سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرت مفتی صاحب! میرے ماضی کے دو واقعات ہیں جن کی وجہ سے میں شدید ذہنی الجھن کا شکار ہوں، براہِ کرم فقہِ حنفی کی روشنی میں میری شرعی رہنمائی فرمائیں:
1۔ پہلا واقعہ میرے بچپن کا ہے، جب میں ایک چیز لینے کے لیے جا رہا تھا۔ راستے میں میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کے انداز میں کہا تھا: "یا اللہ! دکان کھلی ہو، میں یہ گناہ نہیں کروں گا، اور اگر میں یہ گناہ کروں تو مجھے کافر کر دینا یا اسلام سے خارج کر دینا۔” اب مجھے اس واقعے کے بالکل صحیح الفاظ اچھی طرح یاد نہیں ہیں۔
2۔ دوسرا واقعہ کچھ بڑی عمر (بلوغت کے بعد) کا ہے، جس میں ایک گناہ کو بہت سنجیدہ سمجھتے ہوئے اور اس سے بچنے کے ارادے سے میں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا تھا کہ: "اگر میں دوبارہ یہ گناہ کروں تو مجھے کافر کر دینا یا اسلام سے خارج کر دینا۔”
معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ایسے الفاظ کہنے سے انسان دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے؟ اور اگر بعد میں بشری کمزوری سے وہ گناہ سرزد ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ براہِ کرم دونوں واقعات کا حکم الگ الگ مدلل تحریر فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
الجواب حامداً ومصلیاً:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
واضح رہے کہ ایمان انسان کی سب سے قیمتی متاع ہے، اس لیے کسی بھی حال میں، خواہ گناہ سے بچنے ہی کے لیے کیوں نہ ہو، اپنے لیے کفر کی بددعا کرنا یا ایمان کے سلب ہونے کو کسی کام پر معلق کرنا شرعاً انتہائی خطرناک اور ناجائز فعل ہے، جس سے ہر مسلمان کو کلی اجتناب کرنا لازم ہے۔ تاہم آپ نے جو دو واقعات ذکر کیے ہیں، فقہِ حنفی کی رو سے ان کا تفصیلی حکم درج ذیل ہے:
پہلے واقعے کا حکم:
اگر یہ واقعہ نابالغی کی عمر کا ہے تو شریعتِ مطہرہ میں نابالغ شرعی احکام کا مکلف نہیں ہوتا، اس لیے بچپن میں کہے گئے ان الفاظ کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں اور نہ ان سے کوئی حکم لاگو ہوتا ہے۔ اور اگر بالفرض اس وقت بلوغت ہو چکی تھی، تب بھی چوں کہ آپ کو الفاظ یاد نہیں ہیں اور شک کی بنیاد پر یقینی چیز یعنی ایمان زائل نہیں ہوتی، اس لیے پہلے واقعے کی طرف بالکل دھیان نہ دیں۔
دوسرے واقعے کا حکم:
بڑی عمر یعنی بلوغت کے بعد آپ نے گناہ سے اپنے نفس کو روکنے اور ڈرانے کے لیے جو الفاظ کہے: "یا اللہ! اگر میں دوبارہ یہ گناہ کروں تو مجھے کافر کر دینا یا اسلام سے خارج کر دینا”، ان الفاظ کے کہنے سے اور بعد میں وہ گناہ سرزد ہو جانے سے آپ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوئے؛ آپ کا ایمان اور (اگر شادی شدہ ہیں تو) نکاح بدستور قائم اور سلامت ہے۔
اس کی شرعی وجہ یہ ہے کہ اولاً آپ کے الفاظ "قسم اور تعلیق” کے نہیں، بلکہ "دعا اور التجا” کے ہیں؛ یعنی آپ نے یہ نہیں کہا کہ "اگر میں یہ کام کروں تو میں کافر ہوں”، بلکہ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہا کہ "مجھے کافر کر دینا”۔ ثانیاً، اگر کوئی شخص باقاعدہ تعلیق اور قسم کے الفاظ بھی کہے اور اس کا مقصد اپنے نفس کو گناہ سے ڈرانا اور روکنا ہو، دل میں کفر پر رضامندی مقصود نہ ہو، تو فقہائے احناف کے مفتیٰ بہ قول کے مطابق ایسا شخص وہ کام کر لینے سے کافر نہیں ہوتا، بلکہ اس سے صرف قسم منعقد ہوتی ہے اور کام کرنے کی صورت میں قسم ٹوٹنے کا کفارہ لازم آتا ہے۔
چوں کہ آپ کے الفاظ دعائیہ ہیں جو شرعی اصطلاح میں قسم کے صیغے نہیں ہیں، اس لیے گناہ سرزد ہونے کی صورت میں آپ پر شرعاً قسم کا کفارہ بھی لازم نہیں ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ سے ایسی خلافِ شرع دعا مانگنے اور عہد شکنی کی وجہ سے آپ پر لازم ہے کہ سچے دل سے توبہ و استغفار کریں، احتیاطاً ایک مرتبہ تجدیدِ ایمان کر لیں، اور آئندہ کبھی ایسے الفاظ زبان پر نہ لانے کا پختہ عزم کریں۔ اور اگر احتیاط کے درجے میں قسم کا کفارہ بھی ادا کر دیں تو یہ مزید اطمینانِ قلب کا باعث ہوگا۔
تجدیدِ ایمان کا طریقہ:
تجدیدِ ایمان کا طریقہ یہ ہے کہ دل کے پورے یقین اور زبان کے اقرار کے ساتھ کلمہ طیبہ اور ایمانِ مفصل پڑھ لیں، اور سابقہ خلافِ شرع کلمات سے براءت اور توبہ کا استحضار رکھیں:
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ۔ آمَنْتُ بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ مِنَ اللّٰهِ تَعَالٰى وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ۔ اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ مِمَّا أَعْلَمُ۔
قسم کے کفارے کی تفصیل:
شرعاً قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا اوسط درجے کا پیٹ بھر کر کھانا کھلایا جائے، یا دس مسکینوں کو تن ڈھانپنے کے بقدر کپڑے دیے جائیں (یا ہر مسکین کو ایک صدقہ فطر کے برابر رقم یا غلہ دے دیا جائے)۔ اور اگر مالی طور پر ان چیزوں کی بالکل استطاعت نہ ہو تو مسلسل تین دن روزے رکھے جائیں۔
حوالہ جات:
1. رد المحتار علی الدر المختار (کتاب الأیمان، مطلب فی الحلف بالکفر، ج: 3، ص: 718، ط: دار الفکر، بیروت): لو قال: إن فعلت كذا فهو كافر، فهذا على وجوه… وإن كان عزماً منه على أنه لا يفعل ذلك الفعل في المستقبل، فهذا يمين؛ حتى لو فعل ذلك الفعل في المستقبل حنث ويلزمه الكفارة، ولا يكفر عند علمائنا؛ لأن الحلف بالكفر لا يكون كفراً إذا كان على وجه اليمين والتشديد على النفس، لا على وجه الرضا بالكفر.
2. الفتاوى الهندية (کتاب الأیمان، الباب الثانی فیما یکون یمیناً وما لا یکون، الفصل الأول، ج: 2، ص: 53، ط: دار الفکر): ولو قال: إن فعلت كذا فأنا يهودي أو نصراني أو كافر… يكون يميناً، فإن كان في الماضي وهو كاذب يتوب ويستغفر ولا كفارة عليه، وإن كان في المستقبل يحنث إذا فعل وعليه الكفارة ولا يكفر إذا كان اعتقاده أن ذلك يمين.
3. البحر الرائق شرح کنز الدقائق (کتاب الأیمان، باب ما یکون یمیناً وما لا یکون، ج: 4، ص: 306، ط: دار الکتاب الإسلامی): وفي فتح القدير: أن المصنف رحمه الله قال بعد ما ذكر أنه لا يكفر في تعليق الكفر بوجود شرط في المستقبل: واعلم أن هذا إذا كان يقصد به اليمين والتشديد على نفسه في الامتناع، أما إذا كان يعتقد أنه يكفر بمباشرة الشرط فإنه يكفر لرضاه بالكفر.
4. الدر المختار مع رد المحتار (کتاب الأیمان، ج: 3، ص: 704، ط: دار الفکر): (وشرطها) أي شرائط ركن اليمين (الإسلام والتكليف وإمكان البر) فلا تصح من كافر وصبي ومجنون.
5. الأشباه والنظائر لابن نجیم (الفن الأول: القواعد الکلیة، القاعدة الثانیة، ص: 47، ط: دار الکتب العلمیة): اليقين لا يزول بالشك.
6. الدر المختار مع رد المحتار (کتاب الأیمان، ج: 3، ص: 725، ط: دار الفکر): (وكفارته) هذه إضافة للشرط لأن السبب عندنا اليمين (تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين) كما مر في الظهار (أو كسوتهم بما يستر عامة البدن) فلم يجز السراويل فقط إلا إذا كان منكسرًا عريضًا (وإن عجز عنها) كلها (وقت الأداء) عندنا، حتى لو قدر على أحدها بعد شروعه في الصوم بطل (صام ثلاثة أيام ولاء).
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان
آن لائن مفتی | onlinemufti.org
