سقیفہ بنی ساعدہ: مکمل تحقیقی جائزہ — سند اور دلائل

مقدمہ

سقیفہ بنی ساعدہ میں اجتماع کا منظر

تصور کیجیے: مدینہ منورہ میں سناٹا چھایا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ابھی چند ہی گھنٹے پرانا ہے۔ گھر کے اندر حضرت علی، حضرت عباس اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین میں مصروف ہیں، دل غم سے چور ہیں، آنکھیں اشکبار ہیں۔ اور عین اسی وقت، شہر کے دوسرے کونے میں، ایک سائبان تلے، ایک ایسا اجتماع ہو رہا ہے جس کی بازگشت آنے والی چودہ صدیوں تک سنائی دیتی رہے گی۔

اس جگہ کا نام تھا: سقیفہ بنی ساعدہ۔ اور آج، چودہ سو سال بعد بھی، اس ایک اجتماع کی تعبیر پر امتِ مسلمہ دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک طرف وہ روایت ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ یہ ایک پرامن، بردبارانہ گفتگو تھی جو آدھے گھنٹے میں امت کے اتفاق پر منتج ہوئی۔ اور دوسری طرف ایک ایسی روایت ہے جس میں تلواریں کھنچنے کی باتیں ہیں، دھمکیاں ہیں، اور ایک ایسے جلیل القدر صحابی کا ذکر ہے جو مبینہ طور پر تاحیات نماز تک ترک کر بیٹھے۔

سوال یہ ہے: سچ کیا ہے؟ اس مضمون میں ہم دونوں روایتیں آپ کے سامنے، سند کے ساتھ، حوالے کے ساتھ رکھیں گے۔ ہم اہلِ تشیع کے سب سے مضبوط دلائل کا جائزہ لیں گے — غدیرِ خم سے لے کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مبینہ ناراضگی تک — اور ان کا مدلل، باحوالہ جواب پیش

کریں گے۔

پہلا حصہ: سقیفہ بنی ساعدہ — پسِ منظر

لفظ "سقیفہ” عربی زبان میں سائبان دار چھت کو کہتے ہیں، وہ کھلی جگہ جہاں قبیلے اپنے اہم فیصلے کرنے کے لیے جمع ہوا کرتے تھے۔ بنو ساعدہ، انصارِ مدینہ کے قبیلہ خزرج کی ایک شاخ تھی، اور یہی سائبان ان کے قبائلی اجتماعات کا مرکز تھا۔

پیر کے روز، 12 ربیع الاول 11 ہجری — وہی دن جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا سے رخصت لی — امتِ مسلمہ ایک ایسے امتحان سے دوچار ہوئی جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ انصار، سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے گرد جمع ہو گئے، جو خزرج کے سردار تھے۔ ان کے ذہن میں ایک فکر تھی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، امت کی قیادت کس کے ہاتھ میں جائے گی؟

جب مہاجرین کو انصار کے اس اجتماع کی خبر ملی تو انہوں نے آپس میں کہا: "آؤ اپنے انصاری بھائیوں کے پاس چلتے ہیں، اس معاملے میں ان کا بھی حق ہے۔” یہ ایک نہایت اہم نکتہ ہے جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے: مہاجرین خود، اپنی مرضی سے، انصار کو ساتھ ملانے گئے۔ یہ کسی جبر یا سازش کا منظر نہیں بلکہ باہمی مشاورت کی کوشش تھی۔

دوسرا حصہ: ایک واقعہ، دو تصویریں

اب یہاں سے اصل معاملہ شروع ہوتا ہے۔ سقیفہ کا واقعہ ہم تک بنیادی طور پر دو روایتی راستوں سے پہنچا ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں کی تصویر ایک دوسرے سے خاصی مختلف ہے۔

روایتِ اول: امام طبری کی تاریخ میں، ابومخنف کے واسطے سے

امام محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں یہ واقعہ ابومخنف کے حوالے سے نقل کیا ہے، جو آگے عبداللہ بن عبدالرحمٰن انصاری سے روایت کرتا ہے۔ اس روایت کے مطابق انصار سقیفہ میں جمع ہوئے اور طے کیا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا جائے۔ جب حضرت ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہم وہاں پہنچے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا، تو حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے سخت لہجے میں جواب دیا۔ پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت ہونے لگی، تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور خزرج کو طعنہ دیا۔

اور پھر آتا ہے وہ حصہ جو صدیوں سے موضوعِ بحث ہے: اس روایت کے مطابق سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور یہ الفاظ بھی منسوب کیے گئے کہ "جب تک میرے ہاتھ میں طاقت رہی، تمہیں تلوار سے مارتا رہوں گا۔” راوی مزید کہتا ہے کہ اس کے بعد سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کبھی ان کے ساتھ نماز، جمعہ، حج ادا نہیں کیا — اور یہ سلسلہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات تک جاری رہا (تاریخ طبری، جلد 2، صفحہ 455، مختصراً)۔

یہ پڑھ کر جو تصویر ابھرتی ہے وہ ایک شدید، برسوں پر محیط عناد کی ہے — ایک جلیل القدر صحابی جو خلیفۃ المسلمین کے پیچھے کبھی نماز تک نہیں پڑھتا۔

روایتِ ثانی: صحیح بخاری میں، امّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے

اب اسی واقعے کو اسلام کی مستند ترین کتاب، صحیح بخاری، کی سند سے دیکھیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں: اسماعیل بن عبداللہ، سلیمان بن بلال کے واسطے سے، ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے والد عروہ بن زبیر سے، اور وہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ:

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوئے اور کہا: "ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک تم میں سے۔” حضرت ابوبکر، عمر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہم ان کی طرف گئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ہم امیر ٹھہرے اور تم وزیر۔” حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے کہا: "نہیں، اللہ کی قسم! ہم ایسا نہیں کریں گے، ایک امیر ہم میں سے بھی ہو۔” حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ فرمایا: "نہیں، بلکہ ہم امیر اور تم وزیر… تم عمر یا ابوعبیدہ میں سے کسی ایک کی بیعت کر لو۔” اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود بول اٹھے: "بلکہ ہم آپ ہی کی بیعت کرتے ہیں، آپ ہمارے سردار، ہم سے بہتر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے۔” چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر ہاتھ پکڑا اور سب سے پہلے بیعت کی، پھر مہاجرین نے، پھر انصار نے (صحیح بخاری، کتاب فضائل الصحابہ، حدیث 3668؛ نیز کتاب المحاربین کی طویل روایت، حدیث 6830)۔

بس، اتنی سی بات۔ نہ تلوار، نہ دھمکی، نہ برسوں کی دشمنی کا کوئی ذکر۔ ایک مختصر، پرسکون گفتگو جو آدھے گھنٹے سے زیادہ طول نہیں پکڑی۔

تیسرا حصہ: میزانِ سند — حقیقت کے قریب کون سی روایت ہے؟

اب سوال یہ ہے کہ ان دو روایتوں میں سے حقیقت کے زیادہ قریب کون سی ہے؟ اس فیصلے کا معیار جذبات نہیں بلکہ علمِ اسماء الرجال، یعنی راویوں کی جانچ

دو روایات کا علمی میزانپڑتال کا علم ہے — وہ علم جو خود امتِ مسلمہ کا ایک منفرد اور بے مثال کارنامہ ہے۔

صحیح بخاری کی سند پر غور کریں: اسماعیل بن عبداللہ، سلیمان بن بلال، ہشام بن عروہ، عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا۔ یہ ہر ایک راوی امتِ مسلمہ کے اجماع کے مطابق ثقہ، عادل اور ضابط ہے۔ یہ سند اسلامی تاریخ کی مستند ترین اسناد میں شمار ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ محدثین کرام نے صحیح بخاری کو "اصح الکتب بعد کتاب اللہ” یعنی قرآن کے بعد سب سے صحیح کتاب قرار دیا ہے۔

اب دوسری طرف آئیے: طبری کی روایت کا پورا دارومدار ابومخنف پر ہے، جس کا اصل نام لوط بن یحییٰ الازدی ہے۔ اہلِ علم نے اس شخص کی چھان بین کی ہے، اور امام ذہبی جیسے ماہرینِ اسماء الرجال سمیت متعدد محدثین نے اسے ضعیف اور غیر معتبر قرار دیا ہے۔ ابومخنف بنیادی طور پر ایک "اخباری” تھا، یعنی ایک قصہ گو مورخ، نہ کہ ایک محدث جو حدیث کی شرائط کا پابند ہو۔ اس کی روایات عمومی تاریخی جزئیات کے لیے تو کسی حد تک نقل کی جاتی رہیں، لیکن دینی اور حساس معاملات میں، خصوصاً جہاں صحابہ کرام کے مابین اختلاف کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا امکان ہو، اس پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔

اور یہاں ایک اور نہایت اہم نکتہ ہے: مسند امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ میں، حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے صحیح مرسل سند کے ساتھ ایک روایت ملتی ہے، جس میں خود سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تقریر سن کر فرماتے ہیں: "آپ نے سچ فرمایا، ہم وزیر ہیں اور آپ امیر” (مسند احمد، جلد 1، صفحہ 18)۔

ذرا غور کریں: زیادہ مستند سند والی روایت میں، خود سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی زبان سے اقرار ملتا ہے، نہ کہ تاحیات دشمنی کا اعلان۔ تو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اس روایت کو ترجیح دیں جس کی سند مضبوط ہے، نہ کہ اس کو جو زیادہ ڈرامائی اور دلچسپ لگتی ہے۔

چوتھا حصہ: اہلِ تشیع کا اصل استدلال — حدیثِ غدیرِ خم

غدیر خم کا حوض

اب یہاں دیانتداری کا تقاضا ہے کہ ہم صرف اتنے پر اکتفا نہ کریں۔ کیونکہ ایک دیانتدار طالبِ علم جانتا ہے کہ اہلِ تشیع کا سقیفہ پر اعتراض محض ابومخنف کی روایت پر قائم نہیں۔ ان کا اصل، بنیادی اور سب سے مضبوط استدلال کچھ اور ہے: حدیثِ غدیرِ خم۔

اہلِ تشیع کا موقف یہ ہے کہ حجۃ الوداع سے واپسی پر، غدیرِ خم کے مقام پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:

مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ

"جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے۔” ان کے نزدیک یہ الفاظ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو باقاعدہ اور واضح طور پر خلیفہ نامزد کرنے کے مترادف ہیں۔ اسی بنیاد پر وہ سقیفہ کے پورے واقعے کو ایک ایسے حق کے غصب کے طور پر دیکھتے ہیں جو پہلے سے طے شدہ تھا۔ یہ ایک سنجیدہ اور علمی نکتہ ہے، اور اسے پوری سنجیدگی سے زیرِ بحث لانا چاہیے، نہ کہ محض رد کر دینا چاہیے۔

اس کا مدلل جواب

پہلی دلیل — لغوی: لفظ "مولا” عربی زبان کا ایک کثیر المعنی لفظ ہے۔ اس کے معنی میں دوست، مددگار، رشتہ دار، حمایتی، آزاد کردہ غلام، اور حاکم و آقا — سب شامل ہیں۔ قرآن مجید میں بھی یہ لفظ متعدد بار مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ محض ایک کثیر المعنی لفظ کے استعمال سے یہ حتمی نتیجہ نکال لینا کہ اس کا مطلب صرف اور صرف "سیاسی خلیفہ و حاکم” ہی ہے، اصولِ لغت اور اصولِ استدلال، دونوں کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

دوسری دلیل — سیاق و سباق: تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب کچھ عرصہ قبل، یمن کے سفر کے دوران، بعض صحابہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے طرزِ عمل پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیرِ خم پر یہ خطبہ ارشاد فرما کر دراصل حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حمایت اور دفاع فرمایا، اور امت کو ان سے محبت، تعاون اور نصرت کی تلقین کی۔ یہ خلافت کے تقرر کا اعلان نہیں تھا بلکہ محبت و نصرت کی نصیحت تھی۔

تیسری، اور سب سے مضبوط، دلیل — تاریخی خاموشی: اگر یہ الفاظ واقعی ایک واضح، غیر مبہم، سیاسی نامزدگی ہوتے، جسے ہزاروں صحابہ نے چند ماہ قبل ہی اپنے کانوں سے سنا تھا، تو کیا یہ ممکن ہے کہ سقیفہ کے دن یا اس کے بعد کسی بھی موقع پر، کسی ایک صحابی نے بھی — بشمول خود حضرت علی رضی اللہ عنہ اور بنو ہاشم کے — اس واضح نص کو بطور حتمی و فیصلہ کن دلیل پیش نہ کیا ہو؟ تاریخ کی کوئی مستند کتاب ہمیں کوئی ایسا مکالمہ نہیں دکھاتی جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سقیفہ کے موقع پر یا اس کے فوراً بعد یہ فرماتے ہوں: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیرِ خم پر مجھے صراحتاً خلافت کے لیے نامزد فرمایا تھا۔” اگر یہ نص اتنی واضح ہوتی جتنی آج پیش کی جاتی ہے، تو یہ خاموشی — جو پوری امت کی طرف سے، بشمول اہلِ بیت اطہار کے، برسوں جاری رہی — عقلاً ناقابلِ فہم ہے۔

یاد رکھیں، یہ وہی صحابہ کرام تھے جو حق بات کہنے سے کبھی نہیں گھبراتے تھے، جنہوں نے بعد میں اپنے خلفاء کو برسرِ منبر ٹوکا، ان سے سوال کیا اور کھلے عام تنقید کی۔ یہ تصور کرنا کہ یہی جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح حکم کی، وہ بھی خلافت جیسے اہم ترین معاملے میں، اجتماعی طور پر خلاف ورزی کر گئی، اور صدیوں تک کسی نے اس پر احتجاج نہ کیا سوائے بعد کے ادوار میں پیدا ہونے والے حلقوں کے — یہ عقل اور نقل، دونوں کے خلاف ہے۔

پانچواں حصہ: دوسرا اعتراض — چھ ماہ کی تاخیر اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ

اب ایک اور اعتراض جو اکثر اٹھایا جاتا ہے، اور دیانتداری کا تقاضا ہے کہ اسے بھی زیرِ بحث لایا جائے، کیونکہ یہ اعتراض خود صحیح بخاری کی ایک روایت سے کشید کیا جاتا ہے۔

صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت مروی ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے جائیدادِ فدک کی میراث کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ حدیث بیان کی جو انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی:

نَحْنُ مَعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ، مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ

"ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔” اس پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض ہو گئیں اور، اس روایت کے مطابق، اپنی وفات تک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بات چیت نہیں کی۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے باقاعدہ عوامی بیعت نہیں کی — یہ بیعت ان کی وفات کے بعد، تقریباً چھ ماہ بعد، ہوئی۔

اہلِ تشیع اس روایت کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ اہلِ بیت، بشمول حضرت علی رضی اللہ عنہ، سقیفہ کے فیصلے سے خوش نہیں تھے اور اسے تسلیم نہیں کرتے تھے۔

اس کا مدلل جواب

یہاں تین نکات نہایت اہم ہیں۔

پہلا نکتہ: خود اسی روایت میں، جو صحیح بخاری میں موجود ہے، یہ وضاحت موجود ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چھ ماہ بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی تو انہوں نے واضح الفاظ میں فرمایا: "ہم آپ کی فضیلت اور سبقتِ اسلام کا انکار نہیں کرتے۔” یہ الفاظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کبھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی شرعی حیثیت یا جواز پر اعتراض نہیں کیا۔

دوسرا نکتہ: خود روایت بتاتی ہے کہ تاخیر کی وجہ کیا تھی — یہ کوئی سیاسی بغاوت یا خلافت کے انکار کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ ایک خاندانی اور جذباتی صورتحال تھی۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لختِ جگر تھیں اور جن کا غم فطری طور پر انتہائی شدید تھا، جائیدادِ فدک کے معاملے پر رنجیدہ تھیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے محض اس لیے عوامی بیعت میں تاخیر کی کہ وہ اپنی رنجیدہ زوجہ کی دلجوئی کر رہے تھے، نہ کہ اس لیے کہ وہ خلافت کے جواز سے انکاری تھے۔ یہ ایک نہایت انسانی، قابلِ فہم رویہ ہے — ایک شوہر اپنی غمزدہ بیوی کے احساسات کا خیال رکھ رہا ہے۔

تیسرا اور سب سے فیصلہ کن نکتہ: خود روایت میں یہ بات موجود ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مصالحت کی درخواست خود کی، اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ انہیں خدشہ تھا کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی نیت پر شک نہ آ جائے۔ یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ خود اس بات کے لیے فکرمند تھے کہ کہیں ان کی طویل خاموشی کو خلافت کی مخالفت نہ سمجھ لیا جائے — جو خود اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کی خاموشی کبھی مخالفت نہیں تھی۔

اور اگر ہم اس معاملے کو منطقی طور پر دیکھیں تو ایک اور اہم سوال سامنے آتا ہے: مالی معاملے پر اختلاف — جیسے فدک کی جائیداد پر — اور خلافت کی بنیادی حیثیت پر اعتراض، یہ دو بالکل الگ باتیں ہیں۔ ایک صحابی کسی مالی فیصلے سے متفق نہ ہو، یہ بالکل فطری اور جائز امر ہے، اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ خلیفہ کی حیثیت ہی کو تسلیم نہیں کرتا۔

چھٹا حصہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اپنا طرزِ عمل — زبان سے زیادہ بلیغ گواہی

اب فرض کر لیجیے، بحث کی خاطر، کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ابتدائی چند ماہ کچھ رنجیدہ رہے — جو، جیسا کہ ہم نے دیکھا، ایک فطری خاندانی صورتحال کا نتیجہ تھی۔ لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ اس پورے معاملے کو یکسر واضح کر دیتا ہے، اور یہ وہ نکتہ ہے جو الفاظ سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، کیونکہ عمل ہمیشہ زبان سے زیادہ بولتا ہے۔

مورخین کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے:

  • اپنی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح خود حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا، جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد دوسرے خلیفہ بنے۔
  • اپنے دو بیٹوں کے نام "ابوبکر” اور "عمر” رکھے — یہ نام رکھنا کسی ایسے شخص کا طرزِ عمل نہیں ہو سکتا جو ان دونوں ہستیوں کو اپنے حق کا غاصب سمجھتا ہو۔
  • حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں منصبِ قضاء (یعنی جج کا انتہائی حساس عہدہ) قبول کیا، اور ان کے قریب ترین مشیروں میں شمار ہوئے۔
  • حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما، دونوں کی فضیلت اور خیرخواہی کا برملا اعتراف اپنی زبان سے کیا۔
  • حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں، جب مرتدین کے خلاف جنگیں لڑی جا رہی تھیں، کبھی الگ سیاسی راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ مرکزی خلافت کا حصہ بنے رہے۔

اب ذرا سنجیدگی سے سوچئے: کیا کوئی ایسا شخص جو یہ یقین رکھتا ہو کہ اس کا نص کے ذریعے طے شدہ حق زبردستی چھینا گیا ہے، اس کے باوجود اپنی بیٹی کا نکاح اسی "غاصب” کے جانشین سے کرے گا؟ اپنے بیٹوں کے نام انہی افراد کے نام پر رکھے گا؟ ان کی حکومت میں جج کا عہدہ قبول کرے گا؟

اور یہ سلسلہ کوئی چند دن یا مہینوں کا نہیں — یہ پچیس سال پر محیط ہے۔ حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے مکمل ادوار میں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کبھی، ایک لمحے کے لیے بھی، کوئی متبادل سیاسی دعویٰ پیش نہیں کیا، کوئی گروہ نہیں بنایا، کوئی بغاوت نہیں کی — حالانکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری، انتہائی نازک اور پرآشوب سالوں میں، اگر وہ چاہتے تو باآسانی اپنا دعویٰ پیش کر سکتے تھے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ یہ سوال ہے جس کا جواب دینا واقعی، حقیقی معنوں میں، مشکل ہے۔

ساتواں حصہ: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا اصل مؤقف

آئیے اب سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے معاملے کی طرف واپس آتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ کمزور روایت میں ان کی طرف سے شدید ردعمل اور برسوں کی دشمنی منسوب کی گئی ہے۔ لیکن زیادہ مستند روایت — مسند احمد کی روایت — میں خود ان کی زبان سے اقرار ملتا ہے: "آپ نے سچ فرمایا، ہم وزیر ہیں اور آپ امیر۔”

اور تاریخی حقیقت یہ ہے کہ خواہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ذاتی طور پر کچھ عرصہ دل گرفتہ رہے ہوں — جو ایک فطری انسانی جذبہ ہے، خصوصاً ایسے شخص کے لیے جسے امارت کا امیدوار سمجھا جا رہا تھا — لیکن مجموعی طور پر انصار کی پوری جماعت، بشمول خود ان کے اپنے قبیلے خزرج کے، نے بیعت میں شمولیت اختیار کی۔ کوئی بغاوت نہیں ہوئی، کوئی خونریزی نہیں ہوئی، امت متحد رہی۔ اور یہی وہ سب سے بڑا معجزہ ہے جسے ہمیں سمجھنا چاہیے: ایک ایسی قوم، جو ابھی چند سال پہلے تک صدیوں کی قبائلی جنگوں میں الجھی ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات جیسے سب سے کڑے امتحان میں بھی، چند گھنٹوں کے اندر، ایک قیادت پر متفق ہو گئی۔

آٹھواں حصہ: عقلی دلائل — قریش اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امارت کیوں؟

اب آئیے کچھ خالص عقلی نکات کی طرف، وہ دلائل جو نقلی حوالوں کے ساتھ ساتھ عقل کی میزان پر بھی پورا اترتے ہیں۔

پہلا عقلی دلیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں، جب آپ خود شدید علیل تھے اور مسجد تشریف لانے کی سکت نہیں رکھتے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامتِ نماز کے لیے مقرر فرمایا، اور یہ سلسلہ کئی دن جاری رہا۔ یہ کوئی خفیہ اشارہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا عملی، واضح اقدام تھا جسے پوری امت نے، مسجدِ نبوی میں، اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ نماز کی امامت اسلام میں قیادت کی سب سے بڑی علامت سمجھی جاتی ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، اپنی موجودگی میں، اپنی زندگی کے آخری، انتہائی اہم ایام میں، یہ ذمہ داری صرف اور صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سونپی۔ صحابہ کرام نے اسی عملی اشارے کو ایک قوی دلیل کے طور پر سمجھا۔

یاد رکھیں، خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وہ واقعہ جو تاریخ میں محفوظ ہے: جب کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو معزول کرنے کی بات کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ تلوار لے کر منبر کے قریب آئے، ایک قدم زینے پر اور دوسرا نیچے رکھا، اور بلند آواز سے فرمایا: "اللہ کی قسم! نہ ہم آپ کو معزول کر سکتے ہیں اور نہ اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھایا، اسے کون پیچھے کر سکتا ہے؟” (الانصار فی العصر الراشدی، صفحہ 108)۔

یہ الفاظ، تلوار ہاتھ میں لئے ہوئے، کسی ایسے شخص کے نہیں ہو سکتے جو اپنے حق کے غصب پر یقین رکھتا ہو۔ یہ الفاظ ایک ایسے شخص کے ہیں جو اپنے دل کی گہرائیوں سے اس فیصلے کے حق ہونے پر یقین رکھتا تھا۔

سب سے اہم عقلی سوالات جن کا جواب مخالف بیانیے کے پاس نہیں

پہلا سوال: اگر خلافتِ علی رضی اللہ عنہ اللہ اور رسول ﷺ کی طرف سے نص کے ساتھ متعین تھی، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ، جو شجاعت میں اپنی مثال آپ تھے، بنو ہاشم اور اپنے حامیوں کے ساتھ اس حق کے لیے عملی جدوجہد کیوں نہ کریں؟ خاموشی اور بالآخر بیعت کیوں؟

دوسرا سوال: اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی زندگی بھر ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو غاصب سمجھتے تھے، تو اپنے دورِ خلافت میں، جب مکمل اختیار ان کے پاس تھا، انہوں نے ان تینوں کے خلاف کوئی بیان کیوں نہ دیا، کوئی سزا کیوں نہ دی، ان کے فیصلوں کو کالعدم کیوں قرار نہ دیا؟

تیسرا سوال: حضرت حسن رضی اللہ عنہ، جنہیں شیعہ حضرات دوسرا معصوم امام مانتے ہیں، انہوں نے اگر خلافت ان کا موروثی و الٰہی حق تھی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار کیوں ہوئے؟ کیا کوئی معصوم امام اللہ کے دیے ہوئے منصب سے دستبردار ہوسکتا ہے؟

چوتھا سوال: اگر پوری امتِ صحابہ، جن کی تعریف میں قرآن کی درجنوں آیات نازل ہوئیں، جن کو اللہ نے "خیر امت”، "رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ” کہا، وہ سب مل کر ایک کھلی نص کی مخالفت کرلیں اور علی رضی اللہ عنہ کا حق غصب کرلیں، تو پھر ان آیات کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟

پانچواں سوال: نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

لَا تَجْتَمِعُ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ

"میری امت گمراہی پر کبھی جمع نہیں ہوگی۔” اگر سقیفہ کا فیصلہ غلط اور غصب تھا، تو پوری امت، تمام مہاجرین و انصار، اس باطل پر متفق کیسے ہوگئے؟

ان سوالوں کا کوئی مدلل، تسلی بخش جواب مخالف لٹریچر میں نہیں ملتا۔ زیادہ سے زیادہ تقیہ، ضعیف روایات اور جذباتی داستانوں کا سہارا لیا جاتا ہے، جبکہ حقائق، صحیح اسانید اور تاریخِ متواتر اس کے برعکس گواہی دیتے ہیں۔

خاتمہ

ہم نے دو روایتیں دیکھیں: ایک مستند، مضبوط سند کے ساتھ صحیح بخاری میں، دوسری ایک ضعیف اور غیر معتبر راوی کے ذریعے تاریخ طبری میں۔ ہم نے دیکھا کہ اہلِ تشیع کا سب سے مضبوط استدلال، حدیثِ غدیرِ خم، سیاق و سباق اور تاریخی حقائق کی روشنی میں کس طرح جواب پاتا ہے۔ ہم نے فدک اور چھ ماہ کی تاخیر کے معاملے کو بھی دیکھا، اور سمجھا کہ یہ ایک خاندانی، جذباتی مسئلہ تھا، نہ کہ خلافت کی شرعی حیثیت سے انکار۔ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اپنے پچیس سالہ طرزِ عمل کو دیکھا، جو زبانی دعووں سے کہیں زیادہ بلیغ اور فیصلہ کن گواہی ہے۔ اور آخر میں ہم نے وہ عقلی نکات دیکھے جو سقیفہ کے فیصلے کو محض ایک سیاسی حادثہ نہیں بلکہ ایک حکمت پر مبنی، محفوظ انتظام ثابت کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق بات سمجھنے، اسے قبول کرنے اور اس پر ڈٹے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت، ان کے بارے میں حسنِ ظن، اور ان کے درمیان پیش آنے والے معاملات کو انہی کے اپنے، مستند الفاظ میں سمجھنا — یہی وہ راستہ ہے جو ہمی

ں فتنوں سے بچا سکتا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب، وما علینا الا البلاغ۔

✍️ مصنف: ڈاکٹر مولانا عمران خان

آن لائن مفتی | onlinemufti.org

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے