سوال:
السلام علیکم! میرا سوال ہے۔
صحیح احادیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز شروع کرتے وقت، رکوع میں جانے سے پہلے تکبیر کہتے ہوئے، اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین فرماتے تھے۔
مثلاً:
صحیح بخاری، حدیث 735 — اس میں رکوع سے پہلے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کا ذکر ہے۔
اسی طرح
صحیح مسلم، حدیث 390
سنن ابی داؤد، حدیث 722
صحیح بخاری، حدیث 739
تو میرا سوال یہ ہے کہ جب یہ عمل صحیح احادیث سے نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے، تو ہم رفع الیدین کیوں نہیں کرتے؟ اس کے ترک کی دلیل کیا ہے؟
اگر ترکِ رفع الیدین کے بارے میں بھی کوئی صحیح حدیث موجود ہے تو براہِ کرم اس کا عربی متن، حدیث نمبر اور کتاب کا حوالہ بھی بتا دیں۔
وعلیکم السلام
نماز مین رفع یدین کرنا اور نہ کرنا ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جس پہ بحث کی جائے، دونوں طرف صحیح احادیث سے بہت سے دلائل موجود ہیں تو جو کوئی بھی کسی صحیح حدیث پہ خلوص نیت سے عمل کرتا ہے تو اسے غلط یا گمراہ نہیں کہا جا سکتا ۔۔
رفع یدین کے حق میں کئی دلائل آپ نے ذکر کر دیئے ہیں اس کے علاوہ بھی ہیں اسی طرح صحیح بخاری 828، صحیح مسلم حدیث نمبر 968، جامع ترمذی 257، سنن ابو داؤد 748 ، 751 اور 1000، سنن نسائی 1185 ، مصنف ابن ابی شیبہ ، مصنف عبد الرزاق، سنن دارقطنی ، سرح معانی الآثار، مسند ابو یعلی اور دیگر بھی کئی کتب میں روایات ترک رفع یدین پہ موجود ہیں لہذا اس موضوع پر بحث کرنے کا کوئی تک نہیں بنتا ، آپ کو جس عالم پہ اعتبار ہے اس کی بات پہ عمل کر لیں ، بہر حال میرا موقف یہ ہے کہ یہ صرف افضلیت کا اختلاف ہے رفع یدین شروع مین مشروع تھا بعد میں ختم کر دیا گیا۔۔ اگر کوئی اس کے خلاف دلائل کی بنیاد پہ عمل کرتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
اللہ اعلم بالصواب
✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان
آن لائن مفتی | onlinemufti.org
