مذاق میں بغیر گواہوں کے «نکاح قبول ہے» کہہ دینا: کیا نکاح منعقد ہو جاتا ہے؟

دارالافتاء
آن لائن مفتی | Online Mufti
ڈاکٹر مولانا عمران خان
مذاق میں بغیر گواہوں کے «نکاح قبول ہے» کہہ دینا: کیا نکاح منعقد ہو جاتا ہے؟
❓ سوال

سوال:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں نے فاسد نکاح کے بارے میں پڑھا ہے کہ اگر گواہوں کے بغیر نکاح کیا جائے تو وہ نکاحِ فاسد کہلاتا ہے اور اس میں متارکت یعنی علیحدگی ضروری ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں میرا سوال یہ ہے کہ فرض کریں دو لڑکیاں آپس میں مذاق کر رہی تھیں، ایک نے دوسری سے مذاق ہی میں پوچھا: "کیا تمہیں فلاں لڑکے سے نکاح قبول ہے؟” اور دوسری نے ہاں کہہ دی۔ اس موقع پر نہ کوئی شرعی گواہ موجود تھا، نہ وہ لڑکا موجود تھا، نہ لڑکے سے ایجاب و قبول کروایا گیا، نہ لڑکے نے اپنی طرف سے اس لڑکی کو وکیل بنایا تھا، نہ لڑکے کو اس بات کا کوئی علم ہے اور نہ ہی لڑکے سے کوئی ازدواجی تعلق رکھا گیا ہے؛ یہ محض دونوں کا آپسی مذاق تھا۔

شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ:

1۔ کیا اس صورت میں نکاح، خواہ فاسد ہی سہی، منعقد ہو جاتا ہے اور کیا اس میں متارکت ضروری ہے؟

2۔ اگر وہ لڑکی بعد میں تمام شرعی شرائط کے ساتھ کسی اور شخص سے نکاح کر لے تو کیا اس کا یہ نیا نکاح درست ہوگا؟

بینوا توجروا

✅ جواب

الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

تمہیدی وضاحت:

آپ کے سوالات کا جواب دینے سے پہلے ایک بنیادی فقہی اصول ذہن نشین کر لینا ضروری ہے، اس سے آپ کی الجھن ان شاء اللہ مکمل طور پر دور ہو جائے گی۔ فقہِ حنفی میں یہ اصول کہ "ہنسی مذاق میں بھی نکاح ہو جاتا ہے” (جدّہ جدّ و ہزلہ جدّ)، یہ صرف اسی وقت لاگو ہوتا ہے جب نکاح کے بنیادی ارکان اور اس کی شرائط پائے جائیں؛ یعنی دولہا اور دلہن، یا ان کے شرعی وکیل، خود ایجاب و قبول کریں اور مجلس میں شرعی گواہ موجود ہوں۔ اسی طرح "نکاحِ فاسد” کا حکم بھی تب آتا ہے جب نکاح کا بنیادی ڈھانچہ یعنی فریقین کا ایجاب و قبول تو موجود ہو، لیکن کسی شرط میں کمی رہ جائے، مثلاً گواہ نہ ہوں۔ اور جہاں نکاح کے ارکان ہی سرے سے نہ پائے جائیں، وہاں نہ نکاحِ صحیح منعقد ہوتا ہے نہ نکاحِ فاسد؛ وہ بات محض بے اثر اور لغو شمار ہوتی ہے۔

پہلے سوال کا جواب — اس مذاق کی شرعی حیثیت:

صورتِ مسئولہ میں دو لڑکیوں کا آپس میں اس طرح مذاق کرنا کہ ایک پوچھے: "کیا تمہیں فلاں لڑکے سے نکاح قبول ہے؟” اور دوسری کہہ دے: "قبول ہے”، یہ شرعاً بالکل لغو اور بے اثر ہے؛ اس سے نہ نکاحِ صحیح منعقد ہوا ہے اور نہ نکاحِ فاسد۔ اس کی بنیادی وجوہات یہ ہیں:

پہلی وجہ — دوسرا فریق یا اس کا وکیل موجود ہی نہیں: نکاح ایک دوطرفہ معاہدہ (عقد) ہے، جس کے انعقاد کے لیے دولہا اور دلہن، یا ان کے مقرر کردہ شرعی وکیلوں، کے درمیان ایجاب و قبول ہونا شرط ہے۔ یہاں سوال پوچھنے والی لڑکی کو اس لڑکے کی طرف سے نکاح کی وکالت ہی حاصل نہیں تھی۔ فقہ کی رو سے اگر کوئی شخص کسی کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کر بھی دے تو اسے "عقدِ فضولی” کہتے ہیں، اور وہ بھی شرعی گواہوں کی موجودگی کا محتاج ہوتا ہے اور اصل فریق کی اجازت پر موقوف رہتا ہے۔ یہاں تو گواہ بھی نہیں تھے اور لڑکے کو علم بھی نہیں تھا، لہٰذا یہ بات عقدِ فضولی کے درجے میں بھی نہیں آتی۔

دوسری وجہ — گواہوں کا نہ ہونا: فقہِ حنفی کے مفتیٰ بہ قول کے مطابق شرعی گواہوں کے بغیر نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا، اور یہاں گواہ موجود ہی نہیں تھے۔

متارکت کی ضرورت ہے یا نہیں؟

فقہائے احناف کے نزدیک نکاحِ فاسد میں "متارکت بالقول” یعنی الفاظ کے ذریعے علیحدگی اختیار کرنے کی بحث اس وقت آتی ہے جب فریقین کے درمیان باقاعدہ ایجاب و قبول ہوا ہو یا وطی (ازدواجی تعلق) پایا گیا ہو۔ زیرِ نظر مسئلے میں چونکہ سرے سے کوئی عقدِ نکاح، فاسد ہو یا صحیح، وجود میں ہی نہیں آیا، اس لیے یہاں کسی قسم کی متارکت، طلاق یا فسخِ نکاح کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔

دوسرے سوال کا جواب — کسی اور سے نکاح کرنا:

چونکہ اس مذاق کی وجہ سے لڑکی پر نکاح کے کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے اور وہ شرعاً بالکل آزاد یعنی غیر شادی شدہ ہے، اس لیے وہ جب چاہے تمام شرعی شرائط کے ساتھ کسی دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے۔ اس کا وہ نکاح سو فیصد درست اور شرعاً صحیح ہوگا، اور پہلے والے مذاق کا اس نئے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

حوالہ جات:

1۔ گواہوں کے بغیر نکاح کے عدمِ انعقاد پر علامہ مرغینانی رحمہ اللہ "الہدایہ” میں فرماتے ہیں:

قال: ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين

(الھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی، کتاب النکاح، ج: 1، ص: 185، ط: دار احیاء التراث العربی)

2۔ نکاح کے انعقاد کے لیے عاقدین، یا ان کے ولی و وکیل، کے ایجاب و قبول کی شرط کے بارے میں علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ "رد المحتار” میں فرماتے ہیں:

(ينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر… (قوله من أحدهما) أي أحد العاقدين الشامل للولي والوكيل والرسول

(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب النکاح، ج: 3، ص: 9، ط: دار الفکر، بیروت)

3۔ عقدِ فضولی کے لیے بھی گواہوں کی موجودگی اور اصل فریق کی اجازت پر موقوف ہونے کی تصریح "فتاویٰ عالمگیری” میں ہے:

ولو زوج المرأتان أنفسهما من رجلين غائبين بشهادة رجل وامرأتين جاز ويتوقف على إجازة الرجلين…

(الفتاویٰ الہندیہ، کتاب النکاح، الباب السادس فی الوکالۃ بالنکاح وعقد الفضولی، ج: 1، ص: 299، ط: دار الفکر)

واضح رہے کہ یہاں بھی عقد کے موقوف رہنے کے لیے گواہوں کی موجودگی شرط قرار دی گئی ہے؛ بغیر گواہوں کے فضولی کا قول بھی لغو ہے۔

4۔ نکاحِ فاسد میں متارکت اور عدت کا حکم کب لاگو ہوتا ہے، اس کے بارے میں علامہ حصکفی رحمہ اللہ "الدر المختار” میں اور علامہ شامی رحمہ اللہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:

(و) يثبت (لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه إن لم يدخل بها) في الفاسد لعدم لزومه… وفی الشامیة: أن الفاسد لا حكم له قبل الدخول، فإذا تركها تحل لغيره بلا عدة ولا فسخ بالقول على ما في البحر عن المجتبى

(رد المحتار علی الدر المختار، کتاب النکاح، باب المہر، مطلب فی النکاح الفاسد، ج: 3، ص: 131، ط: دار الفکر)

واللہ اعلم بالصواب

نکاح و طلاق
فتویٰ نمبر
OM-2026-03921
QR

اسکین کریں
تاریخ
22-10-2026



✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان

آن لائن مفتی | onlinemufti.org