سوال:
السلام وعلیکم
میں دوبئی کے ایک اچھی کمپنی میں اچھے پوزیشن پر کام کرتا ہوں۔ میں شادی شدہ ہوں اور میرے دو بچے بھی ہیں جو کہ پاکستان میں میری بیوی کے ساتھ ہیں۔ اب یہاں ایک فلپائنی لڑکی سے محبت ہو گئی وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے میں نے اس کو بہت سمجھایا کہ تم کو مسلمان ہونا پڑے گا وہ مسلمان ہو گئ ۔
اب میں نے اس کو مکمل تفصیل سے سمجھایا کہ
میں دوبئی میں مستقل نہیں رہونگا۔
میں نے پاکستان میں شادی کی ہے میرے بچے بھی ہیں۔
میں تم کو پاکستان کبھی بھی نہیں لے جا سکتا۔
میں تم سے بچے بھی نہیں پیدا کرنا چاہتا۔
میرا کچھ بھروسہ نہیں کہ میں کب پاکستان جاؤنگا اور پھر واپس نہیں آونگا۔
وہ کہتی ہے کہ مجھے سب کچھ منظور ہے میں نکاح کرنا چاہتی ہوں۔
اب میں سوچ رہا ہوں کہ زنا سے بچنے کے لئے نکاح کردوں۔
کیا اسلام کی روح سے ایسا نکاح کرنا ٹھیک ہے یا نہیں۔ کہ میں نہ بچے پیدا کروں اور نہ ہی اس کو مستقل اپنے پاس رکھوں۔ برائے مہربانی تفصیلی جواب سے نوازیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ
جواب:
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته
آپ نے جو صورتحال بیان کی ہے، وہ صرف ایک جذباتی یا وقتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سنگین شرعی، اخلاقی اور خاندانی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ اس لئے اسے بہت سنجیدگی اور دیانت کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔
- نکاح کی اصل حقیقت
اسلام میں نکاح صرف زنا سے بچنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظام ہے جس میں شامل ہیں:
حقوقِ زوجیت (رہائش، نفقہ، حسنِ معاشرت)
دوام (استمرار) یعنی مستقل ساتھ رہنے کا ارادہ
اولاد کا امکان
عدل و انصاف (اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہوں)
اسلام میں نکاح کو “مستقل تعلق” (permanent contract) سمجھا جاتا ہے، نہ کہ عارضی انتظام۔
- آپ کے کیس کا تجزیہ
آپ نے خود واضح کیا:
آپ اسے مستقل ساتھ نہیں رکھ سکتے
پاکستان نہیں لے جا سکتے
اولاد نہیں چاہتے
خود بھی غیر یقینی حالت میں ہیں (کب چھوڑ دیں)
پہلی بیوی اور بچے پہلے سے موجود ہیں
یہ نکاح ظاہری طور پر جائز تو ہو سکتا ہے (اگر ایجاب و قبول، گواہ وغیرہ ہوں)، لیکن:
نیت اور عملی صورت کے اعتبار سے یہ شدید طور پر مکروہ اور بعض علماء کے نزدیک ناجائز کے قریب ہو جاتا ہے
کیوں کہ - نیت کا مسئلہ (اہم ترین نکتہ)
ایک اصول ہے:
“العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني”
یعنی معاملہ صرف الفاظ سے نہیں بلکہ نیت اور مقصد سے بھی دیکھا جاتا ہے۔
آپ کی نیت میں:
دوام (permanence) نہیں
مکمل ذمہ داری لینے کا ارادہ نہیں
اولاد سے گریز
تعلق کو محدود اور وقتی رکھنا
یہ صورت متعہ (temporary marriage) سے مشابہ ہو جاتی ہے، جو کہ حرام ہے۔
اگرچہ آپ زبان سے مدت مقرر نہیں کر رہے، مگر عملی طور پر وہی کیفیت پیدا ہو رہی ہے۔ - دوسری بیوی کے حقوق
اگر آپ نکاح کرتے ہیں تو شرعاً لازم ہوگا:
نفقہ (خرچ)
رہائش
وقت کی تقسیم (عدل)
عزت و تحفظ
اگر آپ پہلے سے جانتے ہیں کہ یہ سب پورا نہیں کر سکیں گے، تو:
ایسا نکاح کرنا ظلم کے زمرے میں آئے گا
قرآن میں ہے:
“فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة
اگر تمہیں عدل نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی پر اکتفا کرو - اولاد سے انکار
اسلام نکاح کو فطری طور پر نسل بڑھانے کا ذریعہ بھی مانتا ہے۔
اگر کوئی شخص شروع سے ہی پختہ ارادہ کرے کہ:
کبھی اولاد نہیں ہوگی
اس مقصد کو ہی ختم کر دے
تو یہ نکاح کی روح کے خلاف ہے، اگرچہ مانعِ صحت نہیں، مگر ناپسندیدہ ہے۔ - اصل مسئلہ: زنا سے بچنا
آپ نے کہا کہ
“زنا سے بچنے کے لئے نکاح کرنا چاہتا ہوں”
یہ نیت درست ہے، لیکن: اس کا حل یہ نہیں کہ آپ ایک ایسی عورت کو اپنی زندگی میں شامل کریں جس کے ساتھ آپ انصاف نہ کر سکیں۔
بلکہ حل یہ ہے:
خود پر قابو (تقویٰ)
روزہ رکھنا (جیسا حدیث میں آیا)
ماحول اور تعلقات کو کنٹرول کرنا - خلاصہ حکم یہ ہے کہ
نکاح ظاہری طور پر درست ہو سکتا ہے
مگر:
اگر نیت وقتی تعلق کی ہے شدید مکروہ / ناجائز کے قریب
اگر حقوق ادا نہیں ہوں گے گناہ اور ظلم
اگر عدل ممکن نہیں
حرام کے قریب معاملہ - صاف اور عملی مشورہ
میں آپ کو سیدھی بات بتاتا ہوں:
اس نکاح سے پرہیز کریں
کیونکہ:
آپ ایک عورت کی پوری زندگی کو غیر یقینی بنا رہے ہیں
اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے حقوق بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں
اور ایک ایسا تعلق بنا رہے ہیں جو شرعاً مشکوک اور اخلاقاً کمزور ہے - اگر پھر بھی آپ غور کر رہے ہیں
تو صرف اس صورت میں سوچیں جب:
آپ مکمل ذمہ داری لینے کو تیار ہوں
عدل قائم کر سکیں
مستقل تعلق کا ارادہ ہو
پہلی بیوی کے حقوق متاثر نہ ہوں
ورنہ نہیں۔