سوال:
میاں بیوی مل کر اپنی رقم سے کوئی پراپرٹی، گھر یا پلاٹ وغیرہ خریدتے ہیں۔ اس دوران شوہر بیوی سے کہہ دے: "کل کو اگر تم نے مجھے کبھی جتایا، بات سنائی، یا یہ کہا کہ یہ میرا گھر ہے، تو تم پھر اس گھر میں اکیلی ہی رہو گی۔” پوچھنا یہ ہے کہ کیا شوہر کے ان الفاظ سے طلاق معلق ہو جاتی ہے؟ اس کا شرعی حکم واضح فرمائیں۔
الجواب حامداً ومصلیاً:
صورتِ مسئولہ میں شوہر کے یہ الفاظ کہ "تم پھر اس گھر میں اکیلی ہی رہو گی” الفاظِ صریحہ میں سے نہیں ہیں، بلکہ فقہی اصطلاح میں ان کا شمار کنایاتِ طلاق کے اس قبیل میں ہوتا ہے جن میں طلاق کے علاوہ دوسرے معانی کا بھی پورا پورا احتمال موجود ہوتا ہے۔ اس لیے اس جملے کا حکم شوہر کی نیت پر موقوف ہے۔
اگر شوہر نے یہ الفاظ محض تنبیہ کرنے، ڈرانے یا غصے کے اظہار کے طور پر کہے تھے، یعنی اس کی مراد صرف یہ تھی کہ ایسی صورت میں میں ناراض ہو کر الگ رہنے لگوں گا اور تم اس گھر میں تنہا رہ جاؤ گی، اور اس کے ذہن میں طلاق دینے کا سرے سے کوئی ارادہ نہ تھا، تو اس جملے سے کوئی طلاق معلق نہیں ہوئی۔ لہٰذا مستقبل میں بیوی کے ایسی کوئی بات کہہ دینے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
اور اگر شوہر نے یہ الفاظ بولتے وقت دل میں طلاق ہی کی نیت کی تھی، یعنی اس کی مراد یہ تھی کہ اگر تم نے جتایا تو تمہیں طلاق ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں تم اکیلی رہ جاؤ گی، تو یہ تعلیقِ طلاق شمار ہوگی۔ ایسی صورت میں جب بیوی مستقبل میں وہ باتیں کہہ دے جن سے شوہر نے منع کیا تھا تو شرط پوری ہونے کی وجہ سے ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی، جس کے بعد تجدیدِ نکاح کے بغیر ساتھ رہنا جائز نہیں ہوگا۔
مشترکہ ملکیت کے حوالے سے یہ بات بھی واضح رہے کہ جب میاں بیوی باہمی رضامندی سے مشترکہ رقم سے کوئی جائیداد یا مکان خریدتے ہیں تو شرعاً ہر ایک اپنے لگائے ہوئے سرمائے کے تناسب سے اس جائیداد میں شریک اور مالک ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں کسی ایک فریق کا پورے مکان کو تنہا اپنی ملکیت قرار دینا یا دوسرے پر احسان جتانا شرعاً و اخلاقاً درست نہیں۔ مستقبل کے تنازعات سے بچنے کے لیے بہتر یہی ہے کہ کاغذات میں دونوں کے مالی حصوں کی واضح صراحت کر لی جائے اور باہمی الفت و مروت کا معاملہ رکھا جائے۔
حوالہ جات:
الدر المختار مع رد المحتار (کتاب الطلاق، باب الکنایات، ج: 3، ص: 296، ط: سعید):
(کنایاتہ) لا تطلق بھا قضاءً إلا بنیة أو دلالة الحال۔
الفتاویٰ الہندیة (کتاب الطلاق، الباب الخامس فی الکنایات، ج: 1، ص: 374، ط: رشیدیہ):
الکنایات لا تطلق بھا إلا بنیة أو بدلالة حال۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان
آن لائن مفتی | onlinemufti.org
