خواب کی شرعی راہنمائی

عنوان: خواب کی شرعی راہنمائی: اقسام، آداب اور احتیاطیں

خواب کی تین قسمیں ہیں جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: ایک سچا خواب جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہوتا ہے، دوسرا شیطان کی طرف سے ڈرانے کے لیے، اور تیسرا انسان کے اپنے دن بھر کے خیالات اور باتوں کا عکس۔

سچا خواب نبوت کے اجزاء میں سے ایک جز بتایا گیا ہے، اور فجر کے قریب دیکھا گیا خواب عموماً زیادہ سچا ہوتا ہے۔ اچھا خواب دیکھیں تو اللہ کا شکر ادا کریں اور صرف اسی کو بتائیں جس سے محبت ہو۔

برا خواب دیکھیں تو گھبرائیں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہنمائی یہ ہے: شیطان سے اللہ کی پناہ مانگیں، بائیں طرف تین مرتبہ تھتکاریں، جس پہلو پر سوئے تھے وہ بدل لیں، اور وہ خواب کسی کو نہ بتائیں۔ ایسا کرنے سے ان شاء اللہ وہ خواب کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ہو سکے تو اٹھ کر دو رکعت نماز پڑھ لیں۔

تعبیر کے بارے میں چند اصولی باتیں:

  1. ہر خواب تعبیر کے قابل نہیں ہوتا۔ دن کے خیالات اور پریشانیاں بھی خواب بن کر آتی ہیں، ان کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔
  2. تعبیر ظنی علم ہے۔ بڑے بڑے معبرین بھی اسے امکان کے طور پر بیان کرتے ہیں، یقین کے طور پر نہیں۔
  3. ایک ہی خواب کی تعبیر مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہو سکتی ہے، کیونکہ تعبیر میں دیکھنے والے کی حالت، اس کا پیشہ، اس کا دینی و دنیاوی حال سب دیکھا جاتا ہے۔
  4. خواب پر زندگی کے فیصلے نہ کریں۔ شادی، کاروبار یا علاج جیسے فیصلے استخارے، مشورے اور ظاہری اسباب سے کریں، محض خواب کی بنیاد پر نہیں۔
  5. خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بڑی سعادت ہے، کیونکہ شیطان آپ کی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ البتہ اس زیارت کی بنیاد پر کوئی نیا شرعی حکم نہیں لیا جا سکتا۔