سوال:
ایک خاتون کی حیض کی عادت شروع سے تقریباً سات سال تک یہ رہی کہ انہیں چار دن خون آتا تھا اور پانچویں دن کچھ نہیں آتا تھا، مگر وہ محض احتیاط اور پاکی کی مکمل تصدیق کی خاطر پانچواں دن چھوڑ کر چھٹے دن غسل کر لیا کرتی تھیں۔ لیکن گزشتہ چھ سات ماہ، تقریباً ایک سال سے ان کی یہ ترتیب بدل گئی ہے۔ اب ہر مہینے پہلے تین دن تیز خون آتا ہے اور ساتھ شدید درد اور مروڑ بھی ہوتا ہے، چوتھے دن بہاؤ بہت ہلکا ہو جاتا ہے، پانچویں دن صرف معمولی دھبہ لگتا ہے، چھٹے دن کبھی انتہائی ہلکی بھوری رطوبت نظر آتی ہے اور کبھی بالکل خشکی یا سفید و شفاف رطوبت ہوتی ہے؛ وہ اپنے سابقہ معمول کے مطابق چھٹے دن غسلِ پاکی کر لیتی ہیں، لیکن غسل کر لینے کے بعد ساتویں دن دوبارہ بھوری رطوبت کا ایک قطرہ یا دھبہ آ جاتا ہے، جس کے بعد مکمل پاکی ہو جاتی ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ: (۱) موجودہ صورت میں ان کے حیض کی عادت کتنے دن شمار ہوگی، اور چھٹے دن کی خشکی یا سفیدی کے بعد ساتویں دن آنے والے بھورے قطرے کا کیا حکم ہے؟ (۲) ان کا چھٹے دن غسل کر لینا درست ہے یا ساتویں دن کے قطرے کے بعد دوبارہ غسل لازم ہوگا؟ اور پچھلے چند مہینوں کی نمازوں کا کیا حکم ہے؟ (۳) ابتدائی سات سالوں میں جو وہ چار دن خون رکنے کے بعد پانچواں دن محض احتیاطاً چھوڑ کر چھٹے دن غسل کرتی رہیں، شرعاً اس طرزِ عمل کا کیا حکم ہے؟ براہِ کرم مدلل اور باحوالہ
جواب:
الجواب حامداً ومصلیاً:
سوال میں ذکر کردہ صورت کا حکم سمجھنے سے پہلے چند بنیادی اصول ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ فقہِ حنفی میں حیض کی کم از کم مدت تین دن (72 گھنٹے) اور زیادہ سے زیادہ مدت دس دن (240 گھنٹے) ہے۔ ان دس دنوں کے اندر عورت کو سرخ خون کے علاوہ جو زرد یا مٹیالے بھورے رنگ کی رطوبت نظر آئے، جسے فقہ کی اصطلاح میں "کدرہ” کہتے ہیں، وہ بھی حیض ہی شمار ہوتی ہے، جب تک کہ بالکل خالص سفیدی یا مکمل خشکی مستقل طور پر نہ آ جائے۔
اسی طرح اگر دس دن کے اندر دو دھبوں کے درمیان ایک دو دن کے لیے مکمل خشکی آ جائے یا سفید شفاف رطوبت نظر آئے اور اس کے بعد دوبارہ بھورا قطرہ آ جائے، تو اس درمیانی وقفے کو "طہرِ متخلل” کہتے ہیں، اور شرعی اصول یہ ہے کہ دس دن کے اندر آنے والی یہ وقتی پاکی بھی مسلسل حیض ہی کا حصہ مانی جاتی ہے۔
رہا عادت کے بدلنے کا مسئلہ، تو فقہِ حنفی کے مفتیٰ بہ قول کے مطابق اگر کسی خاتون کو اس کی سابقہ عادت سے بڑھ کر خون یا دھبے آئیں اور وہ دس دن کے اندر ہی رک جائیں، تو ایک ہی مرتبہ ایسا ہونے سے پرانی عادت بدل جاتی ہے۔ مذکورہ خاتون کے ساتھ گزشتہ چھ سات ماہ سے مسلسل یہی ترتیب چل رہی ہے، اس لیے ان کی چار دن والی پرانی عادت ختم ہو چکی ہے اور اب ان کے حیض کی عادت سات دن مقرر ہو گئی ہے۔ چنانچہ پہلے دن سے لے کر ساتویں دن کے بھورے قطرے تک کا پورا دورانیہ شرعاً حیض شمار ہوگا، اور چھٹے دن کی خشکی یا سفیدی بھی اسی حیض کا حصہ ہے؛ اس کے بعد آنے والا قطرہ کوئی الگ نئی چیز نہیں، اسی حیض کا تتمہ ہے۔
غسل کا وقت اور گزشتہ نمازوں کا حکم:
چوں کہ ان کی عادت اب سات دن ہو چکی ہے، اس لیے آئندہ ہر مہینے اسی کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ اگر چھٹے دن ہلکی بھوری رطوبت موجود ہو تو اس دن غسل نہ کریں، بلکہ ساتویں دن جب آخری قطرہ آ کر بند ہو جائے تب ہی غسل کریں۔ اور اگر کسی مہینے چھٹے دن مکمل خشکی یا سفید رطوبت نظر آئے تو چوں کہ عادت کے ایام ابھی پورے نہیں ہوئے اور ان ایام میں خون کے لوٹ کر آنے کا غالب گمان ہوتا ہے، اس لیے احتیاطاً نماز کے آخری وقت میں غسل کر کے نماز ادا کر لیں، البتہ سات دن پورے ہونے تک شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز نہیں ہوگا؛ پھر جب ساتویں دن وہ بھورا قطرہ آ کر رک جائے تو ان پر دوبارہ غسل کرنا فرض ہوگا۔
گزشتہ چھ سات مہینوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ جب انہوں نے چھٹے دن غسل کیا اور ساتویں دن دوبارہ بھورا قطرہ آ گیا، تو اس قطرے کے آنے سے ان کا پہلا غسل شرعاً ختم ہو گیا تھا۔ لہٰذا اگر انہوں نے ساتویں دن کا قطرہ رکنے کے بعد دوبارہ غسل کیے بغیر ہی اگلے دنوں کی نمازیں پڑھ لی ہوں، اور اس دوران کوئی عام یا مسنون غسل بھی نہ کیا ہو جس میں کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے ساتھ پورے جسم پر پانی بہایا گیا ہو، تو بے غسل پڑھی گئی ان نمازوں کو لوٹانا یعنی ان کی قضا کرنا لازم ہے۔
ابتدائی سات سال کے معمول کے بارے میں:
سوال میں یہ بھی ذکر ہے کہ ابتدائی سات سالوں میں خون چار دن آتا تھا اور پانچویں دن مکمل پاکی ہو جاتی تھی، لیکن وہ محض احتیاط اور تصدیق کی خاطر پانچواں دن چھوڑ کر چھٹے دن غسل کرتی تھیں۔ واضح رہے کہ شرعاً یہ طرزِ عمل درست نہیں تھا۔ شریعتِ مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ جب عادت کے ایام پورے ہو کر خون یا دھبہ آنا بند ہو جائے تو پاکی کی تصدیق کے نام پر پورا ایک دن غسل کو مؤخر کرنا اور فرض نمازیں چھوڑنا جائز نہیں ہے؛ جیسے ہی خون رکے، جس نماز کا وقت چل رہا ہو اس کے آخری وقت میں غسل کر کے نماز پڑھنا فرض ہو جاتا ہے۔
لہٰذا ان سات سالوں میں لاعلمی کی وجہ سے ہر مہینے پانچویں دن کی جو فرض نمازیں ترک ہوئیں، اور اگر رمضان المبارک کے روزے اس دن میں آئے ہوں تو وہ روزے بھی، ان سب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ و استغفار کریں اور ایک محتاط اندازہ لگا کر ان کی قضا بتدریج ادا کریں۔ حساب کی آسانی کے لیے عرض ہے کہ سال کے بارہ مہینوں کے حساب سے ایک سال میں تقریباً بارہ دن اور سات سالوں میں تقریباً چوراسی (84) دن کی فرض اور وتر نمازیں بنتی ہیں، جنہیں وہ اپنی سہولت کے مطابق روزانہ کی وقتی نمازوں کے ساتھ ملا کر آسانی سے ادا کر سکتی ہیں۔
حوالہ جات:
1. الفتاوى الهندية (کتاب الطهارة، الباب السادس فی الدماء المختصة بالنساء، الفصل الأول، ج: 1، ص: 36، ط: دار الفكر، بیروت): وما تراه المرأة من الحمرة والصفرة والكدرة في أيام الحيض حيض حتى ترى البياض خالصاً، هكذا في الهداية.
ترجمہ: حیض کے دنوں (یعنی دس دن کے اندر) عورت جو سرخی، زردی یا مٹیالا پن (بھورا ڈسچارج) دیکھے وہ سب حیض ہی ہے، یہاں تک کہ وہ بالکل خالص سفیدی دیکھ لے۔ ایسا ہی ہدایہ میں مذکور ہے۔
2. رد المحتار علی الدر المختار (کتاب الطهارة، باب الحيض، ج: 1، ص: 289، ط: دار الفكر، بیروت): والطهر المتخلل بين الدمين في مدة الحيض يكون حيضاً، هو الصحيح.
ترجمہ: حیض کی مدت (دس دن) کے اندر دو خونوں کے درمیان آنے والی پاکی (خشکی یا سفیدی) بھی حیض ہی شمار ہوتی ہے، اور یہی صحیح قول ہے۔
3. رد المحتار علی الدر المختار (کتاب الطهارة، باب الحيض، ج: 1، ص: 295، ط: دار الفكر، بیروت): واعلم أن الصحيح المفتى به عند المشايخ أن العادة تنتقل بمرة، فلو رأت في شهر سبعة مثلاً وعادتها ستة انتقلت إلى السبعة.
ترجمہ: جاننا چاہیے کہ مشائخِ حنفیہ کے نزدیک صحیح اور مفتیٰ بہ قول یہ ہے کہ عادت ایک ہی بار خلافِ معمول خون آنے سے تبدیل ہو جاتی ہے؛ چنانچہ اگر کسی عورت کی عادت چھ دن تھی اور کسی مہینے اسے سات دن خون آیا (اور دس دن سے متجاوز نہیں ہوا) تو اس کی عادت سات دن کی طرف منتقل ہو جائے گی۔
4. الدر المختار مع رد المحتار (کتاب الطهارة، باب الحيض، ج: 1، ص: 294، ط: دار الفكر، بیروت): (وإن انقطع على أكثرهما) أي الحيض والنفاس (أو على العادة فوق الثلاث) والنفاس فوق الأربعين (حل وطؤها بلا غسل) وجوباً بل ندباً…(وإن انقطع لدون عادتها فوق الثلاث لا يقربها حتى تمضي عادتها) لأن العود في العادة غالب، وتغتسل وتصلي احتياطاً.
ترجمہ: اگر خون پوری عادت پر بند ہو جائے تو (نماز کے آخری وقت میں) غسل کر کے نماز پڑھنا واجب ہے… اور اگر اپنی مقررہ عادت سے کم پر (تین دن کے بعد) خون رک جائے تو جب تک عادت کے دن پورے نہ ہو جائیں شوہر اس کے قریب نہ جائے، کیونکہ عادت کے دنوں میں خون کا لوٹ کر آنا غالب ہے، البتہ وہ عورت احتیاطاً غسل کر کے نماز پڑھ لے۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان
آن لائن مفتی | onlinemufti.org
