سقیفہ بنی ساعدہ: 10 اہم اعتراضات کے مدلل جوابات

ذرا تصور کیجیے! رسول اللہ ﷺ ابھی اس دنیا سے پردہ فرما گئے ہیں۔ مدینہ کی فضا غم سے بوجھل ہے، صحابہؓ کے دل ٹوٹے ہوئے ہیں، گھرِ نبوت میں تجہیز و تکفین کا مرحلہ جاری ہے — اور اسی وقت مدینہ کے ایک حصے میں ایک دوسرا سوال پیدا ہوگیا: اب مسلمانوں کی قیادت کون کرے گا؟

یہاں سے تاریخ کا ایک ایسا باب شروع ہوتا ہے جس پر صدیوں سے بحث جاری ہے۔ اس واقعے کے بارے میں چند ایسے سوالات ہیں جو بظاہر بہت آسان ہیں، مگر جب ان کے جوابات قرآن، حدیث اور صحیح تاریخی روایات سے تلاش کیے جائیں تو معاملہ یکسر مختلف نظر آتا ہے۔ اس مضمون میں ہم جذبات سے نہیں، سوال بہ سوال بات کریں گے۔ اور خاص طور پر یہ سوال کہ: "رسول اللہ ﷺ کا جنازہ اور تجہیز و تکفین زیادہ ضروری تھی یا خلافت؟” — یہ سوال اگر صحیح تاریخی پس منظر کے ساتھ سمجھ لیا جائے تو سقیفہ کے واقعے کا ایک بڑا مغالطہ خود بخود دور ہوجاتا ہے۔

اس مضمون کے بنیادی سوالات

  1. کیا حضرت علیؓ اور بنی ہاشم کو جان بوجھ کر سقیفہ سے باہر رکھا گیا تھا؟
  2. اگر حضرت علیؓ تجہیز و تکفین میں مصروف تھے تو حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ سقیفہ کیوں گئے؟ جنازہ زیادہ ضروری تھا یا خلافت؟
  3. کیا غدیر خم کی حدیث حضرت علیؓ کی خلافتِ بلافصل کی صریح نص ہے؟
  4. کیا رسول اللہ ﷺ کی تدفین سے پہلے خلافت کا معاملہ طے کرنا جلد بازی اور عجلت تھی؟
  5. کیا سقیفہ میں شوریٰ محدود تھی اور کیا بنی ہاشم کو مشورے سے محروم کردیا گیا؟
  6. حضرت عمرؓ نے بیعتِ ابوبکرؓ کو "فَلْتَة” کیوں کہا؟ کیا اس کا مطلب خلافت کا باطل ہونا ہے؟
  7. کیا خلافت اہل بیتؓ کا ایسا الٰہی حق تھا جسے ان سے چھین لیا گیا؟
  8. کیا سقیفہ کا فیصلہ قبائلی مفادات، یعنی مہاجرین بمقابلہ انصار، کی بنیاد پر ہوا تھا؟
  9. کیا حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کا سقیفہ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اقتدار عزیز تھا؟

پہلا سوال: کیا حضرت علیؓ اور بنی ہاشم کو جان بوجھ کر سقیفہ سے باہر رکھا گیا تھا؟

یہ اعتراض اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ "حضرت علیؓ اور بنی ہاشم رسول اللہ ﷺ کی تجہیز و تکفین میں مشغول تھے اور دوسری طرف ابوبکرؓ و عمرؓ نے سقیفہ میں جا کر خلافت کا فیصلہ کرلیا، گویا اہم ترین شخصیت کو جان بوجھ کر باہر رکھا گیا۔”

اس اعتراض میں ایک بات درست ہے اور دوسری بات ثابت نہیں۔ یہ بات درست ہے کہ حضرت علیؓ اور بعض بنی ہاشم اس وقت رسول اللہ ﷺ کے گھر میں موجود تھے اور تجہیز و تکفین کے مراحل میں مصروف تھے۔ لیکن یہ کہنا کہ "انہیں جان بوجھ کر سقیفہ سے باہر رکھا گیا تھا” صحیح بخاری کے واقعے سے ثابت نہیں ہوتا۔

صحیح بخاری کی تفصیلی روایت میں حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں اپنے طور پر جمع ہوگئے، جبکہ حضرت علیؓ، حضرت زبیرؓ اور ان کے ساتھ کچھ لوگ دوسری طرف تھے۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو جب اس اجتماع کی اطلاع ملی تو وہ اس طرف گئے۔

یہاں ایک اہم فرق سمجھ لیجیے: کسی مجلس میں موجود نہ ہونا اور کسی شخص کو دانستہ مجلس سے باہر رکھنا، دونوں ایک چیز نہیں ہیں۔ سقیفہ کوئی پہلے سے مقرر شدہ، مرکزی، باقاعدہ "مجلسِ خلافت” نہیں تھی جس کے لیے پورے مدینہ کو دعوت نامے بھیجے گئے ہوں اور پھر حضرت علیؓ کو مخصوص طور پر خارج کیا گیا ہو۔ بلکہ وہ ایک فوری صورت حال میں پیدا ہونے والا اجتماع تھا۔ اور یہ بات خود صحیح بخاری میں موجود ہے کہ وہاں انصار کی طرف سے یہ موقف سامنے آیا:

مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ

"ہم میں سے ایک امیر ہوگا اور تم میں سے ایک امیر ہوگا۔”

پس اہل سنت کے نزدیک اصل مسئلہ "علیؓ کو چھپانے” کا نہیں بلکہ ایک اچانک پیدا ہونے والے قیادتی بحران کا تھا۔

دوسرا سوال: جنازہ زیادہ ضروری تھا یا خلافت؟

مدینہ میں سوگ کی صبح

یہ پورے واقعے کا سب سے اہم سوال ہے۔ اور یہاں سب سے پہلے ایک غلط تصویر کو درست کرنا ضروری ہے۔ یہ کہنا کہ "پورے صحابہؓ جنازہ چھوڑ کر خلافت لینے کے لیے سقیفہ چلے گئے” تاریخی حقیقت کی مکمل تصویر نہیں۔ سقیفہ جانے والوں کی تعداد پوری جماعتِ صحابہؓ نہیں تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی تجہیز و تکفین کے لیے دوسرے لوگ موجود تھے، جبکہ حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ اس وقت سقیفہ کی ہنگامی صورت حال کی طرف متوجہ ہوئے۔

یہاں ایک فقہی اصول سمجھیں

میت کی تجہیز و تکفین، نمازِ جنازہ اور تدفین فرضِ کفایہ ہیں۔ فرضِ کفایہ کا مطلب یہ ہے کہ پوری امت کے ہر فرد پر یہ لازم نہیں کہ وہ بیک وقت ایک ہی کام انجام دے۔ کچھ لوگ یہ ذمہ داری اٹھاتے ہیں تو دوسروں سے وہ فرض ساقط ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اگر کچھ صحابہؓ رسول اللہ ﷺ کے غسل، کفن، جنازہ اور تدفین کی ذمہ داری انجام دے رہے تھے تو یہ ضروری نہیں تھا کہ ہر وہ صحابی جو اس وقت سقیفہ گیا، بھی وہیں کھڑا رہے۔

یہ بالکل ایسا ہے جیسے ایک ہنگامی حالت میں دس آدمیوں میں سے چار لوگ زخمی کی تیمارداری کریں، تین لوگ راستہ کھولیں اور تین لوگ باقی خطرے کا سدباب کریں۔ ہر شخص کا ایک ہی جگہ ہونا ضروری نہیں۔

مگر پھر سقیفہ میں کیا ہورہا تھا؟

صحیح بخاری اس کی وجہ بالکل واضح کرتی ہے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ انصار سقیفہ میں جمع ہوئے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان سے گفتگو کی، حضرت عمرؓ اور ابو عبیدہؓ کو بھی پیش کیا، اور پھر جب یہ آواز اٹھی: "مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ” تو حضرت عمرؓ کو خوف ہوا کہ کہیں دو متوازی قیادتیں قائم نہ ہوجائیں۔ اسی لیے حضرت عمرؓ نے بعد میں کہا:

إِنَّا وَاللَّهِ مَا وَجَدْنَا فِيمَا حَضَرْنَا مِنْ أَمْرٍ أَقْوَى مِنْ مُبَايَعَةِ أَبِي بَكْرٍ، خَشِينَا إِنْ فَارَقْنَا الْقَوْمَ… أَنْ يُبَايِعُوا رَجُلًا مِنْهُمْ… فَيَكُونُ فَسَادٌ

خلاصہ: "ہمیں اس وقت ابوبکرؓ کی بیعت سے زیادہ مضبوط راستہ نظر نہیں آیا، کیونکہ ہمیں خطرہ تھا کہ اگر ہم وہاں سے چلے گئے تو وہ کسی دوسرے شخص کی بیعت کرلیں گے اور پھر بڑا فساد پیدا ہوجائے گا۔”

اب ذرا سوال کو الٹا دیکھیے: اگر سقیفہ کا معاملہ چھوڑ دیا جاتا اور وہاں ایک فریق الگ امیر منتخب کرلیتا، تو کیا امت کے لیے دو قیادتوں کا بحران پیدا ہونے کا امکان نہیں تھا؟ یہی وہ خطرہ تھا جسے حضرت عمرؓ فوری سمجھ رہے تھے۔

لہٰذا اہل سنت کی تعبیر یہ نہیں کہ "خلافت جنازے سے زیادہ محبوب تھی” بلکہ: "رسول اللہ ﷺ کی تجہیز و تکفین اپنی جگہ جاری تھی اور اسی وقت امت کی اجتماعی وحدت کو درپیش ایک فوری بحران کے حل کے لیے بعض صحابہؓ نے دوسری ذمہ داری سنبھالی۔” یہ "جنازہ بمقابلہ حکومت” کا مقابلہ نہیں تھا، بلکہ دو الگ اجتماعی ذمہ داریوں کا ایک ہی وقت میں پیدا ہوجانا تھا۔

ایک بہت عام مغالطہ یہ ہے کہ تصور کیا جاتا ہے: "جنازہ تیار پڑا تھا، لوگ نماز چھوڑ کر سقیفہ میں سیاسی اجلاس کرنے چلے گئے۔” یہ تصویر تاریخی روایات کے مطابق بالکل غلط ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا وصال پیر کے دن ہوا، تجہیز و تکفین کے مراحل جاری رہے، لوگوں نے انفرادی یا گروہی طور پر نمازِ جنازہ ادا کی، تدفین کے مقام پر بھی غور ہوا، اور تدفین بعد میں ہوئی۔ اسی درمیانی وقفے میں سقیفہ کا واقعہ پیش آیا۔ اس لیے یہاں "جنازہ چھوڑنے” کا لفظ ایک ایسے اجتماعی نماز کے تصور کو پیش کرتا ہے جو اس ترتیب میں تھا ہی نہیں۔

حضرت ابوبکرؓ نے خود رسول اللہ ﷺ کی تدفین کے مسئلے کو حل کیا

اگر حضرت ابوبکرؓ کی توجہ صرف خلافت کے حصول پر ہوتی اور وہ جنازہ و تدفین کے معاملے سے بے تعلق ہوتے، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہاں دفن ہوں گے؟ اسی موقع پر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا:

مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلَّا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ

"کوئی نبی وفات نہیں پاتا مگر جہاں اس کی وفات ہوتی ہے وہیں دفن کیا جاتا ہے۔”

اس روایت کے مطابق اسی بیان کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی تدفین کے مقام کا اختلاف ختم ہوا۔ گویا حضرت ابوبکرؓ سقیفہ میں جانے کے باوجود بعد کے مرحلے میں رسول اللہ ﷺ کی تدفین کے اہم شرعی مسئلے میں بھی شریک تھے۔

تیسرا سوال: کیا غدیر خم کی حدیث خلافتِ بلافصل کی صریح نص ہے؟

متن کی علمی جانچ

یہ سوال اتنا اہم اور وسیع ہے کہ اس کا تفصیلی جواب ہم نے ایک علیحدہ تحقیقی مضمون میں دیا ہے۔ مختصراً: اہل سنت کے نزدیک حدیثِ غدیر

مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ

حضرت علیؓ کی عظمت و ولایت پر دلالت کرتی ہے، مگر "مَوْلَى” سے "خلیفہ بلافصل” نکالنا ایک تفسیری و کلامی دعویٰ ہے جس پر اہل سنت اختلاف رکھتے ہیں۔ "مولا” کثیر المعنی لفظ ہے (دوست، مددگار، حمایتی)، اور اگر یہ واضح سیاسی نامزدگی ہوتی تو سقیفہ کے موقع پر کسی ایک صحابی نے بھی اسے بطور فیصلہ کن دلیل پیش کیوں نہ کیا؟

مکمل تحقیقی جواب کے لیے ملاحظہ کریں: سقیفہ بنی ساعدہ: مکمل تحقیقی جائزہ۔

چوتھا سوال: کیا تدفین سے پہلے خلافت کا معاملہ طے کرنا جلد بازی تھی؟

یہ اعتراض بھی بظاہر بہت وزنی ہے۔ کہا جاتا ہے: "رسول اللہ ﷺ کی تدفین ابھی باقی تھی، لہٰذا پہلے تدفین ہونی چاہیے تھی، پھر خلافت کا مسئلہ حل کیا جاتا۔”

اہل سنت کا جواب یہ ہے کہ ترتیب کا سوال صرف جنازے کے وقت سے نہیں، پیدا ہونے والے خطرے سے بھی متعلق ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے فوراً بعد سقیفہ میں ایک فریق یہ کہہ رہا تھا: "مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ”۔ اگر اس کے بعد دوسری جگہ بھی ایک اور بیعت ہوگئی ہوتی تو مسلمانوں کے سامنے دو قیادتوں کا سوال کھڑا ہوسکتا تھا۔ حضرت عمرؓ نے بعد میں اسی خدشے کی صراحت کی۔

اب ایک عقلی مثال لیجیے: اگر کسی ریاست کا سربراہ اچانک فوت ہوجائے اور اسی لمحے دو طاقتور گروہ الگ الگ سربراہ منتخب کرنے لگیں، تو یہ کہنا کہ "پہلے صرف تدفین مکمل ہونے دیں، باقی مسئلہ بعد میں دیکھیں گے” ضروری نہیں کہ ہمیشہ زیادہ حکمت والا راستہ ہو — کیونکہ بعض اوقات تاخیر خود بحران کو بڑھا دیتی ہے۔

اہل سنت کے نزدیک یہی سقیفہ میں ہوا۔ یہ کہنا مقصود نہیں کہ خلافت کا مسئلہ نماز جنازہ سے افضل تھا، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ امت کی اجتماعی قیادت کا خلا ایسا معاملہ تھا جس میں غیر معمولی تاخیر کے نتائج فوری طور پر سامنے آسکتے تھے۔

اور ایک بہت اہم بات: رسول اللہ ﷺ کی تدفین آخرکار ہوئی، بلکہ تدفین کے مقام کے سلسلے میں حضرت ابوبکرؓ کی بیان کردہ روایت بھی پیش کی گئی۔ ابن ماجہ کی روایت میں آتا ہے کہ صحابہؓ نے پہلے تجہیز مکمل کی، پھر لوگوں نے گروہوں کی صورت میں نماز جنازہ ادا کی، اور بعد

میں تدفین ہوئی؛ البتہ اس روایت کو قطعی بنیاد کے بجائے تاریخی مؤید کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

پانچواں سوال: کیا سقیفہ میں شوریٰ محدود تھی؟

مشاورت کا حلقہ

یہاں اہل سنت ایک بات چھپانے کی کوشش نہیں کرتے: سقیفہ کی پہلی مجلس میں پورے مدینہ کے تمام افراد موجود نہیں تھے۔ یہ ایک فوری اجتماع تھا۔ اس لیے یہ کہنا کہ سقیفہ ایک ایسا مکمل نمائندہ ادارہ تھا جس میں امت کا ہر شخص موجود تھا، درست نہیں۔

لیکن دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ "چونکہ ہر شخص وہاں نہیں تھا، اس لیے خلافت کا فیصلہ غیر شرعی ہوگیا۔” یہ نتیجہ خود بخود لازم نہیں آتا۔ صحیح بخاری کے مطابق سقیفہ میں بحث ہوئی، مختلف آراء سامنے آئیں، انصار نے اپنا استحقاق پیش کیا، حضرت ابوبکرؓ نے جواب دیا، حضرت عمرؓ نے بیعت کی، پھر مہاجرین اور انصار نے بیعت کی۔

اور یہاں ایک نہایت اہم نکتہ ہے: حضرت ابوبکرؓ نے ابتدا میں یہ نہیں کہا کہ "میں ہی خلیفہ ہوں۔” بلکہ انہوں نے حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان میں سے جسے چاہیں بیعت کریں۔ پھر حضرت عمرؓ نے خود حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سقیفہ میں ایک شخص پہلے سے اپنی خلافت منوانے کے لیے بیٹھا ہوا نہیں تھا بلکہ بحث و گفت گو اور باہمی استدلال کے ذریعے معاملہ آگے بڑھا۔

چھٹا سوال: "فَلْتَة” کا کیا مطلب ہے؟

یہ اعتراض بہت مشہور ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عمرؓ کا قول موجود ہے:

إِنَّمَا كَانَتْ بَيْعَةُ أَبِي بَكْرٍ فَلْتَةً فَتَمَّتْ

"ابوبکرؓ کی بیعت اچانک پیش آنے والا واقعہ تھی، پھر وہ قائم ہوگئی۔”

یہاں پورا سیاق دیکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر کوئی صرف لفظ "فلتہ” لے اور باقی پوری روایت چھوڑ دے تو ایک تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ خود خلافتِ ابوبکرؓ کو غلط اور غیر شرعی قرار دے رہے تھے۔ حالانکہ اسی روایت میں وہ آگے کہتے ہیں:

وَلَكِنَّ اللَّهَ وَقَى شَرَّهَا

"لیکن اللہ نے اس کے شر سے بچا لیا۔”

پھر اسی روایت میں وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دوسرے مسلمانوں کی مشاورت کے بغیر کسی کی بیعت کرے تو ایسے اقدام کی پیروی نہ کی جائے، کیونکہ اس سے فساد پیدا ہوسکتا ہے۔ لہٰذا یہاں حضرت عمرؓ کا اصل اعتراض آئندہ ایسے اچانک اور غیر منظم طریقے کے دوبارہ پیدا ہونے پر ہے۔ اسی وجہ سے "فلتہ” کو صرف ایک لفظ کے ذریعے "باطل خلافت” کا اقرار بنا دینا مکمل سیاق کو نظر انداز کرنا ہے۔ بلکہ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ حضرت عمرؓ اپنی اسی گفتگو میں ابو بکرؓ کے مقام و خصوصیت کو بھی بیان کرتے ہیں۔

ساتواں سوال: کیا خلافت اہل بیتؓ کا الٰہی حق تھا؟

یہ دراصل سقیفہ سے بھی بڑا نظریاتی سوال ہے۔ اہل تشیع کا بنیادی تصور یہ ہے کہ امامت محض سیاسی نظم نہیں بلکہ ایک دینی و الٰہی منصب ہے، اور اہل بیتؓ، بالخصوص حضرت علیؓ، اس منصب کے مستحق اور منصوص ہیں۔ اہل سنت اس بنیادی مقدمے کو قبول نہیں کرتے۔

اہل سنت کے نزدیک: خلافت نبوت نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نبی و رسول تھے، آپ ﷺ کی رسالت وحی کے ذریعے مقرر ہوئی۔ آپ ﷺ کے بعد جو شخص مسلمانوں کا خلیفہ بنتا ہے وہ نبی نہیں بنتا بلکہ امت کا حاکم ہوتا ہے۔ اسی لیے اہل سنت کے نزدیک امامت و خلافت کے باب میں شوریٰ، بیعت، اہلیت، فضیلت اور امت کی اجتماعی مصلحت بنیادی اصول ہیں۔ قرآن کہتا ہے:

وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ

"ان کے معاملات باہمی مشورے سے چلتے ہیں۔” (سورۃ الشوریٰ: 38)

لیکن یہاں ایک علمی احتیاط بھی ضروری ہے: ہمیں یہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے کہ صرف سورۃ الشوریٰ کی آیت 38 نے "خلافت کے انتخاب کا مکمل طریقہ” بیان کردیا ہے۔ آیت اصولِ شوریٰ بیان کرتی ہے؛ سقیفہ کے طریقۂ کار کی تمام تفصیلات اس آیت میں موجود نہیں۔ اہل سنت کا اصل استدلال یہ ہے کہ ایسی کوئی قطعی نص ثابت نہیں جس میں صاف الفاظ کے ساتھ حضرت علیؓ کو رسول اللہ ﷺ کے بعد سیاسی خلیفہ مقرر کیا گیا ہو۔

آٹھواں سوال: کیا سقیفہ کا فیصلہ قبائلی مفادات پر ہوا؟

سقیفہ میں قبائلی و سیاسی حقیقتوں کا اظہار ضرور ہوا۔ یہ بات چھپانے کی ضرورت نہیں۔ انصار نے اپنے کردار اور خدمات کی بنیاد پر اپنے استحقاق کی بات کی۔ صحیح بخاری میں انصار کے خطیب کا بیان موجود ہے کہ وہ خود کو انصار اللہ اور اسلام کی بڑی قوت قرار دیتے تھے۔ اور ان کی طرف سے یہ نعرہ بھی سامنے آیا: "مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ”۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں واقعی قیادت کے بارے میں دو مختلف تصورات موجود تھے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا حتمی نتیجہ صرف قبائلی عصبیت پر ہوا؟ یہاں بھی صحیح بخاری کی روایت ہمارے سامنے بہت اہم ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے انصار کی خدمات کا انکار نہیں کیا۔ بلکہ ان کی تعریف کی، پھر یہ دلیل پیش کی کہ عرب کے اجتماعی نظام میں قریش کو مرکزی قیادت حاصل ہے، اور اس کے بعد انہوں نے خود عمرؓ اور ابو عبیدہؓ کو بھی پیش کیا۔

اگر یہ محض قبیلہ پرستی ہوتی تو حضرت ابوبکرؓ فوراً اپنے خاندان یا اپنے ہاتھ میں اقتدار لینے کی کوشش کرتے۔ لیکن روایت کے مطابق انہوں نے ابتدا میں حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ دونوں کو پیش کیا۔ پھر حضرت عمرؓ نے خود ابوبکرؓ کی بیعت کی۔ اس کے بعد مہاجرین اور انصار نے بیعت کی۔ لہٰذا واقعے میں قبائلی شناختوں کا موجود ہونا اپنی جگہ ایک تاریخی حقیقت ہے، لیکن اسے صرف "قبائلی سازش” کہہ دینا خود تاریخی روایت کو بہت سادہ بنا دینا ہے۔

نواں سوال: کیا سقیفہ جانا اقتدار کی حرص کا ثبوت ہے؟

یہ اعتراض نیت پر مبنی ہے — یعنی تاریخی واقعے سے ایک ایسی نیت اخذ کی جارہی ہے جسے براہ راست ثابت کرنے کے لیے الگ دلیل درکار ہے۔ حضرت عمرؓ کی اپنی روایت اس کے برخلاف یہ بتاتی ہے کہ انہیں خوف تھا کہ اگر وہاں دو الگ بیعتیں ہوگئیں تو امت میں فساد پیدا ہوجائے گا۔

اور دوسری بات اس سے بھی زیادہ اہم ہے: حضرت ابوبکرؓ نے ابتدا میں اپنے لیے خلافت مانگی ہی نہیں۔ صحیح بخاری کے مطابق انہوں نے حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ دونوں کو پیش کیا۔ اب عقلی سوال یہ ہے: اگر کوئی شخص پہلے سے صرف اقتدار کا خواہش مند ہو، تو وہ اقتدار کا موقع ملتے ہی اپنے بجائے دوسرے دو افراد کو کیوں پیش کرے؟ یہ اس بات کا مطلق ثبوت نہیں کہ نیت سو فیصد کیا تھی؛ نیتوں کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ لیکن یہ تاریخی رویہ اقتدار کی حرص کے مفروضے کو کم از کم کمزور ضرور کرتا ہے۔

اب ایک نہایت اہم سوال: حضرت علیؓ نے بعد میں کیا کیا؟

یہ سوال پوری بحث کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہمیں یہاں اپنی پسند کی روایت نہیں بلکہ صحیح بخاری کی روایت دیکھنی چاہیے۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے ابتدائی مہینوں میں بیعت نہیں کی۔ بعد میں حضرت فاطمہؓ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے مصالحت کی اور بیعت کی۔

حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ان کی فضیلت کو جانتے ہیں، اور انہیں حسد نہیں تھا، بلکہ شکایت یہ تھی:

كُنَّا نَرَى لَنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا، وَاسْتَبْدَدْتُمْ عَلَيْنَا

"ہم سمجھتے تھے کہ اس معاملے میں ہمارا بھی ایک حصہ ہے اور آپ نے ہم سے مشورہ نہیں کیا۔”

بعد میں حضرت علیؓ نے بیعت کردی، اور لوگوں کے درمیان صلح کی فضا پیدا ہوگئی۔ یہ روایت اہل سنت کے لیے ایک بہت اہم تاریخی نکتہ ہے، کیونکہ اس سے کم از کم یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ ایسا نہیں تھا کہ حضرت علیؓ پوری زندگی حضرت ابوبکرؓ کو ایک باطل غاصب خلیفہ قرار دے کر ان کے مقابلے میں کھڑے رہے۔ بلکہ اختلاف کے باوجود آخرکار بیعت اور مصالحت ہوئی۔

حضرت ابوبکرؓ کے بارے میں ایک اور اہم قرینہ

رسول اللہ ﷺ کی آخری بیماری میں آپ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کو لوگوں کی نماز پڑھانے کا حکم دیا۔ حضرت عائشہؓ نے بار بار عرض کیا کہ ابوبکرؓ بہت رقیق القلب ہیں، لیکن نبی کریم ﷺ نے پھر بھی فرمایا:

مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ

"ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔”

چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ہی لوگوں کی امامت فرمائی۔ اہل سنت اس واقعے کو خلافت کی قطعی نص نہیں کہتے، لیکن اسے حضرت ابوبکرؓ کی تقدیم و فضیلت کا ایک نہایت اہم قرینہ ضرور سمجھتے ہیں۔

ایک بہت اہم علمی نکتہ

کیا ہر اعتراض کا جواب یہ ہونا چاہے کہ "سب صحابہ بالکل بے اختلاف تھے”؟ نہیں۔ یہ انداز خود علمی اعتبار سے کمزور ہوگا۔ صحابہؓ انسان تھے۔ وہ عظیم تھے، دیندار تھے، رسول اللہ ﷺ کے تربیت یافتہ تھے، لیکن ہر سیاسی اور اجتہادی مسئلے میں ان کے درمیان اختلاف ہوسکتا تھا۔ سقیفہ میں بھی اختلاف ہوا۔ حضرت علیؓ کو اپنے مشورے میں شامل نہ کیے جانے پر رنج ہوا۔ حضرت فاطمہؓ کا فدک کے معاملے میں اختلاف ہوا۔ انصار نے اپنا حق پیش کیا۔ حضرت عمرؓ نے "فلتہ” کا لفظ استعمال کیا۔ یہ سب تاریخی حقیقتیں ہیں۔ اہل سنت کو انہیں چھپانے کی ضرورت نہیں۔

اصل سوال یہ ہے: کیا ان اختلافات سے یہ لازم آتا ہے کہ صحابہؓ نے دانستہ دین کے خلاف کام کیا، یا ان کے دل میں خیانت اور اقتدار کی حرص تھی؟ اس کے لیے الگ اور قوی دلیل درکار ہے۔

قرآن کا ایک بنیادی اصول

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے موقع پر حضرت ابوبکرؓ نے قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت کی:

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ

"محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں، آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں، تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا شہید کردیئے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟” (سورۃ آل عمران: 144)

صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت ابوبکرؓ نے یہ آیت پڑھ کر لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی وفات کی حقیقت سمجھائی۔ اس آیت کا مقصد براہ راست سقیفہ کا طریقۂ انتخاب بیان کرنا نہیں ہے، لیکن اس میں ایک اہم اصول ہے: رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد امت کا نظام ختم نہیں ہونا تھا۔ نبوت ختم ہوئی، دین ختم نہیں ہوا۔ رسول اللہ ﷺ پردہ فرما گئے، شریعت باقی رہی۔ اور امت کو اپنی اجتماعی ذمہ داریاں ادا کرنا تھیں۔

ایک عقلی مثال

فرض کیجیے کسی بڑے دینی ادارے کا سربراہ اچانک وفات پا جاتا ہے۔ اس وقت ایک ٹیم اس کی تجہیز و تدفین کررہی ہے۔ لیکن اسی لمحے ادارے کے دو بڑے گروہ الگ الگ سربراہ بنانے پر جمع ہوجاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں: "ہمارا سربراہ الگ ہوگا، تمہارا الگ۔”

اب اگر چند ذمہ دار افراد فوراً اس اختلاف کو ختم کرنے کے لیے وہاں جائیں، جبکہ دوسرے لوگ تدفین کا کام کرتے رہیں، تو کیا یہ کہنا درست ہوگا: "انہوں نے میت کو چھوڑ کر کرسی کو ترجیح دی؟” نہیں۔ صحیح تعبیر ہوگی: "ایک ہی بحران میں مختلف لوگوں نے مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔” سقیفہ کے واقعے کو سمجھنے کے لیے یہی عقلی اصول بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

ایک علمی احتیاط

اہل سنت کو اس واقعے کے دفاع میں ایسی بات نہیں کہنی چاہیے جو خود تاریخی مصادر سے ثابت نہ ہو۔ مثلاً یہ کہنا مناسب نہیں کہ "سقیفہ میں سب صحابہ موجود تھے” — یہ درست نہیں۔ یا یہ کہنا: "حضرت علیؓ نے فوراً اسی وقت بیعت کرلی تھی” — صحیح بخاری کی مشہور روایت اس کے برعکس ابتدائی تاخیر اور بعد کی بیعت بیان کرتی ہے۔

سقیفہ کو سمجھنے کا اصل اصول

سقیفہ کو سمجھنے کے لیے تین چیزیں الگ الگ رکھیے:

  • پہلی چیز: حضرت علیؓ اور اہل بیتؓ کی عظمت و فضیلت — یہ اہل سنت کے نزدیک مسلم حقیقت ہے۔
  • دوسری چیز: حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کی عظمت و فضیلت — یہ بھی اہل سنت کے نزدیک صحیح نصوص سے ثابت ہے۔
  • تیسری چیز: رسول اللہ ﷺ کے بعد خلافت کا سیاسی و اجتماعی مسئلہ — یہ فقہی، تاریخی اور کلامی بحث ہے۔

ان تینوں چیزوں کو ایک ہی سوال بنا دینا پورے مسئلے کو الجھا دیتا ہے۔

اختتامی کلمات

سقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ ہمیں صرف خلافت کا مسئلہ نہیں بتاتا؛ بلکہ یہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد امت کو ایک ایسے مرحلے سے گزرنا تھا جہاں غم بھی تھا، محبت بھی تھی، اختلاف بھی تھا، اور اجتماعی ذمہ داری بھی۔ اس لیے اس واقعے کو سمجھتے وقت ہمیں نہ جذباتی تقدیس کی ضرورت ہے اور نہ جذباتی تنقید کی۔ ہمیں قرآن دیکھنا ہے۔ ہمیں صحیح حدیث دیکھنی ہے۔ ہمیں تاریخی ترتیب دیکھنی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر: ہمیں انصاف کے ساتھ ہر روایت کا وہی مطلب لینا ہے جو اس کے سیاق و سباق سے ثابت ہوتا ہے۔

آخر میں ایک جملہ یاد رکھیے: رسول اللہ ﷺ کی تجہیز و تکفین اور امت کی قیادت کا مسئلہ باہم متصادم دو کام نہیں تھے؛ ایک جماعت نے رسول اللہ ﷺ کی تجہیز و تدفین کی ذمہ داری سنبھالی، جبکہ بعض اکابر صحابہؓ نے اسی دوران امت کی اجتماعی قیادت کے پیدا ہونے والے بحران کو سنبھالنے کی کوشش کی۔

اور یہی وجہ ہے کہ "صحابہ جنازہ چھوڑ کر خلافت لینے چلے گئے” ایک مکمل تاریخی تصویر نہیں، بلکہ واقعے کی ایک مخصوص تعبیر ہے۔ اہل سنت کے نزدیک سقیفہ کو اسی وقت صحیح طور پر سمجھا جاسکتا ہے جب ہم جنازہ، تجہیز و تکفین، شوریٰ، بیعت، غدیر، فدک، حضرت علیؓ کے موقف اور حضرت عمرؓ کی "فلتہ” والی وضاحت — سب کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھیں۔ اور اللہ تعالیٰ ہمیں تاریخ کے اختلافات کو انصاف، ادب اور تحق

یق کے ساتھ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

✍️ مصنف: ڈاکٹر مولانا عمران خان

آن لائن مفتی | onlinemufti.org

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے