دینی محافل میں علماء و نعت خوانوں پر پیسے پھینکنے کا حکم

دارالافتاء
آن لائن مفتی | Online Mufti
ڈاکٹر مولانا عمران خان
دینی محافل میں علماء و نعت خوانوں پر پیسے پھینکنے کا حکم
❓ سوال

سوال:

کیا نعت خوانوں اور علماء پر، جو دینی محافل میں تقریر کر رہے ہوں یا نعت سنا رہے ہوں، پیسے پھینکنا جائز ہے؟

✅ جواب

الجواب باسمِ ملہم الصواب:

موجودہ زمانے میں جس رسم کے طور پر یہ کام کیا جاتا ہے، اس طریقے سے پیسے پھینکنا جائز نہیں ہے۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ پیسہ اور مال اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ رزق ہے، اور اسے اس طرح اچھالنا اور پھینکنا رزق کی بے حرمتی اور ناقدری ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ دینی محافل ذکر و عبادت کی مجالس ہوتی ہیں، جن کا اپنا تقدس اور وقار ہے؛ ان میں اس طرح پیسے اچھالنا محفل کے ادب و تقدس کے خلاف ہے۔

البتہ اگر کوئی شخص کسی عالم یا نعت خواں کی خدمت میں کچھ پیش کرنا چاہے تو اس کا درست اور باوقار طریقہ یہ ہے کہ عزت و احترام کے ساتھ ان کے سامنے رکھ دے یا مناسب انداز میں پیش کر دے۔ دینے کا جذبہ اپنی جگہ قابلِ قدر ہے، مگر طریقہ ایسا ہونا چاہیے جس میں نہ رزق کی بے حرمتی ہو اور نہ محفل کے تقدس میں فرق آئے۔

واللہ اعلم بالصواب

بدعات و رسومات
فتویٰ نمبر
OM-2026-04471
QR

اسکین کریں
تاریخ
26-10-2026



✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان

آن لائن مفتی | onlinemufti.org