مقامی مفتی صاحب کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست کا شرعی حکم

دارالافتاء
آن لائن مفتی | Online Mufti
ڈاکٹر مولانا عمران خان
مقامی مفتی صاحب کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست کا شرعی حکم
❓ سوال

سوال:

میں شبیر احمد ولد محمد اسلم، اپنے عائلی اور مالی تنازعے میں مقامی مفتی صاحب کے ایک فیصلے کے بارے میں آپ سے شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔ میری رائے میں اس فیصلے میں قضاء کے شرعی اصولوں کا پورا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ تفصیل یہ ہے:

۱۔ نکاح کے وقت تمام شرائط زبانی طے ہوئی تھیں۔ حقِ مہر دس لاکھ (10,00,000) روپے مقرر ہوا تھا، اور وہ میں اپنی اہلیہ (مدعیہ) کو پورا ادا کر چکا ہوں۔

۲۔ رہائش کے لیے جو مکان بنایا گیا، وہ حقِ مہر میں شامل نہیں تھا۔ وہ میری ذاتی ملکیت بھی نہیں، بلکہ میرے والد اور بھائیوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ شادی کے بعد میں اپنی شدید بیماری کی وجہ سے اہلیہ کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکا۔ اس کا سبب میری مجبوری تھی، نافرمانی یا ضد نہیں۔

۳۔ فیصلے کے دوران درج ذیل شرعی تقاضے پورے نہیں کیے گئے:

(۱) گواہوں سے حلف نہیں لیا گیا۔

(۲) دوسرے گواہ منیر احمد مجلس میں موجود ہی نہیں تھے۔

(۳) مجھے مدعیہ کے گواہوں پر جرح کا موقع نہیں دیا گیا۔

(۴) میری طرف سے پیش کیے گئے سوال نامے پر غور نہیں کیا گیا۔

لہٰذا گزارش ہے کہ:

۱۔ اس مقدمے کا شرعی اصولوں کے مطابق ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔

۲۔ مشترکہ مکان اور ادا شدہ حقِ مہر کو الگ الگ معاملہ سمجھ کر دیکھا جائے۔

۳۔ حتمی شرعی فیصلہ آنے تک سابقہ فیصلے پر عمل درآمد روک دیا جائے۔

✅ جواب

آپ کا تفصیلی سوال اور درخواست ہم نے توجہ سے پڑھی۔

آپ نے جو صورت بیان کی ہے، وہ دو فریقوں کے باہمی نزاع، حقوق العباد اور ثالثی و قضاء سے تعلق رکھتی ہے۔ شریعت کا بنیادی اصول ہے کہ ایسے معاملے میں صرف ایک فریق کا بیان سن کر نہ حتمی حکم لگایا جا سکتا ہے اور نہ پہلے سے ہو چکے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قاضی بنا کر بھیجتے وقت ہدایت فرمائی کہ جب تک دونوں فریقوں کی بات نہ سن لو، فیصلہ نہ کرنا (سنن ابی داود، جامع الترمذی)۔ اسی طرح یہ اصول بھی حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے کہ دعویٰ کرنے والے کے ذمے دلیل اور گواہ پیش کرنا ہے، اور انکار کرنے والے پر قسم ہے (سنن البیہقی، جامع الترمذی)۔

آپ کے معاملے میں ہمارے سامنے صرف آپ کا موقف ہے۔ مدعیہ اور ان کے گواہوں کا بیان، مقامی مفتی صاحب کے فیصلے کی بنیاد اور اس کی پوری کارروائی ہمارے علم میں نہیں۔ مہر کی ادائیگی، مکان کی ملکیت اور آپ کے عذر کی نوعیت جیسے امور کا فیصلہ بیانات، گواہیوں اور دستاویزات کی جانچ کے بغیر ممکن نہیں، اور یہ جانچ آن لائن پلیٹ فارم سے نہیں ہو سکتی۔ یہاں نہ فریقین آمنے سامنے آ سکتے ہیں، نہ گواہوں کے بیانات لیے جا سکتے ہیں، نہ جرح ہو سکتی ہے۔

اس بنا پر ادارہ اس معاملے میں کوئی تحریری فتویٰ جاری کرنے اور سابقہ فیصلے کے درست یا غلط ہونے پر حکم لگانے سے معذرت خواہ ہے۔ فیصلے پر عمل درآمد روکنے کا اختیار بھی ہمارے پاس نہیں۔ یہ اسی فورم کا کام ہے جہاں مقدمے کی دوبارہ سماعت ہو۔

درست لائحہ عمل:

آپ اپنے علاقے کے کسی معتبر اور بڑے دارالافتاء، یا شرعی پنچایت / تحکیم کمیٹی سے بالمشافہ رجوع کریں، اور درخواست دیں کہ فریقین کو بلا کر مقدمے پر نظرِ ثانی کی جائے۔

وہ مستند ادارہ دونوں طرف کا مکمل موقف سن کر شریعت کی روشنی میں جو فیصلہ کرے، اسی پر عمل کیا جائے۔

اللہ تعالیٰ فریقین کے درمیان خیر، عافیت اور انصاف والا معاملہ فرمائے۔ آمین۔

واللہ اعلم بالصواب

نکاح و طلاق
فتویٰ نمبر
OM-2026-04448
QR

اسکین کریں
تاریخ
27-10-2026



✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان

آن لائن مفتی | onlinemufti.org