سوال:
میں، عثمان خان ولد سلطان خان، خدا کو حاضر و ناظر جان کر حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ میری واحد شرعی و قانونی بیوی صرف محترمہ ہادیہ ہیں۔
اگر میرا کوئی دوسرا نکاح ثابت ہو تو میں اس دوسری عورت کو تین طلاقِ مغلّظہ غیر قابلِ رجوع دے چکا ہوں، جو شرعاً و قانوناً نافذ و مؤثر ہے۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پہلی بیوی کو تسلی دینے کے لیے مذکورہ بیانِ حلفی لکھا گیا ہے کہ اگر میں نے کسی بھی قسم کا کوئی نکاح کیا ہوا ہے تو آپ کے علاوہ اُس بیوی کو تین طلاقِ مغلّظہ ناقابلِ رجوع نافذ ہوں۔ اس مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم بیان فرمائیں۔
مذکورہ بیانِ حلفی میں شوہر نے اپنی پہلی بیوی (محترمہ ہادیہ) کو مستثنیٰ کر کے یہ کہا ہے کہ اگر اس کا کوئی دوسرا نکاح ثابت ہو تو اس دوسری عورت پر تین طلاقِ مغلّظہ واقع ہوں۔ یہ "طلاقِ معلّق بالشرط” ہے۔ حنفی مذہب میں شرط پائی جانے پر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ تفصیل یہ ہے:
- اگر واقعی کوئی دوسرا نکاح موجود نہیں: تو شرط نہیں پائی گئی، لہٰذا کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ یہ بیان محض ایک قسم و اقرار کی حیثیت رکھتا ہے۔
- اگر پہلے سے کوئی دوسرا نکاح موجود ہے: تو فقہائے احناف کے نزدیک جب شرط پہلے سے موجود ہو تو تعلیق، تنجیز (فوری طلاق) کے حکم میں ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں اس دوسری عورت پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ وہ حرمتِ مغلّظہ سے حرام ہو گئی، رجوع نہیں ہو سکتا۔
- پہلی بیوی (محترمہ ہادیہ) اس بیان سے مستثنیٰ ہیں، ان پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
- اگر نکاح موجود ہونے کے باوجود پہلی بیوی کو مطمئن کرنے کے لیے "واحد بیوی” ہونے کی قسم کھائی گئی تو یہ جھوٹی قسم ہے، جس سے توبہ و استغفار لازم ہے۔
دلائل:
پہلی دلیل (قرآنِ کریم): ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ (سورۃ البقرہ: 230)
یعنی تین طلاق کے بعد عورت شوہر پر حرام ہو جاتی ہے جب تک وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح (اور شرعی ازدواجی تعلق) نہ کر لے۔ اسی بنا پر طلاقِ مغلّظہ غیر قابلِ رجوع ہے۔
دوسری دلیل (حدیثِ نبوی ﷺ): «ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ: النِّكَاحُ وَالطَّلَاقُ وَالرَّجْعَةُ» (سنن ابی داؤد: 2194، جامع ترمذی: 1184)
یعنی طلاق کے الفاظ سنجیدگی سے کہے جائیں یا مذاق میں، دونوں صورتوں میں واقع ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا "تسلی دینے کے لیے” کہے گئے الفاظ بھی، شرط پائی جانے پر، اپنا اثر رکھتے ہیں۔
فقہی حوالہ: ردّ المحتار (فتاویٰ شامی)، کتاب الطلاق، باب التعلیق۔
تنبیہات:
- "ثابت ہو” کے الفاظ مبہم ہیں (حقیقت میں نکاح پایا جانا یا عدالت میں ثابت ہونا)۔ اسی طرح "دے چکا ہوں” ماضی کا صیغہ ہے جبکہ شرط مستقبل کی ہے۔ ایسے ابہام والے الفاظ سے بعد میں نزاع پیدا ہو سکتا ہے۔
- طلاق کو بطورِ ضمانت یا تسلی کا ذریعہ بنانا نہایت خطرناک ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان
آن لائن مفتی | onlinemufti.org
