بار بار قسم توڑنے کا کفارہ کیا ہے؟ کفارۂ یمین کا مکمل شرعی حکم

دارالافتاء
آن لائن مفتی | Online Mufti
ڈاکٹر مولانا عمران خان
بار بار قسم توڑنے کا کفارہ کیا ہے؟ کفارۂ یمین کا مکمل شرعی حکم
❓ سوال

سوال:

میں 21 سال کا نوجوان ہوں۔ میں نے ایک گناہ سے بچنے کے لیے کئی بار قسمیں کھائیں، کبھی اللہ تعالیٰ کی قسم، کبھی قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر، اور کبھی والدہ کی قسم، مگر وہ قسمیں ٹوٹتی رہیں اور اب ان کی تعداد بھی یاد نہیں۔ میں سچی توبہ کرنا چاہتا ہوں۔ اس وقت میری مالی حالت کمزور ہے، کھانا کھلانے یا کپڑے دینے کی استطاعت نہیں۔ براہِ کرم درج ذیل امور میں رہنمائی فرمائیں:

1. اللہ تعالیٰ کی قسم توڑنے پر کتنے کفارے لازم ہیں؟

2. قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے کا کیا حکم ہے؟

3. والدہ کی قسم کا کیا حکم ہے؟

4. قسموں کی تعداد یاد نہ ہو تو کیا کروں؟

5. کیا مالی حالت بہتر ہونے تک کفارہ مؤخر کیا جا سکتا ہے؟

6. کھلانے یا پہنانے کی استطاعت نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

7. اگر بیماری کی وجہ سے روزے بھی نہ رکھ سکوں تو کیا حکم ہے؟

✅ جواب

الجواب حامداً ومصلیاً:

سب سے پہلے یہ عرض ہے کہ آپ کی ندامت اور سچی توبہ کا ارادہ اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: «گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے گناہ کیا ہی نہیں» (سنن ابن ماجہ: 4250)۔ لہٰذا مایوس ہونے کے بجائے توبہ پر قائم رہیں اور آئندہ کے لیے عزمِ مصمم کر لیں۔ اب آپ کے سوالات کے جوابات ترتیب سے حاضر ہیں:

1۔ کفاروں کی تعداد:

اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم توڑنے پر کفارہ لازم ہوتا ہے، جیسا کہ سورۃ المائدہ (آیت: 89) میں اس کا حکم بیان ہوا ہے۔ البتہ جب ایک ہی گناہ سے بچنے کے لیے بار بار قسمیں کھائی گئی ہوں اور درمیان میں کسی قسم کا کفارہ ادا نہ کیا ہو تو ان سب قسموں کے لیے ایک ہی کفارہ کافی ہے۔ یہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے اور فتویٰ اسی پر ہے (الہدیۃ العلائیہ؛ رد المحتار، کتاب الایمان)۔ ہاں، اگر کفارہ ادا کرنے کے بعد کوئی دوبارہ قسم کھا کر توڑے تو اس بعد والی قسم کا نیا کفارہ لازم ہوگا۔

2۔ قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم:

قسم کا دار و مدار زبان سے کہے گئے الفاظ پر ہے؛ صرف قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ دینے سے قسم منعقد نہیں ہوتی۔ تاہم اگر زبان سے «قرآن کی قسم» کہا گیا ہو تو یہ لوگوں کے عرف کی بنا پر معتبر قسم ہے، کیونکہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفت ہے (درِ مختار و رد المحتار، کتاب الایمان)۔ اس کا کوئی الگ کفارہ نہیں، وہی ایک کفارہ اس کے لیے بھی کافی ہے۔

3۔ والدہ کی قسم:

اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا جائز نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «اپنے باپ دادا کی قسمیں نہ کھاؤ» (صحیح بخاری: 6108، صحیح مسلم: 1646)، اور سنن ترمذی (1535) و سنن ابی داؤد (3251) میں اس پر سخت وعید آئی ہے۔ غیر اللہ کی قسم شرعاً منعقد ہی نہیں ہوتی، اس لیے اسے توڑنے پر کفارہ بھی لازم نہیں آتا؛ البتہ ایسی قسم کھانے پر توبہ و استغفار لازم ہے (صحیح بخاری: 4860، صحیح مسلم: 1647)۔

4۔ تعداد یاد نہ ہو تو:

جب ایک ہی گناہ سے متعلق تمام قسموں کے لیے ایک کفارہ ہی کافی ہے تو تعداد کی گنتی کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ البتہ اگر دل مطمئن نہ ہو تو غالب گمان کے مطابق تعداد بڑھا کر کفارے ادا کر دینا بہتر اور باعثِ ثواب ہے، واجب نہیں۔

5۔ کفارے میں تاخیر:

مالی حالت بہتر ہونے تک انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ فقہائے کرام کے نزدیک عاجز ہونے کا اعتبار اس وقت کی حالت سے ہے جس وقت کفارہ ادا کیا جا رہا ہو (الہدایہ، کتاب الایمان)۔ چنانچہ آپ کی موجودہ مالی حالت کے مطابق روزوں والا حکم ابھی سے لاگو ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔

6۔ کھلانے یا پہنانے کی استطاعت نہ ہو تو:

ایسی صورت میں مسلسل تین روزے رکھنا لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «پھر جسے (یہ سب) میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے» (المائدہ: 89)۔ یہ روزے لگاتار رکھنا شرط ہے، کیونکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں «متتابعات» (مسلسل) کا لفظ موجود ہے۔ یاد رہے کہ جس شخص کے پاس ضروریاتِ زندگی سے زائد، نصاب کے برابر مال نہ ہو وہ شرعاً عاجز شمار ہوتا ہے۔ اور اگر روزے رکھ کر کفارہ مکمل کر لیا جائے، اس کے بعد مال میسر آ بھی جائے تو کفارہ ادا شدہ ہی رہے گا، دوبارہ لازم نہیں ہوگا۔

7۔ روزے رکھنے کی طاقت بھی نہ ہو تو:

اگر بیماری عارضی ہے تو شفایابی کا انتظار کریں؛ صحت ملتے ہی تین روزے مسلسل رکھ لیں۔ اس دوران استغفار کرتے رہیں، اور کفارہ بدستور آپ کے ذمے باقی رہے گا۔ اگر بیماری ایسی ہو کہ شفا کی امید ہی نہ ہو تو اپنی تفصیلی صورتِ حال بیان کر کے کسی مستند دارالافتاء سے رجوع کریں، تاکہ آپ کی کیفیت کے مطابق رہنمائی مل سکے۔

نصیحت:

آئندہ قسم کھانے سے مکمل اجتناب کریں، کیونکہ قسم ٹوٹنے پر بار بار کفارہ لازم آتا ہے، اور توبہ کے بعد اصل کام گناہ سے بچنے کے اسباب اختیار کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے نکاح کی استطاعت نہ رکھنے والے نوجوانوں کو روزے کی تلقین فرمائی ہے کہ یہ ان کے لیے ڈھال ہے (صحیح بخاری: 5066)۔ اس کے ساتھ تنہائی اور فضول انٹرنیٹ کے استعمال سے دوری اور نماز باجماعت کی پابندی بھی گناہ سے بچنے میں بڑی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی توبہ قبول فرمائے اور استقامت عطا فرمائے۔

واللہ اعلم بالصواب

فقہی مسائل
فتویٰ نمبر
OM-2026-04213
QR
اسکین کریں
تاریخ
24-10-2026

✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان

آن لائن مفتی | onlinemufti.org