سوال :ہم نے سن رکھا ہے کہ واقعہ معراج نہ تو کسی مستند حدیث سے ثابت ہے اور نہ ہی کسی قرآن پاک کی آیت میں ، تو اس رات سے منسوب روزہ بھی مستند نہیں ٹھہرتا ، اگر اس واقعہ کا وقت دین میں متعین نہیں تو پھر اس رات کو کی جانے والی عبادات جو اسی واقعے سے جوڑی جاتی ہیں تو روزہ بدعت میں شمار ہوگا ، لیکن آج کل کے لوگ کہتے ہیں ہم کام تو اچھا ہی کرتے ہیں ، تو پھر نماز کی ایک رکعت میں ہم سجدے دو کی بجاۓ تین کیوں نہیں کرتے ؟پلیز اس کے متعلق تفصیلا آگاہ کیجےگا

..جواب:قرآن و حدیث سے معراج ثابت ہے، باقی اس کا دن اور مہینہ تاریخی روایات سے ثابت ہے ، 27 رجب کے متعلق بھی تاریخی روایات ہیں اور اس کے علاوہ بھی ۔۔ نفلی روزہ رکھنا جائز و مستحب ہے کسی بھی دن رکھ سکتے ہیں۔ یہ جو سجدوں کی دلیل دی گئی ہے یہ

سوال :ہم نے سن رکھا ہے کہ واقعہ معراج نہ تو کسی مستند حدیث سے ثابت ہے اور نہ ہی کسی قرآن پاک کی آیت میں ، تو اس رات سے منسوب روزہ بھی مستند نہیں ٹھہرتا ، اگر اس واقعہ کا وقت دین میں متعین نہیں تو پھر اس رات کو کی جانے والی عبادات جو اسی واقعے سے جوڑی جاتی ہیں تو روزہ بدعت میں شمار ہوگا ، لیکن آج کل کے لوگ کہتے ہیں ہم کام تو اچھا ہی کرتے ہیں ، تو پھر نماز کی ایک رکعت میں ہم سجدے دو کی بجاۓ تین کیوں نہیں کرتے ؟پلیز اس کے متعلق تفصیلا آگاہ کیجےگا Read More »