ساس کو چھوتے وقت شہوت کا شک حرمت مصاہرت

دارالافتاء
آن لائن مفتی | Online Mufti
ڈاکٹر مولانا عمران خان
ساس کو چھوتے وقت شہوت کا شک حرمت مصاہرت
❓ سوال

سوال:

میں نے اپنی چاچی کو تقریباً 4 سال پہلے چھوا تھا۔ اب مجھے یہ یاد نہیں کہ مجھے شہوت چھوتے وقت پیدا ہوئی تھی یعنی عضو چھوتے وقت کھڑا ہوا تھا یا چھونے سے پہلے کھڑا ہوا تھا یا چھونے سے پہلے کھڑا ہوا تھا اور بعد میں اس میں سختی پیدا ہوئی تھی کیونکہ بہت عرصہ گزر گیا اب میں اس کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہ سکتا کہ شہوت چھوتے وقت تھی یا پہلے سے تھی اس پر مجھے شک ہے۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ چھوتے وقت میرا اس کے ساتھ جماع (ہمبستری) کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی میرے ذہن میں ایسا کوئی بھی خیال نہیں آیا تھا بلکہ نہ تو یہ خیال چھونے سے پہلے آیا تھا نہ بعد میں اور نہ چھوتے وقت اس کے ساتھ ہمبستری کرنے کا خیال آیا تھا اور یہ بات میں پورے یقین سے کہہ رہا ہوں۔

اب آپ بتائیں کہ مجھ پر حرمت ثابت ہوئی ہے کہ نہیں کیونکہ اس کی بیٹی کے ساتھ (جو کہ میری کزن ہے) میری منگنی ہوچکی ہے۔ منگنی کی بھی تقریباً 4 سال ہونے والے ہیں۔ اب اگر میں منگنی توڑنے کی بات کروں تو گھر میں بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا جیسے ہمارے گھر میں جھگڑا ہو جائے گا اور رشتہ ٹوٹنے کی وجہ سے گاؤں میں بھی بہت بدنامی ہوگی اور لڑکی کی زندگی پر بھی اس کا بہت بڑا اثر پڑے گا۔

لہذا میں اس لڑکی کے ساتھ نکاح کر سکتا ہوں کہ نہیں؟ اس مسئلہ کا فقہ حنفی کی روشنی میں

✅ جواب
دیں۔

الجواب:

آپ کے بیان کے مطابق (شہوت کے وقت میں شک ہے) سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی، اور آپ کا اپنی منگیتر سے نکاح جائز ہے۔

– مرد کے لیے شہوت کا مطلب یہ ہے کہ چھوتے وقت عضو میں انتشار (کھڑا ہونا) پیدا ہو، یا پہلے سے ہو تو اس میں اضافہ ہو۔
– جماع کا ارادہ یا خیال آنا شرط نہیں۔ اس لیے آپ کا یہ کہنا کہ ہمبستری کا خیال نہیں آیا، حکم پر اثر نہیں ڈالتا۔ اصل چیز انتشار ہے۔
– اگر انتشار پہلے سے تھا اور چھونے سے نہ بڑھا، تو حرمت ثابت نہیں ہوتی۔
– اگر چھونا کسی موٹے کپڑے کے اوپر سے تھا جس سے جسم کی گرمی محسوس نہ ہو، تو بھی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔

آپ کو یقین نہیں کہ انتشار چھونے سے پہلے تھا، چھوتے وقت پیدا ہوا، یا پہلے تھا اور بعد میں بڑھا۔ حرمت ثابت ہونے کے لیے شہوت کا یقین چاہیے۔ قاعدہ ہے: "الیقین لا یزول بالشک” (یقین شک سے ختم نہیں ہوتا)۔ آپ کی منگیتر سے نکاح کا جواز اصل ہے، اور محض شک سے وہ حرام نہیں ہوتی۔ اس لیے جب آپ کو شہوت کا یقین نہیں تو حرمت ثابت نہیں مانی جائے گی۔

دو باتیں دھیان میں رکھیں:
1. اگر کسی وقت آپ کو پورے یقین سے یاد آ جائے کہ چھوتے وقت شہوت پیدا ہوئی تھی، تو حکم بدل جائے گا اور حرمت ثابت ہو جائے گی۔ اس صورت میں نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا۔
2. چھونے کی تفصیل (کون سا حصہ، کپڑے کے اوپر سے یا براہِ راست) بھی فتوے پر اثر ڈالتی ہے۔

بغیر ضرورت کسی نامحرم عورت کو چھونا گناہ ہے، اس لیے اس پر اللہ سے توبہ کر لیں۔

نکاح و طلاق
فتویٰ نمبر
OM-2026-03081
QR

اسکین کریں
تاریخ
11-10-2026



✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان

آن لائن مفتی | onlinemufti.org