سوال: اگر کسی طبی مجبوری کے تحت مثلاً دوائی لگانے کے لیے وجائنا میں یا سخت قبض کی صورت میں سخت پاخانہ کے نکالنے کے لیے انگلی ریکٹم میں ڈالی جائے تو کیا غسل فرض ہو جاتا ہے؟ جبکہ نیت یا حالت صرف افاقہ کی ہو۔
فقہ حنفی میں غسل کے فرض ہونے کے بنیادی اسباب درج ذیل ہیں:
- شہوت کے ساتھ منی کا خارج ہونا (انزال)۔
- جماع (یعنی مرد کے عضوِ خاص کے حشفہ کا فرج یا دبر میں داخل ہونا)۔
- حیض یا نفاس کا ختم ہونا۔
چونکہ علاج معالجے، افاقہ، یا قبض کے ازالے کے لیے انگلی، دوا یا کوئی طبی آلہ فرجِ داخل (وجائنا) یا دبر (ریکٹم) میں داخل کرنے سے نہ تو جماع پایا گیا اور نہ ہی انزال، اس لیے بالاتفاق غسل واجب نہیں ہوتا۔
علامہ ابن عابدین شامیؒ ‘رد المحتار’ میں تحریر فرماتے ہیں:
(ولا عند إدخال أصبع ونحوه) في الدبر أو القبل، إلا إذا أنزل
یعنی: دبر یا قبل میں انگلی وغیرہ داخل کرنے سے غسل فرض نہیں ہوتا، الا یہ کہ انزال (منی کا خروج) ہو جائے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، باب الغسل)
وضو کا حکم:
اگرچہ غسل فرض نہیں ہوتا، لیکن اس عمل سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
- دبر (ریکٹم) کے معاملے میں: جب انگلی مقعد میں داخل کر کے باہر نکالی جائے گی تو وہ سبیلین سے خروج کے حکم میں آئے گی اور اس کے ساتھ رطوبت یا نجاست کا نکلنا یقینی یا غالب ہے، اس لیے وضو باطل ہو جائے گا۔
- فرجِ داخل میں دوا رکھنے کے معاملے میں: فرجِ داخل میں انگلی یا دوا رکھنے کے بعد جب انگلی باہر آئے گی یا اندرونی رطوبت خارج ہوگی، تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
اس لیے غسل کی ضرورت نہیں ہے؛ صرف اس جگہ کو نجاست سے پاک صاف کر کے نماز وغیرہ کے لیے نیا وضو کر لینا کافی ہے۔
✍️ جواب جاری کرنے والے: ڈاکٹر مولانا عمران خان
آن لائن مفتی | onlinemufti.org
