کے دوران وسوسہ نماز و قراءت میں خلل ڈالے تو اس شیطان کو حدیث میں «خنزب» کہا گیا ہے؛ اس کی ترکیب یہ ہے کہ «أَعُوذُ بِاللَّهِ» کہیں اور بائیں طرف تین بار ہلکی سی تھف کریں (ہوا کے ہلکے جھونکے کی صورت، تھوک کے قطروں کے بغیر، جیسا کہ شارحین نے وضاحت کی ہے) اور نماز جاری رکھیں۔
- وضو اور طہارت کے وسوسوں میں شرعی اصول یاد رکھیں کہ یقین شک کی بنا پر زائل نہیں ہوتا۔ مقررہ طریقے سے وضو مکمل کرنے کے بعد دوبارہ کے وسوسے کی طرف دھیان نہ دیں۔
ماخذ و حوالہ
پناہ اور رک جانے کی ہدایت: صحیح بخاری 3276؛ «آمنت باللہ ورسلہ» اور «یہ خالص ایمان ہے» والی بشارت: صحیح مسلم 132؛ دل کے خیالات کی معافی: صحیح بخاری 2528، صحیح مسلم 127؛ خنزب والی ترکیب: صحیح مسلم 2203۔ کتاب الاذکار (نووی) میں وسوسے کے باب میں بھی یہی ہدایات درج ہیں۔
احتیاطی نوٹ
وسوسے کا یہ نبوی علاج عام وسوسوں کے لیے ہے۔ اگر وسوسے بے اختیار ہو جائیں، عبادت و زندگی کا معمول بری طرح متاثر ہونے لگے، تو زمرے کے خصوصی اصول نمبر 3 کے مطابق یہ مرضی کیفیت بھی ہو سکتی ہے؛ ایسی صورت میں اہل علم کی راہنمائی کے ساتھ ماہر ڈاکٹر یا ماہر نفسیات سے رجوع بھی اسی علاج کا حصہ سمجھیں۔
وظیفہ 7.2: غم و حزن کے لیے طویل نبوی دعا
مسئلہ
دل پر غم اور اداسی چھائی رہتی ہے، ذہن بوجھل رہتا ہے اور کسی کام میں دل نہیں لگتا۔
وظیفہ
اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي
ترجمہ: اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری بندی کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، میرا معاملہ تیرے حکم کے تابع چل رہا ہے، تیرا فیصلہ میرے حق میں عدل ہے۔ میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو تیرا ہے، جس سے تو نے خود کو موسوم کیا، یا جسے تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا، یا جسے تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا، یا جسے تو نے اپنے پاس علم غیب میں خاص رکھا، کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کو دور کرنے والا اور میری فکر کو لے جانے والا بنا دے۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ دعا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بندہ بھی غم و حزن کی حالت میں یہ دعا پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کا غم دور فرما کر اس کی جگہ اسے فرحت و خوشی عطا فرماتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ کیا ہم یہ کلمات سیکھ نہ لیں؟ فرمایا: ہاں، جو بھی انہیں سنے اسے چاہیے کہ سیکھ لے۔
- غم و اداسی کے اوقات میں، خصوصاً نمازوں کے بعد اور تنہائی میں حضور قلب کے ساتھ یہ دعا پڑھیں۔
- حدیث میں اس دعا کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی؛ عدد مقرر کیے بغیر، حسب توفیق اور باقاعدگی سے پڑھیں۔
- دعا کا ایک اہم حصہ قرآن کو دل کی بہار بنانے کی التجا ہے؛ اس لیے اس دعا کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت اور اس پر غور کا معمول بھی اسی ترکیب کا حصہ رکھیں۔
ماخذ و حوالہ
مسند احمد 3712 (حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت)؛ صحیح ابن حبان 972۔ اس روایت کو محدثین نے صحیح قرار دیا ہے۔ حصن المسلم میں یہ دعا غم و حزن کی دعاؤں میں درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
حدیث میں غم دور ہونے کی بشارت ہے، مگر وقت اور صورت اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تابع ہے؛ اسے مقررہ مدت میں نتیجے کی ضمانت نہ بنائیں۔ اداسی لمبی ہو جائے، نیند و بھوک متاثر ہو یا روزمرہ کے کام رک جائیں تو یہ ڈپریشن کی صورت بھی ہو سکتی ہے؛ ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا اسی زمرے کی راہنمائی ہے (خصوصی اصول نمبر 2 دیکھیں)۔
وظیفہ 7.3: شدت و گھٹن کے وقت دعائے کرب
مسئلہ
کسی مشکل، خبر یا صورت حال سے دل میں سخت گھٹن، بے چینی اور کرب کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے؛ سانس بھاری اور ذہن بند سا محسوس ہوتا ہے۔
وظیفہ
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جو عظیم ہے، حلیم (بردبار) ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جو عرش عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جو آسمانوں کا رب ہے، زمین کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔
مرحلہ وار طریقہ
- حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرب یعنی شدید تنگی و بے چینی کے وقت یہی کلمات فرمایا کرتے تھے۔
- جب دل پر گھٹن اور بے چینی کا غلبہ ہو، اسی لمحے یہ کلمات آہستہ اور ٹھہر کر پڑھیں اور ان کے معنی پر دھیان دیں: مشکل چاہے کتنی بڑی ہو، اس کے اوپر وہ ذات ہے جو عرش عظیم کی مالک ہے۔
- احادیث میں اس کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی؛ کیفیت کے لمحے میں حسب توفیق تکرار کریں۔
- کیفیت ہلکی ہونے پر مشکل کی اصل وجہ کا عملی حل بھی اختیار کریں؛ یہ دعا اسباب چھوڑنے کا نام نہیں۔
ماخذ و حوالہ
صحیح بخاری 6346؛ صحیح مسلم 2730 (حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت)۔ حصن المسلم میں یہ دعا کرب کی دعاؤں میں درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
گھٹن اور بے چینی اگر جسمانی علامات (سینے میں درد، سانس کی دشواری) کے ساتھ بار بار آئے تو طبی معائنہ بھی ضرور کرائیں؛ ہر گھبراہٹ کو صرف روحانی سمجھ لینا درست نہیں۔
وظیفہ 7.4: درود شریف، فکروں کی کفایت کا نبوی نسخہ
مسئلہ
ذہن ہر وقت فکروں میں گھرا رہتا ہے؛ آنے والے وقت، روزی، اہل خانہ اور ذمہ داریوں کی سوچیں چین نہیں لینے دیتیں۔
وظیفہ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
ترجمہ: اے اللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر رحمت نازل فرما۔
(نماز والا درود ابراہیمی اس کی مکمل ترین صورت ہے؛ وہ آتا ہو تو اسی کو معمول بنائیں۔)
مرحلہ وار طریقہ
- حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنی دعا کا کتنا حصہ آپ پر درود کے لیے رکھوں؟ چوتھائی حصے پر فرمایا کہ یہ بھی اچھا ہے، بڑھا دو تو بہتر ہے۔ نصف اور دو تہائی پر بھی یہی فرمایا۔ پھر جب انہوں نے کہا کہ میں اپنی دعا کا سارا حصہ درود ہی رکھوں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس صورت میں تمہاری فکر کی کفایت کر دی جائے گی اور تمہارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
- اس حدیث سے طریقہ یہ نکلا کہ اپنی روزانہ کی دعاؤں اور تنہائی کے اوقات کا ایک باقاعدہ حصہ درود شریف کے لیے مخصوص کر دیں۔
- حدیث میں کوئی مقررہ تعداد بطور شرط نہیں آئی؛ حصے (چوتھائی، نصف) کا ذکر خود حضرت ابی رضی اللہ عنہ کے سوال میں ہے۔ اپنے معمول کے مطابق جو مقدار مستقل نبھ سکے وہ اختیار کریں اور کسی عدد کو شرعی شرط نہ سمجھیں۔
- فکروں کے عملی اسباب (رزق کی تدبیر، ذمہ داریوں کی ترتیب، قرض کا منصوبہ وغیرہ) ساتھ ساتھ اختیار کرتے رہیں۔
ماخذ و حوالہ
جامع ترمذی 2457 (حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی روایت؛ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے)۔ اعمال قرآنی (حضرت تھانوی رحمہ اللہ) میں بھی درود شریف کو غم و فکر کے باب میں خاص جگہ دی گئی ہے۔
احتیاطی نوٹ
«فکر کی کفایت» کا مفہوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل کا سہارا اور فکروں کا ہلکا ہونا ہے؛ اسے دنیوی ذمہ داریاں ترک کر کے بیٹھ جانے کی اجازت نہ سمجھیں۔ فکریں اگر وسوسوں کی حد تک بڑھ جائیں تو وظیفہ 7.1 اور زمرے کے خصوصی اصول بھی ملاحظہ کریں۔
وظیفہ 7.5: بے خوابی اور رات کی بے چینی کے لیے سونے کے مسنون اذکار
مسئلہ
رات کو نیند نہیں آتی، ذہن سوچوں میں الجھا رہتا ہے، یا نیند آ بھی جائے تو بے چینی کے ساتھ بار بار آنکھ کھل جاتی ہے۔
وظیفہ
(الف) سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات (آیات 285 تا 286):
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ﴿٢٨٥﴾ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴿٢٨٦﴾
ترجمہ: رسول اس پر ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل کیا گیا، اور مومن بھی۔ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے؛ ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اور انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی؛ اے ہمارے رب! تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا؛ اسی کے لیے ہے جو اس نے کمایا اور اسی پر ہے جو اس نے برا کیا۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہماری گرفت نہ فرما۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہیں، اور ہم سے درگزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما؛ تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس کافروں کی قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
(ب) خود کو اللہ کے سپرد کرنے کی دعا:
اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ
ترجمہ: اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی، اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا اور اپنی پشت کو تیری طرف پناہ میں دے دیا، تیری طرف رغبت رکھتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے۔ تیرے سوا نہ کوئی جائے پناہ ہے اور نہ تو ہی سے بچ کر کہیں نجات ہے۔ میں اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیجا۔
(ج) سونے کی مختصر مسنون دعا:
بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا
ترجمہ: اے اللہ! تیرے ہی نام کے ساتھ میں مرتا ہوں اور جیتا ہوں (سوتا ہوں اور جاگتا ہوں)۔
مرحلہ وار طریقہ
- بستر پر آنے سے پہلے وضو کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو یہی ترکیب سکھائی تھی: وضو کرو جیسے نماز کے لیے کرتے ہو، پھر دائیں کروٹ لیٹو اور دعا (ب) پڑھو؛ اور فرمایا کہ اس رات انتقال ہو جائے تو فطرت (دین) پر ہو گا۔
- بستر پر لیٹنے کے بعد آیۃ الکرسی پڑھیں (وظیفہ 1.2 میں مکمل متن و حوالہ موجود ہے)۔ یہ رات بھر کی حفاظت کا مسنون ذریعہ ہے۔
- پھر سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص رات کو یہ دو آیات پڑھ لے، یہ اسے کافی ہو جاتی ہیں؛ شارحین کے نزدیک کفایت میں رات کی بے چینی و آفات سے حفاظت بھی شامل ہے۔
- آخر میں دعا (ج) کہہ کر سو جائیں۔ سوچیں پھر بھی آئیں تو ذہن سے لڑنے کے بجائے دھیان انہی اذکار کی طرف رکھیں۔
- دن کے اوقات میں نیند کی عملی وجوہات (دیر رات کی اسکرین، چائے و کافی کا بے وقت استعمال، نیند کے اوقات کی بے ترتیبی) کی درستگی بھی اسی باب کا حصہ ہے؛ اذکار کے ساتھ اسباب کی درستگی کو بھی سنت کی روشنی ہی میں دیکھیں۔
ماخذ و حوالہ
آخری دو آیات: صحیح بخاری 5009؛ صحیح مسلم 807۔ دعا (ب) اور وضو و دائیں کروٹ کی ترکیب: صحیح بخاری 6313؛ صحیح مسلم 2710۔ دعا (ج): صحیح بخاری 6324۔ تینوں دعائیں حصن المسلم کے اذکار النوم میں بھی درج ہیں۔
احتیاطی نوٹ
چند راتوں کی بے خوابی عام بات ہے، مگر بے خوابی کئی ہفتے مسلسل رہے، دن کے معمولات متاثر ہوں یا اس کے ساتھ اداسی و گھبراہٹ بھی ہو، تو یہ طبی مسئلہ ہو سکتی ہے؛ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ نیند کی گولیاں یا کوئی دوا کسی کے کہنے پر خود سے شروع کرنا اس باب کی راہنمائی میں شامل نہیں۔
زمرہ 8: گھر و خاندان
زمرے کی قرآنی بنیاد: اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے رشتے میں سکون، محبت (مودت) اور رحمت کو اپنی نشانیوں میں شمار فرمایا ہے (سورۃ الروم، آیت 21)۔ اس زمرے کے تمام وظائف اسی بنیاد پر ہیں: گھر اللہ کے ذکر سے آباد ہو، والدین کی خدمت و دعا ہو، اولاد کی اصلاح کی فکر ہو، اور اختلاف ہو تو صلح کی طرف واپسی ہو۔
زمرے کا عمومی احتیاطی نوٹ: اوپر درج خصوصی اصول نمبر 2، 3 اور 4 اس پورے زمرے پر لاگو ہیں۔ وظیفے کے ساتھ گھر کے معاملات کی عملی اصلاح، حقوق کی ادائیگی اور اخلاق کی درستگی اسی شرعی ترکیب کا حصہ ہے۔
اس زمرے کے خصوصی اصول:
1. اس زمرے کے تمام وظائف قرآن مجید اور صحیح احادیث سے لیے گئے ہیں۔ کوئی عمل، تعویذ، گنڈا یا نامعلوم کلمات والا وظیفہ شامل نہیں۔
2. خاندانی اختلاف میں وظیفہ واحد حل نہیں ہے۔ شرعی ترکیب یہ ہے کہ دعا کے ساتھ اپنی خطا کا اعتراف اور معافی، حقوق کی ادائیگی، نرم گفتگو، اور ضرورت پڑے تو خاندان کے بزرگوں، ثالثوں اور اہل علم کے ذریعے مصالحت کی کوشش بھی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذات البین (باہمی تعلقات) کی اصلاح کو روزے، نماز اور صدقے سے افضل درجے کا عمل قرار دیا ہے (سنن ابی داؤد 4919؛ جامع ترمذی 2509)۔ صرف دعا پڑھ کر جھگڑے کی وجوہات کو ویسا ہی چھوڑ دینا اس باب کی روح نہیں ہے۔
3. میاں بیوی یا اہل خانہ کی محبت کے لیے کوئی وظیفہ کسی انسان کو مجبور کرنے، اس کی مرضی ختم کرنے یا اس پر اثر ڈالنے کے لیے نہیں دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ سے صرف یہ مانگا جاتا ہے کہ وہ خود دلوں میں الفت، نرمی اور اصلاح پیدا فرما دے؛ ہر انسان کی پسند اور ناپسند کا احترام بدستور برقرار رہتا ہے۔
4. گھر میں ظلم و زیادتی (مار پیٹ، حق تلفی، مسلسل ذہنی اذیت) موجود ہو تو یہ گناہ ہے اور وظیفے اس کا متبادل نہیں ہیں۔ ایسی صورت میں مظلوم کا تحفظ، اہل خانہ اور اہل علم کی مداخلت، اور ضرورت پڑے تو قانونی راستہ اختیار کرنا شرعی ذمہ داری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ ہے کہ مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا (صحیح بخاری 2448؛ صحیح مسلم 19)۔
5. گھر کا سکون، برکت اور دلوں کی الفت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے؛ وظائف اسباب کا درجہ رکھتے ہیں۔ کسی وظیفے کو گھر کے حالات کی مقررہ مدت میں تبدیلی کی ضمانت نہ سمجھا جائے۔
وظیفہ 8.1: گھر میں داخل ہونے کی مسنون دعا اور سلام
مسئلہ
گھر میں بے سکونی اور بے برکتی محسوس ہوتی ہے، معمولی باتوں پر فضا بھاری رہتی ہے۔ گھر آنے جانے کے ایسے مسنون معمولات درکار ہیں جن سے گھر میں اللہ کے ذکر کی فضا بنے اور گھر روحانی حفاظت میں رہے۔
وظیفہ
(الف) گھر میں داخل ہونے کی دعا:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلِجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ، بِسْمِ اللَّهِ وَلَجْنَا، وَبِسْمِ اللَّهِ خَرَجْنَا، وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا
ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے داخل ہونے کی بھلائی اور نکلنے کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں۔ اللہ کے نام کے ساتھ ہم داخل ہوئے اور اللہ کے نام کے ساتھ ہم نکلے، اور اپنے رب اللہ ہی پر ہم نے بھروسا کیا۔
(ب) دعا کے بعد اہل خانہ کو سلام کرنا:
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ
ترجمہ: تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔
مرحلہ وار طریقہ
- قرآن مجید کی بنیاد یہ ہے کہ جب تم گھروں میں داخل ہو تو سلام کہا کرو؛ اللہ تعالیٰ نے اس سلام کو اپنی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحیت قرار دیا ہے (سورۃ النور، آیت 61)۔
- گھر کے دروازے پر یہ ترتیب اختیار کریں: اللہ کا نام لے کر داخل ہوں، دعا (الف) پڑھیں، پھر گھر والوں کو سلام کریں۔ یہی ترتیب حدیث میں آئی ہے کہ آدمی جب اپنے گھر میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے، پھر اپنے گھر والوں کو سلام کرے۔
- اس معمول کی برکت حدیث میں یوں بیان ہوئی ہے کہ جو شخص گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانے کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے، شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ اس گھر میں تمہارے لیے نہ رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ رات کا کھانا۔ یعنی ذکر اور سلام گھر کی روزانہ کی روحانی حفاظت کا ذریعہ ہے۔
- گھر خالی ہو تو بھی ذکر کا معمول برقرار رکھیں؛ شارحین نے سورۃ النور کی آیت کے الفاظ «اپنے نفسوں کو سلام کہو» سے یہ راہنمائی بھی لی ہے کہ خالی گھر میں داخل ہونے والا خود کو سلام کہے۔
- گھر کے تمام افراد، خاص طور پر بچوں کو بھی اس معمول کا عادی بنائیں، تاکہ سلام و ذکر گھر کی پہچان بن جائے۔
ماخذ و حوالہ
داخلے کی دعا اور اس کے بعد سلام کی ترتیب: سنن ابی داؤد 5096 (حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت)۔ سلام کی قرآنی بنیاد: سورۃ النور، آیت 61۔ داخلے اور کھانے پر ذکر کی برکت اور شیطان کی مایوسی: صحیح مسلم 2018 (حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی روایت)۔ حصن المسلم میں یہ دعا گھر میں داخل ہونے کی دعاؤں میں درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
یہ معمول گھر کی فضا کے لیے ایک روحانی سبب ہے، مگر گھر کا سکون صرف دروازے کی دعا سے نہیں بنتا؛ گھر کے اندر کے معاملات، یعنی حقوق کی ادائیگی، نرمی اور انصاف، اسی باب کا اصل کام ہیں، جن کی تفصیل اسی زمرے کے اگلے وظائف میں آ رہی ہے۔
وظیفہ 8.2: والدین کے لیے قرآنی دعائیں (رحمت، مغفرت اور ان کا حق)
مسئلہ
دل چاہتا ہے کہ والدین کے لیے وہ بہترین دعائیں معمول بن جائیں جو خود قرآن مجید نے سکھائی ہیں؛ والدین حیات ہوں تو ان کی خیر و عافیت کے لیے، اور وفات پا چکے ہوں تو ان کی مغفرت و درجات کے لیے۔
وظیفہ
(الف) رحمت کی دعا:
رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
ترجمہ: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔
(ب) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا:
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ
ترجمہ: اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو اور سب ایمان والوں کو، جس دن حساب قائم ہو گا۔
(ج) حضرت نوح علیہ السلام کی دعا:
رَّبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ
ترجمہ: اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو، اور اس کو بھی جو ایمان کی حالت میں میرے گھر میں داخل ہو، اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کو۔
مرحلہ وار طریقہ
- دعا (الف) خود اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاسراء میں سکھائی ہے۔ اسی مقام پر پہلے والدین کے ساتھ احسان کا حکم، ان کے سامنے «اف» تک نہ کہنے کی تاکید اور ان کے لیے عاجزی کے پر بچھانے کی ہدایت آئی ہے، پھر یہ دعا سکھائی گئی ہے (سورۃ الاسراء، آیات 23 تا 24)। اس ترتیب سے واضح ہے کہ دعا کے ساتھ عملی خدمت و ادب بھی اسی حکم کا حصہ ہے۔
- نمازوں کے بعد اور عام دعاؤں میں والدین کو مستقل شریک رکھیں۔ حدیث میں والد کے لیے دعا کو عمل جاری رکھنے والی چیزوں میں شمار کیا گیا ہے۔
- والدین حیات ہوں تو دعا کے ساتھ ان کی خدمت، خبر گیری، ان کی جائز باتوں میں اطاعت اور ان کے آرام کا خیال اصل وظیفہ جانیں۔
- والدین وفات پا چکے ہوں تو ان کے لیے دعا و صدقہ جاری رکھیں۔ حدیث میں ہے کہ انسان کے انتقال کے بعد اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے نفع اٹھایا جائے، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے (صحیح مسلم 1631)۔ والدین کے چھوڑے ہوئے جائز وعدے پورے کرنا اور ان کے دوستوں و رشتہ داروں سے حسن سلوک بھی اسی نیکی کا حصہ ہے؛ صحیح مسلم میں والد کے اہل محبت سے صلہ کو بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے (صحیح مسلم 2552)۔
- ان دعاؤں کی کوئی مقررہ تعداد قرآن و حدیث میں نہیں آئی؛ باقاعدگی اور حضور قلب اصل ہے۔
ماخذ و حوالہ
دعا (الف): قرآن مجید، سورۃ الاسراء، آیت 24 (سیاق: آیات 23 تا 24)۔ دعا (ب): سورۃ ابراہیم، آیت 41۔ دعا (ج): سورۃ نوح، آیت 28۔ وفات کے بعد اولاد کی دعا کا نفع: صحیح مسلم 1631 (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت)۔ والد کے دوستوں سے صلہ: صحیح مسلم 2552 (حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت)۔
احتیاطی نوٹ
اگر زندگی میں والدین سے کوئی کوتاہی یا دل آزاری ہو گئی ہو تو صرف زبانی دعا پر اکتفا نہ کریں؛ حیات ہوں تو معافی مانگنا اور اصلاح کرنا، اور وفات ہو چکی ہو تو ان کے لیے کثرت سے مغفرت کی دعا اور ان کے ذمے حقوق کی ادائیگی کی کوشش بھی اسی باب کا تقاضا ہے۔
وظیفہ 8.3: موجود اولاد کی ہدایت و اصلاح کی قرآنی دعائیں
مسئلہ
اولاد موجود ہے اور جوان ہو رہی ہے؛ ان کی نماز، دین داری اور اخلاق کی فکر رہتی ہے۔ اولاد کی طلب کی دعائیں زمرہ 6 (بیچ 4) میں آ چکی ہیں؛ یہاں موجود اولاد کی ہدایت و اصلاح کی قرآنی دعائیں درکار ہیں۔
وظیفہ
(الف) حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا:
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ
ترجمہ: اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد کو بھی۔ اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول فرما۔
(ب) اصلاحِ ذریت کی دعا:
رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ: اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائی، اور یہ کہ میں ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو، اور میرے لیے میری اولاد میں اصلاح فرما دے۔ بے شک میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں فرمان برداروں میں سے ہوں۔
مرحلہ وار طریقہ
- دعا (الف) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اولاد سے پہلے اپنے لیے نماز کی قائمیت مانگی؛ اس سے اصول ملتا ہے کہ اولاد کی اصلاح کی دعا اپنی اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔ اولاد کے لیے دعا کرتے ہوئے اپنی نماز و عمل کی کوتاہی کی اصلاح کی نیت بھی ساتھ رکھیں۔
- دعا کے ساتھ تربیت کے اسباب اختیار کریں: خود نمونہ بننا، محبت و نرمی سے سمجھانا، نماز و تلاوت کا گھریلو ماحول، اچھی صحبت کی تدبیر، اور غلطی پر حکمت سے اصلاح۔ والدین کا اپنا عمل اولاد پر سب سے گہرا اثر رکھتا ہے۔
- اولاد کے لیے کبھی بددعا نہ کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے اوپر بددعا نہ کرو، اپنی اولاد پر بددعا نہ کرو اور اپنے مال پر بددعا نہ کرو؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس گھڑی سے جا ملے جس میں اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے وہ عطا کر دیا جاتا ہے (صحیح مسلم 3014)۔ غصے کے لمحے میں بھی زبان کو دعا ہی کی طرف رکھیں۔
- اصلاح میں جلد بازی اور سختی کے بجائے صبر و استقامت اختیار کریں؛ تربیت ایک مسلسل عمل ہے۔
- ان دعاؤں کی کوئی مقررہ تعداد قرآن و حدیث میں نہیں آئی؛ نمازوں کے بعد اور عام دعاؤں میں باقاعدگی سے شامل رکھیں۔
ماخذ و حوالہ
دعا (الف): قرآن مجید، سورۃ ابراہیم، آیت 40۔ دعا (ب): سورۃ الاحقاف، آیت 15۔ اولاد کے لیے بددعا کی ممانعت: صحیح مسلم 3014 (حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی روایت)۔
احتیاطی نوٹ
اولاد کی اصلاح اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور وقت کے ساتھ آنے والی چیز ہے؛ دعا کے فوری ظاہری نتیجے کو پیمانہ نہ بنائیں اور ناامیدی یا بے جا سختی کی طرف نہ جائیں۔ اگر کسی معاملے میں راہنمائی درکار ہو تو اہل علم اور تجربہ کار اہل خانہ سے مشورہ بھی تدبیر کا حصہ ہے۔
وظیفہ 8.4: خاندانی اختلاف و کدورت میں دلوں کی الفت کی قرآنی دعا اور صلح کی ترکیب
مسئلہ
میاں بیوی یا اہل خانہ کے درمیان اختلاف بڑھ گیا ہے، دلوں میں کدورت بیٹھ گئی ہے اور بات چیت بند یا تلخ ہو گئی ہے۔ ایسی قرآنی دعا درکار ہے جو کدورت دور کرنے کے لیے خود اللہ تعالیٰ نے سکھائی ہو، اور ساتھ صلح کی شرعی و عملی ترکیب بھی ہو۔
وظیفہ
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان کے ساتھ گزر چکے، اور ایمان والوں کے بارے میں ہمارے دلوں میں کوئی کدورت نہ رکھ۔ اے ہمارے رب! بے شک تو نہایت شفقت فرمانے والا، بڑا رحم فرمانے والا ہے۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ دعا قرآن مجید نے مومنین کی صفت کے طور پر سکھائی ہے (سورۃ الحشر، آیت 10)۔ اس کی روح یہ ہے کہ جس فریق سے شکایت ہو، اسے بھی اپنی مغفرت کی دعا میں شامل کیا جائے۔ جس کے لیے بخشش مانگی جائے، اس کے خلاف دل میں کدورت پالنا مشکل ہو جاتا ہے؛ یوں اصلاح کا آغاز اپنے دل سے ہوتا ہے۔
- صلح کا قرآنی ضابطہ پیش نظر رکھیں: ازدواجی اختلاف بڑھ جائے تو دونوں خاندانوں کی طرف سے منصف ثالث مقرر کیے جائیں، اور اگر دونوں اصلاح چاہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان توفیق و موافقت پیدا فرما دیتا ہے (سورۃ النساء، آیت 35)۔ اسی طرح میاں بیوی کے باہمی صلح کو قرآن نے «خیر» قرار دیا ہے (سورۃ النساء، آیت 128)۔
- اصلاح ذات البین کی فضیلت یاد رکھیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو درجے میں روزے، نماز اور صدقے سے افضل ہے؟ وہ ذات البین کی اصلاح ہے (سنن ابی داؤد 4919؛ جامع ترمذی 2509)۔ اس لیے خاندان کے بزرگوں یا اہل علم کی مصالحت کوشش کو ضد سمجھ کر رد نہ کریں، اسے ہدایت و ثواب کا کام سمجھ کر قبول کریں۔
- عملی ترتیب یہ رکھیں: پہلے اپنی طرف کی خطا کا جائزہ اور اس پر معافی، پھر جس کا حق رہ گیا ہو اس کی ادائیگی، پھر ٹھنڈے دل سے براہ راست گفتگو، اور بات نہ بنے تو قابل اعتماد ثالث کے ذریعے گفتگو۔ صرف دعا پڑھ کر ظلم و حق تلفی جاری رکھنا اس باب کی روح کے خلاف ہے۔
- اس دعا کی کوئی مقررہ تعداد قرآن و حدیث میں نہیں آئی؛ عدد مقرر کیے بغیر باقاعدگی سے، خاص طور پر نمازوں کے بعد پڑھیں۔
ماخذ و حوالہ
دعا: قرآن مجید، سورۃ الحشر، آیت 10۔ ثالثی کی ہدایت: سورۃ النساء، آیت 35۔ صلح کی خیریت: سورۃ النساء، آیت 128۔ اصلاح ذات البین کی فضیلت: سنن ابی داؤد 4919؛ جامع ترمذی 2509 (حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کی روایت؛ امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے)۔
احتیاطی نوٹ
یہ وظیفہ کسی فریق کو دبانے یا اس کی مرضی ختم کرنے کا ذریعہ نہیں ہے؛ اللہ تعالیٰ سے دلوں کی اصلاح مانگی جاتی ہے اور ساتھ اپنے حصے کی اصلاح عملی طور پر کرنی ہوتی ہے۔ اگر اختلاف میں جسمانی یا مسلسل ذہنی اذیت کا پہلو ہو تو صرف دعا پر اکتفا نہ کریں؛ قریبی اہل خانہ، اہل علم اور ضرورت پڑے تو قانونی تحفظ کی راہ بھی اختیار کریں (خصوصی اصول نمبر 4 دیکھیں)۔
وظیفہ 8.5: گھر میں برکت و سکون کا عملی وظیفہ (سورۃ البقرہ کی تلاوت اور گھر میں نماز)
مسئلہ
گھر میں عبادت کی فضا کمزور ہے، قرآن و نماز سے گھر کا تعلق کم رہ گیا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ گھر تلاوت و عبادت کی برکت سے آباد ہو اور گھر کا ماحول سکون و نور والا بنے۔
وظیفہ
گھر میں سورۃ البقرہ کی باقاعدہ تلاوت اور نفل و سنت نمازوں کا گھر میں اہتمام۔ یہ زبانی وظیفے کے بجائے عملی وظیفہ ہے؛ اس میں کوئی مخصوص الفاظ یا تعداد نہیں، اصل مقصود گھر کی عبادتی فضا سازی ہے۔
مرحلہ وار طریقہ
- سورۃ البقرہ کی تلاوت کو گھر کا معمول بنائیں، چاہے روزانہ تھوڑا حصہ ہی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ؛ بے شک شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے (صحیح مسلم 780)।
- اسی سورت کی فضیلت میں یہ ارشاد بھی ہے کہ سورۃ البقرہ کو پڑھا کرو، کیونکہ اسے اختیار کرنا برکت ہے اور اسے چھوڑ دینا حسرت ہے، اور باطل قوتیں (جادوگر) اس کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتیں (صحیح مسلم 804)।
- مردوں کی فرض نمازوں کی اصل جگہ مسجد ہے؛ نفل و سنت نمازوں کا ایک حصہ گھر میں پڑھنے کا معمول بنائیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے کہ اپنی نمازوں میں سے کچھ حصہ اپنے گھروں کے لیے بھی رکھو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ (صحیح بخاری 432؛ صحیح مسلم 777)।
- گھر والوں کو بھی اس فضا میں شریک کریں: مختصر مشترکہ تلاوت یا دینی سبق کا معمول، بچوں کو محبت سے ساتھ بٹھانا، اور نماز کے اوقات پر گھر میں نرمی سے یاد دہانی۔ زبردستی کے بجائے شوق و نرمی کا انداز اختیار کریں۔
- تلاوت گھر والوں کی اپنی آواز و عمل سے ہو؛ صرف ریکارڈنگ چلا دینا اس باب کی اصل صورت نہیں، کیونکہ احادیث میں گھر والوں کی اپنی تلاوت و نماز ہی کی ترغیب آئی ہے۔
ماخذ و حوالہ
سورۃ البقرہ والے گھر سے شیطان کا بھاگنا: صحیح مسلم 780 (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت)۔ سورۃ البقرہ کی برکت و فضیلت: صحیح مسلم 804 (حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی روایت)۔ گھروں میں نماز کی ترغیب: صحیح بخاری 432؛ صحیح مسلم 777 (حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت)۔
احتیاطی نوٹ
اس باب کی برکت تلاوت و عبادت کے عمل سے جڑی ہے؛ اسے گھر کی ہر مشکل کے فوری خاتمے کی ضمانت نہ سمجھا جائے۔ اصل تبدیلی ذکر کی فضا کے ساتھ اخلاق و معاملات کی اصلاح سے آتی ہے، یہی اس زمرے کی مجموعی ترتیب ہے۔ کوئی وقتی بے سکونی باقی رہے تو اس کی عملی وجوہات (معاملات، صحت، ذہنی دباؤ) کا جائزہ بھی اسی باب کا تقاضا ہے۔
زمرہ 9: تعلیم و امتحان
زمرے کی قرآنی بنیاد: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا سکھائی کہ کہو، اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما (سورۃ طہ، آیت 114)، اور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان لوگوں کے درجے بلند فرماتا ہے جنہیں علم عطا کیا گیا (سورۃ المجادلہ، آیت 11)۔ اس زمرے کے تمام وظائف اسی دو بنیادوں پر ہیں: علم کی سچی طلب، اور اسباب کے ساتھ اللہ سے مدد۔
زمرے کا عمومی احتیاطی نوٹ: اوپر درج عمومی اصول نمبر 2 اور 3 اس پورے زمرے پر لاگو ہیں۔ ہر وظیفے کے ساتھ تیاری کا باقاعدہ معمول، وقت کی پابندی، نیند و آرام کا اہتمام اور استاد سے مشکل مقامات پوچھنا اسی شرعی ترکیب کا حصہ ہے۔
اس زمرے کے عمومی اصول:
1. اس زمرے کے تمام وظائف قرآن مجید اور صحیح احادیث سے لیے گئے ہیں۔ کوئی عمل، تعویذ، گنڈا یا نامعلوم کلمات والا وظیفہ شامل نہیں۔
2. تعلیم میں اصل سبب محنت، باقاعدہ تیاری اور استاد کی راہنمائی ہے۔ دعا ان اسباب کے ساتھ اللہ سے مدد مانگنے کا ذریعہ ہے، اسباب کی جگہ لینے والا عمل نہیں۔ جس مضمون کو پڑھا ہی نہ گیا ہو، اس میں کامیابی کی توقع دعا کی بنیاد پر کرنا خود شریعت کی سکھائی ہوئی ترکیب کے خلاف ہے۔
3. کسی وظیفے میں پاس ہونے، اچھے نمبر آنے یا کسی مقررہ نتیجے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ نتیجہ بہر صورت اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت کے تابع ہے؛ دعا بندے کا فریضہ اور سہارا ہے، نتیجہ اس کے رب کے فیصلے پر ہے۔
4. امتحان میں نقل، دھوکہ یا کسی بھی ناجائز ذریعے سے کامیابی حاصل کرنا گناہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں (صحیح مسلم 101)۔ دعا اور دھوکہ ایک ساتھ نہیں چل سکتے؛ حلال اور جائز محنت ہی اس زمرے کی بنیاد ہے۔
وظیفہ 9.1: علم میں اضافے کی قرآنی دعا
مسئلہ
طالب علم علم کی طلب میں سستی محسوس کرتا ہے، پڑھائی میں دل نہیں لگتا، یا پڑھا ہوا علم بڑھنے کے بجائے ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
وظیفہ
رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا
ترجمہ: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ وہ دعا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھائی اور اس کے مانگنے کا حکم دیا۔ اہل علم نے یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو کسی دنیوی چیز میں زیادتی مانگنے کا حکم نہیں دیا، صرف علم میں زیادتی مانگنے کا حکم دیا؛ یہ علم کی فضیلت کی بہت بڑی دلیل ہے۔
- روزانہ کی دعاؤں میں، خصوصاً نمازوں کے بعد اور مطالعے کا آغاز کرنے سے پہلے، یہ مختصر دعا حضور قلب سے مانگیں۔ پڑھائی شروع کرنے سے پہلے اسے پڑھنا اس نیت کی تجدید ہے کہ یہ علم اللہ سے مانگ کر اور اسی کی توفیق سے حاصل کرنا ہے۔
- قرآن مجید میں اس دعا کے ساتھ کوئی تعداد یا وقت مقرر نہیں آیا، اس لیے کوئی عدد مقرر نہ کیا جائے؛ باقاعدگی اور دل کی حاضری ہی اصل ہے۔
- دعا کے ساتھ علم کے اسباب بھی اختیار کریں: باقاعدہ مطالعہ، مشکل مقام پر استاد سے سوال، اور سیکھے ہوئے علم پر عمل کی نیت۔ علم میں برکت کا ایک بڑا ذریعہ یہی ہے کہ جو سیکھا جائے اس پر عمل کیا جائے اور آگے سکھایا جائے۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ طہ، آیت 114۔ علم والوں کے درجات کی بشارت: سورۃ المجادلہ، آیت 11۔
احتیاطی نوٹ
یہ دعا علم کی طلب اور توفیق کی دعا ہے، مطالعے کا متبادل نہیں۔ اس سے کسی امتحان میں کامیابی یا نمبروں کی کوئی ضمانت نہیں ملتی؛ محنت اور تیاری ہی اصل سبب ہیں، دعا ان کے ساتھ سہارا ہے، اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے۔
وظیفہ 9.2: دین کی سمجھ اور فہم کی نبوی دعا
مسئلہ
پڑھا ہوا ذہن میں نہیں ٹھہرتا، بات سمجھ میں دیر سے آتی ہے، مشکل مضامین میں فہم کمزور محسوس ہوتا ہے۔
وظیفہ
اللَّهُمَّ فَقِّهْنِي فِي الدِّينِ وَعَلِّمْنِي التَّأْوِيلَ
ترجمہ: اے اللہ! مجھے دین کی گہری سمجھ عطا فرما اور مجھے (قرآن و دین کی) تشریح و تفسیر کا علم عطا فرما۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے فرمائی تھی۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے یہ دعا کی کہ اے اللہ! انہیں دین کی سمجھ عطا فرما، اور ایک روایت میں ہے کہ اے اللہ! انہیں کتاب (قرآن) کا علم عطا فرما۔ اس دعا کی برکت سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما امت کے سب سے بڑے مفسر قرار پائے اور «ترجمان القرآن» کہلائے۔
- یہ دعا اپنے لیے بھی مانگی جا سکتی ہے اور والدین و اساتذہ اپنے بچوں اور شاگردوں کے لیے بھی مانگ سکتے ہیں؛ اپنے نام کی جگہ ضمیر بدل کر پڑھیں، جیسے اوپر متن میں اپنے لیے صورت دی گئی ہے۔
- مطالعے کے آغاز میں اور مشکل سبق شروع کرنے سے پہلے یہ دعا مانگیں۔ شرعاً اس کی کوئی مقررہ تعداد یا وقت نہیں آیا، عدد مقرر نہ کیا جائے۔
- فہم کی کمزوری کا ایک عملی سبب بنیادی اسباق میں کمزوری بھی ہوتا ہے؛ پچھلے اسباق کی تکرار اور استاد سے بنیادیں مضبوط کرنا اس دعا کے ساتھ اسی ترکیب کا حصہ ہے۔
ماخذ و حوالہ
«اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ» کے الفاظ: صحیح بخاری 143۔ «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ» کے الفاظ: صحیح بخاری 75۔ یہ دعا صحیح مسلم 2477 میں بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے منقول ہے۔
احتیاطی نوٹ
یہ دعا فہم و سمجھ کی توفیق مانگنے کی ہے، بغیر پڑھے سبق سمجھ آنے کی ضمانت نہیں۔ محنت اور تیاری اصل سبب ہیں، دعا ان کے ساتھ سہارا ہے، اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے۔ ذہن کی کمزوری مسلسل اور غیر معمولی ہو تو طبی معائنہ بھی کرایا جائے، کیونکہ نظر یا کسی جسمانی وجہ سے بھی پڑھائی متاثر ہو سکتی ہے۔
وظیفہ 9.3: مشکل مضمون اور سخت کام کی آسانی کی دعا
مسئلہ
کوئی مضمون یا سبق بہت مشکل لگتا ہے، پڑھنے بیٹھیں تو دل گھبراتا ہے اور طبیعت بوجھ محسوس کرتی ہے۔ امتحان کا پرچہ بھی سامنے آنے پر ایسی ہی کیفیت ہوتی ہے۔
وظیفہ
اللَّهُمَّ لَا سَهْلَ إِلَّا مَا جَعَلْتَهُ سَهْلًا، وَأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ إِذَا شِئْتَ سَهْلًا
ترجمہ: اے اللہ! کوئی چیز آسان نہیں مگر وہی جو تو آسان کر دے، اور تو جب چاہے سخت اور دشوار زمین (یعنی مشکل کام) کو بھی آسان کر دیتا ہے۔
مرحلہ وار طریقہ
- یہ دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور مشکل کام پیش آنے پر مانگی جاتی ہے۔ حصن المسلم میں یہ دعا اسی باب میں درج ہے کہ جسے کوئی کام مشکل ہو وہ یہ دعا پڑھے۔
- مشکل سبق شروع کرنے سے پہلے اور امتحان کے پرچے سے پہلے یہ دعا آہستہ سے پڑھیں۔ اس کے معنی پر دھیان دیں کہ آسانی اللہ کے ہاتھ میں ہے، مگر وہ آسانی انہی کو ملتی ہے جو سبب اختیار کرتے ہیں۔
- مشکل مضمون کا عملی علاج یہ ہے کہ اسے چھوٹے چھوٹے حصوں میں بانٹ کر تیاری کی جائے، بنیادی باتیں پہلے پکی کی جائیں اور جو سمجھ نہ آئے وہ استاد یا ساتھی سے پوچھا جائے۔ دعا کے ساتھ یہ اسباب اختیار کرنا اسی دعا کے مفہوم کا عملی تقاضا ہے۔
- حدیث میں اس دعا کی کوئی مقررہ تعداد نہیں آئی؛ عدد مقرر کیے بغیر، ضرورت کے موقع پر حضور قلب سے پڑھیں۔
- اسی باب میں شرح صدر کی دعا «رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي» (سورۃ طہ، آیات 25 تا 28) بھی ہے جو بیچ 3 کے وظیفہ 5.4 میں مکمل آ چکی ہے؛ مشکل کی آسانی کے لیے اسے بھی وہیں سے دیکھ کر پڑھا جا سکتا ہے۔
ماخذ و حوالہ
صحیح ابن حبان 974 (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت)؛ ابن السنی، عمل الیوم واللیلہ 351۔ حصن المسلم میں یہ دعا مشکل کام کی دعاؤں میں درج ہے۔
احتیاطی نوٹ
یہ دعا مشکل کی آسانی کی التجا ہے، بغیر تیاری کے مشکل مضمون آسان ہو جانے کی ضمانت نہیں۔ محنت اور تیاری اصل سبب ہیں، دعا ان کے ساتھ سہارا ہے، اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے۔ مشکل کا اصل حل سبب کے راستے سے آتا ہے؛ دعا اس راستے میں برکت اور دل کا سکون دیتی ہے۔
وظیفہ 9.4: امتحان کے دن کے مسنون اذکار و دعائیں
مسئلہ
امتحان کا دن آ گیا ہے؛ گھر سے نکلتے وقت اور ہال میں بیٹھتے وقت گھبراہٹ ہوتی ہے، دل چاہتا ہے کہ دن کا آغاز اللہ کے بھروسے اور سکون کے ساتھ ہو۔
وظیفہ
(الف) گھر سے نکلنے کی دعا:
بِسْمِ اللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ (نکلتا ہوں)، میں نے اللہ پر بھروسا کیا، اور (گناہ سے بچنے اور نیکی کی) کوئی طاقت اللہ کے بغیر نہیں۔
(ب) دل کے سکون کے لیے اللہ کا ذکر اور دعائے کرب کا ربط:
امتحان گاہ میں بیٹھ کر پرچہ ملنے تک اللہ کا ذکر کرتے رہیں۔ دل پر گھٹن اور کرب کی کیفیت ہو تو دعائے کرب پڑھیں جو بیچ 5 کے وظیفہ 7.3 میں مکمل متن و حوالے کے ساتھ آ چکی ہے۔
مرحلہ وار طریقہ
- امتحان کے دن فجر کی نماز جماعت یا وقت پر ادا کر کے دن آغاز کریں اور گھر والوں، خصوصاً والدین سے دعا کرا کر نکلیں۔ والد کی دعا اولاد کے حق میں قبولیت کی خاص امید رکھتی ہے؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دعاؤں کو شک کے بغیر مقبول بتایا ہے جن میں والد کی اولاد کے لیے دعا بھی ہے۔
- گھر سے نکلتے ہوئے دعا (الف) پڑھیں۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص گھر سے نکلتے وقت یہ کلمات کہے، اسے کہا جاتا ہے کہ تجھے ہدایت دی گئی، تیری کفایت کر دی گئی اور تجھے بچا لیا گیا، اور شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے۔
- راستے میں اور ہال میں بیٹھنے کے بعد آخری لمحوں میں کتابیں الٹنے پلٹنے کے بجائے سکون سے ذکر کریں اور پرچہ ملنے پر پہلے آسان سوالات سے آغاز کرنے کی عملی ترکیب رکھیں؛ یہ بھی اسباب ہی کا حصہ ہے۔
- ان دعاؤں کی کوئی مقررہ تعداد حدیث میں نہیں آئی؛ موقع کے مطابق ایک بار حضور قلب سے پڑھنا کافی ہے، عدد ایجاد نہ کیا جائے۔
ماخذ و حوالہ
گھر سے نکلنے کی دعا: سنن ابی داؤد 5095؛ جامع ترمذی 3426 (امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے)۔ والد کی دعا کی قبولیت: جامع ترمذی 1905؛ سنن ابن ماجہ 3862۔ دل کا اطمینان ذکر سے: قرآن مجید، سورۃ الرعد، آیت 28۔
احتیاطی نوٹ
یہ اذکار دن کے آغاز کے لیے بھروسے اور سکون کا ذریعہ ہیں، پرچے میں آئے ہوئے سوالات کے جواب آ جانے کی ضمانت نہیں۔ محنت اور تیاری اصل سبب ہیں، دعا ان کے ساتھ سہارا ہے، اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے۔ نتیجہ خواہ کچھ ہو، اس پر شکر و رضا کا رویہ بھی اسی ایمان کا حصہ ہے جس کے ساتھ دعا مانگی گئی تھی۔
وظیفہ 9.5: نافع علم کی صبح کی نبوی دعا
مسئلہ
علم حاصل تو ہو رہا ہے مگر دل چاہتا ہے کہ یہ علم نافع ہو، اس پر عمل کی توفیق ملے اور یہ دنیا و آخرت میں کام آئے۔
وظیفہ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے نفع دینے والے علم، پاکیزہ رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔
مرحلہ وار طریقہ
- حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کے سلام کے بعد یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔ اس دعا میں تین چیزیں ایک ساتھ مانگی گئی ہیں: نافع علم، پاک رزق اور مقبول عمل؛ یہ ترکیب خود طالب علم کے لیے زندگی کا نقشہ ہے کہ علم وہی قیمتی ہے جو عمل میں ڈھلے۔
- فجر کی نماز کے بعد یہ دعا اپنا معمول بنائیں؛ گویا ہر دن کی پڑھائی کا آغاز اس نیت سے ہو کہ آج جو سیکھنا ہے وہ نافع ہو۔
- «علماً نافعاً» کی عملی صورت یہ ہے کہ سیکھے ہوئے پر عمل کی کوشش ہو اور اپنے علم سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچایا جائے، خواہ ساتھی طالب علم کو ایک مشکل بات سمجھا کر ہی کیوں نہ ہو۔
- حدیث میں اس دعا کی تعداد فجر کے بعد معمول کے طور پر آئی ہے، اس کے علاوہ کوئی مخصوص عدد مقرر نہیں؛ صبح ایک بار پابندی سے پڑھنا اس دعا کی اصل ترکیب ہے۔
ماخذ و حوالہ
سنن ابن ماجہ 925 (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت)؛ مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔
احتیاطی نوٹ
نافع علم کی دعا اس علم سے پناہ کا پہلو بھی رکھتی ہے جو نفع نہ دے؛ اس لیے اس دعا کے ساتھ علم پر عمل کی کوشش لازم پکڑیں۔ یہ دعا درجات یا نمبروں کی ضمانت نہیں دیتی؛ محنت اور تیاری اصل سبب ہیں، دعا ان کے ساتھ سہارا ہے، اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے۔
زمرہ 10: جادو و اثرات (شرعی راہنمائی)
یہ آخری بیچ پچھلے تمام بیچوں سے مختلف ہے: یہ وظائف کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک حوالہ جاتی راہنما مضمون ہے۔ یہی ترتیب صارف کے منظور کردہ فیصلے کے مطابق ہے کہ اس زمرے میں کوئی عمل، علاج بطور وظیفہ یا تعویذ نہیں دیا جائے گا؛ صرف شرعی اصول، مسنون رقیہ کی طرف راہنمائی، خود دم کرنے کی ترغیب، عاملوں کے فراڈ سے تنبیہ اور اہل علم سے رجوع کی ہدایت دی جائے گی۔
اس زمرے کے خصوصی اصول:
1. اس زمرے میں کوئی عمل، تعویذ، گنڈا، نقش یا جادو کے علاج کے نام پر کوئی عملیات نہیں دیا گیا اور آئندہ بھی نہیں دیا جائے گا۔ اس کی وجہ آخری حصے میں الگ سے واضح کی گئی ہے۔
2. جو حفاظتی اذکار و رقیہ بیچ 1 کے زمرہ 1 (حفاظت و نظرِ بد) میں مکمل متن و حوالے کے ساتھ آ چکے ہیں، اس مضمون میں ان کی تکرار نہیں کی گئی؛ ان کا خلاصہ دے کر وہیں کا حوالہ دے دیا گیا ہے تاکہ قاری ایک ہی جگہ سے مکمل متن حاصل کر لے۔
3. لہجہ خوف پیدا کرنے والا نہیں رکھا گیا۔ انداز یہ ہے کہ قاری کو سکون، توکل اور واضح عملی راہنمائی ملے، کیونکہ خوف اور وہم خود اس مسئلے کو بڑھاتے ہیں۔
جادو و اثرات: شرعی راہنمائی، مسنون حفاظت اور عاملوں کے فراڈ سے بچاؤ
تمہید: پہلے مسئلے کو درست سمجھیں
جادو کی حقیقت سے انکار شرعی موقف نہیں۔ قرآن مجید نے جادو کا ذکر صراحت کے ساتھ کیا ہے اور اسے کفر و گمراہی کی راہوں میں شمار کیا ہے۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد ہے کہ شیاطین نے لوگوں کو جادو سکھایا، اور بابِل میں ہاروت و ماروت نامی دو فرشتوں کا امتحان کے طور پر اتارا جانا بھی اسی تناظر میں بیان ہوا ہے (سورۃ البقرہ، آیت 102)۔ اسی آیت میں یہ بنیادی اصول بھی بتا دیا گیا ہے کہ جادوگر اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور جادو سیکھنے والا اپنے لیے نقصان کی چیز خریدتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جادو کو ہلاکت میں ڈالنے والے سات بڑے گناہوں میں شمار فرمایا ہے (صحیح بخاری 2766؛ صحیح مسلم 89)۔ پس جادو ایک حقیقت ہے، اس کا سیکھنا سکھانا اور کرانا سنگین گناہ ہے، اور اس کے اثرات سے حفاظت کا شرعی راستہ موجود ہے۔
مگر اس کے ساتھ دوسری حقیقت بھی اتنی ہی ضروری ہے: ہر پریشانی جادو نہیں ہوتی۔ ہمارے معاشرے میں یہ رجحان عام ہو چکا ہے کہ بیماری ہو یا کاروبار کی مندی، رشتے میں تاخیر ہو یا گھر کا جھگڑا، ذہنی دباؤ ہو یا نیند کی خرابی، سب سے پہلے شک جادو، بندش اور اثرات کی طرف جاتا ہے۔ یہ رویہ شرعی اعتبار سے بھی درست نہیں اور عملی اعتبار سے بھی نقصان دہ ہے، کیونکہ اس سے اصل سبب چھپ جاتا ہے۔ بخار، تھائرائیڈ، خون کی کمی، ذیابیطس، بلڈ پریشر، ڈپریشن اور بے چینی جیسی بیماریاں اپنی علامات کی وجہ سے اکثر «اثرات» سمجھ لی جاتی ہیں، حالانکہ ان کا علاج دوا اور ڈاکٹر کے پاس ہوتا ہے۔ اسی طرح کاروبار کی رکاوٹ کا سبب عموماً معاشی حالات، اپنی کوتاہی یا بازار کا اتار چڑھاؤ ہوتا ہے، اور خاندانی اختلاف کا سبب رویوں کی سختی اور بات چیت کی کمی ہوتی ہے۔
اس لیے اس راہنما مضمون کا پہلا اصول یہ ہے: پہلے ظاہری و طبی اسباب کو دیانت داری سے دیکھیں۔ بیماری ہو تو ڈاکٹر سے معائنہ کرائیں، ذہنی دباؤ مستقل ہو تو ماہر نفسیات سے رجوع کریں (جیسا کہ زمرہ 7 میں تفصیل سے گزر چکا)، اور دنیاوی مسئلے میں اس کے عملی اسباب اختیار کریں۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا، مسنون اذکار اور رقیہ کا سہارا اپنی جگہ برقرار رکھیں۔ یہ دونوں راستے ایک دوسرے کی ضد نہیں؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں کے علاج کی ترغیب خود دی ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری اتاری ہے اس کی شفا بھی اتاری ہے (صحیح بخاری 5678)۔ جو شخص علاج چھوڑ کر صرف شک کی بنیاد پر عاملوں کے چکر لگاتا ہے، وہ بیماری کو بھی بڑھاتا ہے اور اکثر دھوکے کا شکار بھی ہوتا ہے۔
حصہ 1: شرعی اصول، توحید و توکل کی بنیاد
اس پورے مسئلے کی بنیاد عقیدہ ہے۔ قرآن مجید نے یہ بات کھول کر بیان کر دی ہے کہ نفع و نقصان کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ارشاد ہے:
وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ
ترجمہ: اور اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہارے لیے بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں (سورۃ یونس، آیت 107)۔
اسی بنیاد پر سورۃ البقرہ کی آیت 102 میں جادو کے بارے میں بھی یہی فیصلہ فرمایا گیا کہ جادوگر «اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو نقصان پہنچانے والے نہیں»۔ مطلب یہ کہ جادو کا اثر بھی اللہ کی مشیت کے دائرے سے باہر نہیں؛ جو تکلیف پہنچی ہے وہ اللہ کے علم و اذن سے پہنچی ہے اور اس کا دور کرنا بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جس مومن کا یہ عقیدہ پختہ ہو جائے، اس کے دل سے جادوگر و عامل کا خوف نکل جاتا ہے، کیونکہ وہ مدد کی امید بھی اللہ ہی سے رکھتا ہے۔ توکل کے بارے میں ارشاد ہے:
وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ
ترجمہ: اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے (سورۃ الطلاق، آیت 3)۔
اسی عقیدے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مدد و استعانت کے نام پر ہر وہ دروازہ چھوڑ دیا جائے جس میں شرک یا کفر کی آمیزش ہو۔ جادو کا علاج جادو ہی سے کرنا، جنات سے مدد مانگنا، غیر اللہ کے نام کی قربانی یا نذر، نامعلوم کلمات و اسماء والے اعمال اور ایسے تعویذ جن کے حروف و نقش کا مفہوم ہی معلوم نہ ہو، یہ سب اسی بنیاد کے خلاف ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صحابی نے نشرہ (جادو کا علاج جادو سے کھولنے) کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شیطان کے عمل میں سے ہے (سنن ابی داؤد 3868)۔ اسی طرح نجومیوں و عاملوں کے پاس جا کر غیب کی باتیں پوچھنے کی ممانعت بھی اسی عقیدے کی حفاظت کے لیے ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی کاہن (غیب کی خبریں دینے کا دعویٰ کرنے والے) کے پاس جا کر اس سے کچھ پوچھے، اس کی چالیس راتوں کی نماز قبول نہیں ہوتی (صحیح مسلم 2230)، اور دوسری روایت میں ہے کہ جو کاہن کے پاس آئے اور اس کی بات کی تصدیق کرے، اس نے اس دین کا انکار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا (سنن ابی داؤد 3904؛ جامع ترمذی 135)۔ ان احادیث کا مقصد مومن کو ڈرانا نہیں، اس کے عقیدے کی حفاظت ہے: غیب کا علم اللہ کے پاس ہے، اور اس دروازے سے جانے والا اکثر ایمان، مال اور عزت تینوں سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس زمرے کا پورا علاج تین باتوں میں ہے: اللہ پر پختہ توکل، مسنون اذکار و رقیہ کی پابندی، اور ہر مشکوک و شرکیہ راستے سے مکمل اجتناب۔ اس کے سوا جو کچھ بھی پیش کیا جائے گا وہ اس سیکشن کا حصہ نہیں ہو گا۔
حصہ 2: مسنون رقیہ و حفاظتی اذکار، خود دم کرنے کی ترغیب
جادو و اثرات کے مقابلے میں شریعت نے مومن کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا۔ جو حفاظتی اذکار اور رقیہ قرآن و سنت سے ثابت ہے، وہ اس سیکشن کے بیچ 1 کے زمرہ 1 «حفاظت و نظرِ بد» میں مکمل عربی متن، ترجمہ اور حوالوں کے ساتھ دیا جا چکا ہے۔ یہاں ان کا خلاصہ اس لیے دیا جا رہا ہے کہ قاری کو پورا نقشہ ایک نظر میں مل جائے اور تفصیل کے لیے وہیں رجوع کرے:
- معوذات (سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق، سورۃ الناس): صبح و شام تین تین بار پڑھنا ہر چیز کے مقابلے میں کافی بتایا گیا ہے۔ سورۃ الفلق میں گرہوں میں پھونکنے والیوں یعنی جادو کے شر سے صراحت کے ساتھ اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے (سورۃ الفلق، آیت 4)۔ مکمل متن و طریقہ: بیچ 1، وظیفہ 1.1۔ ماخذ: سنن ابی داؤد 5082؛ جامع ترمذی 3575۔
- آیۃ الکرسی: سوتے وقت پڑھنے والے کے ساتھ اللہ کی طرف سے محافظ رہتا ہے اور صبح تک شیطان اس کے قریب نہیں آتا۔ مکمل متن: بیچ 1، وظیفہ 1.2۔ ماخذ: سورۃ البقرہ، آیت 255؛ صحیح بخاری 2311۔
- بچوں کی حفاظت کے مسنون کلمات: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ» والے کلمات جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے لیے پڑھا کرتے تھے۔ مکمل متن و صورتِ خطاب کی وضاحت: بیچ 1، وظیفہ 1.3۔ ماخذ: صحیح بخاری 3371۔
- مسنون رقیہ (سورۃ الفاتحہ و دعائے جبریل): نظر بد، اچانک بیماری یا جسمانی تکلیف کی صورت میں پڑھا جانے والا رقیہ، جس کی تصویب خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔ مکمل متن: بیچ 1، وظیفہ 1.4۔ ماخذ: صحیح بخاری 5736؛ صحیح مسلم 2201 و 2186۔
- سورۃ البقرہ کی تلاوت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے (صحیح مسلم 780)۔ گھر میں باقاعدہ تلاوت کا معمول اس زمرے کی سب سے مضبوط عملی حفاظتوں میں سے ہے۔ سوتے وقت سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھنے کی فضیلت بھی حدیث میں آئی ہے کہ وہ پڑھنے والے کے لیے کافی ہو جاتی ہیں (صحیح بخاری 5009؛ صحیح مسلم 807)۔
خود دم کرنا ہی اصل سنت ہے۔ اس نکتے پر خاص توجہ دیں، کیونکہ عاملوں کے پاس جانے کی سب سے بڑی وجہ یہی غلط فہمی ہے کہ دم کوئی خاص شخص ہی کر سکتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنا دم کیا کرتے تھے: سوتے وقت دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں ملا کر ان میں پھونکتے، سورۃ الاخلاص و معوذتین پڑھتے اور جہاں تک ہاتھ پہنچتا جسم پر پھیرتے (صحیح بخاری 5016)۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آخری بیماری میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معوذات پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے، اور جب تکلیف بڑھ گئی تو وہ خود پڑھ کر آپ کے ہاتھ مبارک کو برکت کی امید سے آپ کے جسم پر پھیرتی تھیں (صحیح مسلم 2192)۔ صحابہ کرام نے بھی ایک دوسرے پر دم کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصویب فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رقیہ کی اجازت کی حد بھی خود بتا دی ہے: صحابہ نے عرض کیا کہ ہم زمانۂ جاہلیت میں دم کیا کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے رقیے میرے سامنے پیش کرو، رقیوں میں کوئی حرج نہیں جب تک ان میں شرک نہ ہو (صحیح مسلم 2200)۔
پس شرعی قاعدہ یہ ہے کہ رقیہ تین شرطوں کے ساتھ جائز و مسنون ہے: کلمات قرآن یا مسنون دعاؤں سے ہوں اور ان کا مفہوم سمجھ میں آتا ہو؛ ان میں شرک یا غیر اللہ سے استعانت نہ ہو؛ اور یہ عقیدہ نہ ہو کہ اثر خود کلمات کا ہے، بلکہ شفا اللہ کی طرف سے ہے۔ ان شرطوں پر ہر مسلمان خود اپنا، اپنے بچوں اور اپنے اہل خانہ کا دم کر سکتا ہے، اور یہی طریقہ سب سے محفوظ و مسنون ہے۔
یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مرتبہ جادو کا اثر ہوا تھا، اور یہ واقعہ صحیح روایات میں ثابت ہے (صحیح بخاری 5763؛ صحیح مسلم 2189)۔ اس واقعے میں سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ازالے کے لیے کسی عامل کا عمل نہیں کرایا، نہ جادو کا جواب جادو سے دیا؛ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اور وحی کی راہنمائی سے معاملہ واضح ہوا۔ امت کے لیے بھی راہ یہی ہے: دعا، مسنون اذکار و رقیہ اور اللہ پر توکل۔
حصہ 3: عاملوں و جعلی پیروں کے فراڈ کی پہچان
اس موضوع پر سب سے زیادہ نقصان جادو سے نہیں، جادو کے خوف سے ہوتا ہے۔ خوف زدہ انسان عاملوں و جعلی پیروں کے جال میں پھنستا ہے، اور پھر بعض اوقات برسوں ان کے چکر لگتے رہتے ہیں، رقم بھی جاتی ہے، راز بھی کھلتے ہیں اور مسئلہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ اس لیے درج ذیل نشانیاں یاد رکھیں؛ جس «عامل» میں یہ باتیں نظر آئیں، اس سے فوراً کنارہ کر لیں:
- نام اور والدہ کا نام پوچھنا: اصل نام کے ساتھ والدہ کا نام پوچھنا جادوگروں و کاہنوں کا معروف طریقہ ہے، مسنون رقیہ کرنے والے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ دم کے لیے مریض کا نام ہی کافی ہوتا ہے، وہ بھی صرف دعا میں ذکر کے لیے۔
- غیب کی خبریں اور گم شدہ باتیں بتانا: «تم پر فلاں رشتہ دار نے جادو کرایا ہے»، «گھر میں فلاں جگہ تعویذ دفن ہے»، «تمہارے پیچھے جن لگا ہے» جیسی قطعی خبریں دینا کاہنوں کا شیوہ ہے۔ ایسی باتوں سے خاندانوں میں بدگمانی و دشمنی پیدا ہوتی ہے، اور کئی گھرانے اسی آگ میں ٹوٹ چکے ہیں۔ حدیث کی روشنی میں کاہن کی بات کی تصدیق خود خطرناک عمل ہے (سنن ابی داؤد 3904)۔
- بڑھتا ہوا پیسوں کا مطالبہ: ابتدائی فیس کم، پھر «اثر پرانا ہے، بڑا عمل ہو گا»، «خاص قربانی و سامان درکار ہے» کہہ کر رقم بڑھاتے جانا فراڈ کی واضح علامت ہے۔ مسنون دم و دعا کا سودا نہیں ہوتا۔
- جن نکالنے کا ڈرامہ اور جسمانی تشدد: مار پیٹ، دھواں، چیخ و پکار اور مریض کو تکلیف دے کر «جن حاضر کرنے» کا تماشا کرنا شرعی رقیہ نہیں۔ اس سے مریض کی صحت کو اصل نقصان پہنچ سکتا ہے، خصوصاً ذہنی مریض اس سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
- عورتوں سے تنہائی میں ملاقات کی شرط: علاج کے نام پر نامحرم عورت سے خلوت، پردے کی خلاف ورزی یا غیر شرعی مطالبات رکھنے والا شخص عامل نہیں، فتنہ ہے۔ ایسے مقامات پر عزت کے نقصان کے واقعات عام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خلوت سے خود منع فرمایا ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نامحرم کے ساتھ تنہائی کو شیطان کی موجودگی سے جوڑا ہے (جامع ترمذی 2165)۔
- شرکیہ تعویذ و نامعلوم نقش دینا: ایسے تعویذ جن میں نامعلوم حروف، اعداد کے خانے، ناقابل فہم کلمات یا غیر اللہ سے مدد کی عبارتیں ہوں، یا جو کھولنے و پڑھنے سے منع کیا جائے، ان سے بچیں۔ سمجھ میں آنے والے قرآنی کلمات کے بارے میں بھی اس سیکشن کا اصول یہی ہے کہ دم و دعا زبانی پڑھنا ہی مسنون و محفوظ راستہ ہے؛ تعویذ لٹکانے کی ترغیب اس سیکشن میں نہیں دی جاتی۔
- جادو کا علاج جادو سے کرنے کی پیشکش: «توڑ کے لیے ویسا ہی عمل کرنا پڑے گا» کہنے والا خود جادو کی راہ پر ہے، اور نشرہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کا عمل قرار دیا ہے (سنن ابی داؤد 3868)۔
- اہل خانہ سے راز رکھنے کی تلقین: «یہ بات گھر والوں کو مت بتانا ورنہ عمل ٹوٹ جائے گا» کہنا اس لیے ہوتا ہے کہ سمجھ دار آدمی کی نظر پڑے تو فراڈ کھل جائے۔ شرعی علاج میں چھپانے کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔
- یقینی وعدے اور مخصوص دن کی ضمانت: «سات دن میں شادی ہو جائے گی»، «مقدمہ تمہارے حق میں فیصلہ ہو گا»، «مخصوص شخص تمہارے قدموں میں آئے گا» جیسے وعدے غیب کا دعویٰ ہیں۔ شفا و نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور اس سیکشن کے کسی اندراج میں نتیجے کی ضمانت اسی لیے نہیں دی گئی۔
یہ نشانیاں اس لیے لکھی گئی ہیں کہ قاری فیصلہ خود کر سکے۔ کوئی بھی شخص، چاہے اس کی زبان سے دینی باتیں ہی کیوں نہ نکلتی ہوں، اگر ان نشانیوں پر پورا اترے تو اس کا ظاہری حلیہ اس کے عمل کو شرعی نہیں بنا دیتا۔
حصہ 4: اہل علم سے رجوع کی راہنمائی
اگر کسی کو واقعی یہ اندیشہ ہو کہ اس کے ساتھ کوئی غیر معمولی معاملہ ہے، یا مسنون اذکار و رقیہ پر عمل کے باوجود کیفیت برقرار ہو، تو درست راستہ یہ ہے:
- سب سے پہلے اپنے علاج و معائنے کی طرف متوجہ ہوں۔ بہت سے معاملات طبی نکلتے ہیں اور بروقت علاج سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ روحانی راہنمائی طبی علاج کے متوازی چلے گی، اس کی جگہ نہیں لے گی۔
- اپنے علاقے کے کسی مستند، معروف و متقی عالم دین سے ملاقات کریں، یا کسی مستند دارالافتاء میں اپنا مسئلہ لکھ کر بھیجیں۔ رجوع کے لیے وہی عالم مناسب ہے جو خود مسنون رقیہ کی راہنمائی کرے، شرکیہ اعمال سے منع کرے اور عاملوں کے پاس جانے سے روکے۔ ایسے عالم کی پہچان بھی یہی ہے کہ وہ پیسے کا لالچ نہیں رکھتا اور فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں کرتا ہے۔
- آن لائن راہنمائی کے لیے اسی ویب سائٹ کے «سوال پوچھیں» نظام کے ذریعے اپنا مسئلہ بھیج سکتے ہیں؛ وہاں مفتیان کرام کی طرف سے شرعی راہنمائی دی جاتی ہے۔ سوال میں اپنی کیفیت سادگی سے لکھیں، کسی عامل کی بتائی ہوئی تشخیص کو حقیقت سمجھ کر پیش نہ کریں۔
- گھر کے ماحول کو بھی ساتھ ساتھ درست کریں: نمازوں کی پابندی، گھر میں تلاوت کا معمول، صبح و شام کے اذکار، اور اہل خانہ کے ساتھ نرمی و صلہ رحمی۔ تجربہ یہی ہے کہ جس گھر میں یہ معمول آ جاتا ہے، وہاں خوف و وہم کی فضا خود بخود کم ہو جاتی ہے، خواہ اصل مسئلہ کچھ بھی ہو۔
حصہ 5: اس زمرے میں عمل و تعویذ کیوں نہیں دیا گیا
آخر میں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس زمرے میں کوئی وظیفہ بطور علاج، عمل یا تعویذ کیوں شامل نہیں کیا گیا، تاکہ قاری اسے کمی نہ سمجھے بلکہ اس سیکشن کی شعوری پالیسی سمجھے۔
پہلی وجہ شرعی ہے۔ جادو کے «توڑ» کے نام پر گردش کرنے والے اکثر اعمال یا تو نامعلوم کلمات پر مبنی ہیں، یا ان میں جنات سے استعانت اور شرکیہ عبارتیں شامل ہیں، یا وہ کسی کتاب و سنت سے ثابت ہی نہیں۔ جو چیز ثابت نہ ہو، اسے دین کے نام پر پیش کرنا اس سیکشن کے اسلوب کے خلاف ہے؛ یہاں ہر اندراج مکمل حوالے کے ساتھ دیا گیا ہے اور جس وظیفے کا حوالہ پختہ نہ ملا وہ الگ «تصدیق طلب» فہرست میں رکھا گیا، شائع نہیں کیا گیا۔
دوسری وجہ عملی ہے۔ علاج کے نام پر دیے گئے اعمال اکثر قاری کو عاملوں ہی کی طرف لے جاتے ہیں، کیونکہ «بڑا عمل» ہمیشہ کسی «ماہر» کا محتاج بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ مسنون رقیہ کی خاصیت یہی ہے کہ وہ ہر مسلمان کے اپنے ہاتھ میں ہے: قرآن کی سورتیں، مسنون دعائیں اور خود دم کرنا۔ یہ راستہ مفت بھی ہے، محفوظ بھی اور سنت کے عین مطابق بھی۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ تشخیص ہی یقینی نہیں ہوتی۔ جب یہ طے کرنا مشکل ہو کہ مسئلہ جادو ہے، بیماری ہے یا وہم، تو «جادو کا علاج» تجویز کرنا مریض کے ساتھ زیادتی ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے اصل علاج رہ جاتا ہے اور وہم پختہ ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس مسنون اذکار و دعا ہر حالت میں نفع بخش ہیں: جادو ہو تو حفاظت ہے، بیماری ہو تو دعا و شفا کی طلب ہے، اور وہم ہو تو دل کا سکون ہے۔
اس لیے اس سیکشن کا فیصلہ یہی رکھا گیا ہے: اس زمرے میں صرف راہنمائی ہو گی، عملیات نہیں۔ جسے مزید راہنمائی درکار ہو، وہ حصہ 4 کے مطابق اہل علم سے رجوع کرے۔
آخری بات: اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کو دلوں کے اطمینان کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ حفاظت کا مسنون نظام باقاعدگی سے اپنائیں، ٹوٹ پھوٹ کے شکار شبہات میں الجھنے کے بجائے علاج و اسباب کی راہ لیں، اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے دعا جاری رکھیں۔ یہی اس مضمون کا خلاصہ ہے۔
اس مضمون کے اہم ماخذ: قرآن مجید: سورۃ البقرہ 102، 255، 285 تا 286؛ سورۃ یونس 107؛ سورۃ الطلاق 3؛ سورۃ الفلق۔ احادیث: صحیح بخاری 2311، 2766، 3371، 5009، 5016، 5678، 5736، 5763؛ صحیح مسلم 89، 780، 807، 2186، 2189، 2192، 2200، 2201، 2230؛ سنن ابی داؤد 3868، 3904، 5082؛ جامع ترمذی 135، 2165، 3575۔ حفاظتی اذکار کے مکمل متون کے لیے بیچ 1، زمرہ 1 (وظائف 1.1 تا 1.4) دیکھیں۔
اذکار: صبح و شام کے مسنون اذکار
سیٹ کی قرآنی بنیاد: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ صبح و شام اپنے رب کی تسبیح کرو، سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے (سورۃ طٰہٰ، آیت 130؛ اسی مضمون کی آیات سورۃ ق، آیت 39 میں بھی ہیں)۔ اور ارشاد ہے کہ اللہ کا ذکر کثرت سے کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کیا کرو (سورۃ الاحزاب، آیات 41 تا 42)۔ ترتیب حصن المسلم اور کتاب الاذکار (امام نووی) کی باب بندی کی روشنی میں رکھی گئی ہے۔
نوٹ (وظائف بیچ 1 سے ربط): اس سیٹ کے چند اذکار وظائف بیچ 1 کے زمرہ 1 (حفاظت و نظر بد) میں بطور وظیفہ شرح کے ساتھ آ چکے ہیں: تین قل صبح و شام (وظیفہ 1.1) اور مسنون رقیہ (وظیفہ 1.4)۔ آیۃ الکرسی بیچ 1 میں سوتے وقت کے وظیفے کے طور پر آئی ہے (وظیفہ 1.2)، جبکہ یہاں اس کا صبح و شام والا پہلو ہے۔ ان اذکار کا مکمل متن اس سیٹ کی تکمیل کے لیے یہاں ایک بار دیا گیا ہے، مگر ان کی شرح اور طریقے کی تفصیل دہرائی نہیں گئی؛ اس کے لیے متعلقہ وظیفہ دیکھا جائے۔
اس سیٹ کے عمومی اصول:
1. صبح کے اذکار کا وقت طلوع آفتاب سے پہلے کا ہے، یعنی فجر کی نماز کے بعد سے سورج نکلنے تک؛ اور شام کے اذکار کا وقت اہل علم کے یہاں عصر کے بعد سے سورج غروب ہونے تک ہے (بعض علماء کے نزدیک مغرب کے بعد ممتد رات کی ابتداء تک بھی شامل ہے)۔ یہ ترتیب حصن المسلم اور کتاب الاذکار کی عمومی ترتیب ہے۔
2. تعداد صرف وہی لکھی گئی ہے جو حدیث یا مستند ماخذ میں آئی ہے۔ جس ذکر کی کوئی مخصوص تعداد ماخذ میں نہیں، وہاں صاف لکھا ہے کہ تعداد مقرر نہیں۔
3. اذکار کی اصل روح حضور قلب اور معنی پر توجہ ہے؛ تعداد پوری کرنا مقصود نہیں، بلکہ اللہ کی یاد میں کچھ وقت گزارنا مقصود ہے۔ جلدی اور بے توجہی سے محض گنتی پوری کرنا اس مقصد کے خلاف ہے۔
4. کوئی ذکر رہ جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں؛ یہ مسنون معمولات ہیں، فرض و واجب نہیں۔ استطاعت کے مطابق جتنا معمول بن سکے وہی بہتر ہے، اور کم مگر پابندی والا معمول بے قاعدہ زیادہ سے بہتر ہے (صحیح بخاری 6464؛ صحیح مسلم 2818: اللہ کو سب سے محبوب عمل وہ ہے جس پر مداومت ہو اگرچہ تھوڑا ہو)۔
ذکر الف۔1: آیۃ الکرسی
موقع و وقت
صبح و شام، دونوں وقت۔
ذکر کا متن
اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ، لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ، لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ، مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ، يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ، وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ، وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
ترجمہ: اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ ہے، سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے، اور ان کی حفاظت اس پر بھاری نہیں۔ اور وہی بلند ہے، بڑی عظمت والا ہے۔
تعداد
صبح ایک بار اور شام ایک بار۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
یہ قرآن مجید کی سب سے عظیم آیت ہے (صحیح مسلم 810، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کتاب اللہ کی سب سے عظیم آیت قرار دیا)۔ صبح پڑھنے والے کے بارے میں روایت ہے کہ وہ شام تک حفظ میں رہتا ہے اور شام پڑھنے والا صبح تک (مستدرک حاکم، جلد 1، صفحہ 562؛ شیخ البانی نے صحیح الترغیب والترہیب 662 میں اسے قابل قبول درجہ دیا)۔ رات کو سوتے وقت اس کی فضیلت (اللہ کی طرف سے محافظ اور شیطان کا دور رہنا) بیچ 1 کے وظیفہ 1.2 میں تفصیل سے آ چکی ہے (صحیح بخاری 2311)۔ یہ ذکر حصن المسلم کے اذکار الصباح والمساء میں سب سے پہلے درج ہے۔ اصل آیت: سورۃ البقرہ، آیت 255۔
ذکر الف۔2: معوذات (سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق، سورۃ الناس)
موقع و وقت
صبح و شام، دونوں وقت۔
ذکر کا متن
سورۃ الاخلاص:
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ الصَّمَدُ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ
سورۃ الفلق:
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ، وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ
سورۃ الناس:
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، مَلِكِ النَّاسِ، إِلَهِ النَّاسِ، مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ، الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ، مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ
ترجمہ: سورۃ الاخلاص: کہہ دیجیے، وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے (سب اس کے محتاج ہیں)۔ نہ اس نے کسی کو جنا، نہ وہ جنا گیا۔ اور کوئی اس کے برابر نہیں۔
سورۃ الفلق: کہہ دیجیے، میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی، اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے، اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
سورۃ الناس: کہہ دیجیے، میں انسانوں کے رب کی پناہ لیتا ہوں، انسانوں کے بادشاہ کی، انسانوں کے معبود کی، اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو (اللہ کا ذکر سن کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے، جو انسانوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
تعداد
صبح تین تین بار اور شام تین تین بار (ہر سورت تین بار)۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت عبد اللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ قل ہو اللہ احد اور معوذتین صبح و شام تین تین بار پڑھا کرو، یہ تمہیں ہر چیز سے کافی ہو جائیں گی (سنن ابی داؤد 5082؛ جامع ترمذی 3575؛ ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا)۔ ان سورتوں کی حفاظتی حیثیت اور طریقے کی تفصیل (دونوں ہتھیلیوں میں پھونک کر بدن پر پھیرنا) بیچ 1 کے وظیفہ 1.1 میں آ چکی ہے؛ یہاں وہ تفصیل دہرائی نہیں گئی۔ اصل سورتیں: سورۃ الاخلاص (112)، سورۃ الفلق (113)، سورۃ الناس (114)۔
ذکر الف۔3: سید الاستغفار
موقع و وقت
صبح و شام، دونوں وقت۔
ذکر کا متن
اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ
ترجمہ: اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں، اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں اپنے کیے کے شر سے تیری پناہ لیتا ہوں۔ میں تیرے اس احسان کا اقرار کرتا ہوں جو تو نے مجھ پر کیا، اور اپنے گناہ کا بھی اقرار کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، کیونکہ گناہوں کو تیرے سوا کوئی نہیں بخشتا۔
تعداد
صبح ایک بار اور شام ایک بار۔ حدیث میں تعداد کی صراحت نہیں؛ حصن المسلم میں یہ دعا صبح و شام کے اذکار میں ایک ایک بار کے معمول کے ساتھ درج ہے۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے استغفار کی تمام صورتوں کا سردار قرار دیا اور فرمایا کہ جو اسے دن میں یقین کے ساتھ کہے اور اسی دن شام سے پہلے فوت ہو جائے وہ اہل جنت میں سے ہے، اور جو اسے رات میں یقین کے ساتھ کہے اور صبح سے پہلے فوت ہو جائے وہ بھی اہل جنت میں سے ہے (صحیح بخاری 6306، حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی روایت)۔
ذکر الف۔4: اصبحنا و اصبح الملک للہ
موقع و وقت
صبح؛ اسی کے مقابل کلمات شام کو «امسینا» کے ساتھ۔
ذکر کا متن
عربی متن (صبح):
أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذَا الْيَوْمِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذَا الْيَوْمِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ
عربی متن (شام):
شام کو یہی دعا اس صورت میں پڑھی جاتی ہے: «أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ…» اور «خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا»، باقی کلمات وہی ہیں۔
ترجمہ: ہم نے صبح کی اور ساری بادشاہی نے اللہ کے لیے صبح کی، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے میرے رب! میں تجھ سے اس دن کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس بھلائی کا جو اس کے بعد ہے، اور میں اس دن کے شر سے تیری پناہ لیتا ہوں اور اس شر سے جو اس کے بعد ہے۔ اے میرے رب! میں سستی اور بڑھاپے کی برائی سے تیری پناہ لیتا ہوں۔ اے میرے رب! میں آگ کے عذاب اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ لیتا ہوں۔
تعداد
صبح ایک بار اور شام ایک بار۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب شام کرتے تو یہ کلمات فرمایا کرتے تھے (اور صبح کے کلمات اسی روایت میں «اصبحنا» کے ساتھ مذکور ہیں) (صحیح مسلم 2723)۔ اسی لیے یہ دعا اس سیٹ کی بنیادی صبح و شام دعاؤں میں سے ہے اور حصن المسلم میں بھی درج ہے۔
ذکر الف۔5: اللہم بک اصبحنا
موقع و وقت
صبح و شام، دونوں وقت (صبح «بک اصبحنا» اور شام «بک امسینا» کے ساتھ)۔
ذکر کا متن
عربی متن (صبح):
اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ
عربی متن (شام):
اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
ترجمہ: اے اللہ! تیری ہی (حفاظت و قدرت) کے ساتھ ہم نے صبح کی، اور تیرے ہی ساتھ ہم شام کرتے ہیں، اور تیرے ہی نام سے ہم زندہ ہیں اور تیرے ہی حکم سے ہم مرتے ہیں، اور تیری ہی طرف دوبارہ اٹھ کر جانا ہے۔ شام والی صورت میں آخری جملے کا معنی ہے: اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
تعداد
صبح ایک بار اور شام ایک بار۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کرتے تو یہ کلمات فرمایا کرتے تھے اور جب شام کرتے تو اس کی شام والی صورت فرمایا کرتے تھے (جامع ترمذی 3391؛ سنن ابن ماجہ 3868؛ ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا)۔
ذکر الف۔6: رضیت باللہ ربا
موقع و وقت
صبح و شام، دونوں وقت۔
ذکر کا متن
رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا
ترجمہ: میں اللہ کے رب ہونے پر راضی ہوں، اور اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر۔
تعداد
صبح تین بار اور شام تین بار۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان بندہ صبح و شام تین تین بار یہ کلمات کہے، اللہ تعالیٰ پر حق ہو جاتا ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے (جامع ترمذی 3389؛ سنن ابی داؤد 5072؛ ترمذی نے اسے حسن قرار دیا)۔ ایک اور روایت میں ہے کہ جو آدمی یہ کلمات کہے، میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کروں گا (مجمع الزوائد میں طبرانی کے حوالے سے؛ اہل علم نے اس روایت کی سند کو حسن درجے میں رکھا ہے)۔ اصل فضیلت کے لیے پہلی روایت ہی کفایت کرتی ہے۔
ذکر الف۔7: بسم اللہ الذی لا یضر
موقع و وقت
صبح و شام، دونوں وقت۔
ذکر کا متن
بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ (میں پناہ لیتا ہوں)، وہ ذات کہ اس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
تعداد
صبح تین بار اور شام تین بار۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ ہر دن کی صبح اور ہر رات کی شام کو تین بار یہ کلمات کہے، اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی (سنن ابی داؤد 5088؛ جامع ترمذی 3388؛ سنن ابن ماجہ 3869)۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابان بن عثمان، جو اس حدیث کے راوی ہیں، کو فالج کا عارضہ ہوا تو ایک شخص کے سوال پر انہوں نے فرمایا کہ حدیث سچی ہے، مگر اس دن مجھے غصہ آیا تھا (اور میں یہ کلمات کہنا بھول گیا تھا) تاکہ اللہ کا فیصلہ نافذ ہو۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ذکر تقدیر کو ٹالتا نہیں، مگر اس کی برکت سے حفاظت کا وعدہ حدیث میں آیا ہے۔
ذکر الف۔8: حسبی اللہ لا الہ الا ہو
موقع و وقت
صبح و شام، دونوں وقت۔
ذکر کا متن
حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
ترجمہ: میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسا کیا، اور وہ عظیم عرش کا رب ہے۔
تعداد
صبح سات بار اور شام سات بار (روایت کی تعداد یہی ہے، نیچے والی سند کی وضاحت کے ساتھ)۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص صبح و شام سات مرتبہ یہ کلمات کہے، اللہ تعالیٰ اس کے دنیا و آخرت کے اہم معاملات میں اسے کفایت فرماتا ہے (سنن ابی داؤد 5081)۔ سند کی وضاحت: اس روایت کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک منسوب (مرفوع) ہونے پر اہل علم کا کلام ہے؛ بعض محققین نے اسے صحابی کے قول کی صورت میں ثابت مانا ہے۔ اس لیے یہ ذکر اس وضاحت کے ساتھ دیا گیا ہے کہ اسے صحابی کے عمل اور قرآن کی اسی آیت کے مفہوم پر عمل کے طور پر پڑھا جائے؛ اصل کلمات قرآن مجید کے ہیں (سورۃ التوبہ، آیت 129 کا آخری حصہ)۔ حصن المسلم میں یہ ذکر صبح و شام کے اذکار میں اسی تعداد کے ساتھ درج ہے۔
ذکر الف۔9: یا حی یا قیوم برحمتک استغیث
موقع و وقت
صبح و شام، دونوں وقت۔
ذکر کا متن
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ
ترجمہ: اے ہمیشہ زندہ رہنے والے، اے سب کو قائم رکھنے والے! میں تیری رحمت کے وسیلے سے فریاد کرتا ہوں۔ میرے تمام معاملات درست فرما دے، اور مجھے پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر۔
تعداد
تعداد مقرر نہیں؛ صبح و شام ایک ایک بار ہی معمول رکھا جائے۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: میں تمہیں جس بات کی وصیت کرتا ہوں اسے سننے سے تمہیں کیا چیز روکتی ہے؟ تم صبح و شام یہ کہا کرو: یا حی یا قیوم برحمتک استغیث (جامع ترمذی 3524؛ ترمذی نے اسے حسن غریب قرار دیا)۔ چونکہ یہ وصیت خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی صاحبزادی کو ہے اور صراحت کے ساتھ صبح و شام کی ہے، اس لیے اس ذکر کی اس سیٹ میں خاص جگہ ہے۔
ذکر الف۔10: سبحان اللہ وبحمدہ
موقع و وقت
صبح و شام، دونوں وقت (فضیلت کی روایت صبح کے ذکر کے ساتھ آئی ہے)۔
ذکر کا متن
سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ
ترجمہ: اللہ پاک ہے اور اسی کی تعریف ہے۔ (یعنی میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ۔)
تعداد
سو بار۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت سو بار «سبحان اللہ وبحمدہ» کہے، اس کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں (صحیح بخاری 6405؛ صحیح مسلم 2691)۔ ایک اور روایت میں یہ کلمات اللہ کو سب سے محبوب کلام میں سے ہیں اور زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری ہیں (صحیح بخاری 6406؛ صحیح مسلم 2694، اس روایت میں «سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم» دونوں جملے ہیں)۔ حصن المسلم میں یہ ذکر صبح و شام دونوں اوقات میں سو سو بار کے ساتھ درج ہے۔
ذکر الف۔11: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ
موقع و وقت
صبح و شام، دونوں وقت۔
ذکر کا متن
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
تعداد و فضیلت
تعداد (روایات کا فرق): اس ذکر کی تعداد میں تین روایتیں ہیں، تینوں درج ہیں تاکہ قاری کسی ایک کو ہی واحد صورت نہ سمجھے:
(الف) سو بار:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں جو صبح سو بار یہ کلمات کہے، اسے دس غلام آزاد کرنے کا ثواب، سو نیکیاں، سو برائیوں کی معافی اور اس دن شام تک شیطان سے حفاظت ملتی ہے، اور قیامت کے دن اس سے افضل عمل کوئی نہیں لائے گا سوائے اس کے جس نے اس سے زیادہ کیا ہو (صحیح بخاری 3293؛ صحیح مسلم 2691)۔
(ب) دس بار:
صبح و شام دس دس بار کی صورت بھی روایت میں آئی ہے اور حصن المسلم میں فجر و مغرب کے بعد کی مخصوص صورت میں دس بار کے ساتھ درج ہے (جامع ترمذی 3478؛ سنن نسائی)۔
(ج) ایک بار:
حصن المسلم میں یہ ذکر صبح و شام ایک بار کے ساتھ بھی درج ہے (سنن نسائی، عمل الیوم واللیلہ 25؛ سنن ابن ماجہ 3867)۔
عملی ترتیب: جسے توفیق ہو وہ صبح سو بار والی صورت اختیار کرے؛ وقت کی تنگی ہو تو دس بار یا ایک بار والی ثابت شدہ صورت پر عمل کرے، اور اپنی طرف سے درمیانی کوئی عدد نہ بنائے۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
جیسا کہ اوپر (الف) میں گذرا؛ یہ کلمات دن بھر کی حفاظت اور سب سے بڑے اجر کے وعدے کے ساتھ آئے ہیں۔
ذکر الف۔12: درود شریف
موقع و وقت
صبح و شام، دونوں وقت، اور دن رات کے ہر وقت میں۔
ذکر کا متن
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
ترجمہ: اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کے لائق، بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور ان کی آل پر برکت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم (علیہ السلام) پر اور ان کی آل پر برکت نازل فرمائی، بے شک تو تعریف کے لائق، بزرگی والا ہے۔
تعداد
تعداد مقرر نہیں۔ درود ہر تعداد میں پڑھا جا سکتا ہے؛ صبح و شام کے معمول میں جتنی توفیق ہو، اسی قدر پڑھیں۔ (صبح و شام دس دس بار کی ایک مخصوص فضیلت والی روایت کی درجہ بندی میں اختلاف ہے، اس لیے وہ نیچے تصدیق طلب فہرست میں رکھی گئی ہے؛ یہاں صرف عمومی ثابت شدہ فضیلت درج ہے۔)
فضیلت و ماخذ و حوالہ
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر درود بھیجتے ہیں؛ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو (سورۃ الاحزاب، آیت 56)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے، اللہ اس پر دس بار رحمت بھیجتا ہے (صحیح مسلم 408)۔ اور فرمایا کہ لوگوں میں قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ ہو گا جو دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجتا تھا (جامع ترمذی 484؛ ترمذی نے اسے حسن قرار دیا)۔ درود ابراہیمی کا یہ متن نماز میں پڑھے جانے والے درود کا متن ہے (صحیح بخاری 3370؛ صحیح مسلم 406)۔ تمام اذکار کے مجموعوں میں صبح و شام کے اذکار کا اختتام درود شریف سے ہی کیا جاتا ہے، اسی لیے یہ ذکر اس سیٹ کا آخری ذکر رکھا گیا ہے۔
اذکار: نماز کے بعد کے مسنون اذکار
اس مجموعے کی بنیاد وہ احادیث ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام کے بعد کے معمولات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نقل کیے ہیں۔ حضرت ثوبان، حضرت ابو ہریرہ، حضرت کعب بن عجرہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم کی روایات اس بیچ کی اصل ہیں۔
اس بیچ کے عمومی اصول:
1. یہ تمام اذکار فرض نماز کے سلام کے بعد کے ہیں۔ نماز کے اندر (تشہد کے بعد، سلام سے پہلے) پڑھی جانے والی منتخب دعائیں بھی اسی بیچ کے آخری اندراجات میں الگ عنوان کے ساتھ شامل ہیں، تاکہ قاری کو دونوں اوقات کا فرق واضح رہے۔
2. ترتیب کا عملی نکتہ: مختصر اذکار، یعنی استغفار، «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ» اور تسبیحات وغیرہ، سلام کے فوراً بعد اسی جگہ بیٹھ کر پڑھنا سنت سے ثابت ہے۔ جن نمازوں کے بعد سنن مؤکدہ آتی ہیں (ظہر، مغرب اور عشاء)، وہاں عام اہل علم کی راہنمائی یہ ہے کہ مختصر اذکار کے بعد سنتیں ادا کر لی جائیں اور طویل اذکار و دعائیں سنتوں کے بعد اطمینان سے مکمل کی جائیں، تاکہ نہ اذکار چھوٹیں اور نہ سنتوں کا تسلسل ٹوٹے۔ فجر اور عصر کے بعد یہ ترتیب لازم نہیں آتی، وہاں پورے اذکار ایک ہی نشست میں پڑھے جا سکتے ہیں۔ یہ نکتہ اختلافی بحث کھولنے کے لیے نہیں، عملی آسانی کے لیے ہے؛ قاری اپنے یہاں کے اہل علم کی راہنمائی کو مقدم رکھے۔
3. تعداد وہی ہے جو حدیث میں آئی ہے۔ جہاں حدیث میں کم و بیش کی متعدد صورتیں ثابت ہیں (مثلاً تسبیحات کی 33 والی اور 10 والی ترکیب)، وہ الگ الگ اندراج میں اپنے حوالے کے ساتھ درج ہیں، تاکہ قاری سہولت کے مطابق کسی ایک ثابت صورت کو اختیار کر سکے۔
4. یہ اذکار انفرادی عمل ہیں۔ ہر نمازی اپنی جگہ پر آہستہ آواز میں پڑھے؛ دوسروں کی نماز یا اذکار میں خلل نہ ڈالے۔
5. ذکر کا اصل مقصد اللہ کی یاد اور دل کی حاضری ہے۔ صرف گنتی پوری کر دینا کافی نہیں؛ الفاظ کے معنی کی طرف توجہ رکھنا ہی اصل روح ہے۔
ذکر 1: سلام کے بعد تین بار استغفار اور «اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ»
عربی متن
أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ (ثَلَاثَ مَرَّاتٍ)، اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
ترجمہ: میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں (تین بار)۔ اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ملتی ہے۔ تو بڑی برکت والا ہے، اے بزرگی اور عزت والے۔
تعداد و وقت
استغفار تین بار، پھر یہ دعا ایک بار۔ فرض نماز کے سلام کے فوراً بعد، قبلہ رخ بیٹھے ہوئے، سنتوں سے پہلے۔ یہ اس بیچ کا پہلا ذکر ہے اور اسی سے نماز کے بعد کے اذکار کا آغاز ہوتا ہے۔
ماخذ و حوالہ
صحیح مسلم 591 (حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار استغفار کرتے اور پھر یہ دعا پڑھتے)۔
نوٹ
اس دعا میں نماز کی کمی کوتاہی کی معافی بھی ہے اور یہ اعلان بھی کہ سلامتی کا اصل سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مقدار بہت مختصر ہے، اس لیے اسے کسی نماز میں بھی نہ چھوڑا جائے۔
ذکر 2: تسبیحات، یعنی سبحان اللہ، الحمد للہ اور اللہ اکبر تینتیس تینتیس بار اور سو کی تکمیل
عربی متن
سُبْحَانَ اللَّهِ (33 بار)، الْحَمْدُ لِلَّهِ (33 بار)، اللَّهُ أَكْبَرُ (33 بار)
پھر سو کی تکمیل کے لیے ایک بار:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ترجمہ: اللہ پاک ہے (ہر عیب سے)۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
تعداد و وقت
ہر کلمہ 33 بار، اس طرح 99 ہوئے، اور آخری کلمہ ایک بار پڑھنے سے سو پورے ہو جاتے ہیں۔ ہر فرض نماز کے سلام کے بعد۔ اہل علم کی راہنمائی کے مطابق اسے ذکر 1 کے بعد اسی نشست میں پڑھا جا سکتا ہے، اور سنن مؤکدہ والی نمازوں میں اس کا ایک حصہ سنتوں کے بعد بھی مکمل کیا جا سکتا ہے۔
ماخذ و حوالہ
صحیح مسلم 597 (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت؛ اسی میں یہ فضیلت بھی ہے کہ اس عمل پر گناہ معاف ہو جاتے ہیں، اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں)۔ تینتیس تینتیس بار والی اصل ترکیب صحیح بخاری 843 میں بھی آئی ہے۔
نوٹ
اس روایت کا پس منظر بھی سبق آموز ہے۔ غریب مہاجرین نے عرض کیا کہ مال دار لوگ نیکیوں میں آگے نکل گئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تسبیحات سکھائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ اذکار مال و دولت کے بغیر ہر مسلمان کے لیے اجر کا کھلا دروازہ ہیں۔
ذکر 3: معقبات والی ترکیب اور دس دس والی آسان صورت
عربی متن
سُبْحَانَ اللَّهِ (33 بار)، الْحَمْدُ لِلَّهِ (33 بار)، اللَّهُ أَكْبَرُ (34 بار)
دوسری ثابت صورت:
سُبْحَانَ اللَّهِ (10 بار)، الْحَمْدُ لِلَّهِ (10 بار)، اللَّهُ أَكْبَرُ (10 بار)
ترجمہ: اللہ پاک ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔
تعداد و وقت
پہلی صورت میں تکبیر 34 بار ہے، اس طرح کل سو ہو جاتے ہیں بغیر الگ تکمیلی کلمے کے۔ دوسری صورت میں ہر کلمہ 10 بار ہے۔ دونوں صورتیں ہر فرض نماز کے بعد کی ہیں۔
ماخذ و حوالہ
پہلی ترکیب: صحیح مسلم 596 (حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی روایت، جس میں ان کلمات کو «معقبات» کہا گیا، یعنی پیچھے آنے والے کلمات جن کا کہنے والا نامراد نہیں ہوتا)۔ دوسری ترکیب: سنن ابی داؤد 5065 اور جامع ترمذی 3410 (حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی روایت کہ یہ دو خصلتیں جس مسلمان نے پابندی سے اختیار کیں وہ جنت میں داخل ہو گا؛ ان میں سے ایک ہر نماز کے بعد دس دس بار یہی تین کلمات ہیں)۔
نوٹ
یہ اندراج ذکر 2 کا بدل نہیں، اسی سنت کی دوسری ثابت صورتیں ہیں۔ وقت کی تنگی ہو تو دس دس والی صورت اختیار کر لینا ذکر کو چھوڑ دینے سے کہیں بہتر ہے۔ ایک نماز میں ایک ہی صورت کو معمول بنانا زیادہ مناسب ہے، تاکہ گنتی میں الجھن نہ ہو۔
ذکر 4: گنتی انگلیوں پر کرنے کی سنت
متن
یہ اندراج کسی نئے کلمے کا نہیں، تسبیحات کی گنتی کے طریقے کا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تسبیح کی گنتی اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں پر فرمایا کرتے تھے۔
ماخذ و حوالہ
سنن ابی داؤد 1502 اور جامع ترمذی 3411 (حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ تسبیح کی گنتی اپنے ہاتھ پر فرما رہے تھے؛ ایک روایت میں دائیں ہاتھ کی صراحت ہے)۔
نوٹ
انگلیوں پر گنتی میں دو فائدے ہیں: ایک یہ کہ یہ عین سنت طریقہ ہے، دوسرا یہ کہ دل کی توجہ ذکر کے ساتھ جڑی رہتی ہے اور گنتی میں غلطی کم ہوتی ہے۔ سفر میں، مسجد میں یا جہاں تسبیح دستیاب نہ ہو، وہاں یہی طریقہ آسان بھی ہے۔ اس نکتے کو دوسروں پر تنقید کا ذریعہ نہ بنایا جائے؛ اصل مقصد ذکر کی پابندی اور حضور قلب ہے۔
ذکر 5: آیۃ الکرسی
عربی متن
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
ترجمہ: اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ہمیشہ زندہ ہے، سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور لوگ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے، اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔ اور وہی سب سے بلند، سب سے عظیم ہے۔
تعداد و وقت
ہر فرض نماز کے بعد ایک بار۔
ماخذ و حوالہ
سورۃ البقرہ، آیت 255۔ نماز کے بعد پڑھنے کی فضیلت: سنن النسائی الکبریٰ (عمل الیوم واللیلہ) 100 (حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی روایت کہ جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے، اسے جنت میں داخلے سے صرف موت روکے ہوئے ہے)۔ محدثین نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
نوٹ
آیۃ الکرسی قرآن مجید کی عظیم ترین آیت ہے (صحیح مسلم 810)۔ اسے صرف فضیلت کے لیے نہیں، اس کے معنی، یعنی اللہ کی وحدانیت، قدرت اور حفاظت، پر غور کرتے ہوئے پڑھا جائے تو یہی ذکر دل میں توکل پیدا کرتا ہے۔
ذکر 6: «اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ» والی دعا
عربی متن
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جو تو دے، اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک دے، اسے کوئی دینے والا نہیں، اور دولت مند کو اس کی دولت تیرے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔
تعداد و وقت
ہر فرض نماز کے بعد ایک بار۔
ماخذ و حوالہ
صحیح بخاری 844 اور صحیح مسلم 593 (حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی روایت؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد یہ کلمات فرمایا کرتے تھے اور بعد میں یہی کلمات آپ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھ کر بھی بھیجے)۔
نوٹ
یہ دعا رزق اور عطا کے بارے میں دل کی سب سے بڑی اصلاح ہے: دینے اور روکنے والا صرف اللہ ہے۔ اسی لیے اسے پڑھنے والا لوگوں کی طرف نظر رکھنے کے بجائے اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے۔
ذکر 7: فجر اور مغرب کے بعد دس بار کلمۂ توحید
عربی متن
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
تعداد و وقت
دس بار۔ فجر اور مغرب کی نماز کے بعد، اسی حالت میں بیٹھے ہوئے کہ پاؤں کی ہیئت نہ بدلی ہو اور اس سے پہلے کوئی بات نہ کی ہو۔ روایت میں اسی نشست کی یہی قید آئی ہے، اسی لیے اس ذکر کو سلام کے فوراً بعد، سنتوں اور دیگر اذکار سے پہلے پڑھنا مناسب ہے۔
ماخذ و حوالہ
جامع ترمذی 3474 (حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی روایت؛ امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ روایت میں اس کے بدلے دس نیکیاں، دس گناہوں کی معافی، دس درجات کی بلندی اور اس دن شیطان سے حفاظت کا ذکر ہے)۔
نوٹ
یہ ذکر صرف فجر اور مغرب کے لیے خاص ہے، باقی نمازوں کے بعد اس تعداد کے ساتھ اس کلمے کی یہی ترکیب اس روایت میں نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اپنے خاص وقت ہی میں رکھا جائے، ہر نماز پر قیاس نہ کیا جائے۔
ذکر 8: معوذات، یعنی سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس
عربی متن
سورۃ الاخلاص:
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ﴿١﴾ اللَّهُ الصَّمَدُ ﴿٢﴾ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿٣﴾ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿٤﴾
سورۃ الفلق:
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ﴿١﴾ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ﴿٢﴾ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ﴿٣﴾ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ﴿٤﴾ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ﴿٥﴾
سورۃ الناس:
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴿١﴾ مَلِكِ النَّاسِ ﴿٢﴾ إِلَٰهِ النَّاسِ ﴿٣﴾ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ﴿٤﴾ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ﴿٥﴾ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿٦﴾
ترجمہ: کہہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے (سب اس کے محتاج ہیں)۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نے جنا۔ اور اس کے برابر کوئی نہیں۔ کہہ دیجیے: میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں، اس کی مخلوق کے شر سے، اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے، اور گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے، اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ کہہ دیجیے: میں لوگوں کے رب کی پناہ لیتا ہوں، لوگوں کے بادشاہ کی، لوگوں کے معبود کی، اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو (اللہ کا ذکر سن کر) پیچھے ہٹ جاتا ہے، جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
تعداد و وقت
ہر فرض نماز کے بعد ایک ایک بار۔ البتہ فجر اور مغرب کے بعد ان کی تین تین بار کی صورت بھی احادیث میں آئی ہے (نیچے حوالہ دیکھیں)، اس لیے ان دو نمازوں کے بعد تین تین بار کی ترکیب بھی ثابت شدہ ہے۔
ماخذ و حوالہ
ہر نماز کے بعد کی تلاوت: سنن ابی داؤد 1523 اور جامع ترمذی 2903 (حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں)۔ صبح و شام تین تین بار: سنن ابی داؤد 5082 اور جامع ترمذی 3575 (حضرت عبد اللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کی روایت میں تین سورتوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ صبح و شام تین تین بار پڑھنا ہر چیز کے مقابلے میں کافی ہو گا)۔
نوٹ
سورۃ الاخلاص اور معوذتین وظائف کے زمرہ 1 (حفاظت و نظر بد) میں حفاظتی پہلو سے آ چکی ہیں؛ یہاں ان کا مقام نماز کے بعد کے معمول کے طور پر الگ ہے، اس لیے اندراج دونوں جگہ اپنے اپنے سیاق کے ساتھ رہے گا۔ نماز کے بعد ان سورتوں کا پڑھنا حفاظت کے ساتھ ساتھ فرض نماز کی تکمیل کا ذریعہ بھی ہے۔
ذکر 9: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ» والی وصیت شدہ دعا
عربی متن
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
ترجمہ: اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور اپنی اچھی عبادت پر میری مدد فرما۔
تعداد و وقت
ہر نماز کے بعد ایک بار۔ حدیث میں «ہر نماز کے پیچھے» کے الفاظ ہیں، یعنی سلام کے بعد کے اذکار ہی میں اسے بھی شامل رکھا جائے۔
ماخذ و حوالہ
سنن ابی داؤد 1522 اور سنن النسائی 1303 (حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی روایت؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر وصیت فرمائی کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا کہنا کبھی نہ چھوڑنا)۔ محدثین نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
نوٹ
یہ دعا اس بیچ کے پورے مجموعے کا خلاصہ ہے: ذکر بھی اللہ کی مدد سے ہوتا ہے، اس لیے اذکار کی پابندی چاہیے تو پہلے اس کی توفیق مانگی جائے۔ وصیت کے لفظ سے اس دعا کی اہمیت سمجھی جا سکتی ہے، اس لیے اسے بھی روزانہ کے معمول میں لازم رکھیں۔
ذکر 10: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ» کی ترکیب اور نماز کے بعد کا اس کا مقام
عربی متن
سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ
ترجمہ: اللہ پاک ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔
تعداد و وقت
عام فضیلت والی روایت میں دن میں سو بار ہے۔ نماز کے بعد کے اذکار میں اسی لفظ کے ساتھ کوئی مخصوص تعداد صحیح احادیث میں نماز سے باندھ کر نہیں آئی؛ نماز کے بعد ثابت شدہ صورت تسبیحات (ذکر 2 اور 3) کی ہے، جن میں «سُبْحَانَ اللَّهِ» کا کلمہ موجود ہے۔ اس لیے اس اندراج کا مقصد یہ فرق واضح کرنا ہے تاکہ قاری عام فضیلت کو نماز کے بعد کی مخصوص سنت سمجھ کر اس پر کوئی تعداد نہ بڑھائے۔
ماخذ و حوالہ
صحیح بخاری 6405 اور صحیح مسلم 2691 (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت؛ دن میں سو بار یہ کلمات کہنے پر گناہوں کی معافی کی بشارت، اگرچہ گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں)۔ صبح و شام سو بار کی صورت بھی صحیح مسلم 2692 میں آئی ہے۔
نوٹ
اس ذکر کو روزانہ کے عام اذکار میں سو بار کا معمول بنانا بہت اجرو ثواب کا کام ہے، مگر اسے اسی حیثیت میں رکھا جائے جو حدیث نے دی ہے۔ نماز کے بعد کی نشست میں اسے پڑھنا ہو تو نفل ذکر کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے، مخصوص سنت سمجھ کر نہیں۔
ذکر 11: نماز کے اندر کی منتخب دعائیں (تشہد کے بعد، سلام سے پہلے)
عربی متن
(الف) چار چیزوں سے پناہ کی دعا:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ
ترجمہ: اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں جہنم کے عذاب سے، اور قبر کے عذاب سے، اور زندگی اور موت کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے۔
(ب) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سکھائی گئی دعا:
اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
ترجمہ: اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے، اور تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں، پس تو اپنی طرف سے مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما۔ بے شک تو ہی بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
تعداد و وقت
دونوں دعائیں نماز کے اندر، آخری تشہد کے بعد اور سلام سے پہلے، ایک ایک بار۔ یہ اس بیچ کے دیگر اذکار سے وقت کے اعتبار سے مختلف ہیں، کیونکہ وہ اذکار سلام کے بعد کے ہیں اور یہ دعائیں سلام سے پہلے کی ہیں؛ اسی وضاحت کے ساتھ انہیں یہاں جمع کیا گیا ہے تاکہ دونوں اوقات کا پورا مسنون ذخیرہ ایک جگہ مل جائے۔
ماخذ و حوالہ
(الف) صحیح بخاری 832 اور صحیح مسلم 589 (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت؛ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد کے بعد ان چار چیزوں سے پناہ مانگنے کی ترغیب دی)۔ (ب) صحیح بخاری 834 اور صحیح مسلم 2705 (حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ مجھے ایسی دعا سکھا دیں جو میں اپنی نماز میں مانگوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا سکھائی)۔
نوٹ
سلام سے پہلے کا وقت دعا کی قبولیت کے خاص اوقات میں سے ہے، کیونکہ نمازی اس وقت اپنے رب سے سب سے قریب گفتگو میں ہوتا ہے۔ تشہد اور درود کے بعد مختصر وقت میں یہی دو دعائیں بھی پڑھ لی جائیں تو یہ وقت ضائع نہیں ہوتا۔
ذکر 12: فجر کے بعد کی خاص دعا کا ربط (نافع علم، پاکیزہ رزق اور مقبول عمل)
عربی متن
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے نفع دینے والے علم، پاکیزہ روزی اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔
تعداد و وقت
فجر کی نماز کے سلام کے بعد ایک بار۔ یہ اس دعا کا مقام ہے جو اس بیچ کے عمومی موضوع (نماز کے بعد کے اذکار) سے براہ راست جڑتا ہے۔
ماخذ و حوالہ
سنن ابن ماجہ 925 (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز کا سلام پھیر کر یہ دعا فرمایا کرتے تھے)۔
نوٹ
اس دعا کا مکمل اندراج، اس کے تین اجزا (نافع علم، پاکیزہ رزق، مقبول عمل) کی تفصیل اور طریقے کے ساتھ، وظائف کے بیچ 7 میں وظیفہ 9.5 کے طور پر موجود ہے۔ یہاں اس کا مختصر ربط اس لیے دیا گیا ہے تاکہ نماز کے بعد کے اذکار کا مجموعہ نامکمل نہ رہے اور قاری تفصیل کے لیے براہ راست وظیفہ 9.5 کی طرف جا سکے۔ اشاعت کے وقت اس اندراج میں وظیفہ 9.5 کا لنک دیا جائے گا۔
اذکار: سونے و جاگنے کے مسنون اذکار
یہ اذکار سیریز کا تیسرا بیچ (بیچ ج) ہے۔ ہر ذکر میں عنوان و موقع، مکمل عربی متن، اردو ترجمہ، تعداد اور ماخذ و حوالہ درج ہے۔ تعداد صرف وہیں درج ہے جہاں ماخذ میں صراحت ہے؛ جہاں ماخذ میں کوئی تعداد مقرر نہیں وہاں صاف لکھ دیا گیا ہے کہ تعداد مقرر نہیں، کوئی عدد ایجاد نہیں کیا گیا۔
دائرہ: کل 12 اندراجات: سونے سے پہلے کے اذکار (8) اور رات کے درمیان و جاگنے کے اذکار (4)۔
ربط و عدمِ تکرار کا نوٹ: اس بیچ کے چند اذکار وظائف کے زمروں میں شرح کے ساتھ پہلے سے آ چکے ہیں۔ آیۃ الکرسی وظیفہ 1.2 (سوتے وقت آیۃ الکرسی) میں، اور سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات، دعا «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ» اور دعا «بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا» وظیفہ 7.5 (بے خوابی اور رات کی بے چینی کے لیے سونے کے مسنون اذکار) میں شرح کے ساتھ موجود ہیں۔ ان اندراجات میں شرح نہیں دہرائی گئی؛ صرف متن، ترجمہ، تعداد اور حوالہ درج ہے، تاکہ اذکار کا یہ ذخیرہ اپنی جگہ مکمل بھی ہو اور بے جا تکرار بھی نہ ہو۔
اس بیچ کے عمومی اصول:
1. تمام اذکار صحیح یا حسن احادیث اور مستند اذکار کتب (حصن المسلم، کتاب الاذکار للنووی) سے لیے گئے ہیں۔ جن اشیاء کی سند یا درجے پر محدثین میں گفتگو ہے، وہ مرکزی فہرست میں نہیں، آخر میں تصدیق طلب فہرست میں رکھی گئی ہیں۔
2. سونے کی شرعی ترکیب میں عملی اسباب اور اذکار ساتھ ساتھ ہیں: وقت پر سونا، بستر کی درستگی، وضو، اور پھر اذکار۔ اذکار کو اسباب چھوڑ دینے کا نام نہ سمجھا جائے۔
3. ان اذکار کا مقصد اللہ کا ذکر اور اس کی حفاظت میں رات گزارنا ہے؛ انہیں نیند کی دوا یا فوری نیند کی ضمانت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
پہلا حصہ: سونے سے پہلے کے اذکار
ذکر 1: بستر جھاڑنا اور پہلو رکھنے کی دعا
موقع و وقت
رات کو بستر پر لیٹنے کے آغاز میں، سونے سے پہلے۔
عربی متن
بِسْمِكَ رَبِّ وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ
ترجمہ: اے میرے رب! تیرے ہی نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو (بستر پر) رکھا اور تیرے ہی نام کے ساتھ میں اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو میری جان روک لے تو اس پر رحم فرما، اور اگر تو اسے چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔
تعداد
دعا ایک بار۔ اس سے پہلے بستر کو اپنے کپڑے (تہبند یا چادر) کے اندرونی کنارے سے تین بار جھاڑنا حدیث میں آیا ہے، کیونکہ انسان نہیں جانتا کہ اس کے بعد بستر پر کیا چیز آ گئی ہو۔
ماخذ و حوالہ
صحیح بخاری 6320؛ صحیح مسلم 2714 (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت)۔ یہ ذکر حصن المسلم کے اذکار النوم میں بھی درج ہے۔
ذکر 2: وضو، دائیں کروٹ اور خود کو اللہ کے سپرد کرنے کی دعا
موقع و وقت
رات کو سونے سے پہلے وضو کر کے دائیں کروٹ لیٹتے وقت۔ یہ سونے کی رات کا آخری عمل بنانے کی ہدایت حدیث میں آئی ہے۔
ربط
اس دعا کی شرح اور وضو و دائیں کروٹ کی تفصیل وظیفہ 7.5 میں آ چکی ہے؛ یہاں صرف متن، ترجمہ، تعداد اور حوالہ درج ہے۔
عربی متن
اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ
ترجمہ: اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی، اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا اور اپنی پشت کو تیری طرف پناہ میں دے دیا، تیری طرف رغبت رکھتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے۔ تیرے سوا نہ کوئی جائے پناہ ہے اور نہ تو ہی سے بچ کر کہیں نجات ہے۔ میں اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور اس نبی پر جسے تو نے بھیجا۔
تعداد
ایک بار۔ حدیث میں اس دعا کو رات کی آخری بات بنانے کی ترغیب ہے، اور یہ بشارت ہے کہ اس رات انتقال ہو جائے تو فطرت (دینِ اسلام) پر ہو گا۔
ماخذ و حوالہ
صحیح بخاری 6313؛ صحیح مسلم 2710 (حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت)۔
ذکر 3: سونے کی مختصر مسنون دعا
موقع و وقت
بستر پر لیٹنے کے بعد، سوتے وقت کی سب سے مختصر اور معروف دعا۔
ربط
یہ دعا وظیفہ 7.5 میں بھی درج ہے؛ یہاں صرف متن، ترجمہ، تعداد اور حوالہ درج ہے۔
عربی متن
بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا
ترجمہ: اے اللہ! تیرے ہی نام کے ساتھ میں مرتا ہوں اور جیتا ہوں (یعنی سوتا ہوں اور جاگتا ہوں)۔
تعداد
ایک بار۔
ماخذ و حوالہ
صحیح بخاری 6324؛ صحیح مسلم 2711 (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا فرمایا کرتے تھے)۔
ذکر 4: سوتے وقت آیۃ الکرسی
موقع و وقت
رات کو بستر پر آنے کے بعد، سونے سے پہلے۔ رات بھر کی حفاظت کا مسنون ذریعہ۔
ربط
اس کی مکمل شرح اور واقعہ وظیفہ 1.2 میں آ چکا ہے؛ یہاں صرف متن، ترجمہ، تعداد اور حوالہ درج ہے۔
عربی متن
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
ترجمہ: اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ ہے، سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو اپنے اندر سمو لیا ہے، اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں، اور وہ بلند مرتبہ، بڑی عظمت والا ہے۔
تعداد
ایک بار۔ حدیث کے مطابق جو شخص بستر پر آ کر یہ آیت پڑھ لے، اللہ کی طرف سے ایک محافظ اس کے ساتھ رہتا ہے اور صبح تک کوئی شیطان اس کے قریب نہیں آتا۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ البقرہ، آیت 255۔ سوتے وقت پڑھنے کی روایت: صحیح بخاری 2311 (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا مشہور واقعہ)۔
ذکر 5: سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات
موقع و وقت
رات کو سونے سے پہلے، بستر پر یا بستر پر آنے سے پہلے گھر میں۔
ربط
اس کی شرح وظیفہ 7.5 میں آ چکی ہے؛ یہاں صرف متن، ترجمہ، تعداد اور حوالہ درج ہے۔
عربی متن
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ﴿٢٨٥﴾ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴿٢٨٦﴾
ترجمہ: رسول اس پر ایمان لائے جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل کیا گیا، اور مومن بھی۔ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے؛ ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اور انہوں نے کہا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی؛ اے ہمارے رب! تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا؛ اسی کے لیے ہے جو اس نے کمایا اور اسی پر ہے جو اس نے برا کیا۔ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہماری گرفت نہ فرما۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہیں، اور ہم سے درگزر فرما، ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما؛ تو ہی ہمارا کارساز ہے، پس کافروں کی قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
تعداد
ایک بار (دونوں آیات مکمل)۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص رات کو یہ دو آیات پڑھ لے، یہ اسے (رات بھر کے لیے) کافی ہو جاتی ہیں۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ البقرہ، آیات 285 تا 286۔ فضیلت کی روایت: صحیح بخاری 5009؛ صحیح مسلم 807۔
ذکر 6: تسبیحِ فاطمہ (سونے سے پہلے کی تسبیحات)
موقع و وقت
رات کو بستر پر آنے کے بعد، سونے سے پہلے۔ یہ وہی تسبیح ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کو خادم کے سوال کے جواب میں سکھائی اور فرمایا تھا کہ یہ تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے۔
عربی متن
سُبْحَانَ اللَّهِ (33 بار)، الْحَمْدُ لِلَّهِ (33 بار)، اللَّهُ أَكْبَرُ (34 بار)
ترجمہ: اللہ پاک ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔
تعداد
سبحان اللہ 33 بار، الحمد للہ 33 بار اور اللہ اکبر 34 بار۔ یہی تعداد خود حدیث میں مقرر آئی ہے، اس لیے اسی پر عمل کیا جائے۔
ماخذ و حوالہ
صحیح بخاری 6318؛ صحیح مسلم 2727 (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت)۔
ذکر 7: معوذات دونوں ہاتھوں میں پڑھ کر بدن پر پھیرنا
موقع و وقت
ہر رات بستر پر آنے کے بعد۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول ہر رات کا تھا۔
عربی متن
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ﴿١﴾ اللَّهُ الصَّمَدُ ﴿٢﴾ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿٣﴾ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿٤﴾
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ﴿١﴾ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ ﴿٢﴾ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ﴿٣﴾ وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ﴿٤﴾ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ﴿٥﴾
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴿١﴾ مَلِكِ النَّاسِ ﴿٢﴾ إِلَٰهِ النَّاسِ ﴿٣﴾ مِن شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ ﴿٤﴾ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ ﴿٥﴾ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ ﴿٦﴾
ترجمہ: (سورۃ الاخلاص) کہہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے، سب اس کے محتاج ہیں۔ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا۔ اور کوئی اس کے برابر نہیں۔ (سورۃ الفلق) کہہ دیجیے: میں صبح کے رب کی پناہ لیتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی، اور اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے، اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ (سورۃ الناس) کہہ دیجیے: میں لوگوں کے رب کی پناہ لیتا ہوں، لوگوں کے بادشاہ کی، لوگوں کے معبود کی، اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو (اللہ کا نام آنے پر) پیچھے ہٹ جاتا ہے، جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
تعداد
تینوں سورتیں ملا کر ایک دور مکمل کریں، پھر اسی طرح کل تین بار۔ ہر بار دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان میں ہلکی پھونک مار کر پڑھیں اور پھر دونوں ہاتھ جہاں تک پہنچیں بدن پر پھیریں؛ آغاز سر، چہرے اور بدن کے اگلے حصے سے کریں۔ یہ تعداد اور یہی ترتیب خود حدیث میں آئی ہے۔
ماخذ و حوالہ
قرآن مجید، سورۃ الاخلاص (112)، سورۃ الفلق (113)، سورۃ الناس (114)۔ عمل کی روایت: صحیح بخاری 5017 (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت)۔
ذکر 8: رات کو سورۃ الملک اور سورۃ السجدہ کی تلاوت
موقع و وقت
رات کو سونے سے پہلے۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک «الم تَنْزِيلُ» (سورۃ السجدہ) اور «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» (سورۃ الملک) نہ پڑھ لیتے۔ دونوں سورتوں کا مکمل عربی متن نیچے درج ہے؛ یہ قرآن مجید کا متن ہے، اس لیے تلاوت مصحف یا حفظ، دونوں طرح درست ہے۔
عربی متن
عربی متن: سورۃ السجدہ (سورت نمبر 32، مکمل 30 آیات)
الٓمٓ ﴿١﴾ تَنزِيلُ الْكِتَابِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾ أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ ﴿٣﴾ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ مَا لَكُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا شَفِيعٍ ۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ ﴿٤﴾ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ﴿٥﴾ ذَٰلِكَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ﴿٦﴾ الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ۖ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنسَانِ مِن طِينٍ ﴿٧﴾ ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلَالَةٍ مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ ﴿٨﴾ ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِ ۖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۚ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ ﴿٩﴾ وَقَالُوا أَإِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ ۚ بَلْ هُم بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ كَافِرُونَ ﴿١٠﴾ ۞ قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ ﴿١١﴾ وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ ﴿١٢﴾ وَلَوْ شِئْنَا لَآتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَاهَا وَلَٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ﴿١٣﴾ فَذُوقُوا بِمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَا إِنَّا نَسِينَاكُمْ ۖ وَذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ﴿١٤﴾ إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ۩ ﴿١٥﴾ تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ﴿١٦﴾ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٧﴾ أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا ۚ لَّا يَسْتَوُونَ ﴿١٨﴾ أَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ جَنَّاتُ الْمَأْوَىٰ نُزُلًا بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٩﴾ وَأَمَّا الَّذِينَ فَسَقُوا فَمَأْوَاهُمُ النَّارُ ۖ كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا أُعِيدُوا فِيهَا وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ ﴿٢٠﴾ وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿٢١﴾ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا ۚ إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ ﴿٢٢﴾ وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَلَا تَكُن فِي مِرْيَةٍ مِّن لِّقَائِهِ ۖ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ ﴿٢٣﴾ وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ ﴿٢٤﴾ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ﴿٢٥﴾ أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسَاكِنِهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ ۖ أَفَلَا يَسْمَعُونَ ﴿٢٦﴾ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَسُوقُ الْمَاءَ إِلَى الْأَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَامُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ ۖ أَفَلَا يُبْصِرُونَ ﴿٢٧﴾ وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْفَتْحُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٢٨﴾ قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنفَعُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِيمَانُهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ ﴿٢٩﴾ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَانتَظِرْ إِنَّهُم مُّنتَظِرُونَ ﴿٣٠﴾
ترجمہ (سورۃ السجدہ)
الم۔ یہ کتاب، جس میں کوئی شک نہیں، تمام جہانوں کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ کیا وہ کہتے ہیں کہ اس (نبی) نے اسے خود گھڑ لیا ہے؟ نہیں، بلکہ یہ آپ کے رب کی طرف سے حق ہے، تاکہ آپ ایسی قوم کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا، شاید وہ ہدایت پائیں۔ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر مستوی ہوا۔ اس کے سوا نہ تمہارا کوئی کارساز ہے اور نہ سفارشی، کیا پھر بھی تم نصیحت نہیں پکڑتے؟ وہ آسمان سے زمین تک ہر کام کی تدبیر کرتا ہے، پھر وہ (کام) اس کی طرف ایک ایسے دن میں چڑھتا ہے جس کی مقدار تمہاری گنتی کے ہزار سال ہے۔ وہی غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے، زبردست ہے، نہایت رحم والا ہے۔ جس نے ہر چیز کو خوب بنایا جسے اس نے پیدا کیا، اور انسان کی پیدائش مٹی سے شروع کی۔ پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے خلاصے سے بنائی۔ پھر اسے برابر کیا اور اس میں اپنی روح میں سے پھونکا، اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے؛ تم بہت کم شکر کرتے ہو۔ اور وہ کہتے ہیں کہ جب ہم زمین میں مٹ جائیں گے تو کیا ہم واقعی نئی پیدائش میں ہوں گے؟ بلکہ وہ اپنے رب سے ملاقات ہی کے منکر ہیں۔ کہہ دیجیے کہ موت کا فرشتہ، جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، تمہاری جان قبض کرے گا، پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اور کاش آپ دیکھیں جب مجرم اپنے رب کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہوں گے (اور کہیں گے): اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا، پس ہمیں واپس بھیج دیجیے کہ ہم نیک عمل کریں، بے شک ہم یقین کرنے والے ہیں۔ اور اگر ہم چاہتے تو ہر جان کو اس کی ہدایت دے دیتے، لیکن میری طرف سے یہ بات طے ہو چکی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے ضرور بھر دوں گا۔ پس اب مزہ چکھو، اس لیے کہ تم نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا؛ ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا، اور اپنے اعمال کے بدلے ہمیشگی کے عذاب کا مزہ چکھو۔ ہماری آیات پر صرف وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب انہیں ان کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدہ کرتے ہوئے گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ پس کوئی جان نہیں جانتی کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا رکھا گیا ہے؛ یہ بدلہ ہے ان اعمال کا جو وہ کیا کرتے تھے۔ بھلا جو شخص مومن ہو، کیا وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جو نافرمان ہو؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے۔ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے، ان کے لیے ٹھکانے کے باغات ہیں، مہمانی کے طور پر، ان اعمال کے بدلے جو وہ کرتے تھے۔ اور جو نافرمان ہوئے، ان کا ٹھکانا آگ ہے؛ جب بھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے، اسی میں لوٹا دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اس آگ کے عذاب کا مزہ چکھو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ اور ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے قریبی (دنیوی) عذاب بھی ضرور چکھائیں گے، شاید وہ لوٹ آئیں۔ اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعے نصیحت کی گئی، پھر اس نے ان سے منہ پھیر لیا؛ بے شک ہم مجرموں سے بدلہ لینے والے ہیں۔ اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس آپ ان سے ملاقات کے بارے میں کسی شک میں نہ پڑیں، اور ہم نے اس (کتاب) کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا۔ اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے راہنمائی کرتے تھے، جب انہوں نے صبر کیا، اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔ بے شک آپ کا رب ہی قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں میں فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ کیا ان کے لیے یہ بات راہنمائی نہیں کرتی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر دیا، جن کے گھروں میں یہ چلتے پھرتے ہیں؛ بے شک اس میں نشانیاں ہیں، کیا پھر بھی وہ سنتے نہیں؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم پانی کو بنجر زمین کی طرف ہانک کر لے جاتے ہیں، پھر اس کے ذریعے کھیتی نکالتے ہیں جس میں سے ان کے مویشی بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی؛ کیا پھر بھی وہ دیکھتے نہیں؟ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کب ہو گا، اگر تم سچے ہو؟ کہہ دیجیے کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان کوئی فائدہ نہیں دے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔ پس ان سے اعراض کیجیے اور انتظار کیجیے، بے شک وہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔
عربی متن: سورۃ الملک (سورت نمبر 67، مکمل 30 آیات)
تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿١﴾ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ ﴿٢﴾ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِن فُطُورٍ ﴿٣﴾ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ ﴿٤﴾ وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ ۖ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ ﴿٥﴾ وَلِلَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ﴿٦﴾ إِذَا أُلْقُوا فِيهَا سَمِعُوا لَهَا شَهِيقًا وَهِيَ تَفُورُ ﴿٧﴾ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ ۖ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ ﴿٨﴾ قَالُوا بَلَىٰ قَدْ جَاءَنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ إِنَّ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ ﴿٩﴾ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ ﴿١٠﴾ فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ ﴿١١﴾ إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ ﴿١٢﴾ وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ ۖ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴿١٣﴾ أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ﴿١٤﴾ هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ ۖ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ﴿١٥﴾ أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الْأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ ﴿١٦﴾ أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاءِ أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ ﴿١٧﴾ وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ ﴿١٨﴾ أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ ۚ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَٰنُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ ﴿١٩﴾ أَمَّنْ هَٰذَا الَّذِي هُوَ جُندٌ لَّكُمْ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ الرَّحْمَٰنِ ۚ إِنِ الْكَافِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ ﴿٢٠﴾ أَمَّنْ هَٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ ۚ بَل لَّجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ ﴿٢١﴾ أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَىٰ وَجْهِهِ أَهْدَىٰ أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿٢٢﴾ قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ ۖ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ ﴿٢٣﴾ قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ﴿٢٤﴾ وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٢٥﴾ قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿٢٦﴾ فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَدَّعُونَ ﴿٢٧﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِيَ اللَّهُ وَمَن مَّعِيَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ الْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿٢٨﴾ قُلْ هُوَ الرَّحْمَٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٢٩﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاءٍ مَّعِينٍ ﴿٣٠﴾
ترجمہ (سورۃ الملک)
بڑی برکت والا ہے وہ (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہت ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے، اور وہ زبردست ہے، بڑا بخشنے والا ہے۔ جس نے سات آسمان تہ بہ تہ پیدا کیے؛ تم رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بے ترتیبی نہیں دیکھو گے؛ پھر نظر دوڑاؤ، کیا تمہیں کہیں کوئی شگاف نظر آتا ہے؟ پھر دوبارہ نظر دوڑاؤ، نظر ذلیل و تھکی ہوئی تمہاری طرف لوٹ آئے گی۔ اور بے شک ہم نے قریب والے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا اور انہیں شیطانوں کے لیے مار کا ذریعہ بنایا، اور ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا، ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کی چیخنے کی آواز سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہو گی۔ ایسا لگے گا کہ وہ غصے سے پھٹ پڑے گی؛ جب بھی اس میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا، اس کے نگران ان سے پوچھیں گے: کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں، بے شک ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا، مگر ہم نے جھٹلا دیا اور کہا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم خود بڑی گمراہی میں ہو۔ اور وہ کہیں گے: اگر ہم سنتے یا عقل سے کام لیتے تو ہم دوزخیوں میں سے نہ ہوتے۔ پس وہ اپنے گناہ کا اعتراف کر لیں گے، سو دوزخیوں کے لیے (رحمت سے) دوری ہی ہے۔ بے شک جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں، ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔ اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا اونچی آواز سے، بے شک وہ سینوں کے رازوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ بھلا جس نے پیدا کیا ہے وہ نہ جانے گا؟ اور وہ بڑا باریک بین، پوری خبر رکھنے والا ہے۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو نرم و رام بنا دیا، پس اس کے اطراف و راستوں میں چلو اور اس کے دیے ہوئے رزق میں سے کھاؤ، اور اسی کی طرف (مر کر) اٹھنا ہے۔ کیا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے، پھر وہ (زمین) اچانک ہلنے لگ جائے؟ یا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے؛ پھر تم جان لو گے کہ میرا ڈرانا کیسا ہوتا ہے۔ اور بے شک ان سے پہلے والوں نے بھی جھٹلایا تھا، تو (دیکھو) میرا عذاب کیسا ہوا! کیا انہوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا جو پر پھیلائے ہوئے اور سکیڑے ہوئے (اڑتے) ہیں؛ انہیں رحمٰن کے سوا کوئی نہیں تھامتا؛ بے شک وہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ بھلا یہ کون سا لشکر ہے تمہارا جو رحمٰن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرے؟ کافر تو صرف دھوکے ہی میں پڑے ہیں۔ بھلا یہ کون ہے جو تمہیں رزق دے، اگر اللہ اپنا رزق روک لے؟ بلکہ وہ سرکشی اور نفرت ہی پر اڑے ہوئے ہیں۔ بھلا جو شخص اپنے چہرے کے بل اوندھا مڑا چل رہا ہو، وہ زیادہ ہدایت یافتہ ہے، یا وہ جو سیدھا ہو کر سیدھے راستے پر چل رہا ہو؟ کہہ دیجیے: وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے؛ تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ کہہ دیجیے: وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔ اور وہ کہتے ہیں: یہ وعدہ کب (پورا) ہو گا، اگر تم سچے ہو؟ کہہ دیجیے: اس کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے، اور میں تو بس کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ پھر جب وہ اس (عذاب) کو قریب آتا دیکھیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہا جائے گا: یہی ہے وہ جس کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔ کہہ دیجیے: بھلا بتاؤ تو سہی، اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھ والوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم فرمائے، تو کافروں کو دردناک عذاب سے کون پناہ دے گا؟ کہہ دیجیے: وہی رحمٰن ہے، ہم اس پر ایمان لائے اور اسی پر ہم نے بھروسا کیا؛ پس عنقریب تم جان لو گے کہ کون کھلی گمراہی میں ہے۔ کہہ دیجیے: بھلا بتاؤ تو سہی، اگر تمہارا پانی (زمین میں) گہرا اتر جائے تو کون ہے جو تمہیں صاف بہتا ہوا پانی لا دے؟
تعداد
دونوں سورتیں ایک ایک بار، سونے سے پہلے۔ سورۃ الملک کے بارے میں الگ روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ قرآن کی ایک سورت، جس کی تیس آیات ہیں، ایک آدمی کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اسے بخش دیا جائے گا، اور وہ سورۃ الملک ہے۔
ماخذ و حوالہ
سونے سے پہلے دونوں سورتوں کی تلاوت: جامع ترمذی 2892 (حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت؛ امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے)۔ سورۃ الملک کی شفاعت: جامع ترمذی 2891؛ سنن ابی داؤد 1400؛ سنن ابن ماجہ 3786۔
دوسرا حصہ: رات کے درمیان اور جاگنے کے اذکار
ذکر 9: رات کو آنکھ کھل جائے تو یہ دعا
موقع و وقت
رات کے کسی حصے میں اچانک آنکھ کھل جائے اور زبان پر کلام آئے، اسی لمحے۔
عربی متن
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ، رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
ترجمہ: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، سب پر پوری طرح غالب ہے، آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کا رب ہے، زبردست ہے، بہت بخشنے والا ہے۔
تعداد
ایک بار۔ حدیث میں اس کے بعد کی ترتیب بھی آئی ہے: اس کے بعد «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» کہے یا کوئی دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، اور اگر وضو کر کے نماز پڑھے تو اس کی نماز بھی قبول کی جاتی ہے۔
ماخذ و حوالہ
صحیح بخاری 1154 (حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت)۔
ذکر 10: نمازِ تہجد کی افتتاحی دعا
موقع و وقت
رات کو تہجد کے لیے کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے وقت کی افتتاحی دعا (دعائے استفتاح)۔ جو شخص رات کو بیدار ہو کر نماز کا ارادہ کرے، اس کے لیے یہی وہ دعا ہے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رات کی نماز کا آغاز فرمایا کرتے تھے۔
عربی متن
اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، لَكَ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
ترجمہ: اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے؛ تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کوئی ان میں ہے، سب کا قائم رکھنے والا اور نگران ہے۔ اور تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے؛ آسمانوں اور زمین کی اور جو کوئی ان میں ہے، سب کی بادشاہت تیرے ہی لیے ہے۔ اور تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے؛ تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اور تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے؛ تو حق ہے، اور تیرا وعدہ حق ہے، اور تیری ملاقات حق ہے، اور تیرا فرمان حق ہے، اور جنت حق ہے، اور دوزخ حق ہے، اور تمام انبیاء حق ہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں، اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے ہی آگے سر تسلیم خم کیا، اور تجھ ہی پر ایمان لایا، اور تجھ ہی پر بھروسا کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیرے ہی سہارے (حق کی خاطر) جھگڑا کیا، اور تیرے ہی پاس فیصلہ لے کر حاضر ہوا۔ پس میرے گناہ بخش دے جو میں نے پہلے کیے اور جو بعد میں کیے، اور جو میں نے چھپا کر کیے اور جو کھلم کھلا کیے۔ تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے؛ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
تعداد
ایک بار، نماز کے آغاز میں۔
ماخذ و حوالہ
صحیح بخاری 1120؛ صحیح مسلم 769 (حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت)۔
ذکر 11: برا خواب دیکھنے کی مسنون ترکیب
موقع و وقت
نیند میں کوئی ناپسندیدہ یا ڈراؤنا خواب نظر آئے اور آنکھ کھل جائے، اسی وقت۔
عربی متن (استعاذہ)
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَمِنْ شَرِّ مَا رَأَيْتُ
ترجمہ: میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں مردود شیطان سے اور اس چیز کے شر سے جو میں نے (خواب میں) دیکھی۔
تعداد اور ترتیب (یہی ترتیب حدیث میں آئی ہے)
- بائیں جانب تین بار ہلکی تھتکار (پھونک کے ساتھ تھوک کی ہلکی سی صورت) کریں۔
- شیطان سے اور اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگیں (اوپر دیا گیا استعاذہ؛ بعض روایات میں تین بار کی صراحت ہے)۔
- جس پہلو پر سو رہے تھے، وہ پہلو بدل لیں۔
- یہ خواب کسی کو نہ بتائیں۔ حدیث کی بشارت ہے کہ اس ترکیب کے بعد یہ خواب کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
- چاہیں تو اٹھ کر وضو کر کے نماز پڑھ لیں؛ بعض روایات میں اس کا بھی ذکر آیا ہے (سنن ابن ماجہ، کتاب تعبیر الرؤیا)۔
ماخذ و حوالہ
صحیح بخاری 3292؛ صحیح مسلم 2261، 2262 اور 2263 (پہلو بدلنے کی صراحت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت، صحیح مسلم 2263 میں ہے)۔
ذکر 12: نیند سے جاگنے کی دعا
موقع و وقت
صبح یا جب بھی نیند سے بیدار ہوں، آنکھ کھلتے ہی۔ اسی سے دن کا آغاز مسنون ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جاگنے کے بعد مسواک بھی فرمایا کرتے تھے (صحیح بخاری 245؛ صحیح مسلم 255)۔
عربی متن
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں (نیند کی صورت میں) موت کے بعد زندگی عطا فرمائی، اور اسی کی طرف (مر کر) اٹھنا ہے۔
تعداد
ایک بار، جاگتے ہی۔
ماخذ و حوالہ
صحیح بخاری 6312؛ صحیح مسلم 2711 (حضرت حذیفہ اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہما کی روایات)۔ یہ ذکر حصن المسلم کے اذکار الاستيقاظ میں بھی درج ہے۔
اذکار: گھر اور سفر کے مسنون اذکار
اس بیچ کی قرآنی بنیاد: اللہ تعالیٰ نے سواریوں کو انسان کے تابع فرمان کرنے کو اپنی نعمت شمار کیا اور اس موقع کا ذکر خود سکھایا: «تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو، پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب تم ان پر جم کر بیٹھ جاؤ اور کہو: پاک ہے وہ ذات جس نے اسے ہمارے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں» (سورۃ الزخرف، آیات 13 تا 14)۔ اور گھر کے سلام کی بنیاد یہ ارشاد ہے: «پس جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کہا کرو، اللہ کی طرف سے مقرر کردہ تحیت، مبارک، پاکیزہ» (سورۃ النور، آیت 61)۔
نوٹ (وظائف بیچ 6 سے ربط): گھر میں داخل ہونے کی دعا اور سلام وظائف بیچ 6 کے وظیفہ 8.1 میں مسئلہ، طریقہ اور احتیاطی نوٹ سمیت تفصیل سے آ چکی ہے؛ اس بیچ میں وہی دعا ذکر د۔3 کے طور پر صرف متن، ترجمہ اور حوالے کے ساتھ رکھی گئی ہے تاکہ گھر کے اذکار کی ترتیب مکمل رہے، مگر اس کی شرح دہرائی نہیں گئی۔
اس بیچ کے عمومی اصول:
1. سفر کے اذکار صرف پیدل یا جانور کی سواری کے ساتھ خاص نہیں؛ ان کا مفہوم ہر سواری پر صادق آتا ہے۔ آج کے دور میں کار، بس، ریل گاڑی اور ہوائی جہاز پر سوار ہوتے وقت بھی یہی دعائیں پڑھی جاتی ہیں، کیونکہ سواری اللہ کی نعمت اور اس کے تابع فرمان ہونے کی حقیقت ہر صورت میں وہی ہے جس کی طرف سورۃ الزخرف کی آیات اشارہ کرتی ہیں۔
2. تعداد صرف وہی لکھی گئی ہے جو حدیث یا مستند ماخذ میں آئی ہے۔ جس ذکر کی کوئی مخصوص تعداد ماخذ میں نہیں، وہاں صاف لکھا ہے کہ تعداد مقرر نہیں، ایک بار کہنا کافی ہے۔
3. یہ اذکار سفر و حضر کی روزمرہ حفاظت اور برکت کا مسنون ذریعہ ہیں، مگر اسباب کی جگہ نہیں لیتے؛ سواری کی جانچ، احتیاطی تدابیر اور قوانین کی پابندی اپنی جگہ شرعی ذمہ داری ہے۔ دعا اور سبب دونوں کو ساتھ رکھنا ہی سنت کا طریقہ ہے۔
4. کوئی ذکر رہ جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں؛ یہ مسنون معمولات ہیں، فرض و واجب نہیں۔ سفر کی تھکن اور غفلت میں کمی بیشی ہو جائے تو اللہ کی رحمت سے مایوسی نہیں؛ جو یاد رہے، اسی پر اکتفا کیا جائے۔
ذکر د۔1: گھر سے نکلنے کی دعا (بسم اللہ توکلت علی اللہ)
موقع
گھر سے نکلتے وقت، ہر روز، ہر کام کے لیے نکلنے پر۔
ذکر کا متن
بِسْمِ اللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ (میں نکلتا ہوں)، میں نے اللہ ہی پر بھروسا کیا، اور (برائی سے بچنے کی) کوئی طاقت اور (نیکی کی) کوئی قوت نہیں مگر اللہ ہی کی مدد سے۔
تعداد
ایک بار۔ حدیث میں تعداد کی صراحت نہیں؛ دروازے سے نکلتے وقت ایک بار کہنا ہی روایت کا معمول ہے۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے گھر سے نکلے اور یہ کلمات کہے، اس سے (فرشتوں کی طرف سے) کہا جاتا ہے: تمہیں ہدایت دی گئی، تمہاری کفایت کی گئی اور تمہیں بچا لیا گیا؛ اور شیطان اس سے دور ہٹ جاتا ہے۔ دوسری روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ایک شیطان دوسرے سے کہتا ہے: تم اس آدمی پر کیسے قابو پا سکتے ہو جسے ہدایت دی گئی ہو، جس کی کفایت کی گئی ہو اور جسے بچا لیا گیا ہو (سنن ابی داؤد 5095؛ جامع ترمذی 3426؛ ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا؛ سنن ابن ماجہ 3884)۔ حصن المسلم اور کتاب الاذکار میں یہ دعا گھر سے نکلنے کی دعاؤں میں سب سے پہلے درج ہے۔
ذکر د۔2: گھر سے نکلنے کی دوسری دعا (اعوذ بک ان اضل)
موقع
گھر سے نکلتے وقت، ذکر د۔1 کے ساتھ یا اس کے بجائے۔
ذکر کا متن
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ
ترجمہ: اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ میں خود گمراہ ہوں یا مجھے گمراہ کیا جائے، یا میں خود لغزش کھاؤں یا مجھے لغزش میں ڈالا جائے، یا میں خود ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں خود جہالت کا رویہ اختیار کروں یا میرے ساتھ جہالت کا رویہ اختیار کیا جائے۔
تعداد
ایک بار۔ حدیث میں تعداد کی صراحت نہیں۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی میرے گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے (سنن ابی داؤد 5094؛ جامع ترمذی 3427؛ سنن نسائی 5501؛ سنن ابن ماجہ 3884؛ اس روایت کو اہل علم نے صحیح درجے میں رکھا ہے)۔ اس دعا کی جامعیت یہ ہے کہ اس میں دن بھر کے معاملات کی چار بنیادی خطرات سے پناہ مانگی گئی ہے: گمراہی، لغزش، ظلم اور جہالت، خواہ وہ اپنی طرف سے ہوں یا دوسروں کی طرف سے۔
ذکر د۔3: گھر میں داخل ہونے کی دعا اور سلام (ربط: وظیفہ 8.1)
موقع
گھر میں داخل ہوتے وقت۔ یہ دعا وظائف بیچ 6 کے وظیفہ 8.1 میں مسئلہ، مرحلہ وار طریقہ اور احتیاطی نوٹ سمیت تفصیل سے آ چکی ہے؛ یہاں صرف متن، ترجمہ اور حوالہ دیا گیا ہے، شرح دہرائی نہیں گئی۔
ذکر کا متن
(الف) داخلے کی دعا:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلِجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ، بِسْمِ اللَّهِ وَلَجْنَا، وَبِسْمِ اللَّهِ خَرَجْنَا، وَعَلَى اللَّهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا
(ب) اس کے بعد اہل خانہ کو سلام:
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ
ترجمہ: (الف) اے اللہ! میں تجھ سے داخل ہونے کی بھلائی اور نکلنے کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں۔ اللہ کے نام کے ساتھ ہم داخل ہوئے اور اللہ کے نام کے ساتھ ہم نکلے، اور اپنے رب اللہ ہی پر ہم نے بھروسا کیا۔ (ب) تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔
تعداد
ایک بار؛ حدیث کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے یہ دعا پڑھی جائے، پھر گھر والوں کو سلام کیا جائے۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
داخلے کی دعا اور اس کے بعد سلام کی یہ ترتیب حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے (سنن ابی داؤد 5096)۔ سلام کی قرآنی بنیاد سورۃ النور، آیت 61 ہے، اور گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانے کے وقت اللہ کا نام لینے والے کے بارے میں شیطان کی مایوسی کا ذکر صحیح مسلم 2018 میں ہے (حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی روایت)۔ تفصیل کے لیے وظیفہ 8.1 دیکھا جائے۔
ذکر د۔4: مسجد میں داخل ہونے کی دعا
موقع
مسجد میں داخل ہوتے وقت، دایاں پاؤں اندر رکھتے ہوئے۔
ذکر کا متن
(الف)
أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ، وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
(ب)
بِسْمِ اللَّهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
ترجمہ: (الف) میں عظمت والے اللہ کی، اس کے کریم چہرے کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ لیتا ہوں، مردود شیطان سے۔ (ب) اللہ کے نام کے ساتھ (داخل ہوتا ہوں)، اور اللہ کے رسول پر سلام ہو۔ اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔
تعداد
ایک بار۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حصہ (الف) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ کلمات فرماتے، اور اس کے ساتھ یہ فضیلت مروی ہے کہ شیطان کہتا ہے: یہ آج کے دن مجھ سے بچ گیا (سنن ابی داؤد 466)۔ حصہ (ب) کا آخری جملہ «اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» صحیح مسلم 713 میں ہے، اور اس کا مکمل مجموعہ (بسم اللہ اور رسول پر سلام کے ساتھ) سنن ابی داؤد 465 اور سنن ابن ماجہ 771، 772 میں آیا ہے۔ متعلقہ نوٹ: مسجد کی طرف چلتے وقت نور کی طویل دعا «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا» بھی ثابت ہے (صحیح مسلم 763، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت)؛ یہ دعا اصل میں تہجد کے باب کی ہے اور مسجد جاتے ہوئے بھی پڑھی جاتی رہی ہے، اسے اسی ذکر کے ذیل میں بطور اضافی ثابت شدہ دعا کے رکھا گیا ہے، الگ اندراج اس کا اس لیے نہیں بنایا گیا کہ اس بیچ کا دائرہ داخلے اور خروج کی دعاؤں تک ہے۔
ذکر د۔5: مسجد سے نکلنے کی دعا
موقع
مسجد سے نکلتے وقت، بایاں پاؤں باہر رکھتے ہوئے۔
ذکر کا متن
بِسْمِ اللَّهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ
ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ (نکلتا ہوں)، اور اللہ کے رسول پر سلام ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔
تعداد
ایک بار۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
نکلنے پر فضل مانگنے کے یہ کلمات صحیح مسلم 713 میں داخلے کی دعا کے ساتھ جوڑے میں آئے ہیں؛ شارحین نے اس جوڑے کی حکمت یہ بیان کی ہے کہ مسجد میں داخلہ عبادت کا مقام ہے، اس لیے رحمت مانگی گئی، اور باہر نکلنا رزق اور دنیوی معاملات کی طرف واپسی ہے، اس لیے فضل مانگا گیا؛ اور فضل سے مراد رزق ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں جمعہ کے بعد «اللہ کا فضل تلاش کرو» کا ارشاد رزق ہی کے سیاق میں ہے (سورۃ الجمعہ، آیت 10)۔ بسم اللہ اور سلام والی مکمل صورت سنن ابی داؤد 465 اور سنن ابن ماجہ 771 میں بھی ہے۔
ذکر د۔6: سواری پر سوار ہونے کی دعا (سبحان الذی سخر لنا)
موقع
سواری پر سوار ہوتے وقت، یعنی جانور، کار، بس، ریل یا جہاز میں بیٹھتے وقت۔
ذکر کا متن
رکاب یا سواری پر قدم رکھتے وقت:
بِسْمِ اللَّهِ
سوار ہو کر بیٹھنے کے بعد:
الْحَمْدُ لِلَّهِ
پھر یہ آیت:
سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ
اور بعض روایات میں اس کے بعد تین بار الْحَمْدُ لِلَّهِ، تین بار اللَّهُ أَكْبَرُ، پھر:
سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ
ترجمہ: اللہ کے نام کے ساتھ (سوار ہوتا ہوں)۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری) کو ہمارے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (آخری دعا) تو پاک ہے، بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، پس مجھے بخش دے، کیونکہ گناہوں کو تیرے سوا کوئی نہیں بخشتا۔
تعداد
آیت ایک بار؛ تسبیح و تکبیر تین تین بار حضرت علی رضی اللہ عنہ والی روایت کی صورت میں۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
آیت قرآن مجید کی ہے (سورۃ الزخرف، آیات 13 تا 14)، جس میں اللہ تعالیٰ نے خود سکھایا کہ سواری پر بیٹھ کر نعمت یاد کر کے یہ کلمات کہے جائیں۔ ترتیب کی تفصیل علی بن ربیعہ کی روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس سواری پیش کی گئی؛ رکاب میں پاؤں رکھا تو بسم اللہ کہا، سوار ہوئے تو الحمد للہ کہا، پھر یہ آیت پڑھی، پھر تین بار الحمد للہ اور تین بار اللہ اکبر کہا، پھر «سبحانک انی ظلمت نفسی» پڑھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے (سنن ابی داؤد 2602؛ جامع ترمذی 3446؛ ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا)۔ سفر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر پہلے تین تکبیریں کہتے، پھر یہی آیت پڑھتے تھے (صحیح مسلم 1342)، اس لیے لمبے سفر کی دعا (ذکر د۔7) کی ابتدا بھی اسی سے ہوتی ہے۔
ذکر د۔7: سفر کی دعا (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما والی)
موقع
سفر شروع کرتے وقت، سواری پر سوار ہونے کے بعد۔ عام سفر ہو یا عمرہ و حج کا، معمول یہی ہے۔
ذکر کا متن
اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ
ترجمہ: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اس (سواری) کو ہمارے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں، اور اس عمل کا جو تجھے پسند ہو۔ اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہم پر آسان فرما دے اور اس کی دوری کو ہمارے لیے لپیٹ دے۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں ساتھی ہے اور گھر والوں میں (میرا) نگہبان و جانشین ہے۔ اے اللہ! میں سفر کی مشقت، برے منظر کی رنجیدگی، اور مال و اہل کی طرف بری واپسی سے تیری پناہ لیتا ہوں۔
تعداد
ایک بار؛ آغاز میں تکبیر تین بار حدیث کی صراحت کے ساتھ ہے۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کے لیے اپنی سواری پر جم کر بیٹھتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے، پھر یہ آیت پڑھتے، پھر یہ دعا فرماتے تھے (صحیح مسلم 1342؛ سنن ابی داؤد 2599)۔ اسی روایت میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس ہوتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس میں یہ کلمات بڑھا دیتے: «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» (ہم واپس آنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں)؛ واپسی والے اذکار کی تفصیل ذکر د۔9 میں ہے۔ یہ دعا حصن المسلم اور کتاب الاذکار میں سفر کی دعاؤں کا مرکزی اندراج ہے۔
ذکر د۔8: کسی منزل یا شہر میں اترنے کی دعا (اعوذ بکلمات اللہ التامات)
موقع
سفر میں کسی جگہ ٹھہرنے یا اترنے پر، کسی نئے شہر یا گاؤں میں داخل ہونے پر، اور رات کو کسی جگہ قیام کرنے پر۔
ذکر کا متن
أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
ترجمہ: میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ لیتا ہوں، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔
تعداد
ایک بار۔ حدیث میں اس موقع کے لیے تعداد کی صراحت نہیں، اترتے وقت ایک بار کہنا کافی ہے۔ (شام کے اذکار میں اسی دعا کی تین بار والی صورت بیچ الف کے دائرے میں آ چکی بحث سے الگ ہے؛ یہاں سیاق منزل میں اترنے کا ہے۔)
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کسی منزل میں اترے اور یہ کلمات کہے، اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی یہاں تک کہ وہ اس منزل سے کوچ کر جائے (صحیح مسلم 2708)۔ اسی دعا کو امام نووی نے کتاب الاذکار میں کسی گاؤں یا منزل میں داخل ہونے کے باب میں رکھا ہے، اس لیے یہ دعا نئے شہر میں داخلے پر بھی اسی طرح پڑھی جاتی ہے۔
ذکر د۔9: سفر سے واپسی کے اذکار
موقع
سفر سے واپس ہوتے وقت، راستے میں اور گھر پہنچنے پر۔
ذکر کا متن
(الف)
واپسی کے سفر میں یہی سفر کی دعا (ذکر د۔7) پڑھی جاتی ہے اور اس کے آخر میں یہ کلمات بڑھائے جاتے ہیں:
آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ
(ب)
واپسی پر بلندیوں پر تین تکبیروں کے بعد یہ دعا:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ
(ج)
گھر میں داخل ہوتے وقت ذکر د۔3 والی دعا و سلام۔
ترجمہ: (الف) ہم واپس آنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔ (ب) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم واپس آنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے رب کے حضور سجدہ کرنے والے ہیں، اس کی حمد کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اکیلے ہی تمام لشکروں کو شکست دی۔
تعداد
تکبیریں تین تین بار، باقی دعائیں ایک ایک بار۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حصہ (الف) کا اضافہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اسی روایت میں ہے جس میں سفر کی دعا آئی ہے کہ واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی دعا پڑھتے اور یہ کلمات بڑھا دیتے تھے (صحیح مسلم 1342)۔ حصہ (ب) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوے، حج یا عمرے سے واپس ہوتے تو زمین کی ہر بلندی پر تین تکبیریں کہتے، پھر یہ دعا فرماتے تھے (صحیح بخاری 1797؛ صحیح مسلم 1344)۔ بلندی پر تکبیر کا یہ معمول آج کے سفر میں پہاڑی راستوں اور ہوائی جہاز کی بلندی سمیت ہر اونچائی پر سنت کے طور پر اہل علم نے برقرار رکھا ہے۔ حصہ (ج) کے لیے ذکر د۔3 دیکھا جائے۔
ذکر د۔10: مسافر کو الوداع کہنے کی دعائیں
موقع
کسی کو سفر پر رخصت کرتے وقت؛ پہلی دو دعائیں رہ جانے والا مسافر سے کہے، تیسری دعا مسافر رہ جانے والوں سے کہے۔
ذکر کا متن
(الف)
أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ
(ب)
زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى، وَغَفَرَ ذَنْبَكَ، وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ
(ج) مسافر کی طرف سے:
أَسْتَوْدِعُكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا تَضِيعُ وَدَائِعُهُ
ترجمہ: (الف) میں تیرے دین، تیری امانت اور تیرے اعمال کے انجام کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ (ب) اللہ تجھے تقویٰ کا توشہ عطا فرمائے، تیرے گناہ بخش دے اور جہاں کہیں تو ہو، تیرے لیے بھلائی آسان فرما دے۔ (ج) میں تم سب کو اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کے پاس رکھی ہوئی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں۔
تعداد
ایک ایک بار۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو لشکر یا سفر پر الوداع فرماتے تو حصہ (الف) کے کلمات کہتے تھے (سنن ابی داؤد 2601؛ جامع ترمذی 3443؛ ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا)۔ حصہ (ب) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے آ کر کہا: یا رسول اللہ! میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں، مجھے توشہ عطا فرمائیے؛ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کلمات فرمائے (جامع ترمذی 3444؛ ترمذی نے اسے حسن قرار دیا)۔ حصہ (ج) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے الوداع کرتے ہوئے اسی طرز کے کلمات کی تعلیم دی (سنن ابن ماجہ 2825؛ مسند احمد)۔
ذکر د۔11: سفر میں سحری کے وقت کا ذکر
موقع
سفر میں جب سحری کا وقت ہو، یعنی رات کے آخری حصے میں سفر جاری ہو یا قیام گاہ سے کوچ کی تیاری ہو۔
ذکر کا متن
سَمَّعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، رَبَّنَا صَاحِبْنَا وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا، عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ
ترجمہ: سننے والے نے سن لیا، اللہ کی حمد کے ساتھ اور اس کے ہم پر احسان کی بھلائی کے ساتھ۔ اے ہمارے رب! ہمارا ساتھ دے اور ہم پر فضل فرما، (یہ اس حال میں کہا جا رہا ہے کہ کہنے والا) آگ سے اللہ کی پناہ لیتا ہے۔
تعداد
ایک بار۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
یہ کلمات صحیح مسلم 2718 میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں آئے ہیں۔ حصن المسلم نے انہیں مسافر کے باب میں «مسافر سحری کے وقت کیا کہے» کے عنوان سے درج کیا ہے، کیونکہ اس روایت کا سیاق رات بھر کے سفر اور سحری کے وقت سے جڑا ہے۔ اس ذکر کا مفہوم یہ ہے کہ سفر کی رات اللہ کی حفاظت اور احسان میں گزری، اس پر شکر کیا جائے اور بقیہ سفر کے لیے اسی کا ساتھ اور فضل مانگا جائے۔
اذکار: کھانے پینے اور روزمرہ زندگی کے مسنون اذکار
بیچ کی قرآنی بنیاد: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو کچھ اللہ نے تمہیں حلال اور پاکیزہ رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو (سورۃ النحل، آیت 114)۔ اور ارشاد ہے کہ کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (سورۃ الاعراف، آیت 31)۔ یہ اذکار اسی شکر کی عملی صورت ہیں جو کھانے پینے اور روزمرہ کی ہر نعمت پر بندے کی زبان و دل کو اللہ کی طرف متوجہ رکھتے ہیں۔
نوٹ (آئینہ دیکھنے کی دعا کے بارے میں): آئینہ دیکھنے کی مشہور دعا «اللہم کما حسنت خلقی فحسن خلقی» کی سند پر اہل علم کا کلام اور درجہ بندی میں اختلاف ہے، اس لیے وہ مرکزی فہرست میں نہیں رکھی گئی؛ اس کی تفصیل آخر میں تصدیق طلب فہرست میں دی گئی ہے۔ مرکزی متن میں صرف وہ اذکار ہیں جن کی نسبت صحیح یا حسن درجے کی روایات سے ثابت ہے۔
اس بیچ کے عمومی اصول:
1. ان اذکار کی اکثر تعداد حدیث میں مقرر نہیں؛ جہاں تعداد کی صراحت نہیں وہاں ایک بار کہنا کافی ہے، اور تحریر میں صاف لکھا گیا ہے کہ تعداد مقرر نہیں۔ کوئی تعداد ایجاد نہیں کی گئی۔
2. کھانے پینے کے اذکار کے ساتھ ان کے ثابت شدہ آداب بھی مختصر درج ہیں، جیسے دائیں ہاتھ سے کھانا اور اپنے سامنے سے کھانا، کیونکہ اذکار انہی آداب کے ساتھ مسنون معمول بنتے ہیں۔
3. ان اذکار کی اصل روح شکر اور حضور قلب ہے؛ زبان سے کلمات کے ساتھ دل میں نعمت دینے والے کی طرف توجہ ہو تو یہی ان کا مقصد ہے۔
4. کوئی ذکر رہ جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں؛ یہ مسنون معمولات ہیں، فرض و واجب نہیں۔
ذکر ہ۔1: کھانے سے پہلے بسم اللہ
موقع
کھانا شروع کرنے سے پہلے؛ یہی حکم پینے سے پہلے بھی ہے۔
ذکر کا متن
بِسْمِ اللَّهِ
ترجمہ: اللہ کے نام سے (شروع کرتا ہوں)۔
تعداد
ایک بار۔ حدیث میں اس سے زیادہ تعداد کی صراحت نہیں۔
فضیلت و ماخذ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما سے بچپن میں فرمایا: اے لڑکے! اللہ کا نام لو، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ (صحیح بخاری 5376؛ صحیح مسلم 2022)۔ اجتماعی کھانے میں بھی اللہ کا نام لینے کی تاکید آئی ہے اور یہ برکت کا سبب بتایا گیا ہے: اپنے کھانے پر اکٹھے ہو اور اس پر اللہ کا نام لو، تمہارے لیے اس میں برکت دی جائے گی (سنن ابی داؤد 3767؛ سنن ابن ماجہ 3286)۔ کھانے کے شروع میں بسم اللہ نہ کہنے کی صورت میں شیطان اس کھانے میں شریک ہو جاتا ہے، اس کی تفصیل معروف حدیث میں آئی ہے (صحیح مسلم 2017)۔
ذکر ہ۔2: شروع میں بسم اللہ بھول جائے تو
موقع
کھانے کے دوران یاد آ جائے کہ شروع میں بسم اللہ نہیں کہی گئی۔
ذکر کا متن
بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ
ترجمہ: اللہ کے نام سے، اس (کھانے) کے شروع میں بھی اور آخر میں بھی۔
تعداد
ایک بار، جب یاد آئے اسی وقت۔
فضیلت و ماخذ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اللہ کا نام لے، اور اگر شروع میں بھول جائے تو یوں کہے: بسم اللہ فی أولہ وآخرہ (سنن ابی داؤد 3768؛ جامع ترمذی 1858؛ سنن ابن ماجہ 3264؛ ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا)۔ یعنی درمیان میں یاد آنے پر یہ کہہ لینے سے پوری بسم اللہ کی برکت حاصل ہو جاتی ہے۔
ذکر ہ۔3: کھانے کے بعد کی دعا (پہلی صورت)
موقع
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد۔
ذکر کا متن
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔
تعداد
ایک بار۔ تعداد مقرر نہیں۔
فضیلت و ماخذ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے یا پینے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا فرمایا کرتے تھے (سنن ابی داؤد 3850؛ جامع ترمذی 3457؛ سنن ابن ماجہ 3283)۔ درجہ بندی کا نوٹ: امام ترمذی نے اس روایت کو غریب کہا ہے اور اس کی سند پر بعض محققین کا کلام بھی ہے، تاہم یہ دعا حصن المسلم اور کتاب الاذکار سمیت اذکار کی مستند کتب میں کھانے کے بعد کی دعا کے طور پر درج ہے اور اس کے کلمات و مفہوم دیگر صحیح روایات کے موافق ہیں۔
ذکر ہ۔4: کھانے کے بعد کی دعا (دوسری صورت، بخشش کی فضیلت کے ساتھ)
موقع
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد۔
ذکر کا متن
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور یہ رزق مجھے عطا فرمایا، میری کسی طاقت اور قوت کے بغیر۔
تعداد
ایک بار۔ تعداد مقرر نہیں۔
فضیلت و ماخذ
حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کھانا کھا کر یہ کلمات کہے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں (سنن ابی داؤد 4023؛ جامع ترمذی 3458؛ سنن ابن ماجہ 3285؛ ترمذی نے اسے حسن قرار دیا)۔ یہاں بخشش سے مراد اہل علم کے یہاں صغیرہ گناہ اور حقوق اللہ سے متعلق کوتاہیاں ہیں؛ حقوق العباد کا معاملہ اہل حق سے معافی اور ادائیگی ہی سے طے ہوتا ہے۔
ذکر ہ۔5: کھانا کھلانے والے کے لیے دعا
موقع
کسی کے یہاں کھانا کھانے کے بعد، میزبان کے حق میں دعا۔
ذکر کا متن
اللَّهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنِي، وَاسْقِ مَنْ سَقَانِي
ترجمہ: اے اللہ! جس نے مجھے کھلایا اسے کھلا، اور جس نے مجھے پلایا اسے پلا۔
تعداد
ایک بار۔ تعداد مقرر نہیں۔
فضیلت و ماخذ
حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی طویل روایت میں ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں یہی دعا فرمائی (صحیح مسلم 2055)۔ اسی باب کی دوسری ثابت صورت یہ ہے: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ، ترجمہ: اے اللہ! جو رزق تو نے انہیں دیا ہے اس میں برکت دے اور انہیں بخش دے اور ان پر رحم فرما۔ یہ دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہما کے گھر کھانا کھا کر ان کے گھر والوں کے لیے فرمائی تھی (صحیح مسلم 2042)۔ کھانا کھا کر میزبان کے لیے دعا کرنا مسنون اخلاق میں سے ہے اور شکر گزاری کی عملی صورت ہے۔
ذکر ہ۔6: دودھ پینے کی دعا
موقع
دودھ پینے کے وقت، پینے سے پہلے یا دودھ پیش کیے جانے پر۔
ذکر کا متن
اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ
ترجمہ: اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت رکھ اور ہمیں اس سے زیادہ عطا فرما۔
تعداد
ایک بار۔ تعداد مقرر نہیں۔
فضیلت و ماخذ
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے اللہ دودھ پلائے وہ یہ دعا کہے، اور جسے اللہ کھانا کھلائے وہ یوں کہے: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ، یعنی اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت رکھ اور ہمیں اس سے بہتر کھلا (سنن ابی داؤد 3730؛ جامع ترمذی 3455؛ سنن ابن ماجہ 3322؛ ترمذی نے اسے حسن قرار دیا)۔ اس تخصیص کی وجہ بھی روایت میں مذکور ہے کہ دودھ کے سوا کوئی چیز کھانے اور پینے دونوں کی جگہ کافی نہیں ہوتی۔
ذکر ہ۔7: پانی اور عمومی مشروب کے بعد حمد
موقع
پانی یا کوئی بھی مشروب پینے کے بعد۔
ذکر کا متن
الْحَمْدُ لِلَّهِ
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔
تعداد
ایک بار۔ تعداد مقرر نہیں۔
فضیلت و ماخذ
پانی پینے کے بعد کی کوئی الگ مخصوص دعا صحیح ماخذ میں ثابت نہیں؛ ثابت یہی حمد ہے جو کھانے اور پینے دونوں پر مسنون ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جو ایک کھانا کھا کر اس پر اس کی حمد کرے یا ایک گھونٹ پی کر اس پر اس کی حمد کرے (صحیح مسلم 2734)۔ متعلقہ ثابت آداب: پانی بیٹھ کر پینا، برتن میں سانس نہ لینا (صحیح بخاری 5630؛ صحیح مسلم 2027) اور تین سانس میں پینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا (صحیح بخاری 5631)۔ یہ آداب ہیں، ان کے ساتھ کوئی اضافی دعائیہ کلمات ماخذ میں ثابت نہیں، اس لیے یہاں صرف حمد درج کی گئی ہے۔
ذکر ہ۔8: دسترخوان اٹھنے اور کھانے کے اختتام کی دعا
موقع
کھانا ختم ہونے اور دسترخوان اٹھائے جانے کے وقت۔
ذکر کا متن
پہلی صورت
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا وَأَرْوَانَا، غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مَكْفُورٍ
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کفایت کی اور ہمیں سیراب کیا، نہ اس کی نعمت سے بے نیازی ممکن ہے اور نہ اس کا انکار (شکر سے محرومی) روا ہے۔
دوسری صورت
الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور بابرکت حمد کے ساتھ، اے ہمارے رب! نہ تیری نعمت سے بے نیازی ہو سکتی ہے، نہ اسے چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے استغنا ممکن ہے۔
تعداد
ایک بار۔ تعداد مقرر نہیں۔
فضیلت و ماخذ
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جب دسترخوان اٹھایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات فرمایا کرتے تھے (صحیح بخاری 5458؛ دوسری صورت جامع ترمذی 3456 میں انہی سے مروی ہے)۔ یہ دعا ذکر ہ۔3 اور ہ۔4 کی دعاؤں کی ہی جنس سے ہے؛ دسترخوان اٹھنے کے خاص موقع کی نسبت سے اسے الگ درج کیا گیا ہے تاکہ معمول میں تینوں صورتیں الگ الگ موقع سے واضح رہیں۔
ذکر ہ۔9: مجلس کے کفارے کی دعا
موقع
کسی مجلس یا نشست سے اٹھنے سے پہلے، آخر میں۔
ذکر کا متن
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
ترجمہ: اے اللہ! تو پاک ہے اور تیری ہی حمد ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔
تعداد
ایک بار۔ تعداد مقرر نہیں۔
فضیلت و ماخذ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مجلس میں بیٹھے اور اس میں اس کی لغو باتیں زیادہ ہو جائیں، پھر وہ مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کلمات کہہ لے تو اس مجلس میں ہونے والی باتوں کی اس کے لیے مغفرت کر دی جاتی ہے (جامع ترمذی 3433؛ ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا؛ سنن ابی داؤد 4858؛ سنن ابن ماجہ 3808)۔ روایت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر مجلس ذکر و خیر کی تھی تو یہ دعا اس پر مہر کی طرح ہوتی ہے۔ غیبت اور حقوق العباد کا معاملہ اس دعا سے ساقط نہیں ہوتا؛ جس کی غیبت ہوئی ہو اس سے معافی اور تلافی الگ سے ضروری ہے۔
ذکر ہ۔10: چھینک آنے پر اور اس کا جواب
موقع
چھینک آنے پر خود چھینکنے والے کے لیے، اور چھینک سننے والے کے لیے جواب۔
ذکر کا متن
چھینکنے والا کہے
الْحَمْدُ لِلَّهِ
سننے والا کہے
يَرْحَمُكَ اللَّهُ
چھینکنے والا جواب میں کہے
يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
ترجمہ: چھینکنے والا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ سننے والا: اللہ تم پر رحم کرے۔ چھینکنے والا جواب میں: اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست فرمائے۔
تعداد
ہر چھینک پر ایک ایک بار۔ اگر کسی کو تین سے زیادہ چھینکیں آئیں تو وہ زکام کی صورت ہے؛ اس کے بعد یہ سلسلہ روکنے کی ہدایت روایت میں آئی ہے (صحیح مسلم 2993، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی روایت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری چھینک کے بعد فرمایا کہ یہ شخص مزکوم ہے)۔
فضیلت و ماخذ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کو چھینک پسند ہے اور جمائی ناپسند ہے؛ پس جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو ہر مسلمان سننے والے پر حق ہے کہ وہ یرحمک اللہ کہے (صحیح بخاری 6223 اور 6224، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ)۔ چھینکنے والے کے جواب «یھدیکم اللہ ویصلح بالکم» کی صراحت بھی اسی روایت میں ہے۔ چھینک کا حق مسلمان کے ان حقوق میں شمار ہوا ہے جو روایت میں گنوائے گئے ہیں (صحیح مسلم 2162)۔ متعلقہ ادب: چھینک آئے تو ہاتھ یا کپڑے سے چہرہ چھپائے اور آواز پست رکھے (سنن ابی داؤد 5029؛ جامع ترمذی 2745؛ ترمذی نے اسے حسن قرار دیا)۔
ذکر ہ۔11: نیا کپڑا پہننے کی دعا
موقع
نیا کپڑا یا نیا لباس پہننے کے وقت۔
ذکر کا متن
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا الثَّوْبَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور یہ مجھے عطا فرمایا، میری کسی طاقت اور قوت کے بغیر۔
تعداد
ایک بار۔ تعداد مقرر نہیں۔
فضیلت و ماخذ
حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ جس نے نیا کپڑا پہن کر یہ کلمات کہے، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں (سنن ابی داؤد 4023؛ یہی کتابی حوالہ ذکر ہ۔4 کی کھانے والی دعا کا بھی ہے، دونوں ایک ہی روایت میں آئی ہیں)۔ دوسری ثابت صورت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے اور یہ دعا فرماتے: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ، ترجمہ: اے اللہ! تیرے ہی لیے حمد ہے، تو نے مجھے یہ پہنایا؛ میں تجھ سے اس کی بھلائی مانگتا ہوں اور اس مقصد کی بھلائی جس کے لیے یہ بنایا گیا، اور اس کے شر سے اور اس مقصد کے شر سے تیری پناہ لیتا ہوں جس کے لیے یہ بنایا گیا (سنن ابی داؤد 4020؛ جامع ترمذی 1767)۔ ایک اور روایت میں نیا کپڑا پہننے پر «الحمد للہ الذی کسانی ما أواري بہ عورتي وأتجمل بہ في حياتي» کے کلمات آئے ہیں اور اس پر اللہ کی حفاظت کی فضیلت مذکور ہے (جامع ترمذی 1767؛ سنن ابن ماجہ 3557)۔ کسی دوسرے کو نیا کپڑا پہنے دیکھ کر یہ دعا دینا بھی ثابت ہے: أَلْبِسْ جَدِيدًا، وَعِشْ حَمِيدًا، وَمُتْ شَهِيدًا، ترجمہ: نیا پہنو، ستودہ زندگی گزارو اور شہید ہو کر مرو۔ یہ دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نیا کپڑا پہنے دیکھ کر دی تھی (جامع ترمذی 1767؛ سنن ابن ماجہ 3558)۔
ذکر ہ۔12: کسی کی نعمت یا اچھی چیز دیکھ کر ماشاء اللہ اور برکت کی دعا
موقع
اپنی یا کسی مسلمان بھائی کی کوئی نعمت، مال یا اچھی چیز دیکھ کر تعجب و پسندیدگی ہو۔
ذکر کا متن
مَا شَاءَ اللَّهُ، لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
اور برکت کی دعا کی صورت
بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهِ
(اپنے لیے ہو تو: بَارَكَ اللَّهُ لِي فِيهِ)
ترجمہ: جو اللہ نے چاہا (وہی ہوا)، اللہ کی مدد کے بغیر کوئی قوت نہیں۔ اور برکت کی دعا: اللہ تمہارے لیے اس میں برکت رکھے۔
تعداد
ایک بار۔ تعداد مقرر نہیں۔
فضیلت و ماخذ
باغ والے واقعے میں قرآن مجید نے یہ اسلوب سکھایا ہے کہ نعمت دیکھ کر یوں کہنا چاہیے تھا: ما شاء اللہ لا قوۃ الا باللہ (سورۃ الکہف، آیت 39)۔ اہل علم نے اسی آیت کی روشنی میں نعمت دیکھ کر یہ کلمات کہنے کو نظر بد سے حفاظت کا ذریعہ لکھا ہے، کیونکہ اس میں نعمت کی نسبت اپنی قوت کی بجائے اللہ کی مشیت کی طرف ہو جاتی ہے۔ برکت کی دعا کی صریح روایت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی ذات میں یا اپنے مال میں یا اپنے بھائی میں کوئی ایسی چیز دیکھے جو اسے اچھی لگے تو اس کے لیے برکت کی دعا کرے، کیونکہ نظر (بد) حق ہے (سنن ابن ماجہ 3509؛ مسند احمد؛ شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا)۔ نظر بد کے حق ہونے کی صراحت صحیحین میں بھی ہے (صحیح بخاری 5740؛ صحیح مسلم 2188)۔ نوٹ: ماشاء اللہ کے یہ کلمات کوئی جادوئی تعویذ نہیں؛ اصل مقصد نعمت پر دل کا اللہ کی طرف رجوع اور بھائی کے لیے خیر خواہی کی دعا ہے۔
اذکار: موقع و مناسبت کے مسنون اذکار
بیچ کی بنیاد: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا، اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو (سورۃ البقرہ، آیت 152)۔ موقع و مناسبت کے اذکار اسی یاد کو زندگی کے ہر موڑ سے جوڑ دیتے ہیں: دن بدلتا ہے تو جمعہ کا ذکر، موسم بدلتا ہے تو بارش و ہوا کا ذکر، حال بدلتا ہے تو غصے اور عیادت کا ذکر۔ یہی ترتیب حصن المسلم کی ابواب بندی میں بھی نمایاں ہے۔
نوٹ (تکرار سے اجتناب): غم و پریشانی کی دعائیں وظائف کے سلسلے میں آ چکی ہیں، اس لیے یہاں ان کی تکرار نہیں کی گئی؛ قاری ان کے لیے یہ اندراجات دیکھے: وظیفہ 7.2 (غم و حزن کے لیے طویل نبوی دعا)، وظیفہ 7.3 (دعائے کرب)، وظیفہ 4.1 (قرض کے بوجھ اور غم سے پناہ کی دعا) اور وظیفہ 4.4 (حضرت یونس علیہ السلام کی دعا)۔ یہاں صرف موقع و مناسبت والے اذکار رکھے گئے ہیں، یعنی وہ اذکار جن کا تعلق کسی دن، کسی موسم یا کسی پیش آنے والے حال سے ہے۔
اس بیچ کے عمومی اصول:
1. یہ اذکار کسی مقررہ گھڑی کے نہیں، موقع کے ہیں۔ موقع پیش آئے تو اسی وقت، اسی حالت میں پڑھنا اصل سنت ہے؛ مثلاً بارش شروع ہو تو اس وقت، ہوا تیز ہو تو اس وقت، چاند نظر آئے تو اس شام۔
2. تعداد صرف وہی لکھی گئی ہے جو حدیث یا مستند ماخذ میں آئی ہے۔ جس ذکر کی کوئی مخصوص تعداد ماخذ میں نہیں، وہاں صاف لکھا ہے کہ تعداد مقرر نہیں۔
3. چند اذکار میں سند کی درجہ بندی پر اہل علم کی آراء کی صراحت اندراج کے اندر ہی کر دی گئی ہے، تاکہ قاری ہر ذکر کا اصل درجہ جان کر اختیار کرے۔ جس روایت کی نسبت ہی ثابت نہ ہو سکی وہ مرکزی فہرست سے باہر رکھی گئی ہے۔
4. ان اذکار کا مقصد ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع ہے۔ اچھا حال ہو تو شکر اور برکت کی طلب، سخت حال ہو تو حفاظت اور آسانی کی طلب؛ نتیجہ بہر حال اللہ کی مشیت پر ہے، کسی ذکر کو کسی نتیجے کی ضمانت نہ سمجھا جائے۔
ذکر و۔1: جمعہ کے دن درود شریف کی کثرت
موقع
جمعہ کا دن؛ اہل علم نے جمعہ کی رات (جمعرات کے غروب آفتاب سے شروع ہونے والی رات) کو بھی اسی حکم میں شامل رکھا ہے۔
ذکر کا متن
اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ
ترجمہ: اے اللہ! ہمارے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر رحمت اور سلامتی نازل فرما۔
مختصر صورت یہی ہے؛ سب سے کامل صورت درود ابراہیمی ہے جس کا مکمل متن و ترجمہ اذکار بیچ الف کے ذکر الف۔12 میں درج ہے، جمعہ کو اسی کامل صورت کی کثرت بہتر ہے۔
تعداد
تعداد مقرر نہیں؛ حدیث میں «کثرت» کا حکم ہے، اس لیے جتنی توفیق ہو اتنا پڑھا جائے۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی میں ان کی وفات ہوئی، اسی میں صور پھونکا جائے گا اور اسی میں بے ہوشی طاری ہو گی، پس اس دن مجھ پر درود کی کثرت کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے (سنن ابی داؤد 1047؛ صحیح ابن حبان؛ شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا)۔ اور فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں میں میرے سب سے زیادہ قریب وہ ہو گا جس نے دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجا ہو گا (جامع ترمذی 496؛ ترمذی نے اسے حسن قرار دیا)۔ درود کی عمومی فضیلت (ایک بار پر دس رحمتیں) صحیح مسلم 408 سے اذکار بیچ الف میں گزر چکی ہے۔ نوٹ: جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کی ایک خاص گھڑی بھی ثابت ہے (صحیح بخاری 935؛ صحیح مسلم 852)؛ اس گھڑی کی تعیین میں اہل علم کے دو مشہور قول ہیں، اس لیے قاری جمعہ کے دن کے آخری حصے اور خطبے و نماز کے اوقات دونوں میں دعا کا اہتمام رکھے۔
ذکر و۔2: جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت
موقع
جمعہ کا دن؛ بعض روایات میں جمعہ کی رات کا ذکر بھی آیا ہے، اس لیے جمعرات کے غروب سے جمعہ کے غروب تک کا وقت اس تلاوت کے لیے موضوع ہے۔
ذکر کا متن
پوری سورۃ الکہف (سورۃ نمبر 18، آیات 1 تا 110) قرآن مجید سے تلاوت کی جائے؛ یہاں سورت کا مکمل متن درج نہیں کیا گیا، تلاوت مصحف سے ہو گی۔
ترجمہ: اس سورت کا مرکزی مضمون چار آزمائشوں (دین، مال، علم اور اقتدار) میں اللہ پر توکل اور اس کی پناہ کی تعلیم ہے، اور اس کا آغاز اللہ کی حمد اور کتاب کے نزول کے بیان سے ہوتا ہے۔
تعداد
جمعہ کو ایک بار پوری سورت۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھے، اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن رہے گا (مستدرک حاکم؛ امام حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا اور امام ذھبی نے ان کی موافقت کی؛ السنن الکبریٰ للبیھقی؛ شیخ البانی نے صحیح الجامع 6470 میں اسے صحیح قرار دیا)۔ اسی سورت کی ابتدائی دس آیات یاد کرنے والے کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ فتنۂ دجال سے محفوظ رہے گا (صحیح مسلم 809)۔ عمل کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جمعہ کی نماز سے پہلے یا بعد میں سکون سے پوری سورت پڑھ لی جائے؛ وقت تنگ ہو تو کم از کم ابتدائی اور آخری دس آیات کی تلاوت کا معمول رکھا جائے، مگر یہ آخری صورت تلاوت کی تلافی نہیں، اصل فضیلت والی صورت پوری سورت کی تلاوت ہی ہے۔
ذکر و۔3: بارش کے وقت کی دعا
موقع
بارش شروع ہوتے وقت، یا بارش کے دوران۔
ذکر کا متن
اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا
ترجمہ: اے اللہ! اسے نفع پہنچانے والی بارش بنا دے۔
تعداد
تعداد مقرر نہیں؛ بارش کے آغاز پر پڑھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب بارش ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے (صحیح بخاری 1032)۔ «صیب» اصل میں برسنے والی بارش کو کہتے ہیں، اور اس کے ساتھ «نافعاً» کی قید اس لیے ہے کہ ہر بارش نفع والی نہیں ہوتی؛ دعا کا مقصد یہی ہے کہ یہ برست رحمت بنے، نقصان کا سبب نہ بنے۔ بارش کا وقت دعا کی قبولیت کے اوقات میں بھی شمار ہوا ہے؛ ارشاد نبوی ہے کہ دو دعائیں رد نہیں ہوتیں، اذان کے وقت کی دعا اور بارش کے برسنے کے وقت کی دعا (سنن ابی داؤد 2540؛ شیخ البانی نے اس روایت کو حسن قرار دیا)۔ اس لیے بارش کے لمحوں میں اپنے اور اہل خانہ کے لیے دعا کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔
ذکر و۔4: موسلا دھار بارش میں دعا
موقع
بارش اتنی بڑھ جائے کہ نقصان کا اندیشہ ہو، سیلاب، فصل یا گھروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔
ذکر کا متن
اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالْجِبَالِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ
ترجمہ: اے اللہ! بارش ہمارے اردگرد برسا، ہم پر نہ برسا۔ اے اللہ! اسے ٹیلوں اور پہاڑوں اور چھوٹی پہاڑیوں اور وادیوں کے نشیبوں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا۔
تعداد
تعداد مقرر نہیں؛ حاجت کے وقت حسب موقع پڑھی جائے۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک جمعہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ مال ہلاک ہو گیا اور راستے بند ہو گئے، اللہ سے دعا کیجیے کہ بارش روک دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر یہی دعا فرمائی، اور روایت میں ہے کہ اس کے بعد بادل چھٹ گئے اور ایک ہفتے تک بارش نہ ہوئی (صحیح بخاری 1014؛ صحیح مسلم 897)۔ اس دعا کی خوبی یہ ہے کہ اس میں بارش کے خالص خاتمے کی نہیں، اس کی رحمت کے رخ بدلنے کی طلب ہے؛ یعنی جہاں نفع ہے وہاں برسے، جہاں نقصان ہے وہاں نہ برسے۔ آج بھی طوفانی بارش یا سیلابی صورت حال میں یہی دعا اسی نیت سے پڑھی جائے۔
ذکر و۔5: تیز ہوا اور آندھی کے وقت کی دعا
موقع
ہوا تیز ہو جائے، آندھی چلے یا طوفان کا اندیشہ ہو۔
ذکر کا متن
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا، وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ
ترجمہ: اے اللہ! میں تجھ سے اس ہوا کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور اس بھلائی کا جو اس میں ہے، اور اس بھلائی کا جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے؛ اور میں تیری پناہ لیتا ہوں اس کے شر سے، اور اس شر سے جو اس میں ہے، اور اس شر سے جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے۔
تعداد
تعداد مقرر نہیں؛ ہوا کے تیز ہوتے وقت پڑھی جائے۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہوا تیز ہو جاتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے (صحیح مسلم 899)۔ اسی روایت کے سیاق میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر فکر کے آثار نمودار ہو جاتے اور آپ آتے جاتے رہتے، یہاں تک کہ بارش ہو جاتی تو اطمینان ہوتا؛ اور آپ نے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ معلوم نہیں یہی ہوا اس قوم کے عذاب والی نہ ہو جس کا ذکر قرآن میں ہے۔ ہوا کو برا بھلا کہنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے؛ ارشاد ہے کہ ہوا کو گالی نہ دو، کیونکہ وہ اللہ کی رحمت میں سے ہے، وہ رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی؛ البتہ اللہ سے اس کی بھلائی مانگو اور اس کے شر سے پناہ مانگو (سنن ابی داؤد 5097؛ جامع ترمذی 2252؛ ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا)۔ پس مسنون انداز یہی ہے: ہوا کو برا نہ کہا جائے، دعا کی طرف رجوع کیا جائے۔
ذکر و۔6: گرج چمک کے وقت کا ذکر
موقع
بادل کی گرج سنائی دے یا بجلی چمکے۔
ذکر کا متن
سُبْحَانَ الَّذِي يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ
ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس کی حمد کے ساتھ بادل کی گرج تسبیح کرتی ہے، اور فرشتے اس کے خوف سے (تسبیح کرتے ہیں)۔
تعداد
تعداد مقرر نہیں؛ گرج سننے پر بات چیت روک کر یہ کلمات کہے جائیں۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
اس ذکر کی اصل صورت ایک صحابی کے ثابت شدہ عمل کے طور پر آئی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما کے بارے میں روایت ہے کہ جب وہ گرج کی آواز سنتے تو بات چیت چھوڑ دیتے اور یہی کلمات فرماتے (مؤطا مالک، کتاب الکلام؛ الادب المفرد للبخاری 723؛ شیخ البانی نے اس اثر کی سند کو صحیح قرار دیا)۔ ان کلمات کی بنیاد قرآن مجید کی یہ آیت ہے: اور بادل کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے (سورۃ الرعد، آیت 13)۔ صراحت رہے کہ یہ کلمات اسی موقوف اثر کی حیثیت سے درج ہیں؛ گرج کے موقع کی ایک اور مشہور دعا «اللہم لا تقتلنا بغضبک» کی روایت سند کے کلام کی وجہ سے نیچے تصدیق طلب فہرست میں رکھی گئی ہے۔ گرج چمک کے وقت کی اصل تعلیم یہی ہے کہ انسان اللہ کی قدرت و ہیبت کو یاد کرے اور اس کی تسبیح میں لگ جائے۔
ذکر و۔7: نیا چاند دیکھنے کی دعا
موقع
کسی بھی نئے قمری مہینے کا چاند نظر آنے پر، خاص کر رمضان اور شوال کے چاند کے موقع پر۔
ذکر کا متن
اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ
ترجمہ: اے اللہ! اس چاند کو ہم پر برکت و ایمان اور سلامتی و اسلام کے ساتھ طلوع فرما۔ (اے چاند!) میرا رب اور تیرا رب اللہ ہے۔
تعداد
تعداد مقرر نہیں؛ چاند نظر آنے پر ایک بار پڑھنا کافی ہے۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو یہ دعا فرمایا کرتے تھے (جامع ترمذی 3451؛ ترمذی نے اسے حسن غریب کہا اور شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا)۔ الفاظ کی ایک اور صورت میں «بِالْيُمْنِ» کی جگہ «بِالْأَمْنِ» آیا ہے (مسند احمد؛ سنن الدارمی)؛ دونوں صورتوں کا معنی قریب ہے، قاری جو صورت پڑھے اسی پر اعتماد کرے۔ اس دعا کا آخری جملہ «ربی وربک اللہ» بظاہر چاند سے خطاب ہے اور اسی میں توحید کا اعلان ہے کہ چاند بھی مخلوق ہے، خالق نہیں؛ مہینے کی خیر و سلامتی کا اصل سوال اللہ ہی سے ہے۔ نوٹ: اس موقع پر کسی خاص نماز کی نسبت ثابت نہیں؛ اس بارے میں مشہور بات تصدیق طلب فہرست میں دیکھی جائے۔
ذکر و۔8: مصیبت زدہ کو دیکھ کر پڑھنے کی دعا
موقع
کسی کو بیماری، معذوری، کسی بلا یا کسی آزمائش میں مبتلا دیکھ کر؛ اپنے دل میں آہستہ پڑھی جائے، مبتلا کو سنائی نہ جائے۔
ذکر کا متن
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ، وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا
ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے اس بلا سے عافیت دی جس میں تجھے مبتلا کیا، اور مجھے اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت بخشی۔
تعداد
تعداد مقرر نہیں؛ اس حال کے دیکھنے پر ایک بار۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی مبتلا کو دیکھ کر یہ کلمات کہے، وہ اس بلا میں مبتلا نہیں ہو گا، وہ بلا جو بھی ہو (جامع ترمذی 3432؛ ترمذی نے اسے حسن غریب کہا اور شیخ البانی نے اسے حسن قرار دیا)۔ دو احتیاطیں اس ذکر کے ادب میں شامل ہیں: ایک یہ کہ یہ دعا آہستہ آواز سے پڑھی جائے تاکہ مبتلا شخص سنے نہیں، کیونکہ اس کی دل آزاری اس دعا کی روح کے خلاف ہے؛ دوسری یہ کہ یہ دعا عافیت پر شکر کے طور پر ہے، کسی پر فخر یا اس کی تکلیف پر خوشی کے طور پر نہیں، اور مبتلا کی مدد و ہمدردی اپنی جگہ مؤمن کا اخلاقی فریضہ ہے۔ ظالم کے شر میں مبتلا شخص کے لیے بھی یہی دعا ہے؛ البتہ اگر مبتلا اپنی ہی کسی دینی کوتاہی یا گناہ میں مبتلا ہو تو اہل علم نے اس دعا کی یہ صورت وہاں مناسب نہیں سمجھی، وہاں اس کے لیے ہدایت کی دعا کی جائے۔
ذکر و۔9: غصے کے وقت پناہ کے کلمات
موقع
غصہ آئے، جھگڑا بڑھنے لگے یا دل میں لڑائی کی امنگ اٹھے، اسی لمحے۔
ذکر کا متن
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
ترجمہ: میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں شیطان مردود سے۔
تعداد
تعداد مقرر نہیں؛ غصہ اترنے تک دہرایا بھی جا سکتا ہے، اور خاموش ہو جانا اس کے ساتھ سنت کا اگلا قدم ہے۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کرنے لگے، ایک کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور اس کی رگیں پھول گئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک کلمہ جانتا ہوں، اگر یہ شخص وہ کہہ دے تو جو کیفیت اس پر طاری ہے وہ ختم ہو جائے؛ وہ کلمہ یہ ہے: «اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم» (صحیح بخاری 3282؛ صحیح مسلم 2610)۔ اس تعلیم کی قرآنی بنیاد یہ ارشاد ہے کہ اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ مانگو، بے شک وہ سننے والا، جاننے والا ہے (سورۃ الاعراف، آیت 200)۔ عملی نوٹ: غصے میں فیصلہ، وعدہ یا طلاق و قسم جیسے الفاظ سے رک جانا بھی اسی پناہ کا تقاضا ہے؛ پہلے غصہ اترے، پھر بات ہو۔ غصے میں وضو اور جگہ بدلنے کی مشہور راہنمائی کی روایت سند کی بحث کی وجہ سے تصدیق طلب فہرست میں رکھی گئی ہے۔
ذکر و۔10: ملاقات و مجلس میں سلام کی عمومیت
موقع
کسی مسلمان سے ملاقات ہو، کسی مجلس میں داخل ہوں، یا کسی کے پاس سے اٹھ کر جائیں، ہر موقع پر۔
ذکر کا متن
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ
اور جواب میں:
وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ
ترجمہ: تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ اور جواب کا ترجمہ: اور تم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔
تعداد
ہر ملاقات پر ایک بار ابتدا کرنا سنت ہے؛ مجلس سے اٹھتے وقت بھی سلام کہنا اسی سنت کا حصہ ہے۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب تمہیں سلام کہا جائے تو اس سے بہتر الفاظ میں جواب دو یا کم از کم انہی الفاظ کو لوٹا دو (سورۃ النساء، آیت 86)۔ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اسلام کی کون سی خصلت بہتر ہے؛ فرمایا کہ کھانا کھلاؤ اور سلام کہو، اسے بھی جسے پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے (صحیح بخاری 12؛ صحیح مسلم 39)۔ اور فرمایا کہ تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور ایمان نہیں لا سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو؛ کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرو تو آپس میں محبت کرنے لگو؛ سلام کو اپنے درمیان پھیلاؤ (صحیح مسلم 54)۔ الفاظ کی بتدریج صورتوں کا اجر بھی روایت میں آیا ہے: ایک شخص نے «السلام علیکم» کہا تو اس کے لیے دس نیکیاں، دوسرے نے «ورحمۃ اللہ» بڑھایا تو بیس، اور تیسرے نے «وبرکاتہ» بھی بڑھایا تو تیس نیکیاں لکھی گئیں (سنن ابی داؤد 5195؛ جامع ترمذی 2689؛ ترمذی نے اسے حسن قرار دیا)۔ آغاز کرنے والا فضیلت میں آگے ہے؛ ارشاد ہے کہ اللہ کے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو سلام میں ابتدا کرتے ہیں (سنن ابی داؤد 5197؛ جامع ترمذی 2694)۔ نوٹ: یہ ذکر بظاہر ایک معاشرتی عمل ہے، مگر اصل میں یہ اللہ کے نام (السلام) کا ذکر اور ایک دعا ہے، اسی لیے اسے اذکار کے ذخیرے میں الگ جگہ دی گئی ہے۔
ذکر و۔11: مریض کی عیادت کی دعا (پہلی صورت)
موقع
کسی مریض کی عیادت کو جائیں تو اس کے پاس بیٹھ کر یہ دعا کہیں۔
ذکر کا متن
لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
ترجمہ: کوئی حرج نہیں؛ یہ بیماری ان شاء اللہ (گناہوں سے) پاک کرنے والی ہے۔
تعداد
تعداد مقرر نہیں؛ عیادت کے وقت ایک بار یہ تسلی کے کلمات کہا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔
فضیلت و ماخذ و حوالہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے تو اس سے یہی کلمات فرمائے (صحیح بخاری 5656، کتاب المرضیٰ)۔ ان کلمات کی خوبصورتی یہ ہے کہ ان میں بیماری کو گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ قرار دے کر مریض کو تسلی دی گئی ہے، کہ یہ تکلیف ضائع نہیں جا رہی۔ عیادت کی عمومی فضیلت بھی بڑی ہے؛ ارشاد نبوی ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے وہ واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہتا ہے (صحیح مسلم 2568)۔ عملی آداب: عیادت مختصر رکھی جائے، مریض کو امید و تسلی کی بات کہی جائے، اور اس کے لیے دعا کر کے رخصت ہوا جائے؛ یہ دعائیں اسی ادب کی عملی صورت ہیں۔
ذکر و۔12: مریض کے لیے سات بار پڑھی جانے والی دعا
موقع
مریض کی عیادت کے وقت، اس کے پاس بیٹھ کر یہ دعا سات بار پڑھی جائے۔
ذکر کا متن
أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ
ترجمہ: میں عظمت والے اللہ سے، جو عرش عظیم کا رب ہے، سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھے شفا دے۔
تعداد
سات بار؛ یہ تعداد خود حدیث میں آئی ہے، اس میں کمی بیشی اپنی طرف سے نہ کی جائے۔
فضیلت و ماخذ و درجہ بندی
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی نہ آیا ہو، اور اس کے پاس سات بار یہ کلمات کہے، تو اللہ اسے اس بیماری سے عافیت دے گا (سنن ابی داؤد 3106؛ جامع ترمذی 2083)۔ درجہ بندی کی صراحت ضروری ہے: امام ترمذی نے اس روایت کو حسن غریب کہا ہے؛ بعض اہل علم نے اس کی سند کے ایک راوی کی وجہ سے اس پر کلام کیا ہے، جبکہ شیخ البانی سمیت محققین کی ایک جماعت نے اسے قابل عمل درجہ (صحیح یا حسن) دیا ہے، اور یہ دعا اسی تعداد کے ساتھ حصن المسلم میں بھی درج ہے۔ اسی لیے اسے مرکزی فہرست میں درجہ بندی کی اس وضاحت کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ دعا کے باوجود شفا اللہ ہی کے حکم سے ہے؛ علاج اور اسباب کا سلسلہ اپنی جگہ جاری رکھا جائے، یہ دعا علاج کی جگہ نہیں لیتی۔
