سوال: چارپائی کے چاروں اطراف کا صدقہ — شرعی حکم کیا ہے؟

دارالافتاء
آن لائن مفتی | Online Mufti
ڈاکٹر مولانا عمران خان
سوال: چارپائی کے چاروں اطراف کا صدقہ — شرعی حکم کیا ہے؟
❓ سوال

سوال:

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہو گیا۔ چند دن بعد اس کے گھر والے کہتے ہیں کہ جس چارپائی پر مرحوم سوتا تھا، اس کے چاروں پایوں کی نسبت سے چار قرآن مجید مسجد میں رکھ دیے جائیں، اور اسے "چارپائی کے چاروں اطراف کا صدقہ” کہتے ہیں۔ شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

✅ جواب

میت کی طرف سے صدقہ کرنا اور اس کا ثواب اسے پہنچانا شرعاً جائز اور ثابت ہے۔ البتہ اس کے لیے چارپائی کے چار اطراف یا چار قرآن کی کوئی خاص تعداد یا شکل شریعت سے ثابت نہیں۔ اگر کوئی اسے لازم یا خاص فضیلت والا عمل سمجھے تو یہ درست نہیں، اور اگر محض ایک صورتِ صدقہ کے طور پر، بغیر لازم سمجھے کیا جائے تو گنجائش ہے۔

دلائل:

  1. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ میری والدہ اچانک فوت ہو گئیں، اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ صدقہ کرتیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
  2. حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ کے انتقال پر پوچھا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پانی۔ چنانچہ انہوں نے کنواں کھدوایا۔ (سنن ابی داود، سنن نسائی) اس سے معلوم ہوا کہ صدقے میں وہ چیز بہتر ہے جس کی لوگوں کو زیادہ ضرورت ہو۔
  3. فرمانِ نبوی ﷺ ہے: انسان مر جائے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، نفع بخش علم، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔ (صحیح مسلم)
  4. قرآن مجید میں ہے: "لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ” (آل عمران: 92) اور "وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ” (المائدہ: 2)۔ ان آیات کا تقاضا ہے کہ خرچ حقیقی نیکی اور حاجت روائی کے کام میں ہو۔
  5. رسم و بدعت کے بارے میں فرمایا: جس نے ہمارے دین میں ایسی نئی بات نکالی جو اس میں نہیں تھی، وہ مردود ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) لہٰذا کسی غیر منقول شکل کو لازم یا دین کا حصہ سمجھنا درست نہیں۔
  6. فقہائے احناف کے نزدیک نفلی عبادات، بالخصوص صدقات کا ثواب دوسرے کو بخشنا جائز ہے۔ (رد المحتار)

واللہ اعلم بالصواب


ڈاکٹر مولانا عمران خان

متعلقہ فتاویٰ

زکوۃ و صدقات
فتویٰ نمبر
OM-2026-02087
QR
اسکین کریں
تاریخ
29-09-2026

✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان

آن لائن مفتی | onlinemufti.org