طلاق کے بعد بیوی کی بہن (سالی) سے نکاح کا حکم

دارالافتاء
آن لائن مفتی | Online Mufti
ڈاکٹر مولانا عمران خان
طلاق کے بعد بیوی کی بہن (سالی) سے نکاح کا حکم
❓ سوال

سوال:

کیا کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس کی بہن (سالی) سے نکاح کر سکتا ہے؟

✅ جواب

الجواب باسمِ ملہم الصواب:

جی ہاں، کر سکتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ پہلی بیوی کی عدت پوری ہو چکی ہو۔

قرآنِ کریم میں سورۃ النساء کی آیت نمبر 23 میں دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔ فقہاء کے نزدیک یہ حکم عدت کے دوران بھی باقی رہتا ہے، کیونکہ عدت میں پہلے نکاح کے کچھ احکام باقی رہتے ہیں، خواہ طلاق رجعی ہو یا بائن۔ اس لیے صورت کے اعتبار سے دو حالتیں ہیں:

1۔ رخصتی یا خلوتِ صحیحہ کے بعد طلاق ہوئی ہو:

اس صورت میں جب تک مطلقہ کی عدت پوری نہ ہو جائے، اس کی بہن سے نکاح جائز نہیں، اور اگر اس دوران نکاح پڑھا گیا تو وہ منعقد نہیں ہوگا۔ عدت مکمل ہونے کے بعد نکاح بلا شبہ درست ہے۔

2۔ رخصتی اور خلوتِ صحیحہ سے پہلے طلاق ہو گئی ہو:

اس صورت میں عورت پر عدت لازم ہی نہیں آتی، اس لیے اس کی بہن سے فوراً نکاح جائز ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

نکاح و طلاق
فتویٰ نمبر
OM-2026-04419
QR

اسکین کریں
تاریخ
26-10-2026



✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان

آن لائن مفتی | onlinemufti.org