جنگ احد میں صحابہ کرام  ؓکا میدان سے اٹھنا: قرآن و تاریخ کی روشنی میں تحقیقی جائزہ

غزوہ احد صحابہ پیچھے ہٹنے کی حقیقت قرآن نے معاف کیا ڈاکٹر عمران خان تحقیق
  1.  جنگ احد میں صحابہ کرام  ؓکا میدان سے اٹھنا: قرآن و تاریخ کی روشنی میں تحقیقی جائزہ

مقدمہ: ایک اہم سوال اور اس کا پسِ منظر

تاریخِ اسلام کے سنہری اوراق پلٹیں تو غزوۂ اُحد کا واقعہ ایک ایسا سنگِ میل نظر آتا ہے جس نے مسلمانوں کو بے شمار اسباق سکھائے۔ یہ وہ معرکہ ہے جس میں فتح کا پرچم لہرانے کے بعد ایک لمحاتی غفلت نے نقشہ بدل دیا اور مسلمانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس غزوے کے حوالے سے ایک سوال جو صدیوں سے دشمنانِ صحابہ کی زبانوں پر رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا جنگ احد میں  صحابہ کرام  ؓ  بھاگ گئے تھے؟

یہ سوال بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے مگر اس کے پیچھے ایک پوری سازش کارفرما ہے جس کا مقصد  جگ احد میں صحابہ کرام  ؓکی عظمت کو مجروح کرنا اور امتِ مسلمہ کے اعتماد کو متزلزل کرنا ہے۔ آئیے اس سوال کا قرآنِ کریم، احادیثِ نبویہ اور عقلی دلائل کی روشنی میں مفصل جائزہ لیتے ہیں۔

 غزوہ احد کا تاریخی پس منظر اور فوجی حکمت عملی

بدر کی شکست اور مکہ کا انتقامی منصوبہ

غزوۂ بدر میں مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی نصرت سے شاندار فتح حاصل کی تھی۔ قریشِ مکہ کے ستر سردار قتل اور ستر قیدی ہوئے تھے۔ یہ شکست مشرکینِ مکہ کے لیے ناقابلِ برداشت تھی اور انہوں نے بدلہ لینے کا پختہ عزم کر لیا۔ چنانچہ شوال ۳ ہجری میں ابو سفیان بن حرب کی قیادت میں تین ہزار کا لشکر لے کر مدینہ طیبہ کی طرف بڑھے۔

Important: : مزید پڑھیں: https://farooqia.com/%D8%A8%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%B3%D8%A8%D9%82/

 جبل رماۃکی جنگی اہمیت اور تیر اندازوں کی ذمہ داری

“نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام  ؓسے مشورہ فرمایا۔ آپ ﷺکا ابتدائی ارادہ یہ تھا کہ مدینہ طیبہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے، مگر صحابہ کرام  ؓکی اکثریت نے مشورہ دیا کہ باہر نکل کر میدان میں مقابلہ ہونا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے مشورے کو قبول فرمایا اور اُحد پہاڑ کے قریب لشکر کو صف بند کیا۔”

 مورچے کی تعیناتی

اُحد پہاڑ کی ایک طرف ایک اہم درّہ تھا جو “جبلِ رُماۃ” تیر اندازوں کا پہاڑ  کے نام سے معروف ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس مورچے کی اہمیت کو بھانپتے ہوئے حضرت عبداللہ بن جبیر  ؓکی سرکردگی میں  پچاس تیر اندازوںکو وہاں مقرر فرمایا اور واضح الفاظ میں تاکید کی:

“لا تَبْرَحُوا مَكَانَكُمْ هٰذَا وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَيْهِمْ، وَإِنْ رَأَيْتُمُوهُمْ ظَهَرُوا عَلَيْنَا”

“اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا، خواہ تم دیکھو کہ ہم ان پر غالب آ گئے ہیں اور خواہ تم دیکھو کہ وہ ہم پر غالب آ گئے ہیں۔”

صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۳۰۳۹

یہ حکم نہایت واضح اور قطعی تھا۔ فتح ہو یا شکست، ہر حال میں وہیں ڈٹے رہنا تھا۔

“جب میں پہلی بار صحیح بخاری کی اس حدیث کو پڑھتا ہوں جس میں نبی ﷺ نے تیر اندازوں سے فرمایا تھا کہ “چاہے تم دیکھو کہ ہمیں مارا جا رہا ہے”، تو میرے ذہن میں وہ منظر اٹھتا ہے کہ کس قدر مشکل ہوتا ہوگا ان صحابہؓ پر جو مورچے پر بیٹھے دیکھ رہے تھے کہ ان کے ساتھی فتح حاصل کر رہے ہیں اور انہیں حکم ہے کہ وہ نہ اتریں۔ اس کشمکش کو سمجھنا ہی اس مضمون کا مقصد ہے۔”

جنگ کا آغاز اور مسلمانوں کی ابتدائی فتح

“جنگ کا آغاز ہوا تو صحابہ کرام  ؓنے بے مثال جانثاری اور شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ مشرکین کے قدم اکھڑ گئے اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ مسلمانوں کی فتح یقینی نظر آ رہی تھی۔ کچھ مجاہدین دشمن کا تعاقب کر رہے تھے اور کچھ مالِ غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہو گئے۔”

 حکم عدولی کی وجوہات

“جب جنگ احد میں صحابہ کرام کو تیر اندازوں نے دیکھا کہ مشرکین بھاگ رہے ہیں اور مسلمان فتح یاب ہو چکے ہیں تو ان میں سے اکثر نے کہا:

اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کر دی ہے، بخدا اب ہم یہاں نہیں بیٹھیں گے۔”

حضرت عبداللہ بن جبیر  ؓنے انہیں روکنے کی کوشش کی اور نبی کریم ﷺ کا حکم یاد دلایا، مگر وہ اس اجتہاد پر قائم ہو گئے کہ فتح ہو چکی ہے، اب ٹھہرنے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ وہ درّہ چھوڑ کر نیچے اتر آئے۔

امام بیہقی ؒ روایت کرتے ہیں:

“فَقَالُوا: قَدْ أَنْجَزَ اللهُ لِإِخْوَانِنَا النَّصْرَ، وَاللهِ لَا نَقْعُدُ هَاهُنَا أَبَدًا”

“انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے ہمارے بھائیوں سے نصرت کا وعدہ پورا فرما دیا ہے، بخدا ہم یہاں ہرگز نہیں بیٹھیں گے۔”

دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد ۳، صفحہ ۲۱۱

خالد بن ولید کا حملہ اور جنگ کا پانسا پلٹنا

اس وقت خالد بن ولیدجو ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے   مشرکین کے لشکر میں تھے۔ انہوں نے درّے کو خالی دیکھا اور فوجی بصیرت سے کام لیتے ہوئے اپنے دستے کے ساتھ درّے سے گزر کر مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا۔ بھاگتے ہوئے مشرکین بھی پلٹ آئے۔ مسلمان دو طرفہ حملے میں گھر گئے اور جنگ کا نقشہ یکسر بدل گیا۔

ادھر کسی نے بلند آواز سے پکار کر کہا:

“قُتِلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ!”

“رسول اللہ ﷺ شہید کر دیے گئے ہیں! “

“یہ افواہ سن کر مسلمانوں کی رہی سہی ہمت بھی ٹوٹ گئی۔ بہت سے صحابہ کرام  ؓمنتشر ہو گئے۔ ستر صحابہ کرام  ؓشہید ہوئے اور خود نبی کریم ﷺ زخمی ہوئے، آپ کے دانتوں میں سے دائیں جانب کا نچلا دانت  زخمی ہوا اور چہرۂ انور پر بھی زخم آئے۔”

قرآن کریم کا بیان: “الذین تولوا” سے مراد کون ہیں؟

 آیت 155 کی تفسیر و تحلیل

“اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَلَّوۡا مِنۡكُمۡ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِۙ اِنَّمَا اسۡتَزَلَّهُمُ الشَّيۡطٰنُ بِبَعۡضِ مَا كَسَبُوۡا ۚ وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ”

” بیشک وہ لوگ جو تم میں سے پھر گئے جس دن دو فوجیں آمنے سامنے ہوئی تھیں، انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے سبب، اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرما دیا۔ بیشک اللہ بخشنے والا، حلم والا ہے۔”

سورۃ آل عمران: ۱۵۵

اس آیت کے 4 اہم نکات

1۔اللہ تعالیٰ نے ان صحابہ کرام  ؓکو “مِنۡكُمۡ”  تم میں سے  فرمایا۔ یہ لفظ خود دلیل ہے کہ وہ مسلمانوں کی جماعت کا حصہ تھے، ان کا ایمان مشکوک نہیں تھا۔

2۔ ان کے پھر جانے کی وجہ شیطان کا بہکانا بتائی گئی ہے، نہ کہ نفاق یا کمزوریِ ایمان۔ فرق واضح ہے: منافقین کا پلٹ جانا ارادی اور سوچا سمجھا تھا جیسا کہ عبداللہ بن ابی نے کیا، مگر صحابہ کرام  ؓکا یہ عمل وقتی لغزش تھا۔

3۔”وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ”اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔ یہ الٰہی اعلانِ معافی ہے جس کے بعد کسی بندے کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان پر الزام دھرے۔

4۔ آیت کا اختتام دو اسمائے حسنیٰ پر ہوا: غَفُوۡرٌ  بخشنے والا  اور حَلِيۡمٌ  حلم والا ۔ غفور فرما کر بخشش کا اظہار کیا اور حلیم فرما کر یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جلدی سزا نہیں دی بلکہ صبر و حلم سے کام لیا اور معاف فرما دیا۔

 سورۃ آل عمران، آیت ۱۵۲

اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

” مِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرِيۡدُ الدُّنۡيَا وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ “

تم میں سے کچھ دنیا چاہتے تھے اور تم میں سے کچھ آخرت چاہتے تھے۔

سورۃ آل عمران: ۱۵۲

دنیا طلبی” کی حقیقت

“اس آیت میں “مِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرِيۡدُ الدُّنۡيَا”  تم میں سے کچھ دنیا چاہتے تھے  کا مفہوم سمجھنا ضروری ہے۔ یہاں مالِ غنیمت جمع کرنے کے اقدام کو “دنیا طلبی” سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مگر غور کیجیے کہ:

یہ صحابہ کرام  ؓدرّے پر سے اترتے یا نہ اترتے، مالِ غنیمت میں سے انہیں وہی حصہ ملنا تھا جو دوسرے مجاہدین کو ملتا

ان کا یہ عمل خالص دنیا طلبی نہیں تھا بلکہ نبی کریم ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی میں مال غنیمت کا خیال آنے کو “دنیا طلبی” کہا گیا

یہ محبوبانہ عتاب ہے، نہ کہ قطعی الزام

اور سب سے اہم بات یہ کہ فوراً ساتھ معافی کا اعلان بھی فرما دیا:

“وَلَقَدۡ عَفَا عَنۡكُمۡ”

 اور بیشک اس نے تمہیں معاف کر دیا۔”

   سورۃ آل عمران، آیت ۱۵۹   

معافی کا حکم

 ” فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ ۖ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ “

” تو اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ اے محبوب! آپ ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر آپ تند مزاج، سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے۔ پس آپ ان سے درگزر فرمائیں اور ان کے لیے بخشش کی دعا کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ لیں۔”

  سورۃ آل عمران: ۱۵۹ 

   اس آیت میں چار احکام

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو  تین باتوں  کا حکم دیا:

1.  فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ   ان سے معاف فرمائیں

2.  وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ    ان کے لیے بخشش کی دعا کریں

3.  وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ    آئندہ بھی ان سے مشورہ لیں

غور فرمائیں! اللہ تعالیٰ پہلے خود معاف فرما چکے ہیں، اب اپنے نبی ﷺ سے کہہ رہے ہیں کہ آپ بھی معاف کریں۔ بلکہ اس سے بڑھ کر ان کے لیے  استغفار  بھی فرمائیں تاکہ کمالِ محبت کا اظہار ہو۔ اور سب سے حیرت انگیز بات یہ کہ آئندہ بھی ان سے مشورہ لینے کا حکم دیا تاکہ ان کی دلجوئی ہو اور انہیں یہ احساس نہ ہو کہ ان کی غلطی کی وجہ سے ان کی قدر و منزلت کم ہو گئی ہے۔

جنگ احد میں صحابہ کرام کے منتشر ہونے کی وجوہات

  پہلی وجہ:

“یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ صحابہ کرام  ؓکا درّہ چھوڑنا  خطائے اجتہادی  تھا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے حکم کو سمجھا، مگر جب انہوں نے دیکھا کہ فتح حاصل ہو چکی ہے تو انہوں نے اجتہاد کیا کہ اب رکنے کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ اجتہاد میں غلطی تھی، عمداً حکم عدولی نہیں تھی”۔

 مجتہد جب غلطی کرے تو بھی اسے ایک اجر ملتا ہے،  جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

 ” إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ”

 جب حاکم فیصلہ کرے اور اجتہاد کرے پھر صحیح نتیجے پر پہنچے تو اس کے لیے دو اجر ہیں، اور جب وہ فیصلہ کرے اور اجتہاد کرے پھر غلطی کر بیٹھے تو بھی اس کے لیے ایک اجر ہے۔

  صحیح البخاری: ۷۳۵۲، صحیح مسلم: ۱۷۱۶ 

  دوسری وجہ:

“وہ صحابہ کرام  ؓجو جنگ کی ابتداء سے مورچے پر مامور تھے، انہیں میدانِ جنگ میں اتر کر لڑائی کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ اگرچہ مورچہ سنبھالنے اور پہرے کا ثواب انہیں مل رہا تھا، مگر انہوں نے یہ سمجھا کہ میدان میں اتر کر بہادری سے لڑنے اور کفار کو شکست دینے کا الگ ثواب بھی حاصل ہونا چاہیے۔

جب انہیں  دشمن کی شکست اور لشکرِ اسلام کی فتح کا یقین  ہو گیا تو وہ نیچے اترے تاکہ  دونوں اجر  حاصل کر سکیں: مورچے کا بھی اور میدانِ جہاد کا بھی۔ اس لحاظ سے ان کا یہ عمل ایک نیک نیتی پر مبنی تھا اگرچہ حکم عدولی کی وجہ سے نتائج سنگین ثابت ہوئے”۔

  تیسری وجہ:

“جب خالد بن ولید نے درّے سے گزر کر اچانک حملہ کیا اور مسلمان دو طرفہ محاصرے میں آ گئے تو قدرتی طور پر  ہراس و خوف  کا غلبہ ہوا۔ اس پر مزید یہ کہ  “رسول اللہ ﷺ شہید ہو گئے”  کی افواہ نے مسلمانوں کی ہمت توڑ دی۔

   دشمن کی تعداد تین ہزار  تھی جبکہ  مسلمان سات سو  تھے  عبداللہ بن ابی کے تین سو ساتھیوں کے واپس جانے کے بعد

  اچانک حملے نے غیر متوقع صورتحال پیدا کر دی

  نبی کریم ﷺ کی شہادت کی افواہ نے معنوی حوصلہ توڑ دیا

ان حالات میں قدم اکھڑنا  بشری تقاضا  تھا، نہ کہ نفاق یا بزدلی کا اظہار۔”

   مفسرین کا اختلاف: اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں؟

  پہلا قول:

بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اس دن مشرکین کے مقابلے سے پیچھے ہٹا۔ جنگِ اُحد میں  چودہ صحابہ  ؓ  کے سوا   جن میں  حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت علی المرتضیٰ  ؓ  شامل ہیں   باقی صحابہ کرام  ؓکے قدم اکھڑ گئے تھے۔

 قتادہ ؒبیان کرتے ہیں:

 ” اس سے مراد جنگِ اُحد کے دن قتال سے بھاگنے والے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور یہ عمل شیطان کے بہکانے اور اس کے ڈرانے کی وجہ سے ہوا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔”

  جامع البیان لابن جریر، جلد ۴، صفحہ ۹۶ 

  دوسرا قول:

 عکرمہ ؒبیان کرتے ہیں:

  یہ آیت رافع بن معلّیٰ، دیگر انصار، ابوحذیفہ بن عتبہ اور ایک اور شخص کے متعلق نازل ہوئی۔

  جامع البیان لابن جریر، جلد ۴، صفحہ ۹۶ 

 ابن اسحاق ؒبیان کرتے ہیں:

”  حضرت عثمان بن عفان، حضرت عقبہ بن عثمان، حضرت سعد بن عثمان  ؓاور دو انصاری جنگِ اُحد کے دن بھاگ گئے، حتی کہ مدینہ کی ایک جانب  جَلْعَب  نامی پہاڑ کے پاس پہنچ گئے۔ تین دن بعد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا:  تم بہت دور چلے گئے تھے۔ “

  جامع البیان لابن جریر، جلد ۴، صفحہ ۹۶ 

   حضرت عثمان غنی  ؓپر طعن کا مفصل جواب

  صحیح بخاری کی روایت: حضرت عبداللہ بن عمر  ؓا کا شاندار جواب

 عثمان بن مَوْہَب  فرماتے ہیں:

“ایک شخص بیت اللہ کے حج کے لیے آئے تھے۔ دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہیں۔ پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: قریش ہیں۔ پوچھا: ان میں شیخ کون ہیں؟ بتایا:  عبداللہ بن عمر  ؓا ۔

وہ شخص آئے اور تین سوالات کیے:

 پہلا سوال:  کیا عثمان  ؓنے غزوۂ اُحد میں فرار اختیار کیا تھا؟

 جواب:  ہاں۔

 دوسرا سوال:  کیا عثمان  ؓبدر کی لڑائی میں شریک نہیں تھے؟

 جواب:  ہاں۔

 تیسرا سوال:  کیا عثمان  ؓبیعتِ رضوان میں غائب تھے؟

 جواب:  ہاں۔

اس شخص نے خوشی سے  “اللہ اکبر”  کا نعرہ لگایا   گویا اسے لگا کہ اس نے حضرت عثمان  ؓکو نیچا دکھا دیا ہے۔

مگر حضرت عبداللہ بن عمر  ؓا نے فرمایا:  “رُکو! ان تینوں کی حقیقت بھی سن لو!”

  “أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللهَ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ”

 جہاں تک اُحد کے دن بھاگنے کا تعلق ہے تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر فرمایا اور انہیں بخش دیا۔

   دوسرے سوال کا جواب:

  رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی  سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا  ان کے نکاح میں تھیں اور بیمار تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے خود انہیں ان کی تیمارداری کے لیے روکا تھا اور فرمایا:

  “لَكَ أَجْرُ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمُهُ”

   تمہیں بدر میں شریک ہونے والے کے برابر ثواب ملے گا اور مالِ غنیمت میں سے حصہ بھی ملے گا۔

   تیسرے سوال کا جواب:

  نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان  ؓکو اپنا سفیر بنا کر مکہ بھیجا تھا۔ وادیِ مکہ میں ان سے زیادہ ہر دل عزیز اور بااثر کوئی نہیں تھا۔ بیعتِ رضوان کے وقت نبی کریم ﷺ نے  اپنا دایاں ہاتھ اٹھا کر  فرمایا:

  “هٰذِهِ يَدُ عُثْمَانَ”

   یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔

  پھر اسے اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر عثمان  ؓکی طرف سے بیعت فرمائی۔

حضرت عبداللہ بن عمر  ؓا نے فرمایا:

” اِذْهَبْ بِهَا الْآنَ مَعَكَ! “

   اب ان جوابات کو بھی اپنے ساتھ لے جا!  یعنی جن باتوں سے تو انہیں نیچا دکھانا چاہتا تھا، وہی ان کی عظمت کے نشانات ثابت ہوئیں ۔”

  صحیح البخاری: ۴۰۶۶ 

  حضرت عثمان غنی  ؓکے مناقب

“حضرت عثمان غنی  ؓپر الزام دھرنے والوں کو ان کی عظمت کے چند پہلو یاد رکھنے چاہئیں:

   عشرۂ مبشرہ:  نبی کریم ﷺ نے ان کو اپنی زبانِ مبارک سے کئی بار جنت کی بشارت دی

   ذوالنورین:  نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیوں   سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم  ؓکے شوہر بنے”

   بئرِ رومہ:  اس کنویں کو عامۃ المسلمین کے لیے وقف فرمایا

   غزوۂ تبوک:  سب سے زیادہ فیاضی سے مال خرچ کیا جس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

 “مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ”

   آج کے بعد عثمان پر کسی عمل کا مؤاخذہ نہیں!

  سنن الترمذی: ۳۷۰۱ 

   جمعِ قرآن:  تمام مسلمانوں کو ایک مصحف پر جمع فرمایا اور ملتِ اسلامیہ کو بڑے افتراق سے محفوظ فرمایا

ان اعلیٰ مناقب کے تناظر میں کوئی صاحبِ ایمان اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ حضرت عثمان  ؓپر الزام درست ہو سکتا ہے۔

 امام نصر بن محمد سمرقندی ؒ روایت کرتے ہیں:

“حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف  ؓا کے درمیان بحث ہوئی۔ حضرت عبدالرحمٰن نے فرمایا: آپ مجھے برا کہتے ہیں حالانکہ میں جنگِ بدر میں حاضر ہوا اور آپ نہیں ہوئے، میں نے درخت کے نیچے بیعتِ رضوان کی اور آپ نے نہیں کی، اور آپ جنگِ اُحد کے دن بھاگ گئے۔

 حضرت عثمان  ؓنے فرمایا:

  جنگِ بدر میں غیر حاضری کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی بیمار تھیں اور میں ان کی تیمارداری میں مشغول تھا اور آپ نے مجھے مالِ غنیمت میں برابر حصہ دیا۔ بیعتِ رضوان کا معاملہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے مکہ بھیجا تھا اور اپنے دائیں ہاتھ سے میری بیعت فرمائی   اور آپ کا دایاں ہاتھ میرے دونوں ہاتھوں سے بہتر ہے۔  اور جنگِ اُحد میں بھاگنے کی بات ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرما دیا  اور آیت نازل فرمائی:

“وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ””

  تفسیر سمرقندی، جلد ۱، صفحہ ۳۱۰ 

 اہل سنت کا عقیدہ: محفوظ الصحابہ کا تصور

“اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرام  ؓ معصوم  نہیں بلکہ  محفوظ  ہیں۔ ان دونوں میں فرق ہے:

   معصوم  وہ ہے جس سے گناہ کا صدور ہی نہ ہو   یہ مقام صرف انبیاء ؑ کا ہے

   محفوظ  وہ ہے جس سے بشری تقاضوں کے مطابق کبھی کوئی لغزش ہو جائے تو اللہ عزوجل اس کے ذمے میں وہ گناہ باقی نہیں رہنے دیتا   یعنی دنیا میں ہی معافی مل جاتی ہے اور آخرت کے عذاب سے محفوظ ہو جاتے ہیں،”

  اللہ تعالیٰ کا وعدہ: تمام صحابہ جنتی ہیں

  “وَالسَّابِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ”

” اور سبقت لے جانے والے   مہاجرین اور انصار میں سے   سب سے پہلے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔”

  سورۃ التوبۃ: ۱۰۰ 

اسی طرح فرمایا:

 ” لَقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا”

” بیشک اللہ مومنوں سے راضی ہوا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے، اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں تھا، پس اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی اور انہیں قریب کی فتح عطا فرمائی۔”

  سورۃ الفتح: ۱۸ 

  ایک اور جگہ فرمایا

 “وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى”    اللہ تعالیٰ نے  تمام صحابہ  سے  حسنیٰ   جنت  کا وعدہ فرمایا ہے، خواہ وہ فتحِ مکہ سے پہلے والے ہوں یا بعد والے۔

   احادیثِ مبارکہ: صحابہ کرام  ؓسے درگزر کا حکم

  “دَعُوا لِي أَصْحَابِي، لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي “

 میری خاطر میرے صحابہ سے درگزر کرو، میرے صحابہ کو برا مت کہو۔

  مسند البزار، جلد ۳، صفحہ ۲۹۴، رقم: ۲۷۷۹ 

علامہ ہیثمی ؒ فرماتے ہیں:  رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ    اس حدیث کے تمام راوی صحیح بخاری کے ہیں۔   مجمع الزوائد: ۱۰/۲۱  

  دوسری حدیث: میرے صحابہ کا خیال رکھو

”   اِحْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي “

 لوگو! میری وجہ سے میرے صحابہ کا خیال رکھو، ان کی رعایت کرو۔

  سنن ابن ماجہ: ۲۳۶۳، مسند احمد: ۱/۲۶ 

  تیسری حدیث: صحابہ کا ذکر ہو تو خاموش رہو

”  إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا، وَإِذَا ذُكِرَتِ النُّجُومُ فَأَمْسِكُوا، وَإِذَا ذُكِرَ الْقَدَرُ فَأَمْسِكُوا “

 “جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے تو  بحث و تکرار سے  خاموش رہو، جب ستاروں کا ذکر کیا جائے تو خاموش رہو، اور جب تقدیر کا ذکر کیا جائے تو خاموش رہو۔”

  المعجم الکبیر للطبرانی، السلسلۃ الصحیحۃ: ۳۴ 

  چوتھی حدیث: صحابہ کے خطاکاروں سے درگزر کرو

”   فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ”

 “ان کے نیکوکاروں کی نیکیوں کا اعتراف کرو اور ان کے خطاکاروں کی لغزشوں سے درگزر کرو۔”

  صحیح البخاری: ۳۷۹۹ 

حضرت عائشہ   ؓسےروایت ہے:

”   أَكْرِمُوا أَكْرَمَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ “

 “ان کے محترم حضرات کی تکریم کرو اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرو۔”

 ثابت قدم رہنے والے صحابہؓ کی لا زوال داستانیں

  حضرت انس بن نضر  ؓکی شجاعت

“جب یہ افواہ پھیلی کہ نبی کریم ﷺ شہید ہو گئے ہیں تو بعض صحابہ نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ ہی نہیں رہے تو اب لڑنے سے کیا فائدہ! مگر  حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ  نے بلند آواز سے فرمایا:

   اگر رسول اللہ ﷺ شہید ہو گئے ہیں تو کیا تم اپنے دین کی حمایت میں نہیں لڑو گے؟ اپنے دین کے لیے لڑتے رہو حتیٰ کہ شہید ہونے کی حالت میں اللہ سے ملاقات کرو!

پھر وہ خود کفار میں گھس گئے اور اس قدر لڑے کہ ان کے جسم پر  اسّی  ۸۰  سے زائد زخم  آئے اور وہ شہید ہو گئے۔ ان کے جسم کو ان کی بہن نے صرف  انگلیوں کے پوروں  سے پہچانا۔   “صحیح البخاری: ۲۸۰۵  

  حضرت طلحہ اور حضرت زبیر  ؓ

حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور حضرت زبیر بن عوام  ؓا نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑے رہے اور اپنے آپ کو آپ ﷺ کے لیے  ڈھال  بنا لیا۔

 حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ  نے اپنا ہاتھ نبی کریم ﷺ کے چہرے کے سامنے رکھ دیا اور تلوار کی ضرب اپنے ہاتھ پر لی جس سے ان کا ہاتھ مفلوج ہو گیا۔   صحیح البخاری: ۴۰۶۳  

“میں خود جب مدینہ منورہ میں جبل احد کی زیارت پر گیا  تو  وہاں جو ہوا وہاں کھڑے ہو کران لمحات اور احساسات کو  محسوس کیا تو میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ خاص طور پر جب میں نے وہ مقام دیکھا جہاں حضرت انس بن نضرؓ نے کہا تھا کہ “اگر رسول اللہ ﷺ شہید ہو گئے ہیں تو اپنے دین کے لیے لڑو”، تب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ صرف تاریخ نہیں تھی  بلکہ ایمان کی آزمائش تھی”۔

  حضرت کعب بن مالک  ؓکی پکار

نبی کریم ﷺ کا پتہ چلنے کے بعد سب سے پہلے  حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ  نے آپ کو دیکھا۔ آپ کا چہرۂ انور  مِغفَر   خود  میں ڈھکا ہوا تھا، صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔ انہوں نے آنکھوں سے پہچان لیا اور بلند آواز سے پکارے:

   “اللهُ أَكْبَرُ! هٰذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! “

 اللہ اکبر! یہ ہیں رسول اللہ ﷺ!

  دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد ۳، صفحہ ۲۱۱ 

   عقلی دلائل: صحابہ کرام  ؓپر طعن کیوں درست نہیں؟

  پہلی عقلی دلیل:

سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ اگر خود خالقِ کائنات نے معاف فرما دیا، اپنے کلامِ مقدس میں اعلانِ معافی فرمایا، تو کسی بشر کو یہ حق کہاں سے ملتا ہے کہ وہ ان پر الزام لگائے؟

حضرت عبداللہ بن مسعود  ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

  ” اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ”

 گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔

  سنن ابن ماجہ: ۴۲۵۰ 

جب توبہ کے بعد گناہ نہیں رہتا تو جسے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام میں معاف فرما دیا، اس پر الزام رکھنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟

  دوسری عقلی دلیل:

“صحابہ کرام  ؓقربِ خداوندی اور قربِ نبوی ﷺ کے اس مقام پر فائز تھے کہ جہاں ان کی ظاہری لغزش پر بھی  محبوبانہ عتاب  نازل ہوا   نہ کہ عذاب یا لعنت۔ اور جہاں عتاب نازل ہوا، وہیں معافی کا اعلان بھی فرما دیا۔”

یہ اس مقام پر ہوتا ہے جہاں  محبت بہت شدید  ہو:

  عتاب اس لیے کہ قرب کا تقاضا ہے

  فوری معافی اس لیے کہ محبت کا تقاضا ہے

  بار بار معافی کا اعلان اس لیے کہ کمالِ محبت کا اظہار مقصود ہے

  تیسری عقلی دلیل:

“صحابہ کرام  ؓکی پوری زندگی کا جائزہ لیجیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے:

  اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے اپنے گھر بار چھوڑے

  ہجرت کی مشقتیں برداشت کیں

  متعدد غزوات میں اپنی جانیں قربان کیں

  دین کی نشر و اشاعت میں اپنا سب کچھ لٹا دیا

ایک لمحاتی لغزش پر ان کی پوری زندگی کو فراموش کر دینا انصاف نہیں، ظلم ہے۔”

  چوتھی عقلی دلیل:

“یہ واقعہ  تکوینی طور پر  صحابہ کرام  ؓسے کرایا گیا تاکہ:

1. اللہ عزوجل کی ان سے محبت سب کے سامنے آشکار ہو

2. عتاب کے ساتھ ساتھ فوری معافی کا اعلان ہو

3. آئندہ نسلوں کے لیے نبی کریم ﷺ کے حکم کی تعمیل کی اہمیت واضح ہو

4. یہ سبق ملے کہ فتح صرف اللہ کی طرف سے ہے اور حکمِ الٰہی و نبوی کی پابندی ضروری ہے”

   غزوۂ بدر کے قیدیوں کا معاملہ: موازنہ و مقارنہ

“غزوۂ بدر میں مشرکینِ مکہ کے ستر قیدی ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی رحم دلی اور حضرت ابوبکر صدیق  ؓکے مشورے پر ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا۔ مگر اللہ عزوجل کو یہ فیصلہ پسند نہ آیا تو عتاب نازل ہوا:

   “تُرِيۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡيَا وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ “

 تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو  یعنی آخرت کی مصلحت کو  چاہتا ہے۔ اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔”

  سورۃ الأنفال: ۶۷ 

پھر فرمایا:

   “لَوۡلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمۡ فِيۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ “

 اگر اللہ کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوتی تو جو تم نے لیا اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا۔

  سورۃ الأنفال: ۶۸ 

“اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مالِ غنیمت کے کھانے کی اجازت دی اور  “إِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ”  فرما کر معافی کا اظہار بھی فرما دیا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ  “تُرِيۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡيَا”  کا مصداق خود  نبی کریم ﷺ  بھی ہیں کیونکہ فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ آپ ﷺ کا بھی تھا۔ اب اگر کوئی سورۂ آل عمران کی آیت  “مِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرِيۡدُ الدُّنۡيَا”  سے صحابہ کرام  ؓکو دنیا طلبی کا طعنہ دیتا ہے تو وہ فیصلہ کرے کہ سورۂ الأنفال میں اسی نوعیت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مصداق کون ہیں؟  جب اللہ عزوجل نے دونوں مقامات پر معاملہ رفع فرما دیا ہے تو اس کے بعد طعن کرنا بد باطنی کے سوا کچھ نہیں۔ “

   دیگر صحابہ کرام  ؓکی لغزشیں اور ان سے درگزر

  حضرت حاطب بن ابی بلتعہ   ؓ

فتحِ مکہ سے پہلے حضرت حاطب  ؓنے مشرکینِ مکہ کو خفیہ طور پر خط لکھا جس میں مسلمانوں کی فوجی تیاریوں کی اطلاع دی۔ یہ ایک سنگین غلطی تھی۔ حضرت عمر  ؓنے ان کے قتل کی اجازت مانگی مگر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

”   إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ “

 وہ اہلِ بدر میں سے ہیں۔ تمہیں کیا خبر، شاید اللہ نے اہلِ بدر کو دیکھ کر فرما دیا ہو: جو چاہو کرو، میں نے تمہیں بخش دیا!

  صحیح البخاری: ۳۰۰۷، صحیح مسلم: ۲۴۹۴ 

  حضرت نعمان بن عمرو   ؓ

یہ بدری صحابی ہیں جنہوں نے شراب پی   بعض روایات میں  چار بار  شراب پینے کا ذکر ہے   اور ہر بار انہیں حد لگائی گئی۔ ایک صحابی نے کہا: اللہ کی اس پر لعنت ہو! نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

   “لَا تَلْعَنُوهُ، فَوَاللهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ”

 اسے لعنت مت کرو! اللہ کی قسم، میں جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔

  صحیح البخاری: ۶۷۸۰ 

  حضرت ماعز بن مالک   ؓ

“ان سے زنا کا جرم سرزد ہوا، ان پر حد نافذ کی گئی اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

   “لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ “

 اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ  پوری  امت میں تقسیم کی جائے تو کفایت کر جائے۔”

  صحیح مسلم: ۱۶۹۵ 

سید محمود آلوسی ؒفرماتے ہیں:

”  اگر کسی صحابی سے امورِ فسق میں سے کوئی عمل ثابت ہوتا ہے تو اس کے قطعاً یہ معنیٰ نہیں کہ وہ اسی فسق پر فوت ہوئے ہیں۔ ہم توبہ سے پہلے تو اسے فاسق کہیں گے لیکن یہ نہیں کہ وہ اس فسق پر قائم رہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی  صحبت کی برکت  اور ان اوصاف کے سبب جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بیان فرمائے ہیں، وہ اس پر قائم نہیں رہتے اور  اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق عطا فرما دیتا ہے ۔”

  تفسیر روح المعانی، جلد ۲۶، صفحہ ۱۳۳ 

   حضرت مسطح  ؓکے معاملے سے استدلال

واقعۂ اِفک میں حضرت مسطح  ؓسے سنگین غلطی ہوئی   انہوں نے حضرت سیدہ عائشہ   ؓ پر تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق  ؓنے ان کا خرچہ بند کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

” وَلَا يَاۡتَلِ اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِى الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ “

 اور تم میں سے فضل والے اور وسعت والے قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو نہ دیں گے، بلکہ معاف کریں اور درگزر کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخشے؟ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

  سورۃ النور: ۲۲ 

یہاں بھی  درگزر اور معافی  کا حکم دیا گیا۔

   صحابہ کرام  ؓکے باہمی اختلافات کے بارے میں اصول

صحابہ کرام  ؓکے درمیان جو باہمی اختلافات ہوئے   جیسے جنگِ جمل اور جنگِ صفین   یہ سب  اجتہادی امور  پر مبنی تھے:

   حضرت علی   ؓاور ان کے رفقاء اپنے اجتہاد میں  حق پر  تھے   انہیں  دو اجر  ملیں گے

   حضرت معاویہ   ؓاور ان کی جماعت کو اجتہاد میں  خطا  لاحق ہوئی   انہیں  ایک اجر  ملے گا۔

ان میں سے کسی فریق پر بھی طعن کرنا جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ  ؓسے  عاقبتِ حسنیٰ  کا وعدہ فرمایا ہے۔

   دشمنانِ صحابہ کا حقیقی چہرہ

“صحابہ کرام  ؓپر الزامات کا سلسلہ  عبداللہ بن سبا یہودی  سے شروع ہوا جس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر فتنے کے بیج بوئے۔ یہ سلسلہ آج تک اس کی  معنوی ذریت  کی طرف سے جاری ہے۔

 حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒنے “تحفۂ اثنا عشریہ” میں روافض کی طرف سے حضرت عثمان  ؓپر لگائے جانے والے اعتراضات کا مفصل رد کیا ہے۔”

  معروف رافضی ابن المطہر الحلّی

اس نے بھی “منہاج الکرامۃ” میں اس طعن و تشنیع کا ذکر کیا ہے جن کا  شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒنے “منہاج السنۃ النبویۃ” میں شافی اور کافی جواب دیا ہے۔

میرے خیال میں، ہمیں سب کچھ جانتے  بوجھتے اس واقعے سے یہ سبق سیکھنا اور لینا چاہیے کہ بشری  کمزوری اورمنافقت میں فرق کرنا سیکھیں۔ ایسانہیں ہو سکتا  کہ عوام الناس کی سطحی سوچ پر  لوگ ایک لمحے کی غلطی کو پوری زندگی کا جرم بنا دیتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ کی مثال دے کر ہمیں سبق  سکھایا کہ توبہ اور معافی کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو مجھے اس موضوع میں سب سے زیادہ متاثر  بھی کرتی ہے اور اللہ پر یقین بھی بڑھاتی ہے۔

نتیجہ

“غزوۂ اُحد کا واقعہ ہمارے لیے  سبق آموز  ہے، نہ کہ صحابہ کرام  ؓپر  طعن کا بہانہ ۔ اس واقعے سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ:

  نبی کریم ﷺ کے ہر حکم کی تعمیل واجب ہے۔

  اجتہادی غلطی پر مؤاخذہ نہیں ہوتا بلکہ اجر ملتا ہے۔

  فتح و نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے

  صحابہ کرام  ؓبشر تھے، معصوم نہیں تھے، مگر محفوظ تھے

  اللہ تعالیٰ نے ان سب سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے

 اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام  ؓاجمعین کی محبت اور ان کے ادب و احترام پر قائم رکھے۔ آمین “

ستر شہداء احد کی فہرست

تحقیق و تصنیف: ڈاکٹر مولانا عمران خان

ویب سائٹ :https://onlinemufti.org
یوٹیوب چینل:  online mufti official

 جنگ احد میں صحابہ کرام  ؓکا میدان سے اٹھنا: قرآن و تاریخ کی روشنی میں تحقیقی جائزہ

مقدمہ: ایک اہم سوال اور اس کا پسِ منظر

تاریخِ اسلام کے سنہری اوراق پلٹیں تو غزوۂ اُحد کا واقعہ ایک ایسا سنگِ میل نظر آتا ہے جس نے مسلمانوں کو بے شمار اسباق سکھائے۔ یہ وہ معرکہ ہے جس میں فتح کا پرچم لہرانے کے بعد ایک لمحاتی غفلت نے نقشہ بدل دیا اور مسلمانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس غزوے کے حوالے سے ایک سوال جو صدیوں سے دشمنانِ صحابہ کی زبانوں پر رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا جنگ احد میں  صحابہ کرام  ؓ  بھاگ گئے تھے؟

یہ سوال بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے مگر اس کے پیچھے ایک پوری سازش کارفرما ہے جس کا مقصد  جگ احد میں صحابہ کرام  ؓکی عظمت کو مجروح کرنا اور امتِ مسلمہ کے اعتماد کو متزلزل کرنا ہے۔ آئیے اس سوال کا قرآنِ کریم، احادیثِ نبویہ اور عقلی دلائل کی روشنی میں مفصل جائزہ لیتے ہیں۔

 غزوہ احد کا تاریخی پس منظر اور فوجی حکمت عملی

بدر کی شکست اور مکہ کا انتقامی منصوبہ

غزوۂ بدر میں مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی نصرت سے شاندار فتح حاصل کی تھی۔ قریشِ مکہ کے ستر سردار قتل اور ستر قیدی ہوئے تھے۔ یہ شکست مشرکینِ مکہ کے لیے ناقابلِ برداشت تھی اور انہوں نے بدلہ لینے کا پختہ عزم کر لیا۔ چنانچہ شوال ۳ ہجری میں ابو سفیان بن حرب کی قیادت میں تین ہزار کا لشکر لے کر مدینہ طیبہ کی طرف بڑھے۔

Important: : مزید پڑھیں: https://farooqia.com/%D8%A8%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%B3%D8%A8%D9%82/

 جبل رماۃکی جنگی اہمیت اور تیر اندازوں کی ذمہ داری

“نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام  ؓسے مشورہ فرمایا۔ آپ ﷺکا ابتدائی ارادہ یہ تھا کہ مدینہ طیبہ کے اندر رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے، مگر صحابہ کرام  ؓکی اکثریت نے مشورہ دیا کہ باہر نکل کر میدان میں مقابلہ ہونا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے مشورے کو قبول فرمایا اور اُحد پہاڑ کے قریب لشکر کو صف بند کیا۔”

 مورچے کی تعیناتی

اُحد پہاڑ کی ایک طرف ایک اہم درّہ تھا جو “جبلِ رُماۃ” تیر اندازوں کا پہاڑ  کے نام سے معروف ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس مورچے کی اہمیت کو بھانپتے ہوئے حضرت عبداللہ بن جبیر  ؓکی سرکردگی میں  پچاس تیر اندازوںکو وہاں مقرر فرمایا اور واضح الفاظ میں تاکید کی:

“لا تَبْرَحُوا مَكَانَكُمْ هٰذَا وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا ظَهَرْنَا عَلَيْهِمْ، وَإِنْ رَأَيْتُمُوهُمْ ظَهَرُوا عَلَيْنَا”

“اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا، خواہ تم دیکھو کہ ہم ان پر غالب آ گئے ہیں اور خواہ تم دیکھو کہ وہ ہم پر غالب آ گئے ہیں۔”

صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۳۰۳۹

یہ حکم نہایت واضح اور قطعی تھا۔ فتح ہو یا شکست، ہر حال میں وہیں ڈٹے رہنا تھا۔

“جب میں پہلی بار صحیح بخاری کی اس حدیث کو پڑھتا ہوں جس میں نبی ﷺ نے تیر اندازوں سے فرمایا تھا کہ “چاہے تم دیکھو کہ ہمیں مارا جا رہا ہے”، تو میرے ذہن میں وہ منظر اٹھتا ہے کہ کس قدر مشکل ہوتا ہوگا ان صحابہؓ پر جو مورچے پر بیٹھے دیکھ رہے تھے کہ ان کے ساتھی فتح حاصل کر رہے ہیں اور انہیں حکم ہے کہ وہ نہ اتریں۔ اس کشمکش کو سمجھنا ہی اس مضمون کا مقصد ہے۔”

جنگ کا آغاز اور مسلمانوں کی ابتدائی فتح

“جنگ کا آغاز ہوا تو صحابہ کرام  ؓنے بے مثال جانثاری اور شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ مشرکین کے قدم اکھڑ گئے اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ مسلمانوں کی فتح یقینی نظر آ رہی تھی۔ کچھ مجاہدین دشمن کا تعاقب کر رہے تھے اور کچھ مالِ غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہو گئے۔”

 حکم عدولی کی وجوہات

“جب جنگ احد میں صحابہ کرام کو تیر اندازوں نے دیکھا کہ مشرکین بھاگ رہے ہیں اور مسلمان فتح یاب ہو چکے ہیں تو ان میں سے اکثر نے کہا:

اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کر دی ہے، بخدا اب ہم یہاں نہیں بیٹھیں گے۔”

حضرت عبداللہ بن جبیر  ؓنے انہیں روکنے کی کوشش کی اور نبی کریم ﷺ کا حکم یاد دلایا، مگر وہ اس اجتہاد پر قائم ہو گئے کہ فتح ہو چکی ہے، اب ٹھہرنے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ وہ درّہ چھوڑ کر نیچے اتر آئے۔

امام بیہقی ؒ روایت کرتے ہیں:

“فَقَالُوا: قَدْ أَنْجَزَ اللهُ لِإِخْوَانِنَا النَّصْرَ، وَاللهِ لَا نَقْعُدُ هَاهُنَا أَبَدًا”

“انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے ہمارے بھائیوں سے نصرت کا وعدہ پورا فرما دیا ہے، بخدا ہم یہاں ہرگز نہیں بیٹھیں گے۔”

دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد ۳، صفحہ ۲۱۱

خالد بن ولید کا حملہ اور جنگ کا پانسا پلٹنا

اس وقت خالد بن ولیدجو ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے   مشرکین کے لشکر میں تھے۔ انہوں نے درّے کو خالی دیکھا اور فوجی بصیرت سے کام لیتے ہوئے اپنے دستے کے ساتھ درّے سے گزر کر مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا۔ بھاگتے ہوئے مشرکین بھی پلٹ آئے۔ مسلمان دو طرفہ حملے میں گھر گئے اور جنگ کا نقشہ یکسر بدل گیا۔

ادھر کسی نے بلند آواز سے پکار کر کہا:

“قُتِلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ!”

“رسول اللہ ﷺ شہید کر دیے گئے ہیں! “

“یہ افواہ سن کر مسلمانوں کی رہی سہی ہمت بھی ٹوٹ گئی۔ بہت سے صحابہ کرام  ؓمنتشر ہو گئے۔ ستر صحابہ کرام  ؓشہید ہوئے اور خود نبی کریم ﷺ زخمی ہوئے، آپ کے دانتوں میں سے دائیں جانب کا نچلا دانت  زخمی ہوا اور چہرۂ انور پر بھی زخم آئے۔”

قرآن کریم کا بیان: “الذین تولوا” سے مراد کون ہیں؟

 آیت 155 کی تفسیر و تحلیل

“اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَلَّوۡا مِنۡكُمۡ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِۙ اِنَّمَا اسۡتَزَلَّهُمُ الشَّيۡطٰنُ بِبَعۡضِ مَا كَسَبُوۡا ۚ وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ”

” بیشک وہ لوگ جو تم میں سے پھر گئے جس دن دو فوجیں آمنے سامنے ہوئی تھیں، انہیں شیطان ہی نے لغزش دی ان کے بعض اعمال کے سبب، اور بیشک اللہ نے انہیں معاف فرما دیا۔ بیشک اللہ بخشنے والا، حلم والا ہے۔”

سورۃ آل عمران: ۱۵۵

اس آیت کے 4 اہم نکات

1۔اللہ تعالیٰ نے ان صحابہ کرام  ؓکو “مِنۡكُمۡ”  تم میں سے  فرمایا۔ یہ لفظ خود دلیل ہے کہ وہ مسلمانوں کی جماعت کا حصہ تھے، ان کا ایمان مشکوک نہیں تھا۔

2۔ ان کے پھر جانے کی وجہ شیطان کا بہکانا بتائی گئی ہے، نہ کہ نفاق یا کمزوریِ ایمان۔ فرق واضح ہے: منافقین کا پلٹ جانا ارادی اور سوچا سمجھا تھا جیسا کہ عبداللہ بن ابی نے کیا، مگر صحابہ کرام  ؓکا یہ عمل وقتی لغزش تھا۔

3۔”وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ”اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔ یہ الٰہی اعلانِ معافی ہے جس کے بعد کسی بندے کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان پر الزام دھرے۔

4۔ آیت کا اختتام دو اسمائے حسنیٰ پر ہوا: غَفُوۡرٌ  بخشنے والا  اور حَلِيۡمٌ  حلم والا ۔ غفور فرما کر بخشش کا اظہار کیا اور حلیم فرما کر یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جلدی سزا نہیں دی بلکہ صبر و حلم سے کام لیا اور معاف فرما دیا۔

 سورۃ آل عمران، آیت ۱۵۲

اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

” مِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرِيۡدُ الدُّنۡيَا وَمِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ “

تم میں سے کچھ دنیا چاہتے تھے اور تم میں سے کچھ آخرت چاہتے تھے۔

سورۃ آل عمران: ۱۵۲

دنیا طلبی” کی حقیقت

“اس آیت میں “مِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرِيۡدُ الدُّنۡيَا”  تم میں سے کچھ دنیا چاہتے تھے  کا مفہوم سمجھنا ضروری ہے۔ یہاں مالِ غنیمت جمع کرنے کے اقدام کو “دنیا طلبی” سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مگر غور کیجیے کہ:

یہ صحابہ کرام  ؓدرّے پر سے اترتے یا نہ اترتے، مالِ غنیمت میں سے انہیں وہی حصہ ملنا تھا جو دوسرے مجاہدین کو ملتا

ان کا یہ عمل خالص دنیا طلبی نہیں تھا بلکہ نبی کریم ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی میں مال غنیمت کا خیال آنے کو “دنیا طلبی” کہا گیا

یہ محبوبانہ عتاب ہے، نہ کہ قطعی الزام

اور سب سے اہم بات یہ کہ فوراً ساتھ معافی کا اعلان بھی فرما دیا:

“وَلَقَدۡ عَفَا عَنۡكُمۡ”

 اور بیشک اس نے تمہیں معاف کر دیا۔”

   سورۃ آل عمران، آیت ۱۵۹   

معافی کا حکم

 ” فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانۡفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ ۖ فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ “

” تو اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ اے محبوب! آپ ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر آپ تند مزاج، سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے۔ پس آپ ان سے درگزر فرمائیں اور ان کے لیے بخشش کی دعا کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ لیں۔”

  سورۃ آل عمران: ۱۵۹ 

   اس آیت میں چار احکام

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو  تین باتوں  کا حکم دیا:

1.  فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ   ان سے معاف فرمائیں

2.  وَاسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ    ان کے لیے بخشش کی دعا کریں

3.  وَشَاوِرۡهُمۡ فِى الۡاَمۡرِ    آئندہ بھی ان سے مشورہ لیں

غور فرمائیں! اللہ تعالیٰ پہلے خود معاف فرما چکے ہیں، اب اپنے نبی ﷺ سے کہہ رہے ہیں کہ آپ بھی معاف کریں۔ بلکہ اس سے بڑھ کر ان کے لیے  استغفار  بھی فرمائیں تاکہ کمالِ محبت کا اظہار ہو۔ اور سب سے حیرت انگیز بات یہ کہ آئندہ بھی ان سے مشورہ لینے کا حکم دیا تاکہ ان کی دلجوئی ہو اور انہیں یہ احساس نہ ہو کہ ان کی غلطی کی وجہ سے ان کی قدر و منزلت کم ہو گئی ہے۔

جنگ احد میں صحابہ کرام کے منتشر ہونے کی وجوہات

  پہلی وجہ:

“یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ صحابہ کرام  ؓکا درّہ چھوڑنا  خطائے اجتہادی  تھا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے حکم کو سمجھا، مگر جب انہوں نے دیکھا کہ فتح حاصل ہو چکی ہے تو انہوں نے اجتہاد کیا کہ اب رکنے کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ اجتہاد میں غلطی تھی، عمداً حکم عدولی نہیں تھی”۔

 مجتہد جب غلطی کرے تو بھی اسے ایک اجر ملتا ہے،  جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

 ” إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ”

 جب حاکم فیصلہ کرے اور اجتہاد کرے پھر صحیح نتیجے پر پہنچے تو اس کے لیے دو اجر ہیں، اور جب وہ فیصلہ کرے اور اجتہاد کرے پھر غلطی کر بیٹھے تو بھی اس کے لیے ایک اجر ہے۔

  صحیح البخاری: ۷۳۵۲، صحیح مسلم: ۱۷۱۶ 

  دوسری وجہ:

“وہ صحابہ کرام  ؓجو جنگ کی ابتداء سے مورچے پر مامور تھے، انہیں میدانِ جنگ میں اتر کر لڑائی کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ اگرچہ مورچہ سنبھالنے اور پہرے کا ثواب انہیں مل رہا تھا، مگر انہوں نے یہ سمجھا کہ میدان میں اتر کر بہادری سے لڑنے اور کفار کو شکست دینے کا الگ ثواب بھی حاصل ہونا چاہیے۔

جب انہیں  دشمن کی شکست اور لشکرِ اسلام کی فتح کا یقین  ہو گیا تو وہ نیچے اترے تاکہ  دونوں اجر  حاصل کر سکیں: مورچے کا بھی اور میدانِ جہاد کا بھی۔ اس لحاظ سے ان کا یہ عمل ایک نیک نیتی پر مبنی تھا اگرچہ حکم عدولی کی وجہ سے نتائج سنگین ثابت ہوئے”۔

  تیسری وجہ:

“جب خالد بن ولید نے درّے سے گزر کر اچانک حملہ کیا اور مسلمان دو طرفہ محاصرے میں آ گئے تو قدرتی طور پر  ہراس و خوف  کا غلبہ ہوا۔ اس پر مزید یہ کہ  “رسول اللہ ﷺ شہید ہو گئے”  کی افواہ نے مسلمانوں کی ہمت توڑ دی۔

   دشمن کی تعداد تین ہزار  تھی جبکہ  مسلمان سات سو  تھے  عبداللہ بن ابی کے تین سو ساتھیوں کے واپس جانے کے بعد

  اچانک حملے نے غیر متوقع صورتحال پیدا کر دی

  نبی کریم ﷺ کی شہادت کی افواہ نے معنوی حوصلہ توڑ دیا

ان حالات میں قدم اکھڑنا  بشری تقاضا  تھا، نہ کہ نفاق یا بزدلی کا اظہار۔”

   مفسرین کا اختلاف: اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں؟

  پہلا قول:

بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اس دن مشرکین کے مقابلے سے پیچھے ہٹا۔ جنگِ اُحد میں  چودہ صحابہ  ؓ  کے سوا   جن میں  حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت علی المرتضیٰ  ؓ  شامل ہیں   باقی صحابہ کرام  ؓکے قدم اکھڑ گئے تھے۔

 قتادہ ؒبیان کرتے ہیں:

 ” اس سے مراد جنگِ اُحد کے دن قتال سے بھاگنے والے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور یہ عمل شیطان کے بہکانے اور اس کے ڈرانے کی وجہ سے ہوا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔”

  جامع البیان لابن جریر، جلد ۴، صفحہ ۹۶ 

  دوسرا قول:

 عکرمہ ؒبیان کرتے ہیں:

  یہ آیت رافع بن معلّیٰ، دیگر انصار، ابوحذیفہ بن عتبہ اور ایک اور شخص کے متعلق نازل ہوئی۔

  جامع البیان لابن جریر، جلد ۴، صفحہ ۹۶ 

 ابن اسحاق ؒبیان کرتے ہیں:

”  حضرت عثمان بن عفان، حضرت عقبہ بن عثمان، حضرت سعد بن عثمان  ؓاور دو انصاری جنگِ اُحد کے دن بھاگ گئے، حتی کہ مدینہ کی ایک جانب  جَلْعَب  نامی پہاڑ کے پاس پہنچ گئے۔ تین دن بعد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا:  تم بہت دور چلے گئے تھے۔ “

  جامع البیان لابن جریر، جلد ۴، صفحہ ۹۶ 

   حضرت عثمان غنی  ؓپر طعن کا مفصل جواب

  صحیح بخاری کی روایت: حضرت عبداللہ بن عمر  ؓا کا شاندار جواب

 عثمان بن مَوْہَب  فرماتے ہیں:

“ایک شخص بیت اللہ کے حج کے لیے آئے تھے۔ دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہیں۔ پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: قریش ہیں۔ پوچھا: ان میں شیخ کون ہیں؟ بتایا:  عبداللہ بن عمر  ؓا ۔

وہ شخص آئے اور تین سوالات کیے:

 پہلا سوال:  کیا عثمان  ؓنے غزوۂ اُحد میں فرار اختیار کیا تھا؟

 جواب:  ہاں۔

 دوسرا سوال:  کیا عثمان  ؓبدر کی لڑائی میں شریک نہیں تھے؟

 جواب:  ہاں۔

 تیسرا سوال:  کیا عثمان  ؓبیعتِ رضوان میں غائب تھے؟

 جواب:  ہاں۔

اس شخص نے خوشی سے  “اللہ اکبر”  کا نعرہ لگایا   گویا اسے لگا کہ اس نے حضرت عثمان  ؓکو نیچا دکھا دیا ہے۔

مگر حضرت عبداللہ بن عمر  ؓا نے فرمایا:  “رُکو! ان تینوں کی حقیقت بھی سن لو!”

  “أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللهَ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ”

 جہاں تک اُحد کے دن بھاگنے کا تعلق ہے تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر فرمایا اور انہیں بخش دیا۔

   دوسرے سوال کا جواب:

  رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی  سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا  ان کے نکاح میں تھیں اور بیمار تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے خود انہیں ان کی تیمارداری کے لیے روکا تھا اور فرمایا:

  “لَكَ أَجْرُ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمُهُ”

   تمہیں بدر میں شریک ہونے والے کے برابر ثواب ملے گا اور مالِ غنیمت میں سے حصہ بھی ملے گا۔

   تیسرے سوال کا جواب:

  نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان  ؓکو اپنا سفیر بنا کر مکہ بھیجا تھا۔ وادیِ مکہ میں ان سے زیادہ ہر دل عزیز اور بااثر کوئی نہیں تھا۔ بیعتِ رضوان کے وقت نبی کریم ﷺ نے  اپنا دایاں ہاتھ اٹھا کر  فرمایا:

  “هٰذِهِ يَدُ عُثْمَانَ”

   یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔

  پھر اسے اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر عثمان  ؓکی طرف سے بیعت فرمائی۔

حضرت عبداللہ بن عمر  ؓا نے فرمایا:

” اِذْهَبْ بِهَا الْآنَ مَعَكَ! “

   اب ان جوابات کو بھی اپنے ساتھ لے جا!  یعنی جن باتوں سے تو انہیں نیچا دکھانا چاہتا تھا، وہی ان کی عظمت کے نشانات ثابت ہوئیں ۔”

  صحیح البخاری: ۴۰۶۶ 

  حضرت عثمان غنی  ؓکے مناقب

“حضرت عثمان غنی  ؓپر الزام دھرنے والوں کو ان کی عظمت کے چند پہلو یاد رکھنے چاہئیں:

   عشرۂ مبشرہ:  نبی کریم ﷺ نے ان کو اپنی زبانِ مبارک سے کئی بار جنت کی بشارت دی

   ذوالنورین:  نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیوں   سیدہ رقیہ اور سیدہ ام کلثوم  ؓکے شوہر بنے”

   بئرِ رومہ:  اس کنویں کو عامۃ المسلمین کے لیے وقف فرمایا

   غزوۂ تبوک:  سب سے زیادہ فیاضی سے مال خرچ کیا جس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

 “مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ”

   آج کے بعد عثمان پر کسی عمل کا مؤاخذہ نہیں!

  سنن الترمذی: ۳۷۰۱ 

   جمعِ قرآن:  تمام مسلمانوں کو ایک مصحف پر جمع فرمایا اور ملتِ اسلامیہ کو بڑے افتراق سے محفوظ فرمایا

ان اعلیٰ مناقب کے تناظر میں کوئی صاحبِ ایمان اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ حضرت عثمان  ؓپر الزام درست ہو سکتا ہے۔

 امام نصر بن محمد سمرقندی ؒ روایت کرتے ہیں:

“حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف  ؓا کے درمیان بحث ہوئی۔ حضرت عبدالرحمٰن نے فرمایا: آپ مجھے برا کہتے ہیں حالانکہ میں جنگِ بدر میں حاضر ہوا اور آپ نہیں ہوئے، میں نے درخت کے نیچے بیعتِ رضوان کی اور آپ نے نہیں کی، اور آپ جنگِ اُحد کے دن بھاگ گئے۔

 حضرت عثمان  ؓنے فرمایا:

  جنگِ بدر میں غیر حاضری کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی بیمار تھیں اور میں ان کی تیمارداری میں مشغول تھا اور آپ نے مجھے مالِ غنیمت میں برابر حصہ دیا۔ بیعتِ رضوان کا معاملہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے مکہ بھیجا تھا اور اپنے دائیں ہاتھ سے میری بیعت فرمائی   اور آپ کا دایاں ہاتھ میرے دونوں ہاتھوں سے بہتر ہے۔  اور جنگِ اُحد میں بھاگنے کی بات ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرما دیا  اور آیت نازل فرمائی:

“وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ””

  تفسیر سمرقندی، جلد ۱، صفحہ ۳۱۰ 

 اہل سنت کا عقیدہ: محفوظ الصحابہ کا تصور

“اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرام  ؓ معصوم  نہیں بلکہ  محفوظ  ہیں۔ ان دونوں میں فرق ہے:

   معصوم  وہ ہے جس سے گناہ کا صدور ہی نہ ہو   یہ مقام صرف انبیاء ؑ کا ہے

   محفوظ  وہ ہے جس سے بشری تقاضوں کے مطابق کبھی کوئی لغزش ہو جائے تو اللہ عزوجل اس کے ذمے میں وہ گناہ باقی نہیں رہنے دیتا   یعنی دنیا میں ہی معافی مل جاتی ہے اور آخرت کے عذاب سے محفوظ ہو جاتے ہیں،”

  اللہ تعالیٰ کا وعدہ: تمام صحابہ جنتی ہیں

  “وَالسَّابِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ”

” اور سبقت لے جانے والے   مہاجرین اور انصار میں سے   سب سے پہلے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔”

  سورۃ التوبۃ: ۱۰۰ 

اسی طرح فرمایا:

 ” لَقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّكِيۡنَةَ عَلَيۡهِمۡ وَاَثَابَهُمۡ فَتۡحًا قَرِيۡبًا”

” بیشک اللہ مومنوں سے راضی ہوا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے، اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں تھا، پس اس نے ان پر سکینت نازل فرمائی اور انہیں قریب کی فتح عطا فرمائی۔”

  سورۃ الفتح: ۱۸ 

  ایک اور جگہ فرمایا

 “وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى”    اللہ تعالیٰ نے  تمام صحابہ  سے  حسنیٰ   جنت  کا وعدہ فرمایا ہے، خواہ وہ فتحِ مکہ سے پہلے والے ہوں یا بعد والے۔

   احادیثِ مبارکہ: صحابہ کرام  ؓسے درگزر کا حکم

  “دَعُوا لِي أَصْحَابِي، لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي “

 میری خاطر میرے صحابہ سے درگزر کرو، میرے صحابہ کو برا مت کہو۔

  مسند البزار، جلد ۳، صفحہ ۲۹۴، رقم: ۲۷۷۹ 

علامہ ہیثمی ؒ فرماتے ہیں:  رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ    اس حدیث کے تمام راوی صحیح بخاری کے ہیں۔   مجمع الزوائد: ۱۰/۲۱  

  دوسری حدیث: میرے صحابہ کا خیال رکھو

”   اِحْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي “

 لوگو! میری وجہ سے میرے صحابہ کا خیال رکھو، ان کی رعایت کرو۔

  سنن ابن ماجہ: ۲۳۶۳، مسند احمد: ۱/۲۶ 

  تیسری حدیث: صحابہ کا ذکر ہو تو خاموش رہو

”  إِذَا ذُكِرَ أَصْحَابِي فَأَمْسِكُوا، وَإِذَا ذُكِرَتِ النُّجُومُ فَأَمْسِكُوا، وَإِذَا ذُكِرَ الْقَدَرُ فَأَمْسِكُوا “

 “جب میرے صحابہ کا ذکر کیا جائے تو  بحث و تکرار سے  خاموش رہو، جب ستاروں کا ذکر کیا جائے تو خاموش رہو، اور جب تقدیر کا ذکر کیا جائے تو خاموش رہو۔”

  المعجم الکبیر للطبرانی، السلسلۃ الصحیحۃ: ۳۴ 

  چوتھی حدیث: صحابہ کے خطاکاروں سے درگزر کرو

”   فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ”

 “ان کے نیکوکاروں کی نیکیوں کا اعتراف کرو اور ان کے خطاکاروں کی لغزشوں سے درگزر کرو۔”

  صحیح البخاری: ۳۷۹۹ 

حضرت عائشہ   ؓسےروایت ہے:

”   أَكْرِمُوا أَكْرَمَهُمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ “

 “ان کے محترم حضرات کی تکریم کرو اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرو۔”

 ثابت قدم رہنے والے صحابہؓ کی لا زوال داستانیں

  حضرت انس بن نضر  ؓکی شجاعت

“جب یہ افواہ پھیلی کہ نبی کریم ﷺ شہید ہو گئے ہیں تو بعض صحابہ نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ ہی نہیں رہے تو اب لڑنے سے کیا فائدہ! مگر  حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ  نے بلند آواز سے فرمایا:

   اگر رسول اللہ ﷺ شہید ہو گئے ہیں تو کیا تم اپنے دین کی حمایت میں نہیں لڑو گے؟ اپنے دین کے لیے لڑتے رہو حتیٰ کہ شہید ہونے کی حالت میں اللہ سے ملاقات کرو!

پھر وہ خود کفار میں گھس گئے اور اس قدر لڑے کہ ان کے جسم پر  اسّی  ۸۰  سے زائد زخم  آئے اور وہ شہید ہو گئے۔ ان کے جسم کو ان کی بہن نے صرف  انگلیوں کے پوروں  سے پہچانا۔   “صحیح البخاری: ۲۸۰۵  

  حضرت طلحہ اور حضرت زبیر  ؓ

حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور حضرت زبیر بن عوام  ؓا نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑے رہے اور اپنے آپ کو آپ ﷺ کے لیے  ڈھال  بنا لیا۔

 حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ  نے اپنا ہاتھ نبی کریم ﷺ کے چہرے کے سامنے رکھ دیا اور تلوار کی ضرب اپنے ہاتھ پر لی جس سے ان کا ہاتھ مفلوج ہو گیا۔   صحیح البخاری: ۴۰۶۳  

“میں خود جب مدینہ منورہ میں جبل احد کی زیارت پر گیا  تو  وہاں جو ہوا وہاں کھڑے ہو کران لمحات اور احساسات کو  محسوس کیا تو میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ خاص طور پر جب میں نے وہ مقام دیکھا جہاں حضرت انس بن نضرؓ نے کہا تھا کہ “اگر رسول اللہ ﷺ شہید ہو گئے ہیں تو اپنے دین کے لیے لڑو”، تب مجھے اندازہ ہوا کہ یہ صرف تاریخ نہیں تھی  بلکہ ایمان کی آزمائش تھی”۔

  حضرت کعب بن مالک  ؓکی پکار

نبی کریم ﷺ کا پتہ چلنے کے بعد سب سے پہلے  حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ  نے آپ کو دیکھا۔ آپ کا چہرۂ انور  مِغفَر   خود  میں ڈھکا ہوا تھا، صرف آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔ انہوں نے آنکھوں سے پہچان لیا اور بلند آواز سے پکارے:

   “اللهُ أَكْبَرُ! هٰذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! “

 اللہ اکبر! یہ ہیں رسول اللہ ﷺ!

  دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد ۳، صفحہ ۲۱۱ 

   عقلی دلائل: صحابہ کرام  ؓپر طعن کیوں درست نہیں؟

  پہلی عقلی دلیل:

سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ اگر خود خالقِ کائنات نے معاف فرما دیا، اپنے کلامِ مقدس میں اعلانِ معافی فرمایا، تو کسی بشر کو یہ حق کہاں سے ملتا ہے کہ وہ ان پر الزام لگائے؟

حضرت عبداللہ بن مسعود  ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

  ” اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ”

 گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا۔

  سنن ابن ماجہ: ۴۲۵۰ 

جب توبہ کے بعد گناہ نہیں رہتا تو جسے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام میں معاف فرما دیا، اس پر الزام رکھنا کیسے جائز ہو سکتا ہے؟

  دوسری عقلی دلیل:

“صحابہ کرام  ؓقربِ خداوندی اور قربِ نبوی ﷺ کے اس مقام پر فائز تھے کہ جہاں ان کی ظاہری لغزش پر بھی  محبوبانہ عتاب  نازل ہوا   نہ کہ عذاب یا لعنت۔ اور جہاں عتاب نازل ہوا، وہیں معافی کا اعلان بھی فرما دیا۔”

یہ اس مقام پر ہوتا ہے جہاں  محبت بہت شدید  ہو:

  عتاب اس لیے کہ قرب کا تقاضا ہے

  فوری معافی اس لیے کہ محبت کا تقاضا ہے

  بار بار معافی کا اعلان اس لیے کہ کمالِ محبت کا اظہار مقصود ہے

  تیسری عقلی دلیل:

“صحابہ کرام  ؓکی پوری زندگی کا جائزہ لیجیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے:

  اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے اپنے گھر بار چھوڑے

  ہجرت کی مشقتیں برداشت کیں

  متعدد غزوات میں اپنی جانیں قربان کیں

  دین کی نشر و اشاعت میں اپنا سب کچھ لٹا دیا

ایک لمحاتی لغزش پر ان کی پوری زندگی کو فراموش کر دینا انصاف نہیں، ظلم ہے۔”

  چوتھی عقلی دلیل:

“یہ واقعہ  تکوینی طور پر  صحابہ کرام  ؓسے کرایا گیا تاکہ:

1. اللہ عزوجل کی ان سے محبت سب کے سامنے آشکار ہو

2. عتاب کے ساتھ ساتھ فوری معافی کا اعلان ہو

3. آئندہ نسلوں کے لیے نبی کریم ﷺ کے حکم کی تعمیل کی اہمیت واضح ہو

4. یہ سبق ملے کہ فتح صرف اللہ کی طرف سے ہے اور حکمِ الٰہی و نبوی کی پابندی ضروری ہے”

   غزوۂ بدر کے قیدیوں کا معاملہ: موازنہ و مقارنہ

“غزوۂ بدر میں مشرکینِ مکہ کے ستر قیدی ہوئے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی رحم دلی اور حضرت ابوبکر صدیق  ؓکے مشورے پر ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا۔ مگر اللہ عزوجل کو یہ فیصلہ پسند نہ آیا تو عتاب نازل ہوا:

   “تُرِيۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡيَا وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ الۡاٰخِرَةَ ؕ وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ “

 تم دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو  یعنی آخرت کی مصلحت کو  چاہتا ہے۔ اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔”

  سورۃ الأنفال: ۶۷ 

پھر فرمایا:

   “لَوۡلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمۡ فِيۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ “

 اگر اللہ کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہوتی تو جو تم نے لیا اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا۔

  سورۃ الأنفال: ۶۸ 

“اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مالِ غنیمت کے کھانے کی اجازت دی اور  “إِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ”  فرما کر معافی کا اظہار بھی فرما دیا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ  “تُرِيۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡيَا”  کا مصداق خود  نبی کریم ﷺ  بھی ہیں کیونکہ فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ آپ ﷺ کا بھی تھا۔ اب اگر کوئی سورۂ آل عمران کی آیت  “مِنۡكُمۡ مَّنۡ يُّرِيۡدُ الدُّنۡيَا”  سے صحابہ کرام  ؓکو دنیا طلبی کا طعنہ دیتا ہے تو وہ فیصلہ کرے کہ سورۂ الأنفال میں اسی نوعیت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مصداق کون ہیں؟  جب اللہ عزوجل نے دونوں مقامات پر معاملہ رفع فرما دیا ہے تو اس کے بعد طعن کرنا بد باطنی کے سوا کچھ نہیں۔ “

   دیگر صحابہ کرام  ؓکی لغزشیں اور ان سے درگزر

  حضرت حاطب بن ابی بلتعہ   ؓ

فتحِ مکہ سے پہلے حضرت حاطب  ؓنے مشرکینِ مکہ کو خفیہ طور پر خط لکھا جس میں مسلمانوں کی فوجی تیاریوں کی اطلاع دی۔ یہ ایک سنگین غلطی تھی۔ حضرت عمر  ؓنے ان کے قتل کی اجازت مانگی مگر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

”   إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ “

 وہ اہلِ بدر میں سے ہیں۔ تمہیں کیا خبر، شاید اللہ نے اہلِ بدر کو دیکھ کر فرما دیا ہو: جو چاہو کرو، میں نے تمہیں بخش دیا!

  صحیح البخاری: ۳۰۰۷، صحیح مسلم: ۲۴۹۴ 

  حضرت نعمان بن عمرو   ؓ

یہ بدری صحابی ہیں جنہوں نے شراب پی   بعض روایات میں  چار بار  شراب پینے کا ذکر ہے   اور ہر بار انہیں حد لگائی گئی۔ ایک صحابی نے کہا: اللہ کی اس پر لعنت ہو! نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

   “لَا تَلْعَنُوهُ، فَوَاللهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ”

 اسے لعنت مت کرو! اللہ کی قسم، میں جانتا ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔

  صحیح البخاری: ۶۷۸۰ 

  حضرت ماعز بن مالک   ؓ

“ان سے زنا کا جرم سرزد ہوا، ان پر حد نافذ کی گئی اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

   “لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ “

 اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ  پوری  امت میں تقسیم کی جائے تو کفایت کر جائے۔”

  صحیح مسلم: ۱۶۹۵ 

سید محمود آلوسی ؒفرماتے ہیں:

”  اگر کسی صحابی سے امورِ فسق میں سے کوئی عمل ثابت ہوتا ہے تو اس کے قطعاً یہ معنیٰ نہیں کہ وہ اسی فسق پر فوت ہوئے ہیں۔ ہم توبہ سے پہلے تو اسے فاسق کہیں گے لیکن یہ نہیں کہ وہ اس فسق پر قائم رہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی  صحبت کی برکت  اور ان اوصاف کے سبب جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بیان فرمائے ہیں، وہ اس پر قائم نہیں رہتے اور  اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق عطا فرما دیتا ہے ۔”

  تفسیر روح المعانی، جلد ۲۶، صفحہ ۱۳۳ 

   حضرت مسطح  ؓکے معاملے سے استدلال

واقعۂ اِفک میں حضرت مسطح  ؓسے سنگین غلطی ہوئی   انہوں نے حضرت سیدہ عائشہ   ؓ پر تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق  ؓنے ان کا خرچہ بند کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

” وَلَا يَاۡتَلِ اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡكُمۡ وَالسَّعَةِ اَنۡ يُّؤۡتُوۡۤا اُولِى الۡقُرۡبٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَالۡمُهٰجِرِيۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ۖ وَلۡيَعۡفُوۡا وَلۡيَصۡفَحُوۡا ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَكُمۡ ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ “

 اور تم میں سے فضل والے اور وسعت والے قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو نہ دیں گے، بلکہ معاف کریں اور درگزر کریں۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخشے؟ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

  سورۃ النور: ۲۲ 

یہاں بھی  درگزر اور معافی  کا حکم دیا گیا۔

   صحابہ کرام  ؓکے باہمی اختلافات کے بارے میں اصول

صحابہ کرام  ؓکے درمیان جو باہمی اختلافات ہوئے   جیسے جنگِ جمل اور جنگِ صفین   یہ سب  اجتہادی امور  پر مبنی تھے:

   حضرت علی   ؓاور ان کے رفقاء اپنے اجتہاد میں  حق پر  تھے   انہیں  دو اجر  ملیں گے

   حضرت معاویہ   ؓاور ان کی جماعت کو اجتہاد میں  خطا  لاحق ہوئی   انہیں  ایک اجر  ملے گا۔

ان میں سے کسی فریق پر بھی طعن کرنا جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ  ؓسے  عاقبتِ حسنیٰ  کا وعدہ فرمایا ہے۔

   دشمنانِ صحابہ کا حقیقی چہرہ

“صحابہ کرام  ؓپر الزامات کا سلسلہ  عبداللہ بن سبا یہودی  سے شروع ہوا جس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر فتنے کے بیج بوئے۔ یہ سلسلہ آج تک اس کی  معنوی ذریت  کی طرف سے جاری ہے۔

 حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒنے “تحفۂ اثنا عشریہ” میں روافض کی طرف سے حضرت عثمان  ؓپر لگائے جانے والے اعتراضات کا مفصل رد کیا ہے۔”

  معروف رافضی ابن المطہر الحلّی

اس نے بھی “منہاج الکرامۃ” میں اس طعن و تشنیع کا ذکر کیا ہے جن کا  شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒنے “منہاج السنۃ النبویۃ” میں شافی اور کافی جواب دیا ہے۔

میرے خیال میں، ہمیں سب کچھ جانتے  بوجھتے اس واقعے سے یہ سبق سیکھنا اور لینا چاہیے کہ بشری  کمزوری اورمنافقت میں فرق کرنا سیکھیں۔ ایسانہیں ہو سکتا  کہ عوام الناس کی سطحی سوچ پر  لوگ ایک لمحے کی غلطی کو پوری زندگی کا جرم بنا دیتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ کی مثال دے کر ہمیں سبق  سکھایا کہ توبہ اور معافی کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو مجھے اس موضوع میں سب سے زیادہ متاثر  بھی کرتی ہے اور اللہ پر یقین بھی بڑھاتی ہے۔

نتیجہ

“غزوۂ اُحد کا واقعہ ہمارے لیے  سبق آموز  ہے، نہ کہ صحابہ کرام  ؓپر  طعن کا بہانہ ۔ اس واقعے سے ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ:

  نبی کریم ﷺ کے ہر حکم کی تعمیل واجب ہے۔

  اجتہادی غلطی پر مؤاخذہ نہیں ہوتا بلکہ اجر ملتا ہے۔

  فتح و نصرت صرف اللہ کی طرف سے ہے

  صحابہ کرام  ؓبشر تھے، معصوم نہیں تھے، مگر محفوظ تھے

  اللہ تعالیٰ نے ان سب سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے

 اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام  ؓاجمعین کی محبت اور ان کے ادب و احترام پر قائم رکھے۔ آمین “

ستر شہداء احد کی فہرست

تحقیق و تصنیف: ڈاکٹر مولانا عمران خان

ویب سائٹ :https://onlinemufti.org
یوٹیوب چینل:  online mufti official

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *