سوال:
اگر کوئی شخص جان بوجھ کر انٹرنیٹ پر فحش (پورن) ویڈیوز دیکھتا ہے، اور اسے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اس طرح کی ویڈیوز میں ایسے الفاظ یا جملے (جیسے "Oh My God” وغیرہ) ہو سکتے ہیں، اس کے باوجود وہ جان بوجھ کر ویڈیو جاری رکھتا ہے اور وہ جملے سنتا ہے؛ تو کیا اس طرح جان بوجھ کر ویڈیو جاری رکھنے اور اس میں وہ کلمات سننے کی وجہ سے انسان کافر ہو جاتا ہے یا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے؟ کیا اس کا شمار کفر میں ہوگا یا یہ صرف گناہِ کبیرہ ہے؟ براہِ کرم اس مسئلے کا حتمی شرعی حکم مدلل ارشاد فرما کر رہنمائی فرمائیں۔
الجواب حامداً ومصلیاً:
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کا انٹرنیٹ پر فحش ویڈیوز دیکھنا اور اس دوران ایسے جملے سننا بلاشبہ ایک انتہائی قبیح فعل، بے حیائی اور سنگین گناہِ کبیرہ ہے، تاہم اس عمل سے وہ شخص کافر نہیں ہوتا اور نہ ہی دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ اس حرام فعل کو دل سے حلال اور جائز نہ سمجھتا ہو، اور نہ ہی اس کا مقصد کسی ادنیٰ درجے میں بھی اللہ تعالیٰ کے نام کی توہین و استہزاء کرنا ہو۔
اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ اور اصول ہے کہ زنا، فحاشی یا کسی بھی گناہِ کبیرہ کے ارتکاب سے مسلمان دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، جب تک کہ وہ اس گناہ کو حلال نہ سمجھے۔ اگر کوئی شخص اپنی نفسانی کمزوری اور شہوت سے مغلوب ہو کر یہ گناہ کر رہا ہے اور دل میں اسے گناہ ہی سمجھتا ہے، تو وہ فاسق اور گنہگار ہے، کافر نہیں۔ عقائد کی مشہور کتاب شرح العقائد النسفیہ میں علامہ تفتازانی رحمہ اللہ نے اسی اصول کی تصریح فرمائی ہے کہ گناہِ کبیرہ مومن بندے کو ایمان سے خارج نہیں کرتا اور نہ کفر میں داخل کرتا ہے، جب تک کہ وہ اسے حلال نہ سمجھے۔
اسی طرح فقہائے کرام نے یہ ضابطہ بھی واضح فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کی تکفیر کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کفر کا ارادہ کرے یا کفر پر دل سے راضی ہو۔ جہاں دلی رضامندی اور توہین کا قصد نہ ہو، وہاں محض ایسے الفاظ کے کان میں پڑ جانے یا ویڈیو جاری رکھنے سے کفر لازم نہیں آتا۔ چنانچہ رد المحتار میں ہے کہ کسی مسلمان کے کفر کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا جب تک اس کے کلام یا عمل کو کسی اچھی جہت پر محمول کرنا ممکن ہو، یا اس کے کفر میں فقہاء کا اختلاف ہو، خواہ یہ دوسری روایت ضعیف ہی کیوں نہ ہو۔
فقہ کا ایک اور قاعدہ یہ بھی ہے کہ معصیت پر راضی ہونا فسق ہے اور کفر پر راضی ہونا کفر ہے۔ یہاں دیکھنے والے کا مقصد فحاشی یعنی معصیت ہے، توہینِ الٰہی یعنی کفر نہیں؛ لہٰذا اس پر صرف فسق اور گناہِ کبیرہ کا حکم لگے گا، کفر کا نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ فعل بلاشبہ بڑا گناہ ہے، لیکن اس کے مرتکب پر کفر کا فتویٰ ہرگز نہیں لگایا جا سکتا، جب تک کہ وہ اسے حلال سمجھنے یا اللہ تعالیٰ کے نام کی توہین کا قصد نہ کرے۔
حوالہ جات:
1. شرح العقائد النسفیہ (مبحث الکبیرۃ، ص: 112): والكبيرة لا تخرج العبد المؤمن من الإيمان ولا تدخله في الكفر… ما لم يستحلها.
ترجمہ: اور گناہِ کبیرہ مومن بندے کو ایمان سے خارج نہیں کرتا اور نہ اسے کفر میں داخل کرتا ہے، جب تک کہ وہ اسے حلال نہ سمجھے۔
2. رد المحتار علی الدر المختار (کتاب الجہاد، باب المرتد، ج: 4، ص: 224، ط: سعید): لا يفتى بكفر مسلم أمكن حمل كلامه على محمل حسن أو كان في كفره خلاف ولو كان ذلك رواية ضعيفة.
ترجمہ: کسی مسلمان کے کفر کا فتویٰ نہیں دیا جائے گا جب تک اس کے کلام (یا عمل) کو کسی اچھی جہت پر محمول کرنا ممکن ہو، یا اس کے کفر میں فقہاء کا اختلاف ہو، خواہ نہ ہونے کی روایت ضعیف ہی کیوں نہ ہو۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان
آن لائن مفتی | onlinemufti.org
