مشاجراتِ صحابہؓ کیا ہیں؟ مفہوم، اقسام اور مطالعے کی اہمیت

جب ہم اسلامی تاریخ پڑھتے ہیں تو ایک نہ ایک دن ہر سوچنے والے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے: صحابہ کرامؓ — وہ عظیم ہستیاں جنہوں نے دین کے لیے سب کچھ قربان کیا — ان کے درمیان اختلاف کیسے پیش آیا؟ جمل اور صفین جیسی جنگیں کیوں ہوئیں؟ اور آج ہم ان واقعات کو کس نظر سے دیکھیں؟

اس مضمون میں ہم اس پورے موضوع کی بنیاد سمجھیں گے: مشاجراتِ صحابہ آخر ہے کیا چیز؟ اس کا دائرہ کیا ہے؟ صحابہ کے اختلافات کی کتنی قسمیں تھیں؟ کیا ہر اختلاف جنگ تھا؟ اور سب سے اہم — ہم اس حساس موضوع کو پڑھیں کیسے؟ یہ مضمون نئے پڑھنے والوں کے لیے ایک آسان اور متوازن تعارف ہے۔

لفظ "مشاجرات” کا مفہوم

 

کسی بھی علمی موضوع کی بنیاد اس کے لفظی مفہوم سے پڑتی ہے۔ "مشاجرات” عربی کے لفظ "شَجَر” سے ماخوذ ہے۔ عربی میں "شجر” درخت کے

لیے آتا ہے، اور درختوں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ جب وہ ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں تو ان کی شاخیں، ٹہنیاں اور پتے آپس میں الجھ جاتے ہیں۔ اسی سے "تشاجر” اور "مشاجرہ” کا مفہوم نکلا: یعنی باہم الجھنا اور اختلاف کرنا۔

علامہ ابنِ منظورؒ اپنی مشہور لغت لسان العرب میں لکھتے ہیں:

تَشَاجَرُوا: اخْتَلَفُوا وَتَنَازَعُوا

یعنی "وہ آپس میں اختلاف اور نزاع میں پڑ گئے۔”

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ

ترجمہ: "پس آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو حَکَم نہ بنا لیں۔” (سورۃ النساء: ۶۵) — یہاں شَجَرَ بَیْنَہُمْ سے مراد باہمی نزاع اور اختلاف ہے۔

لفظ مشاجرات کا لغوی مفہوم: درخت کی شاخیں

اصطلاحی مفہوم: ایک اہم وضاحت

جب ہم "مشاجراتِ صحابہ” کہتے ہیں تو اس سے مراد وہ اختلافات، نزاعات اور تنازعات ہیں جو صحابہ کرامؓ کے درمیان — خاص طور پر خلافتِ راشدہ کے آخری دور اور اس کے بعد کے ابتدائی دور میں — سیاسی، انتظامی، اجتہادی اور عملی معاملات میں پیش آئے۔

یہاں ایک بات انتہائی اہم ہے، جسے سمجھے بغیر پورا موضوع بگڑ جاتا ہے:

مشاجرات صحابہ کی پوری زندگی نہیں! یہ صرف ایک خاص تاریخی مرحلے کا عنوان ہے۔ صحابہ کرامؓ کی زندگی کا پہلا اور سب سے بڑا حصہ تو رسول اللہ ﷺ کی صحبت، غزوات، فتوحات اور دین کی خدمت ہے۔ لہٰذا "مشاجرات” صحابہ کرامؓ کی شخصیت کا تعارف نہیں، بلکہ ان کی زندگی کے ایک مخصوص دور میں پیش آنے والے واقعات کا علمی عنوان ہے۔

"مشاجرات” اور "فتن” میں فرق

بعض لوگ ان دونوں الفاظ کو ایک ہی سمجھ لیتے ہیں، لیکن باریک فرق ہے۔ فتن (فتنہ کی جمع) ایک وسیع اصطلاح ہے جس میں ہر قسم کی آزمائش، امتحان اور انتشار شامل ہے۔ جبکہ مشاجرات خاص طور پر صحابہ کرامؓ کے باہمی اختلافات کے لیے استعمال ہوتا ہے — جس میں یہ اشارہ پنہاں ہے کہ یہ اختلافات دونوں طرف سے مخلص لوگوں کے درمیان تھے۔ "فتنہ” میں عام طور پر فساد اور بغاوت کا پہلو غالب ہوتا ہے، جبکہ "مشاجرات” میں اجتہادی اختلاف کا پہلو غالب ہے۔

مشاجراتِ صحابہ کا دائرہ کار

عام طور پر علماء نے اس دائرے کو ۳۵ ہجری سے ۶۱ ہجری تک کے دور تک محدود رکھا ہے، تاہم اس موضوع کو سمجھنے کے لیے اس سے پہلے اور بعد کے بعض واقعات بھی زیرِ بحث آتے ہیں — جیسے سقیفہ بنی ساعدہ، حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کے دور کے اہم واقعات، حضرت عثمانؓ کے آخری دور کے حالات، عبداللہ بن سبا کی سازشیں، شہادتِ عثمانؓ، پھر دورِ علیؓ کے اہم واقعات: قصاصِ عثمانؓ کا مسئلہ، جنگِ جمل، جنگِ صفین، واقعۂ تحکیم، خوارج کا ظہور، شہادتِ علیؓ، صلحِ حسنؓ، حضرت امیر معاویہؓ کی خلافت اور پھر سانحۂ کربلا (۶۱ ہجری)۔

یہ اسلامی تاریخ کا سب سے دردناک باب ہے — مگر اسے سمجھے بغیر آج کے بہت سے سوالات کا جواب نہیں مل سکتا۔

صحابہ کے اختلافات کی چار نوعیتیں

یہاں ایک عظیم غلطی ہوتی ہے کہ لوگ تمام اختلافات کو ایک ہی پلڑے میں رکھ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کے درمیان جو اختلافات پیش آئے، وہ چار مختلف قسموں کے تھے:

پہلی قسم: علمی اختلاف

یہ اختلافات قرآن کی تفسیر، حدیث کی تعبیر یا کسی دینی مسئلے میں تھے — جیسے کسی آیت کا معنی، یا کسی حدیث کے حکم کا استنباط۔ یہ اختلاف بالکل فطری ہے اور آج بھی علماء کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ علمی اختلاف ہے، نہ کہ دشمنی۔

دوسری قسم: فقہی و اجتہادی اختلاف

یہ اختلاف شریعت کے کسی مسئلے میں اجتہاد کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مثال: حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا قرآن کی جمع کے مسئلے میں اختلاف — حضرت ابوبکرؓ نے پہلے ہچکچاہٹ دکھائی کہ یہ کام رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا، جبکہ حضرت عمرؓ نے اسے ضروری قرار دیا۔ (صحیح بخاری: ۴۹۸۶)

رسول اللہ ﷺ نے اجتہاد کے بارے میں فرمایا:

إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ

ترجمہ: "جب حاکم اجتہاد کرے اور درست ہو تو اسے دو اجر ملتے ہیں، اور جب اجتہاد کرے اور غلطی ہو جائے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔” (صحیح بخاری: ۷۳۵۲، صحیح مسلم: ۱۷۱۶)

اہم نکتہ: اجتہادی غلطی بدنیتی نہیں ہوتی — نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔

تیسری قسم: سیاسی و انتظامی اختلاف

یہ اختلاف حکومت، انتظامِ ریاست، قصاص یا پالیسی کے معاملات میں تھا۔ جیسے: قاتلانِ عثمانؓ سے قصاص کب لیا جائے؟ حضرت علیؓ کا مؤقف تھا کہ پہلے حالات قابو میں کیے جائیں، پھر قصاص؛ جبکہ حضرت طلحہؓ و زبیرؓ فوری قصاص کو دین کا تقاضا سمجھتے تھے۔ یہ دینی اختلاف نہیں تھا، بلکہ سیاسی حکمتِ عملی کا اختلاف تھا۔

چوتھی قسم: باقاعدہ قتال تک پہنچنے والے اختلافات

بدقسمتی سے بعض اختلافات مسلح تصادم تک پہنچ گئے: جنگِ جمل، جنگِ صفین اور جنگِ نہروان۔ لیکن یہاں ذہن نشین کریں: جنگ ہونا، کفر یا فسق کی دلیل نہیں۔ یہ جنگیں اجتہادی غلطیوں کا نتیجہ تھیں، نہ کہ اقتدار کی ہوس کا۔

امام ابنِ حزمؒ لکھتے ہیں:

كُلُّ مَا جَرَى مِنَ الْقِتَالِ بَيْنَ الصَّحَابَةِ فَإِنَّمَا كَانَ عَنِ اجْتِهَادٍ، لَا عَنْ هَوًى

ترجمہ: "صحابہ کرامؓ کے درمیان جو بھی قتال ہوا، وہ اجتہاد کی بنیاد پر تھا، نفسانی خواہش کی بنیاد پر نہیں۔” (الفصل فی الملل والاہواء والنحل)

اختلافات کی چار نوعیتیں

کیا ہر اختلاف جنگ یا فتنہ تھا؟

نہیں! ہر اختلاف جنگ نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کے درمیان جو اختلافات پیش آئے، ان میں سے اکثریت ایسی نہیں تھی جو باقاعدہ جنگ تک پہنچی ہو:

  • علمی اختلافات: بہت زیادہ، لیکن جنگ نہیں۔
  • فقہی اختلافات: عام، لیکن جنگ نہیں۔
  • سیاسی اختلافات: موجود، لیکن زیادہ تر بات چیت سے حل ہوئے۔
  • مسلح تصادم: صرف چند مواقع پر، اور وہ بھی ایک مخصوص پس منظر میں۔

باقاعدہ قتال صرف تب ہوا جب عبداللہ بن سبا جیسے سازشی عناصر نے حالات کو اس نقطے پر لا کھڑا کیا جہاں سے نکلنا مشکل ہو گیا۔

صحابہ کے اختلافات اور عام سیاسی جنگوں میں فرق

دنیا کی جنگیں زمین، دولت، اقتدار کی ہوس، انتقام یا قبائلی عصبیت کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ لیکن صحابہ کرامؓ کے درمیان جو ہوا، اس کی بنیاد کیا تھی؟ حضرت علیؓ سمجھ رہے تھے: پہلے اتحاد، پھر قصاص۔ حضرت طلحہؓ و زبیرؓ سمجھ رہے تھے: فوری قصاص دین کا تقاضا ہے۔ دونوں فریق مخلص تھے، دونوں کی نیت صاف تھی، دونوں حق پرست تھے — لیکن اجتہاد مختلف تھا۔ اور اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے اجتہاد کی غلطی پر بھی اجر کی بشارت دی۔ یہی فرق ہے جو صحابہ کرامؓ کے تنازعات کو عام سیاسی جنگوں سے ممتاز کرتا ہے۔

اس موضوع کا مطالعہ کیوں ضروری ہے؟

بعض لوگ کہتے ہیں: "یہ سب چھوڑ دیں، نہ پڑھیں، نہ پوچھیں۔” لیکن تین ایسی وجوہات ہیں جو اس موضوع کا مطالعہ ضروری بناتی ہیں:

پہلی وجہ: دفاعِ ایمان

آج کے ڈیجیٹل دور میں یوٹیوب، واٹس ایپ اور فیس بک پر ایسی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جو صحابہ کرامؓ کے بارے میں انتہائی غلط تصویر پیش کرتی ہیں۔ اگر آپ کے پاس علم نہیں تو آپ کا دل ان جھوٹوں سے متاثر ہوگا۔ قرآن کہتا ہے:

فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

ترجمہ: "اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔” (سورۃ النحل: ۴۳) — جو نہیں جانتا، وہ دوسروں کے جھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔

دوسری وجہ: تاریخ سے سبق

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ

ترجمہ: "یقیناً ان کے قصوں میں عقل مندوں کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔” (سورۃ یوسف: ۱۱۱) اور فرمایا: فَاعْتَبِرُوا یَا أُولِی الْأَبْصَارِ — "پس اے آنکھوں والو! عبرت حاصل کرو۔” (سورۃ الحشر: ۲) تاریخ اس لیے پڑھتے ہیں کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور انہیں دہرانے سے بچیں۔

تیسری وجہ: اکابرین نے خود اس پر لکھا

بعض لوگ کہتے ہیں: "اس موضوع میں نہ پڑھو، یہ فتنہ ہے۔” لیکن حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کے جلیل القدر اکابرین نے خود اس پر تفصیلی گفتگو کی: امام ابوحنیفہؒ نے الفقہ الاکبر میں موقف بیان کیا؛ قاضی ابوبکر ابنِ العربیؒ نے العواصم من القواصم لکھی؛ امام ابنِ تیمیہؒ نے منہاج السنۃ النبویہ میں تجزیہ کیا؛ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ازالۃ الخفاء میں قلم اٹھایا۔ اگر یہ موضوع ناقابلِ ذکر ہوتا تو یہ عظیم اکابرین کیوں لکھتے؟ خاموشی کوئی حل نہیں — علم حل ہے۔

غلط انداز سے پڑھنے کے تین بڑے نقصانات

جتنا ضروری یہ سمجھنا ہے کہ پڑھنا کیوں ضروری ہے، اتنا ہی ضروری یہ جاننا ہے کہ غلط طریقے سے پڑھنے کے کیا خطرات ہیں:

پہلا نقصان: صحابہ کے بارے میں سوءِ ظن

جب بغیر تحقیق، بغیر اسناد کی جانچ، صرف تاریخ کی کتابوں کی ہر روایت کو سچ مان لیا جائے تو آہستہ آہستہ دل میں بغض پیدا ہوتا ہے — اور یہ انتہائی خطرناک ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي

ترجمہ: "اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے معاملے میں! میرے بعد انہیں تنقید کا نشانہ مت بناؤ۔” (سنن ترمذی: ۳۸۶۲)

اور فرمایا:

لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ

ترجمہ: "میرے صحابہ کو برا مت کہو؛ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو بھی ان کے ایک مُد یا آدھے مُد کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔” (صحیح بخاری: ۳۶۷۳، صحیح مسلم: ۲۵۴۱)

دوسرا نقصان: فرقہ واریت

تاریخی واقعات کو فرقہ وارانہ چشمے سے دیکھنے سے آج کے مسلمانوں میں نفرتیں پھیلتی ہیں۔ جو ۱۴۰۰ سال پہلے کے واقعات کو آج کی نفرتوں کی بنیاد بناتے ہیں، وہ اسلام کا نہیں، اپنے فرقے کا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ

ترجمہ: "اور ان لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جو واضح دلائل آنے کے بعد بھی تفرقے میں پڑ گئے۔” (سورۃ آل عمران: ۱۰۵)

تیسرا نقصان: جھوٹی روایات کو دین بنا لینا

تاریخ کی کتابوں میں — خاص طور پر تاریخِ طبری میں — بہت سی روایات ضعیف یا موضوع ہیں۔ خود امام طبریؒ نے اپنی کتاب کے مقدمے میں لکھا کہ اس کتاب میں جو روایت قاری کو ناپسند ہو تو جان لے کہ یہ ان کی طرف سے نہیں، بلکہ اس کے ناقلین میں سے کسی کی طرف سے آئی ہے۔ یعنی خود امام طبریؒ نے اپنی کتاب کی ہر روایت کی ذمہ داری نہیں لی! جو شخص علمِ اسناد کے بغیر تاریخ پڑھتا ہے، وہ جھوٹی کہانیوں کو بھی دین سمجھ لیتا ہے۔

روایات کی جانچ: پانچ بنیادی سوال

یہ اس موضوع کا سب سے بڑا علمی چیلنج ہے: احادیثِ رسول ﷺ کی جانچ کے لیے علمِ اسناد موجود ہے — ہر راوی کی ثقاہت دیکھی جاتی ہے، سند کے حلقے جانچے جاتے ہیں۔ لیکن تاریخ کی کتابوں کے مصنفین نے صحیح اور ضعیف دونوں روایات جمع کر دیں۔ اسی لیے جب بھی کوئی تاریخی روایت پڑھیں تو یہ پانچ سوال ضرور کریں:

  1. یہ روایت کس کتاب میں ہے؟ (صحیح بخاری؟ تاریخِ طبری؟ یا سوشل میڈیا؟)
  2. اس کی سند کیا ہے؟ (متصل ہے؟ منقطع؟)
  3. راوی کون ہے؟ (ثقہ ہے؟ ضعیف؟ مجہول؟)
  4. تاریخی پس منظر کیا ہے؟ (اس وقت کے سیاسی حالات کیا تھے؟)
  5. اکابرین نے اس پر کیا کہا؟ (محدثین نے اسے صحیح کہا یا ضعیف؟)

یہ پانچ سوال آپ کو جھوٹ اور سچ میں فرق کرنے میں مدد دیں گے۔ اس موضوع پر تفصیلی علمی بحث کے لیے ہمارا مضمون "تاریخ پڑھنے کے علمی اصول” ملاحظہ فرمائیں۔

مطالعے کے چار سنہری اصول

صحابہ کرامؓ کا مقام قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ

ترجمہ: "محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں رحم دل ہیں۔” (سورۃ الفتح: ۲۹)

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ

ترجمہ: "بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں…” (صحیح بخاری: ۲۶۵۲)

تو پھر تاریخ کیسے پڑھیں؟ چار سنہری اصول یاد رکھیں:

۱۔ کفِ لسان (زبان کو روکنا): امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا: نمسک عما شجر بین أصحاب رسول اللہ ﷺ — "ہم اس بارے میں خاموشی اختیار کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے درمیان پیش آیا۔”

۲۔ حسنِ ظن: ہر صحابیؓ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا کہ وہ مخلص تھا۔

۳۔ اجتہاد کا اعتراف: غلطی ہوئی تو وہ اجتہادی تھی، گناہ نہیں۔

۴۔ توقف: جہاں دلیل واضح نہ ہو، وہاں چپ رہنا۔

امام ابوحنیفہؒ نے الفقہ الاکبر میں لکھا: ونحب أصحاب رسول الله… ولا نفرط في حب أحد منهم، ولا نتبرأ من أحد منهم — "ہم صحابہ سے محبت رکھتے ہیں… نہ کسی کی محبت میں غلو کرتے ہیں، نہ کسی سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔”

مطالعے کے چار سنہری اصول

خلاصہ

  • مشاجراتِ صحابہ سے مراد ایک مخصوص تاریخی دور (عموماً ۳۵ تا ۶۱ ہجری) میں پیش آنے والے اختلافات ہیں — صحابہ کی پوری زندگی نہیں۔
  • یہ اختلافات چار قسموں کے تھے: علمی، فقہی و اجتہادی، سیاسی و انتظامی، اور مسلح۔
  • ہر اختلاف جنگ نہیں تھا؛ اکثریت علمی و اجتہادی تھی۔
  • جو قتال ہوا وہ اجتہاد کی بنیاد پر تھا، اقتدار کی ہوس پر نہیں۔
  • اس موضوع کا مطالعہ ضروری ہے — دفاعِ ایمان اور سبق حاصل کرنے کے لیے۔
  • غلط طریقے سے پڑھنے کے تین نقصانات: سوءِ ظن، فرقہ واریت، اور جھوٹی روایات کو دین بنانا۔
  • تاریخ کی ہر روایت صحیح نہیں؛ پانچ سوالوں والے فلٹر سے پرکھنا ضروری ہے۔
  • کفِ لسان، حسنِ ظن، اجتہاد کا اعتراف اور توقف — ہمارا طریقۂ کار ہے۔

عام سوالات

مشاجراتِ صحابہ سے کیا مراد ہے؟

اس سے مراد وہ اختلافات اور نزاعات ہیں جو صحابہ کرامؓ کے درمیان خلافتِ راشدہ کے آخری دور میں سیاسی، انتظامی اور اجتہادی معاملات میں پیش آئے — جیسے جنگِ جمل اور جنگِ صفین۔ یہ صحابہ کی پوری زندگی کا عنوان نہیں، بلکہ ایک مخصوص تاریخی مرحلے کا علمی نام ہے۔

کیا صحابہ کا ہر اختلاف جنگ کی صورت اختیار کر گیا تھا؟

نہیں۔ اکثر اختلافات علمی، فقہی اور سیاسی نوعیت کے تھے جو بات چیت سے حل ہو گئے۔ مسلح تصادم صرف چند مخصوص مواقع پر ہوا، اور وہ بھی اجتہادی اختلاف کی بنیاد پر تھا۔

عام آدمی اس حساس موضوع کو کیسے پڑھے؟

مستند ذرائع سے پڑھے، ہر روایت کو پانچ سوالوں والے فلٹر (کتاب، سند، راوی، پس منظر، اکابرین کی رائے) سے پرکھے، کفِ لسان اور حسنِ ظن اختیار کرے، اور سوشل میڈیا کی ہر بات کو سچ نہ سمجھے۔

اس موضوع پر تفصیلی علمی بحث کہاں ملے گی؟

اس تعارفی مضمون کے بعد "مشاجراتِ صحابہ: مفہوم، دائرہ کار اور علمی ضوابط — تفصیلی جائزہ” پڑھیے، جس میں علمِ اسناد، روایات کی تحقیق اور علمی ضوابط پر تفصیلی گفتگو ہے۔

✍️ مصنف: ڈاکٹر مولانا عمران خان

آن لائن مفتی | onlinemufti.org

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے