کبھی کبھی دل میں یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ آخر ہمارے حالات اس نہج تک کیوں پہنچے؟ کیوں زندگی دن بہ دن مشکل، رزق بے برکت، دل بے سکون اور معاشرہ بے رحم ہوتا جا رہا ہے؟ ہم ہر خرابی کا ملبہ حکومت، نظام، سیاست اور حکمرانوں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں، مگر شاید سب سے کڑوا سوال یہ ہے کہ اس بگاڑ میں ہمارا اپنا حصہ کتنا ہے؟
چھوٹے اختیار کی خیانت
ہم حکمرانوں کی کرپشن پر چیختے ہیں، مگر اپنے ہاتھ میں اختیار آئے تو کیا ہم واقعی امانت دار رہتے ہیں؟ دکاندار ترازو میں چند گرام کم کر دیتا ہے،

لیکن وہ "کرپٹ لوگ” آخر ہیں کون؟
وہ شاید ہم ہی میں سے ہیں۔
ہم بھول جاتے ہیں کہ قومیں صرف ایوانوں میں نہیں بنتیں۔ قوم کا کردار بازار کے ترازو میں بھی نظر آتا ہے، دفتر کی میز پر بھی، ہسپتال کے بستر پر بھی، عدالت کی گواہی میں بھی، اسکول کے امتحان میں بھی اور اس وقت بھی جب کوئی ہمیں دیکھ نہیں رہا ہوتا۔
جس معاشرے میں عبادت گاہ کے پانی کا گلاس زنجیر سے باندھنا پڑے، وضو خانے کے نل محفوظ نہ رہیں، اور لوگوں کے استعمال کے لیے رکھی ہوئی معمولی چیز بھی چوری ہونے کا خوف ہو، وہاں مسئلہ صرف معیشت یا سیاست کا نہیں رہتا؛ وہاں مسئلہ اجتماعی ضمیر کا بن جاتا ہے۔
سوچیے، ہم کہاں آ پہنچے ہیں۔
ہم اپنے بچوں کو حلال رزق کی دعا سکھاتے ہیں اور پھر کسی دوسرے کے بچوں کا حق کھا لیتے ہیں۔ ہم رحمت کی دعائیں مانگتے ہیں مگر ملازم کی مزدوری دبا لیتے ہیں۔ ہم انصاف چاہتے ہیں مگر فیصلہ اپنے خلاف آئے تو سفارش ڈھونڈتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سرکاری افسر رشوت نہ لے، لیکن اپنا ناجائز کام نکلوانا ہو تو رشوت دینے کے لیے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ سچا ہو، مگر اپنے فائدے کے لیے جھوٹ کو "مجبوری” کا نام دے دیتے ہیں۔
بے حسی — سب سے خوفناک مرض
اور ہماری بے حسی شاید اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔
کسی کا گھر اجڑ جائے تو بعض اوقات ہمارے لیے وہ محض ایک خبر ہوتی ہے۔ کسی غریب کی جمع پونجی فراڈ میں چلی جائے تو ہم چند لمحے افسوس کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کسی عورت، بچے یا کمزور انسان پر ظلم ہو تو اس کی تکلیف بھی کبھی تماشہ، ویڈیو یا بحث بن جاتی ہے۔ ہمیں دوسروں کے زخم اس وقت تک زیادہ محسوس نہیں ہوتے جب تک خون ہمارے اپنے گھر کی دہلیز تک نہ پہنچ جائے۔
رمضان آتا ہے تو دنیا کے کئی معاشروں میں کاروباری ادارے سہولت دینے کی کوشش کرتے ہیں، اور ہمارے ہاں بعض لوگ اسی ضرورت کو منافع خوری کا موقع سمجھ لیتے ہیں۔ پھل، سبزی، گوشت اور روزمرہ اشیاء مہنگی کر کے پھر انہی پیسوں سے افطاریاں اور صدقات کیے جاتے ہیں۔ ہم شاید بھول جاتے ہیں کہ کسی مجبور کی جیب کاٹ کر کسی دوسرے محتاج کو کھانا کھلانا نیکی کی روح نہیں ہو سکتی۔
حکمران بھی اسی معاشرے سے ہیں
ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔
ہر تباہی کا ذمہ دار صرف وزیراعظم، صدر، وزیراعلیٰ یا کوئی سیاسی جماعت نہیں ہو سکتی۔ حکمرانوں اور اداروں کی اپنی بھاری ذمہ داری ضرور ہے، اور ان سے جواب دہی کا مطالبہ کرنا شہریوں کا حق ہے؛ مگر معاشرے کا اخلاقی زوال صرف پارلیمنٹ میں پیدا نہیں ہوتا۔ حکمران بھی اسی معاشرے سے نکلتے ہیں، افسر بھی، تاجر بھی، استاد بھی، ڈاکٹر بھی، پولیس والا بھی، منصف بھی اور ووٹر بھی۔
اگر ہم چھوٹے اختیار میں خیانت کریں تو بڑے اختیار والے سے دیانت کی توقع کس اخلاقی بنیاد پر کریں گے؟
الفاظ کے پردے میں چھپی برائیاں
اصل المیہ صرف یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں برائیاں موجود ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ بہت سی برائیاں ہمیں اب برائیاں محسوس ہونا کم ہو گئی ہیں۔ رشوت کو "چائے پانی”، سفارش کو "تعلق”، ذخیرہ اندوزی کو "کاروبار”، جھوٹ کو "مصلحت”، حق تلفی کو "مجبوری” اور ناجائز فائدے کو "سمارٹنس” کہہ کر ہم نے اپنے ضمیر کو ایسے الفاظ دے دیے ہیں جن کے پیچھے وہ سکون سے سو سکے۔
یہی بے حسی قوموں کو اندر سے کھوکھلا کرتی ہے۔
جب یتیم کا مال محفوظ نہ ہو، کمزور کو انصاف نہ ملے، طاقتور کے لیے اصول بدل جائیں، عورت کی حرمت محفوظ نہ ہو، بچے ظلم سے محفوظ نہ ہوں، مریض کی مجبوری کاروبار بن جائے، تعلیم تجارت، انصاف سفارش اور عہدہ خدمت کے بجائے غرور کی علامت بن جائے، تو عمارتیں تو کھڑی رہتی ہیں، مگر معاشرے اندر سے گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔
جھوٹ، رشوت، ملاوٹ، فراڈ، سود، جوا، ظلم، قبضہ، دھونس، تہمت، غیبت، حسد، تکبر، وعدہ خلافی، حق تلفی اور کمزوروں کا استحصال — آخر کون سا زخم ہے جو ہمارے اجتماعی وجود پر نہیں؟
اور سب سے دردناک بات یہ ہے کہ ہمیں ہر زخم دوسرے کے جسم پر دکھائی دیتا ہے، اپنے وجود پر نہیں۔
ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کا خوف ہے، مگر ہم وہ معاشرہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں جس میں ان کا مستقبل محفوظ ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد کو اچھے لوگ ملیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی دوسرے ماں باپ کی اولاد کو اچھا انسان دینا ہماری ذمہ داری بھی ہے۔
تبدیلی کہاں سے شروع ہو؟
قومیں صرف نعروں سے نہیں بدلتیں۔ تبدیلی اس دن شروع ہوتی ہے جب دکاندار تنہائی میں بھی پورا تولے، افسر بغیر رشوت کے کام کرے، استاد دیانت سے پڑھائے، ڈاکٹر مریض کو انسان سمجھے، تاجر مصیبت کو منافع کمانے کا موقع نہ بنائے، صاحبِ اختیار میرٹ پر فیصلہ کرے اور عام آدمی وہاں بھی سچ بولے جہاں جھوٹ بول کر اسے فائدہ مل سکتا ہو۔
توبہ کا اصل مفہوم
ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور اجتماعی اور انفرادی توبہ کی ضرورت ہے، مگر توبہ صرف آنکھ سے نکلنے والے آنسو کا نام نہیں۔ توبہ ہاتھ سے ظلم چھوڑنے، زبان سے جھوٹ روکنے، پیٹ میں حرام جانے سے بچانے، کسی کا دبایا ہوا حق واپس کرنے اور اپنے اختیار کو امانت سمجھنے کا نام بھی ہے۔
شاید ہمیں اپنی حالت پر رونے سے پہلے اپنے کردار پر رونا چاہیے۔
کیونکہ اگر ہمارے ہاتھ کسی کا حق چھین رہے ہوں، ہماری زبان کسی کی عزت کھا رہی ہو، ہماری تجارت کسی مجبور کو لوٹ رہی ہو، ہمارا اختیار کسی کمزور کو کچل رہا ہو اور پھر بھی ہم اپنی تمام مصیبتوں کا ذمہ دار صرف دوسروں کو قرار دیتے رہیں، تو ممکن ہے ہم بیماری کا علاج نہیں کر رہے — صرف آئینہ توڑ رہے ہوں۔
اب بھی وقت ہے۔
اپنے حصے کا ترازو سیدھا کر دیں۔
اپنے حصے کا جھوٹ چھوڑ دیں۔
اپنے حصے کی رشوت روک دیں۔
اپنے حصے کا حق واپس کر دیں۔
اپنے حصے کے کمزور پر رحم کریں۔
اور اپنے حصے کا پاکستان ٹھیک کرنا شروع کر دیں۔
کیونکہ کسی قوم کی تباہی صرف اس دن شروع نہیں ہوتی جب اس کے حکمران خراب ہو جائیں؛ اصل اندیشہ اس دن پیدا ہوتا ہے جب برائی عام ہو جائے، بے حسی معمول بن جائے، اور اجتماعی ضمیر کو اپنی خرابی پر شرمندگی محسوس ہونا بند ہو جائے۔
اللہ ہمیں اس دن سے پہلے جگا دے، جب ہمارے پاس پچھتاوا تو بہت ہو… مگر اصلاح کے لیے وقت باقی نہ رہے۔ آمین۔
✍️ مصنف: ڈاکٹر مولانا عمران خان
آن لائن مفتی | onlinemufti.org


