جواب:-
“اگر آنکھیں بند کرنے سے توجہ نماز کی طرف رہتی ہے اور خیالات نہیں آتے یا کم آتے ہیں یا سکون ملتا ہے تو آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا افضل ہے۔”
“قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ ، الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ “
“بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے۔جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں ۔”
عمومی طور پر حضور ﷺ سے نماز میں آنکھیں کھلی رکھنا ثابت ہے، لیکن جہاں توجہ حاصل کا مسئلہ ہو وہاں ائمہ و علماٰ کرام نے اسے جائز بلکہ بہتر قرار دیا ہے۔
امام ابن القیم الجوزیہ (زاد المعاد): علامہ ابن القیم رحمہ اللہ اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“”صحیح بات یہ ہے کہ اگر آنکھیں کھلی رکھ کر سنت کے مطابق (سجدہ گاہ پر نظر رکھنے سے) خشوع حاصل ہوتا ہے تو یہی بہتر ہے۔ لیکن اگر سامنے ایسی چیزیں ہوں جو نماز میں مخل ہوں (توجہ بٹاتی ہوں) تو ایسی صورت میں آنکھیں بند کر لینا بلا کراہت جائز ہے، بلکہ یہ (آنکھیں بند کرنا) نماز کے مقصد اور روح کے اعتبار سے آنکھیں کھلی رکھنے سے زیادہ افضل اور بہتر ہے۔”” (حوالہ: زاد المعاد، جلد 1، صفحہ 285)
“فقہ حنفی کا موقف (فتاویٰ عالمگیری / رد المحتار): فقہائے احناف کے نزدیک بھی اصل یہی ہے کہ عام حالات میں آنکھیں بند کرنا ‘مکروہِ تنزیہی’ ہے، لیکن اگر اس سے نماز میں توجہ و خشوؑ و خضوع حاصل کرنا مقصود ہو تو یہ مکروہ نہیں رہتا۔”
“اگر آنکھیں بند کرنے سے خشوع حاصل ہوتا ہو تو یہ (آنکھیں بند کرنا) بلا کراہت جائز ہے۔” (حوالہ: رد المحتار علی الدر المختار، جلد 2، صفحہ 411)