سوال:
مفتی صاحب! میں نے ایک شخص کو اپنے موبائل سے ایک گانا بھیجا تھا۔ میرے موبائل میں کل تین گانے موجود تھے، جن میں سے دو شرکیہ یا کفریہ کلمات پر مشتمل تھے اور ایک ان الفاظ سے پاک تھا۔ بھیجتے وقت مجھے اس بات کا علم اور دھیان نہیں تھا کہ جو گانا میں بھیج رہا ہوں وہ شرکیہ یا کفریہ ہو سکتا ہے۔ اب مجھے شک ہے کہ کہیں وہی غلط گانا نہ بھیج دیا ہو۔ میرے دوست کو بھی یاد نہیں کہ میں نے کون سا گانا بھیجا تھا، اور وہ اسے اپنے موبائل سے ڈیلیٹ بھی کر چکا ہے۔ دریافت طلب امور یہ ہیں:
1. کیا میرے لیے صرف اپنے طور پر توبہ و استغفار کرنا کافی ہے؟
2. کیا مجھے دوست کو بھی مطلع کرنا چاہیے کہ وہ توبہ کرے، یا اس پر زور دینا چاہیے کہ وہ یاد کرے کہ کون سا گانا تھا؟
3. شریعت کی رو سے میرے ذمے مزید کیا لازم ہے؟
الجواب حامداً ومصلیاً:
گانا سننا اور دوسروں کو بھیجنا بذاتِ خود ناجائز اور گناہ ہے، اور اگر اس میں شرکیہ یا کفریہ کلمات بھی ہوں تو گناہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ تاہم آپ کی بیان کردہ صورتِ حال میں شرعی حکم درج ذیل ہے:
1۔ ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑا:
فقہ کا اصول ہے کہ محض شک کی بنیاد پر کسی مسلمان پر کفر یا شرک کا حکم نہیں لگایا جاتا۔ کفر اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب آدمی الفاظ کے کفریہ ہونے کو جانتے ہوئے اپنے ارادے سے انہیں اختیار کرے یا اس مضمون پر راضی ہو۔ آپ کو بھیجتے وقت اس کا علم نہ تھا اور اب بھی صرف شک ہے، اس لیے آپ کے ایمان پر کوئی حرف نہیں آیا۔
2۔ آپ کے ذمے کیا ہے:
آپ کے لیے سچے دل سے توبہ و استغفار کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور ندامت کا اظہار کریں اور پختہ ارادہ کریں کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔ اپنے موبائل سے وہ دونوں گانے، بلکہ تمام گانے، فوراً مستقل طور پر ڈیلیٹ کر دیں تاکہ دوبارہ ایسی غلطی کا امکان نہ رہے۔ احتیاطاً کلمۂ شہادت پڑھ کر تجدیدِ ایمان بھی کر لیں تو بہتر ہے، تاکہ دل کا وسوسہ ختم ہو جائے۔
3۔ دوست کے بارے میں حکم:
چوں کہ دوست وہ گانا ڈیلیٹ کر چکا ہے اور اسے یاد بھی نہیں، اس لیے اس معاملے کو کریدنے یا اسے شک و الجھن میں ڈالنے کی شرعاً کوئی ضرورت نہیں۔ گانا ڈیلیٹ ہونے سے گناہ کے پھیلاؤ کا سلسلہ رک گیا۔ البتہ اگر کبھی مناسب موقع ملے تو اس واقعے کا ذکر کیے بغیر عمومی انداز میں نرمی سے موسیقی سے بچنے کی نصیحت کی جا سکتی ہے۔ اس مخصوص گانے کی تحقیق کرنا یا اسے توبہ کا پابند بنانا آپ پر لازم نہیں۔
خلاصہ: وسوسوں میں مبتلا نہ ہوں۔ تمام گانے ڈیلیٹ کریں، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور دوست سے مزید کوئی تفتیش نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے اور لاعلمی میں ہونے والی خطا سے درگزر فرماتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان
آن لائن مفتی | onlinemufti.org
