غدیرِ خم کی حقیقت: کیا رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو بلا فصل خلیفہ مقرر فرمایا تھا؟

دارالافتاء
آن لائن مفتی | Online Mufti
ڈاکٹر مولانا عمران خان
غدیرِ خم کی حقیقت: کیا رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو بلا فصل خلیفہ مقرر فرمایا تھا؟
❓ سوال

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید الأنبیاء والمرسلین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔ اما بعد!

آج کا موضوع اسلامی تاریخ اور عقیدے کے ایک اہم ترین سوال سے متعلق ہے۔ بات اب اس سے آگے بڑھ چکی ہے کہ غدیرِ خم میں کیا ہوا تھا؛ اصل سوال یہ ہے: کیا غدیرِ خم میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بعد بلا فصل خلیفہ اور امام مقرر فرمایا تھا؟

اگر ہاں، تو پھر یہ سوالات کھڑے ہوتے ہیں: صحابۂ کرامؓ نے غدیر کے بعد سقیفہ میں خلافت پر مشورہ کیوں کیا؟ حضرت علیؓ نے اس وقت غدیر کو بطور نص پیش کیوں نہیں کیا؟ حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ کیسے خلیفہ بنے؟ اور اگر نہیں، تو پھر «من کنت مولاہ فعلی مولاہ» کا مطلب کیا ہے؟

بحث کا منہج

آغاز ہی میں اس مضمون کا منہج واضح کر دینا مناسب ہے:

  1. ہم غدیر کا انکار نہیں کرتے۔
  2. ہم حضرت علیؓ کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے۔
  3. ہم حدیثِ غدیر کو ضعیف کہہ کر جان نہیں چھڑاتے۔

ہمارا موقف یہ ہے: حدیثِ غدیر ثابت ہے، فضیلتِ علیؓ مسلّم ہے، لیکن اس حدیث سے خلافتِ بلا فصل کی نص ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟ نہیں۔ یہی فرق پوری بحث کی کنجی ہے۔ آئیے اسے ایک ایک قدم آگے بڑھ کر دیکھتے ہیں۔

غدیرِ خم — صحرا میں پانی کا تالاب اور کھجور کے درخت

حصہ اول: واقعہ اور حدیث کا اثبات

غدیر کا واقعہ حقیقت ہے

صحیح مسلم میں حضرت زید بن ارقمؓ روایت کرتے ہیں:

قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ

رسول اللہ ﷺ مکہ اور مدینہ کے درمیان خم نامی پانی کے مقام پر ہمارے درمیان خطبے کے لیے کھڑے ہوئے۔ اس خطبے میں آپ ﷺ نے فرمایا: وَأَنَا تَارِكٌ فِيكُمْ ثَقَلَيْنِ… اور اہلِ بیت کے بارے میں تین بار فرمایا: أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي — میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں۔

حدیثِ «من کنت مولاہ» ثابت ہے

جامع ترمذی میں ہے: مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ — امام ترمذیؒ نے اسے حسن غریب کہا۔ مسند احمد وغیرہ میں بھی یہ مروی ہے، اور بہت سے محدثین نے اس کی اصل کو صحیح یا حسن قرار دیا ہے۔ لہٰذا اہلِ سنت کا علمی موقف یہ نہیں کہ یہ حدیث ہی ثابت نہیں؛ ہمارا موقف یہ ہے: حدیث ثابت ہے، اختلاف اس کی دلالت میں ہے۔

اصل محلِ نزاع

اس مقام پر سب متفق ہیں: غدیر ہوا، حضرت علیؓ کی فضیلت ثابت ہے، اور اہلِ بیت کے حقوق کی تاکید ہوئی۔ اختلاف صرف ایک نکتے پر ہے: کیا «من کنت مولاہ فعلی مولاہ» کا مطلب "علی میرے بعد خلیفہ ہیں” ہے؟ یاد رکھیے، فضیلت کی نص اور خلافت کی نص دو الگ دعوے ہیں۔ فضیلت ثابت ہونے سے خلافت خود بخود ثابت نہیں ہوتی؛ اس کے لیے الگ دلیل چاہیے۔

حصہ دوم: لفظِ مولیٰ کا تجزیہ

شیعی استدلال کیا ہے؟

اہلِ تشیع کا استدلال یہ ہے کہ نبی ﷺ نے پہلے پوچھا: أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟ (کیا میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟) لوگوں نے کہا: بلیٰ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب پہلے اپنی اولویت کا اقرار لیا، تو مولیٰ سے وہی اولویت اور اختیار مراد ہے، یعنی علیؓ بھی صاحبِ اختیار ہیں۔ بظاہر یہ استدلال مضبوط لگتا ہے، لیکن غور کیجیے تو اس میں کئی خلا ہیں۔

(1) مولیٰ کثیر المعانی لفظ ہے

عربی میں مولیٰ کے معنی ہیں: دوست، مددگار، قریبی، حلیف، سرپرست، آزاد کرنے والا، آزاد کردہ۔ خود قرآن میں یہ لفظ مددگار اور دوست کے معنی میں آیا ہے: ﴿فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ (التحریم: 4) — یہاں مولیٰ کا مطلب مددگار ہے، حاکمِ سیاسی نہیں۔ اور فرمایا: ﴿ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ﴾ (محمد: 11) — یہ بھی نصرت اور سرپرستی کا بیان ہے۔ اور مومنوں کے باہمی رشتے کے بارے میں فرمایا: ﴿وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ﴾ (التوبہ: 71) — یعنی ولایت ایک باہمی دینی تعلق ہے، محبت و نصرت کا رشتہ؛ اس کا مطلب لازماً حکمرانی نہیں۔ نبی ﷺ نے خود حضرت زید بن حارثہؓ سے فرمایا: أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلَانَا (صحیح بخاری) — یہاں بھی مولیٰ کا مطلب خلیفہ نہیں۔ لہٰذا جو شخص مولیٰ کو خلیفہ کے معنی میں متعین کرتا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ قطعی قرینہ پیش کرے۔ محض امکان تعین کے لیے کافی نہیں۔

(2) اولیٰ کا ہر استعمال سیاسی خلافت نہیں

قرآن میں ہے: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ﴾ — یہ نبی ﷺ کے منصبِ نبوت کا بیان ہے، اور نبوت منتقل نہیں ہوتی۔ حضرت علیؓ کے لیے مولیٰ کہنے سے نبی ﷺ کے تمام اختیارات ان کی طرف منتقل مان لینا الگ دعویٰ ہے، جس کے لیے الگ صریح دلیل چاہیے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھیے کہ اس کلام میں اولیٰ اور مولیٰ میں لفظی مناسبت ضرور ہے، لیکن حدیث کے متن میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو بتائے کہ یہ اختیار بعد از وفات منتقل ہو رہا ہے۔

(3) «بعدی» کہاں ہے؟

اب حدیث کے الفاظ پر غور کیجیے: اس میں نہ خلیفہ ہے، نہ امام، نہ امیر المومنین، نہ بعدی یعنی "میرے بعد”۔ یہ آخری لفظ نہایت اہم ہے۔ حضرت علیؓ رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں بھی آپ ﷺ کے محبوب، مددگار اور ولی تھے۔ اگر مقصود بعد از وفات جانشینی تھی تو سب سے ضروری قید یہی تھی — اور وہ قید موجود نہیں۔

(4) صراحت کا اصول: جتنا بڑا دعویٰ، اتنی بڑی صراحت

اب عقل سے کام لیجیے۔ نماز کا حکم قرآن میں صراحت سے آیا، زکوٰۃ کا بھی، روزے کا بھی، حج کا بھی۔ شرک کی حرمت اور شراب کی حرمت صراحت سے بیان ہوئیں۔ ہر چھوٹا بڑا حکم واضح الفاظ میں آیا۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ امت کے پورے نظام کی بنیادی قیادت، جس پر ایمان و کفر کا فیصلہ مبنی ہو، صرف ایک ایسے لفظ میں بیان کی جائے جس کے متعدد معنی ہوں؟ نبی ﷺ کی بلاغت کا کمال ہے کہ آپ ﷺ نے بنیادی امور واضح کیے۔ اگر مقصود خلافتِ علیؓ تھا تو یہ جملہ بالکل آسان تھا: عَلِيٌّ خَلِيفَتِي مِنْ بَعْدِي — اور یہ جملہ آپ ﷺ کے لیے مشکل نہ تھا۔ جب آپ ﷺ نے یہ لفظ نہیں فرمایا تو ثابت ہوا کہ یہ مقصود نہیں تھا۔ جتنا بڑا دعویٰ ہو، اتنی ہی بڑی صراحت درکار ہوتی ہے۔ یہی بات اہلِ بیت میں سے حضرت حسن مثنیٰ بن حسن بن علیؓ کی طرف بھی منسوب ہے کہ جب ان سے غدیر کی حدیث کا ذکر ہوا تو انہوں نے فرمایا: اگر نبی ﷺ کا مقصد خلافت اور امارت ہوتا تو جیسے نماز، زکوٰۃ، روزے اور حج کو واضح بیان فرمایا، ویسے ہی اسے بھی واضح بیان فرما دیتے۔ (یہ قول بعض کتب میں منقول ہے۔)

حصہ سوم: سیاق و سباق — یمن کا واقعہ

کسی حدیث کو سمجھنے کے لیے اس کا پس منظر دیکھنا ضروری ہے۔ حضرت علیؓ کو نبی ﷺ نے یمن بھیجا تھا۔ وہاں مالِ غنیمت (خمس) کی تقسیم کے بارے میں ان کے بعض فیصلوں پر کچھ صحابہ کو شکایت ہوئی، جن میں حضرت بریدہؓ بھی تھے۔ صحیح بخاری میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا:

لَا تُبْغِضْهُ، وَإِنْ كُنْتَ تُحِبُّهُ فَازْدَدْ لَهُ حُبًّا، فَوَاللَّهِ لَلنَّصِيبُ الَّذِي لَهُ فِي الْخُمُسِ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ

علیؓ سے بغض نہ رکھو، اور اگر تم ان سے محبت کرتے ہو تو اور بڑھاؤ۔ مسند احمد کی روایات میں اسی پس منظر کے ساتھ آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ۔ اب دیکھیے کہ یہ سیاق کس معنی کی طرف رہنمائی کرتا ہے: شکایتیں علیؓ کے خلاف تھیں؛

✅ جواب
میں نبی ﷺ نے علیؓ کی محبت اور نصرت کی تاکید فرمائی؛ اس سیاق میں مولیٰ کا سب سے مناسب معنی دوست، محبوب اور مددگار ہے۔ یعنی: جو مجھ سے محبت رکھتا ہے وہ علیؓ سے بھی محبت رکھے، اور ان کے بارے میں بدگمانی نہ رکھے۔ اس تعبیر سے حضرت علیؓ کی شان کم نہیں ہوتی، بلکہ ایک عظیم صحابی کا دفاع اور ان کی محبت کی تاکید ثابت ہوتی ہے۔

حصہ چہارم: دو قرآنی آیات کا جائزہ

آیتِ تبلیغ

﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ…﴾ (المائدہ: 67) — شیعی حضرات کہتے ہیں کہ یہ آیت غدیر کے موقع پر حضرت علیؓ کی ولایت کا اعلان کرنے کے لیے نازل ہوئی۔ ہم پوچھتے ہیں: آیت میں علی کا نام کہاں ہے؟ غدیر کا ذکر کہاں ہے؟ خلافت یا امامت کا لفظ کہاں ہے؟ آیت کا سیاق اہلِ کتاب کے ذکر کا ہے، اور اس میں وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ بھی ہے۔ ترمذی وغیرہ کی روایت کے مطابق نبی ﷺ کی حفاظت کے لیے پہرہ لگایا جاتا تھا، جو اس آیت کے نازل ہونے پر ختم کر دیا گیا — یہ سب غدیر سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اس آیت کو ایک خاص واقعے سے جوڑنے کے لیے الگ صحیح اور صریح دلیل چاہیے، اور وہ موجود نہیں۔

آیتِ اکمال

﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ — یہ کہا جاتا ہے کہ یہ آیت غدیر کے دن نازل ہوئی اور خلافتِ علیؓ سے دین مکمل ہوا۔ صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک یہودی نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَيَّ يَوْمٍ نَزَلَتْ، نَزَلَتْ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ — میں جانتا ہوں یہ کس دن نازل ہوئی؛ یہ یومِ عرفہ کو، جمعہ کے دن نازل ہوئی۔ یعنی یہ آیت حجۃ الوداع میں عرفات کے موقع پر نازل ہوئی۔ غدیر اس کے بعد واپسی کے سفر میں، 18 ذوالحجہ کو پیش آیا۔ لہٰذا اسے غدیر سے جوڑنا صحیح روایت کے خلاف ہے۔

عقلی پہلو: اگر دین کی تکمیل علیؓ کی نامزدگی پر موقوف تھی تو کیا اس سے پہلے 23 سال کی نبوی دعوت کے بعد بھی دین ناقص تھا؟ توحید، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، حلال و حرام اور اخلاق و معاملات کے تمام احکام آ چکے تھے۔ تکمیلِ دین کا مطلب یہی ہے کہ شریعت کے احکام مکمل ہو گئے۔ اسے ایک شخص کی سیاسی نامزدگی کے برابر ٹھہرانا آیت کے الفاظ سے ثابت نہیں۔

قدیم اسلامی کتب اور احادیث کے مآخذ

حصہ پنجم: دیگر احادیث کا جائزہ

حدیثِ ثقلین

صحیح مسلم کی روایت میں نبی ﷺ نے قرآن اور اہلِ بیت کا ذکر فرمایا اور فرمایا: أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي — یہ اہلِ بیت کی عظمت اور ان کے حقوق کی تاکید ہے، اور اہلِ سنت اس تاکید کو دل و جان سے مانتے ہیں۔ لیکن خود الفاظ دیکھیے: ان کے بارے میں اللہ سے ڈرنے اور حقوق ادا کرنے کا حکم ہے؛ "میرے بعد علی خلیفہ ہیں” کا اعلان اس میں کہیں نہیں۔ اور اہلِ بیت صرف حضرت علیؓ تک محدود نہیں؛ حضرت فاطمہؓ، حسنینؓ اور دیگر افرادِ خاندان بھی اس میں شامل ہیں۔

حدیثِ منزلت

أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي — یہ حدیث حضرت علیؓ کی عظیم فضیلت ہے۔ لیکن:

  1. سیاق غزوۂ تبوک ہے۔ نبی ﷺ نے حضرت علیؓ کو مدینہ میں اپنے اہل و عیال پر نائب بنایا اور انہوں نے عرض کیا کہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ تب یہ تسلی کا کلمہ ارشاد ہوا۔ یہ عارضی نیابت تھی۔
  2. حضرت ہارونؑ کی مماثلت ہر جہت میں نہیں۔ ہارونؑ حضرت موسیٰؑ کی وفات سے پہلے ہی فوت ہو گئے تھے، تو بعد از وفات خلافت کا پہلو ان کی منزلت سے نکلتا ہی نہیں۔ پھر خود نبی ﷺ نے استثناء فرما دیا کہ نبوت کے سوا۔ معلوم ہوا کہ یہ مکمل مماثلت نہیں بلکہ ایک خاص پہلو کی تشبیہ ہے۔
  3. نیابت کا ہونا خلافت کی دلیل نہیں۔ نبی ﷺ نے مختلف غزوات میں دوسرے صحابہ کو بھی مدینہ میں نائب بنایا، جیسے ابن ام مکتومؓ اور محمد بن مسلمہؓ۔ ان میں سے کسی کو بھی بلا فصل خلیفہ کی نص نہیں مانا گیا۔

دعائے «اللھم وال من والاہ»

بعض روایات میں یہ دعا بھی آتی ہے: اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ — اس اضافے کی سند میں محدثین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن اگر اسے ثابت مان بھی لیں تو یہ بھی محبت اور نصرت کی تاکید ہے، ولاء اور عداوت کے مقابل الفاظ کے ساتھ۔ یہ لفظ خلافت کے معنی کے لیے متعین نہیں۔

حصہ ششم: تاریخی قرائن — صحابہؓ اور خود علیؓ کا فہم

یہ ہماری بحث کا سب سے مضبوط حصہ ہے، کیونکہ حدیث کا سب سے بہتر فہم وہی ہے جو اسے سننے والوں اور اس کے مخاطبین نے سمجھا۔

(1) سقیفہ میں نص کیوں پیش نہیں ہوئی؟

نبی ﷺ کی وفات کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان خلافت پر گفتگو ہوئی۔ انصار نے اپنا حق پیش کیا، مہاجرین نے قریش کی مرکزیت کی بات کی۔ سینکڑوں صحابہؓ غدیر میں موجود تھے اور صرف ڈھائی تین ماہ بعد یہ مشورہ ہو رہا تھا۔ اگر غدیر میں خلافتِ علیؓ کا قطعی اعلان ہو چکا تھا تو یہ فیصلہ کن دلیل تھی، اور کسی نہ کسی نے — علیؓ نے یا ان کے حامیوں نے — یہ دلیل پیش کی ہوتی۔ مگر اس موقع پر غدیر کی نص کو بطور دلیل پیش کرنے کا کوئی معتبر ثبوت نہیں ملتا۔

(2) نبی ﷺ کی بیماری میں علیؓ اور عباسؓ کا موقف

صحیح بخاری میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے مرضِ وفات میں حضرت عباسؓ نے حضرت علیؓ سے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ ﷺ اسی مرض میں وفات پائیں گے؛ چلیے آپ ﷺ سے پوچھ لیں کہ یہ امر کس کے پاس رہے گا۔ حضرت علیؓ نے جواب دیا:

وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَمَنَعَنَاهَا لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ بَعْدَهُ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ

اگر ہم نے رسول اللہ ﷺ سے یہ مانگا اور آپ ﷺ نے انکار کر دیا تو لوگ ہمیں کبھی نہیں دیں گے، اس لیے میں نہیں پوچھتا۔ ذرا غور کیجیے! اگر غدیر میں خلافت حضرت علیؓ کے لیے طے ہو چکی تھی تو ان کے بارے میں یہ سوال ہی پیدا نہ ہوتا کہ یہ امر کس کے پاس رہے گا۔ حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ، دونوں کا طرزِ عمل بتاتا ہے کہ وہ غدیر کو کسی طے شدہ تقرری کے معنی میں نہیں سمجھتے تھے۔

(3) وصیت کی نفی

صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ جب ان کے سامنے کہا گیا کہ نبی ﷺ نے علیؓ کے لیے وصیت کی تھی، تو انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ نے کب وصیت کی؟ آپ ﷺ نے تو میرے سینے پر وفات پائی۔ اور حضرت علیؓ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ نبی ﷺ کی کوئی خاص تحریری چیز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور یہ صحیفہ ہے (جس میں دیت وغیرہ کے احکام تھے)۔ صحیحین کی ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنے پاس کسی خاص نصِ خلافت کا دعویٰ نہیں کیا۔

(4) حضرت علیؓ کا اپنا بیان

صحیح بخاری میں حضرت علیؓ کا حضرت ابوبکرؓ سے مکالمہ نقل ہے، جس میں انہوں نے فرمایا: وَكُنَّا نَرَى لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ — ہم اپنی قرابت کی بنا پر اپنا حق سمجھتے تھے۔ غور کیجیے، دلیل قرابت کو بنایا، نصِ غدیر کو نہیں۔ اگر غدیر کوئی قطعی تقرری ہوتی تو یہ موقع تھا کہ وہ فرماتے: رسول اللہ ﷺ نے مجھے غدیر میں مقرر کر دیا تھا۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں فرمایا۔

(5) حضرت علیؓ کی بیعت اور شورائی نظریہ

حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے بیعت کی، پھر حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کے ساتھ مل کر امت کے اجتماعی نظام میں شریک رہے۔ شیعہ حضرات اس کی توجیہ تقیہ، مصلحت یا کمزوری سے کرتے ہیں۔ مگر اہلِ سنت کہتے ہیں کہ سب سے سادہ اور فطری قرینہ یہ ہے کہ انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کو درست مانا۔ اور خود حضرت علیؓ کا اپنی خلافت کے بارے میں موقف کیا تھا؟ نہج البلاغہ — جو اہلِ تشیع کے نزدیک بھی معتبر ہے — میں حضرت معاویہؓ کو لکھے گئے خط میں ان سے منسوب ہے: جن لوگوں نے ابوبکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ سے بیعت کی تھی، انہی لوگوں نے مجھ سے بیعت کی… شوریٰ مہاجرین اور انصار کا حق ہے۔ اگر وہ کسی شخص پر اتفاق کر لیں اور اسے امام قرار دیں تو یہی اللہ کی رضا ہے۔ یہ بات ان کے اپنے مقدمے کے لیے الزامی دلیل ہے۔ یعنی حضرت علیؓ نے خلافت کو شوریٰ اور اجتماعی بیعت کے اصول پر قائم مانا، نہ کہ صرف نص کے اصول پر۔

(6) حضرت حسنؓ کی صلح

حضرت حسنؓ نے حضرت معاویہؓ سے صلح کی، اور نبی ﷺ نے اس کی پیشین گوئی فرمائی تھی: إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ (صحیح بخاری)۔ اگر خلافت کسی منصوص امامت کی بنیاد پر ایک الٰہی منصب ہوتی تو اس کا اس طرح مفاہمت کی نذر ہونا سمجھ سے باہر ہوتا۔ لیکن اگر خلافت امت کی امانت اور مصلحتِ عامہ کا معاملہ ہے تو یہ طرزِ عمل بالکل فطری ہے۔

(7) نص چھپانے کا دعویٰ کتنا بھاری ہے؟

اگر کہا جائے کہ نص تو موجود تھی مگر صحابہؓ نے اسے چھپا لیا یا نظر انداز کر دیا، تو یہ ایک انتہائی سنگین دعویٰ ہے۔ اس کے نتائج پر غور کیجیے: سینکڑوں صحابہؓ، جنہوں نے اپنی جانیں، اپنے مال اور اپنے گھر دین کے لیے قربان کیے، نے جان بوجھ کر دین کا بنیادی حکم پامال کیا؛ حضرت علیؓ، جو شجاعت اور حق گوئی کا نمونہ تھے، پوری عمر اس نص کو بنیاد بنانے سے گریزاں رہے؛ حضرت عباسؓ، حضرت زبیرؓ، حضرت مقدادؓ، حضرت سلمانؓ، حضرت ابوذرؓ اور حضرت عمارؓ جیسے رفقا میں سے کسی نے واضح، مسلسل اور متواتر احتجاج نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے غدیر میں علی کو خلیفہ مقرر کیا تھا۔ اگر مصلحتاً خاموشی کہا جائے تو سوال یہ ہے: کیا دین کا بنیادی حکم بھی مصلحت کی بھینٹ چڑھایا جا سکتا ہے؟ حضرت علیؓ جیسی شخصیت سے یہ بات بعید از قیاس ہے۔

اصولِ جمع کا تقاضا: اگر غدیر کو فضیلت و ولایت کا اعلان مانیں تو تمام روایات اور تاریخی واقعات ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو جاتے ہیں۔ اگر اسے خلافت کی قطعی نص مانیں تو بیشمار نصوص اور تاریخی شواہد سے تعارض پیدا ہوتا ہے۔ اور اصول یہ ہے کہ ایسی تعبیر کو ترجیح دی جاتی ہے جو سب نصوص کو جمع کر دے۔

حصہ ہفتم: نبی ﷺ کے ارشادات جو حضرت ابوبکرؓ کی تقدیم بتاتے ہیں

اب دوسری طرف دیکھیے۔ اگر نبی ﷺ نے خلافت کا تعین فرمانا تھا تو اس کے قرائن کہاں ہیں؟ اہلِ سنت کے پاس صحیح روایات میں متعدد اشارات موجود ہیں:

  1. امامتِ نماز کا حکم: مرضِ وفات میں نبی ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ وہ نرم دل ہیں، رو پڑیں گے؛ آپ ﷺ نے پھر وہی حکم دیا۔ صحابہؓ نے اسی بنا پر کہا کہ جسے رسول اللہ ﷺ نے ہمارے دین کے لیے پسند فرمایا، ہم اسے اپنی دنیا کے لیے بھی پسند کرتے ہیں۔
  2. حضرت عائشہؓ سے فرمایا (صحیح مسلم): ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ أَبَاكِ وَأَخَاكِ حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ وَيَقُولَ قَائِلٌ: أَنَا أَوْلَى، وَيَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ — یعنی اللہ اور مومنین ابوبکرؓ کے سوا کسی کو قبول نہیں کریں گے۔
  3. خلت کی فضیلت (صحیح بخاری): لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ
  4. مسجد کی کھڑکیاں: نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسجد کی طرف کھلنے والے سب دروازے بند کر دیے جائیں سوائے ابوبکرؓ کے دروازے کے۔
  5. ایک عورت کا سوال: ایک عورت نے آ کر پوچھا کہ اگر میں دوبارہ آؤں اور آپ ﷺ کو نہ پاؤں تو؟ (یعنی وفات کی طرف اشارہ) آپ ﷺ نے فرمایا: فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ (صحیح بخاری)۔
  6. اقتداء کا حکم (ترمذی): اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي: أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ

اور خلفائے اربعہ کی مجموعی خلافت پر حدیثِ سفینہ دلالت کرتی ہے: الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً ثُمَّ مُلْكٌ بَعْدَ ذَلِكَ — اور یہ تیس سال چاروں خلفاء کے دور پر پورے ہوتے ہیں، جن میں حضرت علیؓ بھی شامل ہیں۔ یہ سب نصوص صحابۂ کرامؓ کے فہم کے مطابق ان کے اجماع کی بنیاد بنیں۔ اگر نبی ﷺ نے غدیر میں علیؓ کی خلافت کا فیصلہ کر دیا ہوتا تو ان روایات کو کس رخ پر سمجھا جاتا؟ ان سب کو نظرانداز کرنا یا ان کی تاویلیں کرنا ہی لازم آتا۔

اسلامی جیومیٹرک فنِ تعمیر — سبز و سنہری نقش و نگار

حصہ ہشتم: خلافت کا اہلِ سنت تصور اور سقیفہ کی حقیقت

اہلِ سنت کے نزدیک خلافت کا قیام نص کے ساتھ ساتھ شوریٰ، اہلِ حل و عقد کی رائے اور امت کی بیعت پر بھی قائم ہوتا ہے۔ قرآن نے مومنوں کی شان بیان فرمائی: ﴿وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ﴾ (الشوریٰ: 38) — اور نبی ﷺ کو حکم دیا: ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ (آل عمران: 159)۔ سقیفہ کو محض اقتدار کی کشمکش یا سازش کہنا تاریخ کو سطحی بنا دینا ہے۔ وہ ایک عظیم بحران تھا: نبی ﷺ دنیا سے جا چکے تھے، عرب قبائلی نظام میں بٹے ہوئے تھے، اور امت کو فوری قیادت کی ضرورت تھی۔ انصار اپنی قربانیوں پر، مہاجرین اپنی سبقت اور قریش کی مرکزیت پر دلیل لا رہے تھے۔ بحث ہوئی، مشورہ ہوا، اور آخر میں تمام اہلِ مدینہ، بشمول حضرت علیؓ، حضرت ابوبکرؓ پر متفق ہو گئے۔ اس اجتماعی عمل کو نص کی دانستہ پامالی کہنے کے لیے انتہائی قطعی ثبوت چاہیے، اور وہ موجود نہیں۔

حصہ نہم: چند اعتراضات اور ان کے جوابات

اعتراض 1: اگر یہ صرف محبت کا اعلان تھا تو اتنے بڑے اجتماع میں کیوں؟

جواب: اجتماع کا بڑا ہونا اعلان کی اہمیت ثابت کرتا ہے، اس کے خلافت ہونے کی دلیل نہیں۔ نبی ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، فاطمہؓ اور دیگر صحابہ کے فضائل بھی بڑے مجمعوں میں بیان فرمائے۔ اور غدیر کا پس منظر یمن کی شکایات تھا، جو حجۃ الوداع کے اجتماع کے فوراً بعد ایک بڑے مجمع میں رفع کرنا بالکل مناسب تھا۔

اعتراض 2: کیا آپ حضرت علیؓ کی فضیلت کم کر رہے ہیں؟

جواب: ہرگز نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ فاتحِ خیبر ہیں، جن کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ و رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ دامادِ رسول ہیں، اہلِ بیت کے فرد ہیں، علم و شجاعت کے پیکر ہیں، اور خلیفۂ راشد چہارم ہیں۔ ہمارا اختلاف ان کے مرتبے پر نہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ وہ بلا فصل خلیفہ تھے یا نہیں۔

اعتراض 3: حضرت علیؓ نے تقیہ یا مصلحت سے خاموشی اختیار کی

جواب: یہ ایک ممکنہ تعبیر ہو سکتی ہے، مگر ایسی تعبیر ثبوت کا بدل نہیں بن سکتی۔ اور تقیہ یا خاموشی کا دعویٰ دین کے بنیادی ترین حکم کے بارے میں — اور خصوصاً حضرت علیؓ جیسی شخصیت کے بارے میں، جنہوں نے جنگوں میں تلوار اٹھانے سے دریغ نہ کیا — کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔

خلاصۂ کلام: اہلِ سنت کا مقدمہ چار ستونوں پر

ستون بیان
حدیث حدیثِ غدیر ثابت اور مسلّم ہے، ہم اس کا انکار نہیں کرتے۔
لغت و قرآن مولیٰ کثیر المعانی ہے اور قرآن میں مددگار و دوست کے معنی میں بھی آیا ہے۔ حدیث میں خلیفہ، امام، بعدی جیسا کوئی لفظ نہیں۔
سیاق یمن کی شکایات، حضرت بریدہؓ اور صحیح بخاری کی روایت کے پس منظر میں یہ محبت و نصرت کی تاکید ہے۔
تاریخ سقیفہ، ابن عباسؓ کی روایت، وصیت کی نفی، حضرت علیؓ کی اپنی گفتگو، ان کی بیعت، نہج البلاغہ کا شورائی بیان، اور حضرت حسنؓ کی صلح — یہ سب نصِ بلا فصل کے خلاف قرائن ہیں۔

غدیر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عظیم فضیلت، محبت اور ولایت کا اعلان ہے، مگر خلافتِ بلا فصل کی صریح اور قطعی نص نہیں۔ اسی لیے اہلِ سنت: ابوبکرؓ کو خلیفۂ اول، عمرؓ کو خلیفۂ دوم، عثمانؓ کو خلیفۂ سوم، اور علیؓ کو خلیفۂ چہارم مانتے ہیں۔ یہ چاروں خلفائے راشدین ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا حدیثِ غدیر ثابت ہے؟

جی ہاں۔ اہلِ سنت کے نزدیک حدیثِ غدیر ثابت ہے اور حضرت علیؓ کی فضیلت مسلّم ہے۔ اختلاف حدیث کے ثبوت میں نہیں، اس کی دلالت میں ہے کہ آیا اس سے خلافتِ بلا فصل ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔

«من کنت مولاہ فعلی مولاہ» میں مولیٰ کا کیا مطلب ہے؟

مولیٰ کثیر المعانی لفظ ہے: دوست، محبوب، مددگار اور سرپرست۔ یمن کی شکایات کے سیاق میں یہاں محبت و نصرت کی تاکید مراد ہے، کیونکہ حدیث میں خلیفہ، امام یا "میرے بعد” جیسا کوئی لفظ موجود نہیں۔

آیتِ اکمالِ دین کس دن نازل ہوئی؟

صحیح بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق یہ آیت حجۃ الوداع میں یومِ عرفہ کو جمعہ کے دن نازل ہوئی، جب کہ غدیرِ خم کا واقعہ واپسی کے سفر میں 18 ذوالحجہ کو پیش آیا۔

حضرت علیؓ نے سقیفہ میں غدیر کی نص کیوں پیش نہیں کی؟

یہی اس بات کا مضبوط قرینہ ہے کہ صحابہؓ اور خود حضرت علیؓ غدیر کو خلافت کی تقرری نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت علیؓ نے اپنا حق قرابت کی بنیاد پر بیان فرمایا اور بعد میں بیعت فرما کر شورائی نظام میں شریک رہے۔

اہلِ سنت کا حضرت علیؓ کے بارے میں کیا موقف ہے؟

اہلِ سنت حضرت علیؓ کو خلیفۂ راشد چہارم، فاتحِ خیبر اور اہلِ بیت کے عظیم فرد مانتے ہیں اور ان سے محبت کو دین کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ اختلاف صرف خلافتِ بلا فصل کی نص کے دعوے پر ہے۔

اختتامیہ

غدیر کی اصل روح کیا ہے؟ یہ کہ ہم حضرت علیؓ سے محبت کریں، ان کی فضیلت پہچانیں، اور اہلِ بیت کے حقوق ادا کریں۔ دو انتہاؤں سے بچنا ضروری ہے: ایک طرف حضرت علیؓ اور اہلِ بیت کی فضیلت کا انکار یا ان سے بغض، جو نواصب کا طریقہ ہے؛ دوسری طرف علیؓ کی محبت کو دوسرے صحابہؓ کی تنقیص اور سبّ و شتم کا ذریعہ بنانا، جو غدیر کی روح کے خلاف ہے۔ اہلِ سنت کا راستہ اعتدال کا راستہ ہے:

نُحِبُّ عَلِيًّا، وَنُحِبُّ أَبَا بَكْرٍ، وَنُحِبُّ عُمَرَ، وَنُحِبُّ عُثْمَانَ، وَنَتَوَلَّى آلَ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَنَتَرَضَّى عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَجْمَعِينَ۔

ہم علیؓ سے محبت کرتے ہیں، ابوبکرؓ سے محبت کرتے ہیں، عمرؓ سے محبت کرتے ہیں، عثمانؓ سے محبت کرتے ہیں، آلِ رسول ﷺ سے محبت رکھتے ہیں، اور تمام صحابۂ کرامؓ سے راضی ہیں۔ اسی راستے میں فضائل بھی محفوظ رہتے ہیں، احادیث بھی محفوظ رہتی ہیں، اہلِ بیت کا مقام بھی محفوظ رہتا ہے، اور صحابۂ کرامؓ کا مقام بھی محفوظ رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے اور اس کی پیروی کی، باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے کی، اہلِ بیت سے سچی محبت کی، صحابۂ کرامؓ کے ادب کی اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔

عقائد
فتویٰ نمبر
OM-2026-03800
QR

اسکین کریں
تاریخ
21-10-2026



✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان

آن لائن مفتی | onlinemufti.org

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے