بیوی کی بدتمیزی و بدزبانی پر شوہر کیا کرے؟ مکمل شرعی ترتیب

دارالافتاء
آن لائن مفتی | Online Mufti
ڈاکٹر مولانا عمران خان
بیوی کی بدتمیزی و بدزبانی پر شوہر کیا کرے؟ مکمل شرعی ترتیب
❓ سوال

سوال:

میری بیوی بہت بدتمیزی اور بدزبانی کرتی ہے۔ کیا شرعاً میرے لیے اس سے تعلق چھوڑ دینا جائز ہے؟

✅ جواب

الجواب باسمِ ملہم الصواب:

آپ کی پریشانی قابلِ فہم ہے۔ گھر کا سکون میاں بیوی دونوں کے حسنِ سلوک سے قائم رہتا ہے، اور جب ایک فریق کی طرف سے مسلسل بدزبانی ہو تو دوسرے کے لیے صبر آزما صورتِ حال بن جاتی ہے۔ تاہم شریعت نے اس صورت میں فوراً تعلق توڑنے کے بجائے ایک بتدریج ترتیب بتائی ہے؛ اسی ترتیب پر چلنا ہی شرعاً درست اور نتیجہ خیز ہے:

1۔ صبر اور حسنِ سلوک:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو، اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے» (النساء: 19)۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو» (ترمذی: 3895)۔ اس لیے سب سے پہلے پُرسکون وقت میں بیٹھ کر بات کریں اور بدزبانی کی وجہ سمجھنے کی کوشش کریں؛ کبھی اس کے پیچھے کوئی پریشانی یا غلط فہمی ہوتی ہے جو بات چیت سے دور ہو جاتی ہے۔

2۔ نصیحت، پھر اصلاح کی نیت سے بستر میں علیحدگی:

اگر بیوی کی طرف سے سرکشی اور نافرمانی کا اندیشہ ہو تو پہلے نرمی سے سمجھائیں، اور پھر بھی اثر نہ ہو تو اصلاح کی نیت سے بستر الگ کر لیں (النساء: 34)۔ یہ علیحدگی اصلاح کے لیے ہو، بدلے یا سزا کے لیے نہیں۔ ہاتھ اٹھانے سے ہر صورت بچیں، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے کبھی کسی زوجہ پر ہاتھ نہیں اٹھایا (مسلم: 2328)۔

3۔ شرعی حدود کی پابندی:

ناراضی چاہے کتنی ہی ہو، بیوی کا نان نفقہ اور رہائش ہر حال میں آپ کے ذمے ہے۔ اسی طرح بیوی کو «لٹکتی ہوئی» حالت میں چھوڑ دینا، یعنی نہ ساتھ رکھنا نہ آزاد کرنا، شرعاً جائز نہیں (النساء: 129)۔ بلاوجہ مستقل بول چال بند رکھنا بھی درست نہیں، کیونکہ مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراضی رکھنے کی ممانعت آئی ہے (بخاری: 6077)، اور یہ حکم میاں بیوی کے درمیان تو بدرجۂ اولیٰ لاگو ہوتا ہے۔

4۔ ثالثی:

اگر بات چیت اور علیحدگی سے بھی مسئلہ نہ سلجھے تو دونوں خاندانوں سے ایک ایک سمجھدار اور بااثر شخص کو ثالث بنائیں، تاکہ وہ بیٹھ کر اصلاح کی کوشش کریں (النساء: 35)۔ اکثر اوقات خاندان کے بزرگوں کی مداخلت سے وہ گتھی سلجھ جاتی ہے جو میاں بیوی کے درمیان براہِ راست نہیں سلجھتی۔

5۔ آخری حل، طلاق:

تمام کوششوں کے بعد بھی نباہ ممکن نہ ہو تو طلاق کی گنجائش موجود ہے، اگرچہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ ہے۔ اگر طلاق دینی ہی پڑے تو صرف ایک طلاق ایسے طہر میں دیں جس میں ہم بستری نہ ہوئی ہو، اور غصے میں تین طلاقیں ایک ساتھ دینے سے ہر صورت بچیں۔

خلاصہ اور مشورہ:

خلاصہ یہ ہے کہ بیوی کی بدتمیزی کی بنا پر فوراً مکمل قطع تعلق کر دینا شرعاً درست نہیں۔ صبر و حسنِ سلوک، نصیحت، عارضی علیحدگی، ثالثی اور آخر میں طلاق — یہی وہ ترتیب ہے جو شریعت نے مقرر کی ہے۔ البتہ ہمارا مشورہ یہی ہے کہ حتی الامکان طلاق سے بچا جائے اور پوری کوشش کی جائے کہ گھر بسا رہے، کیونکہ اس فیصلے سے دونوں کے مستقبل جڑے ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ میاں بیوی آپس میں بیٹھ کر ٹھنڈے دل سے فیصلہ کر لیں کہ اکٹھے رہنا ہے یا الگ ہونا ہے۔

نوٹ: یہ جواب مشورہ اور شرعی رہنمائی کے طور پر دیا گیا ہے۔ اگر بالآخر علیحدگی کی نوبت آئے تو اوپر بیان کردہ شرعی اصولوں کا پورا خیال رکھیں۔

واللہ اعلم بالصواب

نکاح و طلاق
فتویٰ نمبر
OM-2026-04293
QR

اسکین کریں
تاریخ
25-10-2026



✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان

آن لائن مفتی | onlinemufti.org