سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں:
(۱) ایک شخص نے اپنے دوست کو، جو بے حیائی پر مبنی ویڈیوز دیکھتا ہے اور پکڑے جانے سے ڈرتا ہے، براؤزر کے "انکگنیٹو موڈ” کا مشورہ دیا تاکہ ہسٹری محفوظ نہ رہے۔ اب اسے یہ خوف لاحق ہے کہ ایسی ویب سائٹس پر بعض ویڈیوز میں شعائرِ اسلام (مثلاً شرعی نقاب) کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اگر اس کا دوست اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے ایسی کوئی ویڈیو دیکھ لے، خواہ جان بوجھ کر یا انجانے میں، تو کیا مشورہ دینے والے پر کفر لازم آئے گا؟
(۲) ایک شخص عام فحش ویڈیوز دیکھنے کی نیت سے کسی ایسی ویب سائٹ پر جاتا ہے جس کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہاں بعض ویڈیوز میں شعائرِ اسلام کی توہین بھی کی گئی ہے، مگر اس کا ارادہ توہین آمیز مواد دیکھنے کا ہرگز نہیں ہوتا۔
(الف) کیا ایسی ویب سائٹ پر جانا اور عام ویڈیوز دیکھنا کفر ہے؟
(ب) اگر اسکرولنگ کے دوران اچانک کوئی توہین آمیز ویڈیو سامنے آ جائے تو اس شخص کے ایمان کا کیا حکم ہے؟
سب سے پہلے سائل کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ایمان یقین کے ساتھ ثابت ہوتا ہے اور محض شک، وہم یا اندیشے سے زائل نہیں ہوتا۔ گناہ کے بعد پچھتاوا اور خوف اگرچہ ایمان کی زندگی کی علامت ہے، لیکن شیطان اسی پچھتاوے کو وسوسوں کی راہ بنا کر انسان کو مایوسی کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے۔ لہٰذا آپ اطمینان رکھیں، پیش آمدہ صورت میں آپ کے ایمان پر کوئی حرف نہیں آیا۔ اب دونوں سوالات کا تفصیلی جواب ملاحظہ فرمائیں۔
جواب نمبر (۱): گناہ کے کام میں رہنمائی کا حکم
۱۔ کسی کو گناہ کے کام میں سہولت دینا یا اس کی رہنمائی کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدہ: ۲)
"اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔” اسی طرح نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص گمراہی کی طرف بلائے، اسے ان تمام لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ملتا ہے جو اس کی پیروی کریں (صحیح مسلم)۔ لہٰذا آپ نے دوست کو جو مشورہ دیا، وہ بلاشبہ غلط اور ناجائز تھا، اور اس پر اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار لازم ہے۔
۲۔ البتہ آپ کا یہ مشورہ کفر نہیں ہے۔ تکفیر کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود کفریہ قول یا فعل کا ارتکاب کرے، یا کفر پر راضی ہو، یا دین کے کسی قطعی حکم کا انکار یا استہزا کرے۔ آپ نے ان میں سے کوئی کام نہیں کیا۔ آپ نے ایک تکنیکی سہولت کی نشاندہی کی تھی، نہ آپ نے اسے شعائرِ اسلام کی توہین کی طرف بلایا، نہ آپ اس توہین پر راضی ہیں۔ اگر بالفرض آپ کا دوست اس راستے پر چلتے ہوئے کوئی گستاخانہ مواد دیکھ بھی لے تو اس کا وبال اسی کے اپنے فعل اور نیت پر ہوگا، آپ پر اس کی وجہ سے کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔
عقائدِ اہلِ سنت کا مسلّمہ اصول ہے:
وَلَا نُكَفِّرُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ مَا لَمْ يَسْتَحِلَّهُ (العقیدۃ الطحاویہ)
یعنی اہلِ قبلہ میں سے کسی کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر نہیں کہا جاتا، جب تک وہ اس گناہ کو حلال نہ سمجھے۔ نیز فقہاء کرام نے صراحت کی ہے کہ جس بات میں کفر کی کئی وجوہ ہوں اور ایک وجہ بھی کفر سے مانع ہو، تو مفتی پر لازم ہے کہ اسی مانع وجہ کو اختیار کرے، کیونکہ کفر سب سے بڑی سزا ہے اور وہ نہایت درجے کے جرم ہی پر لازم آ سکتی ہے (ردالمحتار، باب المرتد)۔
۳۔ اب آپ کے ذمے دو کام ہیں:
توبہ: اپنے اس مشورے پر ندامت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا پختہ ارادہ کریں۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے گناہ کیا ہی نہ ہو (سنن ابن ماجہ)۔
اصلاح: اپنے دوست کو نرمی، خیرخواہی اور حکمت کے ساتھ سمجھائیں کہ انسان براؤزر کی ہسٹری سے تو چھپ سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے علم اور کراماً کاتبین کے اعمال نامے سے نہیں چھپ سکتا، لہٰذا اس گناہ کو چھوڑ دے۔ برائی سے روکنا بھی ہم پر لازم ہے (صحیح مسلم)۔ جب آپ توبہ کر کے اسے سمجھا دیں گے تو ان شاء اللہ آپ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائیں گے۔
جواب نمبر (۲): ایسی ویب سائٹ پر جانے اور توہین آمیز مواد سامنے آنے کا حکم
(الف) جان بوجھ کر ایسی ویب سائٹ پر جانا:
فحش مواد دیکھنا بلاشبہ حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ قرآنِ کریم میں اہلِ ایمان کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے (النور: ۳۰) اور بے حیائی کے قریب جانے سے بھی منع کیا گیا ہے (الاسراء: ۳۲)۔ حدیثِ مبارک میں آنکھوں کے زنا کا ذکر آیا ہے (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔
تاہم محض یہ گناہ کرنے سے آدمی کافر نہیں ہوتا، بلکہ فاسق و گنہگار ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ اسے حلال نہ سمجھے اور اس کے دل میں دین یا شعائرِ اسلام کی توہین کا ارادہ یا اس پر رضامندی نہ ہو۔ جس شخص کی نیت صرف شہوت پوری کرنے کی ہو، اور وہ توہین آمیز مواد دیکھنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔
لیکن یہاں ایک اہم تنبیہ ضروری ہے۔ جب کسی شخص کو پہلے سے معلوم ہو کہ فلاں جگہ دین کی توہین ہوتی ہے، تو جان بوجھ کر ایسی جگہ جانا اور وہاں ٹھہرنا بذاتِ خود سخت ناپسندیدہ اور ناجائز ہے۔ قرآنِ مجید میں ایسی مجلس میں بیٹھنے سے منع فرمایا گیا ہے جہاں آیاتِ الٰہی کا انکار اور مذاق ہو رہا ہو (النساء: ۱۴۰)۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی مجلس میں بغیر ناگواری کے بیٹھا رہے تو گناہ میں ان کے مشابہ ہے، اور اگر دل سے اس پر راضی ہو تو یہ رضا بالکفر ہے جو خود کفر ہے۔ لہٰذا ایسی ویب سائٹس سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔
(ب) اچانک توہین آمیز ویڈیو سامنے آ جانا:
اگر بغیر ارادے کے اچانک ایسی ویڈیو یا تصویر سامنے آ جائے تو حکم کا مدار اس شخص کے قلبی ردِعمل پر ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت: اسے دیکھ کر دل میں ناگواری اور نفرت پیدا ہو، وہ اسے برا جانے اور فوراً نظر ہٹا لے یا صفحہ بند کر دے۔ اس صورت میں اس پر کفر کا کوئی حکم نہیں۔ حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنی نظر پھیر لو (صحیح مسلم)۔ البتہ اصل فحش بینی کا گناہ بدستور اس پر رہے گا۔
دوسری صورت: وہ اس منظر سے لطف اندوز ہو اور خاص اس پہلو سے خوش ہو کہ اس میں دین یا اسلامی پردے کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ ایسی حالت میں شریعت کا اصول ہے کہ "کفر پر راضی ہونا بھی کفر ہے”، اور اس شخص کے ایمان کو سخت خطرہ لاحق ہے۔ اگر خدانخواستہ کسی سے ایسا ہو جائے تو اس پر لازم ہے کہ فوراً سچی توبہ کرے، تجدیدِ ایمان کرے، اور اگر شادی شدہ ہو تو احتیاطاً تجدیدِ نکاح بھی کر لے۔
واضح رہے کہ یہ تفصیل صرف اس صورت کے لیے ہے جب واقعی دل کی رضامندی پائی جائے۔ محض شبہ، وسوسہ یا اندیشے کی بنیاد پر اپنے آپ کو کافر سمجھ لینا درست نہیں، کیونکہ "یقین شک سے زائل نہیں ہوتا”۔
آخر میں یہ نصیحت بھی ضروری ہے کہ یہ گناہ دل سے حیا اور ایمان کی حلاوت کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتا ہے۔ آپ خود بھی اور اپنے دوست کو بھی اس سے بچنے کی ترغیب دیں، انٹرنیٹ پر فلٹر اور پابندیوں کا اہتمام کریں، نگاہوں کی حفاظت کریں، نیک صحبت اختیار کریں اور کثرت سے استغفار کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور ہم سب کو ایمان پر استقامت اور گناہوں سے حفاظت نصیب فرمائے۔ آمین۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان
آن لائن مفتی | onlinemufti.org
