سوال:
اگر کوئی شخص مذاق میں یا جھوٹ میں کہہ دے کہ "میں نے اپنی ساس سے زنا کیا ہے”، جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہ ہوا ہو، تو کیا اس محض کہنے سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی؟
الجواب باسمِ ملہم الصواب:
اس مسئلے کے دو پہلو ہیں، قضاءً یعنی ظاہری حکم الگ ہے اور دیانتاً یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل حقیقت کا حکم الگ ہے۔ دونوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔ قضاءً، ظاہری حکم:
احناف کے نزدیک ایسے اقرار میں مذاق یا جھوٹ کا دعویٰ قاضی کے ہاں معتبر نہیں ہوتا۔ لہٰذا ظاہری حکم یہی ہے کہ حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی اور بیوی شوہر پر حرام شمار ہوگی۔ اگر شوہر اپنے اقرار پر قائم رہے تو بیوی پر لازم ہے کہ وہ اس سے علیحدہ ہو جائے۔
2۔ دیانتاً، اللہ تعالیٰ کے نزدیک:
اگر شوہر واقعی اس بات میں جھوٹا تھا اور اس سے ایسا کوئی فعل سرزد نہیں ہوا، تو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوئی۔ البتہ اتنی سنگین بات جھوٹ یا مذاق میں کہنا اور اپنی ساس پر بہتان باندھنا بڑا گناہ ہے، جس پر سچی توبہ و استغفار لازم ہے۔
حوالہ:
درِ مختار میں ہے:
«قیل لہ ما فعلت بأم امرأتک؟ فقال: جامعتہا، تثبت الحرمة، ولا یصدق أنہ کذب ولو ہازلاً.»
علامہ شامی رحمہ اللہ اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:
«أی عند القاضی، أما بینہ وبین اللہ تعالیٰ إن کان کاذباً فیما أقر لم تثبت الحرمة.»
(رد المحتار، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، جلد: 3، صفحہ: 36، طبع: سعید)
واللہ اعلم بالصواب
✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان
آن لائن مفتی | onlinemufti.org
