حرمتِ مصاہرت قرآن، حدیث اور فقہ کی روشنی میں ایک جامع تحقیق

حرمتِ مصاہرت: قرآن، حدیث اور فقہ کی روشنی میں ایک جامع تحقیق

حرمتِ مصاہرت: قرآن، حدیث اور فقہ کی روشنی میں ایک جامع تحقیق

مقدمہ: ایک ضروری اور حساس موضوع

ایک ایسا فقہی موضوع جسے معاشرے میں آج کے دور میں بہت زیادہ نظرانداز، غلط فہمیوں سے گھرا ہوا اور معاشرتی طور پر خطرناک حد تک عام ہوتا جا رہا ہے۔

اس موضوع کا نام ہے — “حرمتِ مصاہرت”۔ 

یعنی وہ رشتے جو نکاح، چھونے، دیکھنے یا زنا کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں عوام الناس اس بات سے بالکل بے خبر ہے کہ  ان کا “نکاح” شریعت کی نظر میں درست ہی نہیں، اور وہ زندگی بھر حرام تعلقات میں الجھے رہتے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر وٹس ایپ اور دیگر ذرائع سے ماہانہ طور پر درجنوں پیغامات  موصول ہوتے ہیں جن میں لوگ خاندانی تباہی، نفسیاتی بحران اور مذہبی پریشانی کا اظہار کرتے ہیں  اور ان تمام معاملات کی بنیاد پر غالبًا حرمتِ مصاہرت کا علم نہ ہونا ہوتا ہے۔

لہٰذا، یہ ضروری ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت اس موضوع کو سمجھے، کیونکہ یہ نہ صرف عبادات بلکہ خاندانی استحکام، نسل کی صفائی اور دینی ذمہ داری کا سوال ہے۔

حصہ اول: نکاح اور محرمات کی اقسام

اسلام نے جنسی خواہش کی تکمیل کا ایک پاکیزہ، منظم اور جائز طریقہ دیا ہے اور وہ ہے نکاح۔ 

وَمِنْ اٰيَاتِهٓ ٖ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُـوٓا اِلَيْـهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّّرَحْـمَةً ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّـقَوْمٍ يَّتَفَكَّـرُوْنَ۔ (القرآن: الروم، آیت 21)۔

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تمہارے لیے تمہیں میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ ان کے پاس چین سے رہو اور تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی، جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔

لیکن اسی نکاح کے لیے شریعت نے واضح حدود مقرر کی ہیں۔ بعض عورتوں سے نکاح شریعت کی نظر میں ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ انہیں “محرمات” کہا جاتا ہے۔

ان محرمات کی بنیادی اقسام تین ہیں:

1.  محرمات النسب (نسب کی وجہ سے حرام): ماں، بیٹی، بہن، خالہ، پھوپھی وغیرہ۔

2.  محرمات الرضاع (دودھ پلانے کی وجہ سے حرام): جس عورت کا دودھ بچہ پی لے، وہ اس کے لیے ماں کے درجے میں آ جاتی ہے۔

3.  محرمات المصاہرت (نکاح/وطی کی وجہ سے حرام): یہی وہ موضوع ہے جس پر ہم آج تفصیل سے بات کریں گے۔

حصہ دوم: حرمتِ مصاہرت کیا ہے؟

لفظ “مصاہرت” کا معنی ہے “سسرال کا رشتہ”، یعنی وہ رشتے جو نکاح یا وطی (جماع) کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں۔

قرآنِ کریم نے چار ایسے رشتے واضح کیے ہیں جو ہمیشہ کے لیے حرام ہیں:

اصول کی بیویاں (ماں کے مشابہ) 

﴿وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾  (النساء: 23) 

“اور تم اُن عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو، سوائے اس کے جو گزر چکا ہے۔”

یہاں “نَكَحَ” کا عمومی معنی “وطی” (جماع) ہے۔ لہٰذا اگر آپ کے والد نے کسی عورت سے جماع کیا ہو، تو وہ آپ کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہے، چاہے نکاح ہوا ہو یا زنا۔یعنی دخول حلال طریقے سے ہو یا حرام طریقے سے  ہو احکام لاگو ہو جائیں گے۔

فروع کی بیویاں (بیٹی کے مشابہ) 

﴿وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ﴾  (النساء: 23) 

“اور تمہاری صلب سے نکلنے والی اولاد کی بیویاں (تمہارے لیے حرام ہیں)۔”

یعنی آپ کے بیٹے، پوتے، نواسے کی بیوی آپ کے لیے ماں کے برابر حرام ہے۔

بیوی کے اصول (ماں کے مشابہ) 

﴿وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ﴾  (النساء: 23) 

“اور تمہاری بیویوں کی مائیں (تمہارے لیے حرام ہیں)۔”

یعنی ساس، نانی، دادی وغیرہ — جو بھی آپ کی بیوی کی ماں ہو، وہ آپ کے لیے ماں کے حکم میں ہے۔

بیوی کے فروع (ربیبہ ،بیٹی کے مشابہ) 

﴿وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ﴾  (النساء: 23) 

“اور تمہاری گود میں پل رہی وہ بیٹیاں جو تمہاری ان بیویوں سے ہوں جن سے تم نے صحبت کی ہو۔ اور اگر تم نے ان سے صحبت نہیں کی تو تم پر ان کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔”

نوٹ: یہاں یہ بات ضرور ید رکھیں کہ  ربیبہ (بیوی کی بیٹی) کی حرمت صرف اس وقت ہوتی ہے جب آپ نے بیوی سے “دخول” (جماع) کیا ہو۔ اگر بیوی سے جماع نہ ہوا ہو، تو آپ اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتے ہیں۔

حصہ سوم: حرمتِ مصاہرت کے اسباب — چار بنیادی وجوہات

فقہاء کے نزدیک، حرمتِ مصاہرت کے چار اسباب ہیں:

1۔ عقدِ صحیح ۔ جب کسی عورت سے صحیح نکاح ہو جائے، تو اس کی ماں (ساس) آپ کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔ یہ متفق علیہ ہے۔

2۔ وطی (جماع) ۔ چاہے عقدِ صحیح، فاسد یا بغیر عقد (زنا) کے بعد ہو — ہر قسم کا جماع حرمتِ مصاہرت کا سبب بنتا ہے۔

3۔ مسّ بالشہوت ۔شہوت کے ساتھ چھونا — احناف کے نزدیک یہ بھی حرمت کا سبب ہے۔

4۔ نظر بالشہوت۔ شہوت کے ساتھ فرجِ داخل کو دیکھنا — یہ بھی احناف کے نزدیک حرمت کا سبب ہے۔ ۔

حصہ چہارم: کیا زنا سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے؟

یہ وہ مسئلہ ہے جس پر آج کل سوشل میڈیا پر بہت گمراہی پھیلائی جا رہی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ “زنا سے حرمت نہیں ہوتی”، حالانکہ یہ موقف احناف، حنابلہ اور بڑی جماعتِ صحابہ و تابعین کے خلاف ہے۔

احناف، حنابلہ اور بعض مالکیہ کا موقف:

تینوں فقہاء کے نزدیک زنا سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت  ہوجاتی ہے۔

دلائل:

قرآنِ کریم: 

“وَلَا تَنكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ” 

لفظ “نَكَحَ” کا اصل معنی “وطی” (جماع) ہے، نہ کہ صرف “نکاح”۔ 

لہٰذا، اگر آپ کے باپ نے کسی عورت سےدخول کیا  چاہے نکاح سے کیا یا  زنا سے کیا ہو، تو وہ عورت آپ کے لیے ماں کے حکم میں ہے۔

حدیثِ نبوی ﷺ: 

عن رجل سأل النبي ﷺ قال: “إنّي واقعتُ امرأة في الجاهلية، أفأنكح ابنتها؟ قال: لا أرى ذلك.”  (رواه ابن أبي شيبة، وأبو داود، وضعفہ الألباني، لكنہ شاہد للآية)

ترجمہ: ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا: “میں نے جاہلیت میں ایک عورت سے زنا کیا تھا، کیا میں اب اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہوں؟”  آپ ﷺ نے فرمایا: “میں اسے درست نہیں سمجھتا۔”

یہ حدیث  باوجود مرسل ہونے کے قرآن کی تائید کرتی ہےکہ نکاح کا معنی وطی کرنا ہےچاہے حلال طریقہ ہو یا حرام۔

اقوال صحابہ: 

علامہ ابنِ ہمام (رح) نے فتح القدیر (3/212) میں لکھا ہے کہ ان صحابہ و تابعین نے نکاح سے مراد وطی ہی لیا ہےاور زنا سے حرمت مصاہرت کے قائل ہیں :

 حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ، حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ،حضرت جابر رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور جمہور تابعین: حسن بصری، شعبی، ابراہیم نخعی، سفیان ثوری، اوزاعی، طاؤس، عطاء، مجاہد، سعید بن مسیب، اسحاق بن راہویہ وغیرہم ۔

اجماعِ علمائے امصار (ابن المنذر): 

ابن المنذر نے الإجماع میں نقل کیا:

“وأجمعوا على أن الرجل إذا تزوج المرأة نكاحاً فاسداً فدخل بها، أنها تحرم على أبيه وابنه وجده وولد ولده.”( کتاب النکاح: مسئلہ نمبر 433)

“تمام علمائے امصار کا اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص عقدِ فاسد کی بنا پر کسی عورت سے دخول کر لے، تو وہ عورت اس کے باپ، بیٹے، دادا، پوتے پر حرام ہو جاتی ہے۔”

حالانکہ عقدِ فاسد میں بھی وطی حرام ہے۔ تو پھر جب حرام وطی (عقدِ فاسد میں) سے حرمت ہو سکتی ہے، تو محض زنا (بغیر عقد کے) سے کیوں نہ ہو؟

اصل علت (وجہ): 

حرمتِ مصاہرت کی اصل علت “وطی” ہے، چاہے وہ حلال ہو یا حرام۔ 

علامہ ابنِ ہمام لکھتے ہیں:

“معلوم ہوا کہ اصل میں معتبر خود وطی کا واقع ہونا ہے، اس کے حلال یا حرام ہونے کا اعتبار نہیں۔”

سدِّ ذرائع (وسائل کو بند کرنا): 

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾ (الاسراء: 32)

اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے۔

اگر زنا کرنے والا شخص بعد میں اسی عورت کی بیٹی سے نکاح کر لے، تو گھر میں اسی عورت کی موجودگی (بہو کے طور پر) گناہ کا دروازہ کھول دے گی۔ لہٰذا، شریعت نے اس راستے کو بند کر دیا۔

شوافع اور مالکیہ (مشہور روایت) کا موقف:

” زنا سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔”

وہ کہتے ہیں کہ “نَكَحَ” سے مراد صرف “نکاح” ہے، نہ کہ ہر قسم کا جماع۔ 

لیکن احناف کا جواب ہے کہ لغوی اور قرآنی استعمال دونوں میں “نَكَحَ” کا معنی “وطی” ہے۔

حصہ پنجم: مسّ اور نظر سے بھی حرمت ہوتی ہے؟

یہ وہ مسئلہ ہے جس پر بہت کم بات ہوتی ہے، لیکن احناف کا موقف واضح ہے:

احناف کا موقف:

شہوت کے ساتھ چھونے یا شہوت کے ساتھ فرجِ داخل کو دیکھنے سے بھی حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے۔

دلائل:

قال إبراهيم النخعي: “إذا قبل الرجل المرأة أو مسها بشته، أو نظر إلى فرجها، حرمت عليه وعلى ولده وعلى أبيه.”  (المحلى، ابن حزم، 9/139)

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا:

“اگر مرد عورت کو چوم لے یا اسے اپنے لباس (بسطہ) سے چھو لے، یا اس کی فرج کی طرف دیکھ لے، تو وہ اس پر حرام ہو جائے گی، اور اس کے بیٹے پر (حرام ہو جائے گی)، اور اس کے باپ پر (حرام ہو جائے گی)۔”

قال الإمام مالك: “إذا نظر الرجل إلى شيء من محاسن المرأة بشته، كالساق أو الثدي أو الشعر، حرمت عليه وعلى ولده.”(المحلی بالآثار، 9/139)

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:

“اگر مرد عورت کی محاسن میں سے کسی چیز کو اپنے لباس (بسطہ) سے دیکھ لے، جیسے ساق یا ثڈی یا بال، تو وہ اس پر حرام ہو جائے گی اور اس کے بیٹے پر (حرام ہو جائے گی)۔”  (المحلیٰ بالآثار، 9/139)

قال العلامة الوهبة الزحيلي: “المسّ والنَظر هما من أسباب الجماع، فجعلهما الشارع قائمَين مقام الجماع احتياطاً.”  (الفقه الإسلامي وأدلته، 5/87)

علامہ وهبہ زحیلی رحمہ اللہ نے فرمایا:

“مس اور نظر دونوں جماع کے اسباب میں سے ہیں، اس لیے شریع نے ان دونوں کو احتیاطاً جماع کے مقام پر قائم کر دیا۔” 

قال ابن الهمام: “العلة هي الجماع، والمسّ سبب له، فثبتت الحرمة بسبب السبب.”  (فتح القدير، 3/214)

ابن الهمام رحمہ اللہ نے فرمایا:

“عِلَّت تو جماع ہے، اور مس اس کی سبب ہے، اس لیے سبب کی وجہ سے حُرْمَت ثابت ہو گئی۔”

حصہ ششم: مسّ سے حرمت کی سات شرطیں (احناف کے نزدیک)

احناف نے مطلقاً ہر قسم کے چھونے کو حرمت کا سبب نہیں بتایا۔ بلکہ یہ سات شرطیں ہیں

1.  بلا حجاب چھونا: جسم کو براہِ راست چھونا۔ موٹا کپڑا جو گرمی نہ پہنچنے دے، تو حرمت ثابت نہیں ہوگی۔

2.  متصل بال: سر سے جڑے بالوں کو چھونے سے حرمت ثابت ہوجاتی ہے۔جبکہ  لٹکے بالوں کو چھونے سےحرمت مصاہرت ثابت  نہیں ہوگی۔

3.  شہوت کا ہونا: یعنی شہوت کے وقت شہوت کاہونا ضروری ہے ۔

     مردکی شہوت کا اعتبار اس وقت ہو گا جب  آلہ میں معمولی  حرکت یا سختی اور جسم میں بھی لذت محسوس ہو

     عورت کی شہوت کا اعتبار ایسے ہوگا کہ دل میں حرکت اور مرد کی طرف معمولی میلان محسوس ہو۔

4.  ظنِّ غالب: چھونے والا یا عورت کہے کہ شہوت تھی، تو دوسرے کو ظنِّ غالب ہو۔

5.  شہوت کا مسّ کے ساتھ متصل ہونا،چھونے سے  پہلے یا بعد کی شہوت نہیں شمار ہوتی۔

6.  انزال نہ ہوا ہو: اگر چھونے سے انزال ہو گیا، تو حرمت ثابت نہیں ہوگی ،اگر انزال نہ ہوا تو حرمت چابت ہو جائے گی۔

7.  ممسوسہ(جس کو چھوا) مشتہات(شہوت والی) ہو: یعنی جسے چھوا ہو، کم از کم 9 سال کی عمر کی ہو۔

حصہ ہفتم: نظر سے حرمت کی چھ شرطیں

1.  فرجِ داخل کو دیکھنا: صرف اندرونی شرم گاہ۔ باہر کا حصہ یا جسم کے دیگر حصے نہیں،یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب عورت دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی ہو۔

2.  شہوت کے ساتھ دیکھنا: بغیر شہوت کے دیکھنے سے حرمت نہیں۔

3.  عین شرم گاہ: تصویر، فوٹو یا ویڈیو دیکھنے سے حرمت ثابت  نہیں ہوتی ۔

4.  شہوت کا دیکھنے کے ساتھ متصل ہونا: پہلے یا بعد کی شہوت معتبر نہیں۔

5.  انزال نہ ہوا ہو: اگر دیکھنے سے انزال ہو گیا، تو حرمت ثابت نہیں ہوتی۔

6.  منظورہ (جس کی شرمگاہ دیکھی گئی)مشتہات (شہوت والی )ہو: جس کی شرم گاہ دیکھی گئی، کم از کم 9 سال کی ہو، اور دیکھنے والا مراہق ہو (صغر نہ ہو)یعنی بلوغت کے قریب ہو۔

آخری بات: عملی احتیاط اور امتحانِ ایمان

یہ مسئلہ انتہائی حساس ہے۔ اگر آپ کو کسی شخص، خاندان یا رشتے کے بارے میں شبہ ہو، تو:

فوراً کسی مستند، قابلِ اعتماد اور مسلکی علماء سے رابطہ کریں۔ 

خاموشی سے کوئی قدم نہ اٹھائیں۔ 

سوشل میڈیا کے “فتویٰ باز” حضرات کی باتوں پر یقین نہ کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حرام رشتوں سے محفوظ رکھے، ہمارے خاندانوں کو برکت عطا فرمائے، اور ہمیں علم پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!

حوالہ جات (References):

القرآن الكريم – سورة النساء، آيات 22-23

فتح القدير – ابن الهمام (3/208–215)

المحلی بالآثار – ابن حزم (9/139)

الفقه الإسلامي وأدلته – الدكتور وهبة الزحيلي (5/85–88)

الإجماع – ابن المنذر

– الأحكام الكبرى – الحاكم

– مصنف ابن أبي شيبة

اعلانِ دستبرداری (Disclaimer):

یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ کسی بھی مذہبی یا قانونی فیصلے سے پہلے اپنے محلہ کے مستند عالمِ دین یا مفتی سے مشورہ ضرور کریں۔ ہر شخص کا معاملہ مختلف ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر مولاناعمران خان
یوٹیوب چینل:online mufti official

ویب سائٹ[onlinemufti.org]

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *