غدیرِ خم کی حقیقت کیا ہے؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے 18 ذوالحجہ 10 ہجری کو غدیرِ خم کے مقام پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنا بلا فصل خلیفہ مقرر فرمایا تھا؟ یہ وہ سوال ہے جس پر صدیوں سے بحث ہو رہی ہے — اور افسوس کہ اکثر بحثیں ٹھنڈے دل کے بجائے گرم جذبات سے ہوئی ہیں۔
اس مضمون میں ہم دلیل کو دلیل کی جگہ رکھیں گے۔ نہ کسی کی تنقیص مقصود ہے، نہ جذبات کا کھیل۔ صرف تین چیزیں دیکھیں گے: الفاظ کیا ہیں، موقع کیا ہے، اور سننے والوں (صحابہ کرام) نے کیا سمجھا؟ کیونکہ کسی بھی علمی مباحثے میں جو فریق دعویٰ کرتا ہے، ثبوت کا بوجھ اسی پر ہوتا ہے۔
اصل اختلاف کہاں ہے؟
اس مسئلے میں تین باتیں الگ الگ ہیں، اور اکثر مباحثے اسی لیے الجھتے ہیں کہ تینوں کو آپس میں ملا دیا جاتا ہے:
| نکتہ | اہلِ سنت کا موقف | اختلاف ہے؟ |
|---|---|---|
| کیا واقعۂ غدیر ثابت ہے؟ | جی ہاں، ثابت ہے | نہیں — دونوں مانتے ہیں |
| لفظ "مولیٰ” کا مطلب کیا ہے؟ | محبوب و مددگار (سیاق کے مطابق) | جی ہاں — اصل بحث یہیں ہے |
| کیا اس سے خلافتِ بلا فصل ثابت ہوتی ہے؟ | نہیں — یہ سیاسی جانشینی کی صریح نص نہیں | جی ہاں |
ایک بات واضح کر دیں: اہلِ سنت کے نزدیک حضرت علیؓ کی فضیلت، قرابت اور محبت ایمان کا حصہ ہے۔ ہم حدیثِ غدیر کو حضرت علیؓ کی عظیم منقبت مانتے ہیں۔ ہم صرف اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ یہ حدیث "نبی ﷺ کے بعد کے لیے سیاسی جانشینی کی صریح نص” ہے۔
واقعۂ غدیر کا پس منظر
نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ کو یمن بھیجا تھا۔ واپسی پر مالِ غنیمت اور خمس کی تقسیم کے ایک معاملے میں بعض ساتھیوں کے دل میں حضرت علیؓ کے بارے میں شکایت پیدا ہوئی۔ صحیح بخاری (حدیث 4350) میں اس کا ذکر موجود ہے۔
حجۃ الوداع سے واپسی پر، 18 ذوالحجہ کو غدیرِ خم کے مقام پر (جو مکہ سے مدینہ جاتے ہوئے الجحفہ کے قریب ایک تالاب تھا) نبی ﷺ نے قافلہ روک کر خطبہ دیا۔ تو پہلا نکتہ یہ ہوا: جس موقع پر یہ جملہ فرمایا گیا، اس موقع کا مسئلہ شکایت کا ازالہ تھا، جانشینی کا اعلان نہیں۔
خطبۂ غدیر کے اصل الفاظ
صحیح مسلم میں غدیر کے خطبے کا جو متن آتا ہے، اس میں نبی ﷺ نے فرمایا: "میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں۔ ان میں پہلی اللہ کی کتاب ہے۔ اس میں ہدایت اور نور ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو۔” پھر فرمایا: "اور میرے اہلِ بیت، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔” یہ تین بار فرمایا۔
أُذَكِّرُكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي
دیکھیں، صحیح مسلم کے اس متن میں خطبے کا مرکز قرآن سے وابستگی اور اہلِ بیت کے حقوق ہے۔ اس میں "میرے بعد علی خلیفہ” کا کوئی جملہ نہیں ہے۔ حضرت زید بن ارقمؓ سے جب پوچھا گیا کہ اہلِ بیت کون ہیں، تو انہوں نے فرمایا: وہ جن پر صدقہ حرام ہے — آلِ علی، آلِ عقیل، آلِ جعفر، آلِ عباس۔ تو یہ خطبہ پورے خاندانِ بنو ہاشم کے احترام کی تاکید تھا۔
اور وہ مشہور جملہ:
مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ
یہ اصل حدیث ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس میں "مولیٰ” سے کیا مراد ہے؟
لفظِ "مولیٰ” کا تجزیہ
عربی لغت میں "مولیٰ” کے بیس سے زیادہ معانی ہیں: دوست، مددگار، آزاد کرنے والا، آزاد کردہ، چچا زاد بھائی، پڑوسی، سرپرست اور بھی بہت سے۔ جب کسی لفظ کے اتنے معانی ہوں تو کسی ایک کو متعین کرنے کے لیے قرینہ چاہیے۔ لغت دلیل نہیں بنتی، قرینہ دلیل بنتا ہے۔
قرینہ نمبر 1: حدیث کا اپنا جملہ
اسی حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا:
اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ
اے اللہ! جو اس سے موالات (دوستی) رکھے تو اس سے موالات رکھ، اور جو اس سے عداوت (دشمنی) رکھے تو اس سے عداوت رکھ۔ غور کریں: جملے کا مقابلہ "ولا” بمقابلہ "عداوت” ہے۔ اگر مراد "حاکم” ہوتی تو مقابل میں "نافرمانی” کے الفاظ آتے۔ دوستی کی ضد دشمنی ہوتی ہے — تو "مولیٰ” یہاں دوستی اور نصرت کے معنی میں زیادہ طبعی طور پر بیٹھتا ہے۔
قرینہ نمبر 2: قرآن میں "مولیٰ” کا استعمال
فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ
(التحریم: 4) — یہاں جبرئیل علیہ السلام اور صالح مومنین کو نبی ﷺ کا "مولیٰ” فرمایا گیا۔ کیا ہم کہیں گے کہ وہ نبی ﷺ کے حاکم تھے؟ ظاہر ہے نہیں۔ یہاں مراد مددگار ہے۔
قرینہ نمبر 3: "میرے بعد” کی قید کہاں ہے؟
حدیث میں نہ خلیفہ ہے، نہ امام، نہ امیر المومنین، نہ "بعدی” (میرے بعد)۔ یہ آخری قید نہایت اہم ہے۔ اگر مقصود بعد از وفات جانشینی تھا تو سب سے ضروری قید یہی تھی — اور وہ موجود نہیں۔
قرینہ نمبر 4: صراحت کا اصول
نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، سود کی حرمت — ہر بنیادی حکم صراحت سے آیا۔ تو کیا ممکن ہے کہ امت کی پوری قیادت، جس پر ایمان و کفر کا فیصلہ ہو، صرف ایک مشترک المعانی لفظ میں بیان کی جائے؟ نبی ﷺ افصح العرب تھے؛ اگر مقصود خلافت تھا تو یہ جملہ آسان تھا:
أَلَا إِنَّ عَلِيًّا خَلِيفَتِي مِنْ بَعْدِي، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا
جب آپ ﷺ نے یہ نہ فرمایا تو یہی دلیل ہے کہ یہ مقصود نہ تھا۔ جتنا بڑا دعویٰ، اتنی بڑی صراحت درکار ہوتی ہے۔
ناقدین کے بڑے استدلالات اور ان کے جوابات
استدلال 1: "اتنے بڑے اجتماع کا کیا مقصد تھا؟”
اعتراض: دوپہر کی گرمی میں قافلہ روکا، آگے والوں کو واپس بلایا، پالانوں کا منبر بنایا — اگر مقصد صرف محبت کی تلقین تھی تو اتنا اہتمام کیوں؟
جواب: اہتمام سے مضمون کی اہمیت ثابت ہوتی ہے، نوعیت متعین نہیں ہوتی۔ قرآن، اہلِ بیت اور حضرت علیؓ کی محبت کی تاکید — یہ سب بڑے اہتمام کی چیزیں ہیں۔ دوسری بات: جب کسی جلیل القدر صحابی کے خلاف قافلے میں شکایتیں فساد کی شکل اختیار کرنے لگیں تو قائد کا فرض ہے کہ سب کے سامنے اس کی عزت بحال کرے۔ تیسری بات: اگر مقصد پوری امت کو بتانا تھا تو عرفات (9 ذوالحجہ) اور منیٰ کے خطبے موجود تھے، جہاں پورے عالمِ اسلام کے حاجی تھے — ان میں خلافتِ علیؓ کا ذکر ثابت نہیں۔ جب اعلان چند قافلوں کے سامنے ہو تو عقل کہتی ہے کہ مقصد انہی قافلوں سے متعلق تھا، یعنی یمن کی شکایتیں۔
استدلال 2: "مولیٰ کا معنی حاکم ہے”
اعتراض: پہلے فرمایا "أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟” پھر "مولیٰ” — لہٰذا مولیٰ بھی "اولیٰ بالتصرف” یعنی حاکم ہوا۔
جواب: یہ ناقدین استدلال کا سب سے مضبوط حصہ ہے، اسے ہلکا لینا علمی بددیانتی ہوگی۔ مگر: (1) لغت میں معنی کا ہونا اور اس مقام پر مراد ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ (2) "اولیٰ” والی آیت (الاحزاب: 6) نبی ﷺ کے منصبِ نبوت کا بیان ہے، اور نبوت منتقل نہیں ہوتی۔ (3) ایک ہی مادے کے الفاظ ہر جگہ ایک مفہوم میں نہیں آتے۔ (4) فرض کریں مولیٰ بمعنی اولیٰ ہے — تب بھی "میرے بعد” کی قید کہاں ہے؟ خلافت جیسے مسئلے میں یہ خلا معمولی نہیں۔
استدلال 3: حضرت عمرؓ کی مبارک باد
اعتراض: حضرت عمرؓ نے فرمایا: "مبارک ہو اے ابنِ ابی طالب! آپ آج میرے اور ہر مومن کے مولیٰ ہو گئے” — یہ خلافت پر مبارک باد ہے۔
جواب: پہلا سوال سند کا ہے — اس روایت کی سند میں علی بن زید بن جدعان ہے، جس پر محدثین نے کلام کیا ہے۔ عقیدے کی بنیاد ضعیف روایت پر نہیں رکھی جاتی۔ دوسرا: "أصبحت” (آج بن گئے) — اگر مراد خلافت ہوتی تو 18 ذوالحجہ سے ہی حضرت علیؓ بالفعل خلیفہ ہوتے، جو نبی ﷺ کی زندگی میں ممکن نہیں۔ مطلب یہی کہ آج آپ ﷺ نے شکایات کا ازالہ کر کے ان کی عظمت واضح فرما دی۔ تیسرا: اگر حضرت عمرؓ کو علم تھا کہ علیؓ خلیفہ مقرر ہوئے تو وہ سقیفہ میں کیوں خاموش رہے؟
استدلال 4: آیتِ تبلیغ (المائدہ: 67)
اعتراض: "يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ” غدیر میں ولایت کے اعلان کے لیے نازل ہوئی۔
جواب: آیت میں نہ علی کا نام ہے، نہ غدیر کا ذکر، نہ خلافت کا لفظ۔ ترمذی (حدیث 3046) میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ یہ آیت پہرے داری کے خاتمے کے موقع پر نازل ہوئی — اور یہ غدیر سے بہت پہلے کی بات ہے۔
استدلال 5: آیتِ اکمال (المائدہ: 3)
اعتراض: "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ” غدیر کے دن نازل ہوئی۔
جواب: صحیح بخاری (حدیث 45) اور صحیح مسلم (حدیث 3017) میں حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: "میں جانتا ہوں یہ کس دن نازل ہوئی — یومِ عرفہ، جمعہ کے دن، نبی ﷺ عرفات میں کھڑے تھے۔” عرفہ 9 ذوالحجہ ہے، غدیر 18 ذوالحجہ — نو دن کا فرق۔ جو آیت نو دن پہلے نازل ہو چکی، اسے نو دن بعد کے واقعے کا نتیجہ کہنا تاریخی طور پر ممکن نہیں۔
استدلال 6: حدیثِ منزلت
اعتراض: "أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى” — جیسے ہارونؑ موسیٰؑ کے خلیفہ، ویسے علیؓ آپ کے خلیفہ۔
جواب: حدیث صحیح ہے اور عظیم فضیلت ہے، مگر سیاق غزوۂ تبوک ہے — عارضی نیابت اور دلجوئی کا موقع۔ نبی ﷺ نے کئی سفروں میں مختلف صحابہ کو نائب بنایا (مثلاً ابن ام مکتومؓ) — ہر نیابت دائمی خلافت نہیں۔ اور ہارونؑ کی وفات موسیٰؑ سے پہلے ہو گئی؛ ان کے بعد قیادت یوشع بن نونؑ کے پاس آئی۔ اگر مثال مکمل لی جائے تو نتیجہ الٹ ہو جاتا ہے۔
استدلال 7: آیتِ ولایت (المائدہ: 55)
اعتراض: "إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا” — یہ علیؓ کے بارے میں ہے۔
جواب: "الذین آمنوا” جمع کا صیغہ ہے، کسی ایک کا نام نہیں۔ ماقبل و مابعد کی آیات (51، 56) میں یہود و نصاریٰ کو اولیاء بنانے سے روکا گیا ہے — پورا سیاق باہمی دوستی و نصرت کا ہے۔ انگوٹھی والے واقعے کی اسناد پر ابن کثیر وغیرہ نے ضعف کا حکم لگایا ہے۔
استدلال 8: حدیثِ ثقلین
اعتراض: کتاب اللہ اور اہلِ بیت کو تھامنے کی وصیت امامت کی دلیل ہے۔
جواب: ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ مگر "اہلِ بیت سے وابستہ رہنا” اور "بارہ ائمہ منصوص ہیں” دو الگ باتیں ہیں۔ حدیث میں نہ بارہ کی گنتی ہے، نہ علیؓ کا نام، نہ بلا فصل خلافت کی تعیین۔
فہمِ صحابہ — سب سے بڑی دلیل
کسی عبارت کو سب سے بہتر وہ سمجھتے ہیں جو اس کے سننے والے ہوں۔ اگر "مولیٰ” سے مراد خلافت تھی تو پہلے مخاطبین کو خبر ہونی چاہیے تھی:
1. حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ کا مکالمہ: صحیح بخاری (حدیث 4447) — مرضِ وفات میں حضرت عباسؓ نے پوچھا کہ "یہ امر کس کے پاس رہے گا؟” حضرت علیؓ نے غدیر کا حوالہ نہ دیا۔ غدیر کو صرف ڈھائی ماہ گزرے تھے!
2. حضرت علیؓ کی اپنی گواہی: صحیح بخاری (حدیث 111) — پوچھا گیا: کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کوئی خاص چیز ہے؟ فرمایا: نہیں، سوائے اللہ کی کتاب اور اس صحیفے کے (دیت وغیرہ کے احکام)۔
3. حضرت عائشہؓ کا قول: صحیح بخاری (2741) و صحیح مسلم (1636) — "نبی ﷺ نے کب وصیت کی؟ آپ تو میرے سینے سے ٹیک لگائے وفات پا گئے۔”
4. سقیفہ میں خاموشی: وفات کے فوراً بعد سقیفہ میں خلافت پر بحث ہوئی — مگر کسی ایک صحابی نے بھی غدیر کو بطور دلیل پیش نہ کیا۔ نہ مہاجر نے، نہ انصاری نے، نہ بنو ہاشم نے۔
5. نہج البلاغہ سے الزامی دلیل: حضرت علیؓ کا حضرت معاویہؓ کو خط — "جن لوگوں نے ابوبکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ کی بیعت کی، انہی نے میری بیعت کی؛ شوریٰ مہاجرین و انصار کا حق ہے۔” اور ایک خطبے میں: "مجھے چھوڑ دو اور کسی اور کو تلاش کر لو۔” اگر نص سے منصب مقرر ہوتا تو یہ الفاظ کیا معنی رکھتے؟
پانچ بنیادی سوالات
- لفظِ "مولیٰ” کے بیس سے زائد معانی میں سے "حاکم” کو متعین کرنے والا قطعی قرینہ کیا ہے؟ جبکہ اسی حدیث میں اس کے مقابل "عداوت” آ رہی ہے، نہ کہ "نافرمانی”۔
- "میرے بعد” کی قید کہاں ہے؟ جس مسئلے پر ایمان کا مدار ہو، اس میں قید کا نہ ہونا معمولی بات نہیں۔
- حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ نے ڈھائی ماہ بعد خلافت کے بارے میں سوال کیوں کیا؟ اور حضرت علیؓ نے غدیر کا حوالہ کیوں نہ دیا؟
- سقیفہ میں کسی صحابی نے غدیر کا حوالہ کیوں نہ دیا؟ ہزاروں سامعین ڈھائی ماہ میں یہ کیسے بھول گئے؟
- آیاتِ مائدہ کے غدیر سے تعلق کی کوئی صحیح، صریح سند کیا ہے؟ جبکہ صحیحین میں آیتِ اکمال کے عرفہ میں نزول کی صراحت ہے۔
اہلِ سنت کا مثبت موقف
ہم صرف رد نہیں کرتے — ہمارا مثبت موقف بھی ہے:
- حضرت علیؓ نبی ﷺ کے داماد، چچا زاد بھائی، خلفائے راشدین میں چوتھے خلیفہ اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔
- ان کی محبت ایمان کی علامت ہے۔ صحیح مسلم میں ہے:
لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ
مومن ہی تجھ سے محبت کرے گا اور منافق ہی تجھ سے بغض رکھے گا۔
- خلافتِ راشدہ شوریٰ اور بیعت کے نظام پر قائم ہوئی — چاروں خلفاء کی خلافت اپنے اپنے وقت پر برحق ہے۔
- حضرت علیؓ نے تینوں خلفاء کے ساتھ تعاون فرمایا، ان کے پیچھے نمازیں پڑھیں اور مشورے دیے۔
- ہم صحابہ کرام پر زبانِ طعن کو غلط سمجھتے ہیں، اور اہلِ بیت کی عظمت کا اقرار کرتے ہیں۔
خلاصہ
حدیثِ غدیر ثابت ہے، حضرت علیؓ کی عظیم منقبت ہے اور ہمارے سروں کا تاج ہے۔ مگر اس سے "خلافتِ بلا فصل کی صریح نص” ثابت کرنے کے لیے لفظ، سیاق، سند اور فہمِ صحابہ — چاروں مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور ہم نے دیکھا: لفظ مشترک ہے، سیاق شکایات کے ازالے کا ہے، بعض اضافوں پر سند کا کلام ہے، اور صحابہؓ، حضرت عباسؓ، حضرت عائشہؓ اور خود حضرت علیؓ کے فہم میں یہ بات خلافت کے اعلان کے طور پر نہیں آئی۔
ان مباحث میں ہماری ذمہ داری دلیل دینا ہے، دل توڑنا نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیت اور صحابہ کرام سب کی محبت پر قائم رکھے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کیا غدیرِ خم کا واقعہ ثابت ہے؟
جی ہاں۔ صحیح مسلم میں حضرت زید بن ارقمؓ کی روایت سے غدیرِ خم کا خطبہ ثابت ہے، اور "من کنت مولاہ فعلی مولاہ” کی اصل محدثین کے نزدیک صحیح یا حسن ہے۔
کیا حدیثِ غدیر خلافتِ بلا فصل کی نص ہے؟
اہلِ سنت کے نزدیک نہیں۔ حدیث ثابت ہے مگر مولیٰ کثیر المعانی لفظ ہے، اور حدیث میں خلیفہ، امام یا "بعدی” کا کوئی لفظ موجود نہیں۔
لفظِ مولیٰ کا صحیح معنی کیا ہے؟
اس سیاق میں دوست و مددگار۔ خود حدیث میں اس کے مقابل "عداوت” آئی ہے، اور قرآن (التحریم: 4) میں بھی مولیٰ مددگار کے معنی میں آیا ہے۔
یمن کے واقعے کا غدیر سے کیا تعلق ہے؟
یمن میں خمس کی تقسیم پر حضرت علیؓ کے خلاف شکایتوں کے ازالے کے لیے نبی ﷺ نے ان کی محبت و نصرت کی تاکید فرمائی — یہی سیاق معنی متعین کرتا ہے۔
صحابہؓ نے سقیفہ میں غدیر کو دلیل کیوں نہ بنایا؟
کیونکہ وہ اسے خلافت کی نص نہیں سمجھتے تھے۔ اگر یہ قطعی اعلان ہوتا تو ڈھائی ماہ بعد ہزاروں صحابہ اسے بھولتے نہ، اور حضرت علیؓ خود اس کا حوالہ دیتے۔
کیا اہلِ سنت حضرت علیؓ کی فضیلت مانتے ہیں؟
بالکل۔ حضرت علیؓ خلفائے راشدین میں چوتھے خلیفہ، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، اور ان کی محبت ایمان کی علامت ہے۔ اختلاف صرف خلافتِ بلا فصل کی نص میں ہے۔
✍️ مصنف: ڈاکٹر مولانا عمران خان
آن لائن مفتی | onlinemufti.org




