فاریکس ٹریڈنگ کا شرعی حکم

دارالافتاء
آن لائن مفتی | Online Mufti
ڈاکٹر مولانا عمران خان
فاریکس ٹریڈنگ کا شرعی حکم
❓ سوال
سوال: کیا فاریکس ٹریڈنگ جائز ہے؟
✅ جواب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:
«إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا» (صحیح مسلم: 1015)
بیشک اللہ پاک ہے اور پاک مال ہی کو قبول فرماتا ہے۔ یہ لیکچر شرعی رہنمائی ہے، مالی مشورہ نہیں، اور کسی خاص صورت کا فیصلہ مستند مفتی ہی کر سکتا ہے۔

1: فاریکس اصل میں ہے کیا؟
فاریکس، یعنی Foreign Exchange، ایک ملک کی کرنسی کا دوسرے ملک کی کرنسی سے تبادلہ ہے، اور یہ جوڑوں کی شکل میں ہوتا ہے، جیسے EUR/USD۔
لیکن بینکوں اور درآمد کنندگان کا فاریکس، جس میں حقیقی کرنسی کا تبادلہ ہوتا ہے، اور عام آدمی کا آن لائن "ریٹیل فاریکس” ایک چیز نہیں۔ عام ٹریڈر کے ساتھ چار باتیں ہوتی ہیں:
1. CFD: وہ کرنسی خریدتا ہی نہیں، صرف بروکر سے قیمت کے فرق کا معاہدہ کرتا ہے۔
2. لیوریج: ہزار ڈالر پر سو گنا لیوریج ہو تو ایک لاکھ ڈالر کی پوزیشن کھل جاتی ہے۔
3. سواپ فیس: پوزیشن رات بھر کھلی رہے تو شرحِ سود کے فرق پر روزانہ رقم کٹتی یا ملتی ہے۔
4. بروکر کا کردار: بہت سے بروکر خود مقابل فریق ہوتے ہیں، یعنی آپ کا نقصان ان کا نفع ہے۔

2: شرعی کسوٹی، بیعِ صرف
فقہ کا قاعدہ ہے کہ عقود میں اعتبار حقیقت کا ہوتا ہے، الفاظ کا نہیں (مجلۃ الاحکام العدلیۃ، مادہ: 3)۔ "ٹریڈنگ” نام رکھ دینے سے معاملہ تجارت نہیں بن جاتا۔ ایک کرنسی کو دوسری کے بدلے بیچنا "بیعِ صرف” کہلاتا ہے، اور حدیثِ عبادہ رضی اللہ عنہ میں ہے:
«فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ» (صحیح مسلم: 1587)
جب اصناف مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیچو، بشرطیکہ نقد بنقد ہو۔ یعنی ڈالر اور روپے میں کمی بیشی جائز ہے، مگر ادھار اور قبضے کے بغیر نہیں۔ ہدایہ کے مطابق مجلس ختم ہونے سے پہلے دونوں بدلوں پر قبضہ لازم ہے۔

3: ناجائز ہونے کی چار بنیادی وجوہات
1. قمار، یعنی جوا اور سٹہ
اللہ تعالیٰ نے جوئے کو «رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ» یعنی ناپاک شیطانی کام فرمایا (المائدہ: 90)۔ امام جصاص رحمہ اللہ کے نزدیک جوا مال کو خطرے پر معلق کرنا ہے۔ فاریکس میں ٹریڈر صرف اندازہ لگاتا ہے کہ قیمت چڑھے گی یا اترے گی؛ درست نکلا تو بروکر دیتا ہے، غلط نکلا تو رقم کٹ جاتی ہے۔ ESMA کی پابندیوں کے بعد بروکرز کو جو انتباہ دینا پڑتا ہے، اس میں عموماً 74 سے 89 فیصد ریٹیل اکاؤنٹس کا نقصان میں رہنا بتایا جاتا ہے، یعنی چند کی جیت، اکثریت کی ہار۔
2. قبضے کا نہ ہونا، اور جو چیز پاس نہیں اس کی بیع
ٹریڈر کو نہ ڈالر ملتے ہیں نہ یورو، صرف اکاؤنٹ میں ہندسے بدلتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اندراج "حکمی قبضہ” ہے۔ مگر حکمی قبضہ تب ہے جب اندراج کے پیچھے حقیقی مال کی ملکیت ہو، جیسے بینک میں جمع رقم۔ فاریکس اکاؤنٹ بروکر کے ساتھ نفع نقصان کا حساب ہے، مال کی ملکیت نہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ» (سنن ابی داؤد: 3503، جامع ترمذی: 1232)
جو چیز تیرے پاس نہیں، اسے مت بیچ۔ فاریکس میں آدمی اکثر پہلے بیچتا ہے (Short Sell) اور بعد میں خریدتا ہے، یعنی نہ مال، نہ قبضہ۔
3. سود: لیوریج اور سواپ
لیوریج عملاً بروکر کا دیا ہوا قرض ہے، جس پر کمیشن، اسپریڈ اور سواپ فیس لی جاتی ہے، اور جو قرض نفع کھینچ لائے وہ سود ہے۔ ﴿وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾ (البقرۃ: 278)۔ "سواپ فری اکاؤنٹ” میں اکثر سواپ کی جگہ ایڈمن فیس آ جاتی ہے، اور اگر سواپ ختم بھی ہو جائے تو باقی خرابیاں برقرار رہتی ہیں۔
4. ہندسے مال نہیں
علامہ حصکفی رحمہ اللہ کا قاعدہ ہے: «بَطَلَ بَيْعُ مَا لَيْسَ بِمَالٍ» یعنی جو چیز مال نہیں اس کی بیع باطل ہے (الدر المختار)۔ اکاؤنٹ میں چمکتا عدد نہ کھایا جا سکتا ہے نہ برتا جا سکتا ہے، اور اس پر غرر کی ممانعت (صحیح مسلم: 1513) بھی لاگو ہے۔
ان میں سے ایک بھی ہو تو معاملہ ناجائز ہو جاتا ہے، اور یہاں سب یکجا ہیں۔

4: دو اعتراضات اور پاکستان کا قانون
"دوسرے علماء نے تو جائز بھی کہا ہے۔” ان کا کلام عموماً اس صورت پر ہے جس میں حقیقی کرنسی کا تبادلہ، قبضہ اور سود یا لیوریج سے خالی ہونا شامل ہو، جسے ہم بھی جائز کہتے ہیں۔ مارجن، لیوریج اور CFD والے ریٹیل فاریکس پر معتبر دارالافتاء کا رجحان عدمِ جواز کی طرف ہے۔
"اپنی رقم ہے، اور بیرونِ ملک قانونی بھی ہے۔” قانونی ہونا شرعی جواز کی دلیل نہیں؛ شراب اور جوا بھی کئی ملکوں میں قانونی ہیں، اور حرام کا مدار رقم کی ملکیت پر نہیں، عقد کی نوعیت پر ہے۔
پاکستان میں اسٹیٹ بینک نے 2022ء کے سرکلر میں واضح کیا کہ OctaFX اور Easy Forex جیسے بیرونی فاریکس، مارجن اور CFD پلیٹ فارمز کو رقم بھیجنا FERA کی خلاف ورزی ہے، اور ایس ای سی پی نے اپریل 2025ء میں غیر مجاز آن لائن ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کے خلاف خبردار کیا۔ "یقینی منافع” اور مہنگے ٹریڈنگ کورسز کے دعووں سے بچیں۔
خلاصہ یہ کہ فاریکس کی حرمت کسی ایک سبب پر نہیں، کئی اسباب پر قائم ہے: سٹہ، قبضے کا فقدان، بیع ما لیس عندک، سود اور بے مال ہندسے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق عطا فرمائے اور حرام سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ وَاللّٰهُ تَعَالٰى أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔

فتوی
فتویٰ نمبر
OM-2026-03281
QR

اسکین کریں
تاریخ
14-10-2026



✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان

آن لائن مفتی | onlinemufti.org

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے