لفظ فارغ کہنے سے طلاق کا حکم

دارالافتاء
آن لائن مفتی | Online Mufti
ڈاکٹر مولانا عمران خان
لفظ فارغ کہنے سے طلاق کا حکم
❓ سوال

سوال:

اگر شوہر غصے سے بولے "دفعہ رہو، میری طرف سے فارغ ہو" — نہ کوئی طلاق کا ذکر تھا، نہ کوئی طلاق کا مطالبہ ہو رہا تھا، نہ ہی شوہر کی نیت تھی۔ کیا غصے کی حالت میں لفظ "فارغ" بولنے سے طلاق ہو گی یا نہیں؟

✅ جواب

"فارغ" ان الفاظ میں سے ہے جنہیں فقہاء "کنایہ" کہتے ہیں، یعنی ایسا لفظ جو طلاق کے معنی بھی دے سکتا ہے اور دوسرے معنی بھی۔ کنایہ الفاظ سے طلاق کا حکم عموماً ان باتوں پر منحصر ہوتا ہے:

  1. نیت: اگر شوہر نے طلاق کی نیت نہیں کی تو عام طور پر کنایہ لفظ سے طلاق نہیں ہوتی، اور اس معاملے میں قسم کے ساتھ شوہر کی بات معتبر مانی جاتی ہے۔
  2. ذکرِ طلاق یا مطالبہ: اگر گفتگو طلاق کے بارے میں ہو رہی ہو تو بعض الفاظ بغیر نیت کے بھی طلاق شمار ہو جاتے ہیں۔ آپ کے بیان کے مطابق یہاں نہ طلاق کا ذکر تھا نہ مطالبہ۔
  3. غصے کی حالت: حنفی فقہ میں غصے کی حالت میں کنایہ الفاظ کے بارے میں تفصیل ہے کہ بعض الفاظ جو "جواب اور سب و شتم" دونوں کا احتمال رکھتے ہیں ان میں قرینہ کا اعتبار ہوتا ہے۔ "فارغ" کے بارے میں علماء کی رائے مختلف ہو سکتی ہے۔

آپ کے بیان کے مطابق نہ ذکرِ طلاق، نہ مطالبہ، نہ نیت تھی تو عام اصول یہی ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوتی۔

واللہ اعلم بالصواب

فتویٰ نمبر
OM-2026-03244
QR

اسکین کریں
تاریخ
14-10-2026



✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان

آن لائن مفتی | onlinemufti.org