احسنِ تقویم اور انسان کی فضیلت: اشرف المخلوقات کا حقیقی مقام اور ہماری زمینی حقیقت
🔑 Main Keyword: احسنِ تقویم اور انسان کی فضیلت
📄 Meta Description: قرآن کی روشنی میں احسنِ تقویم اور انسان کی فضیلت کا مفہوم، انسانی وقار، اخلاقی ذمہ داریاں اور جدید معاشرتی چیلنجز پر تفصیلی مضمون۔
تمہید: انسان کی تخلیق اور قرآن کی رہنمائی
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ﴾ (سورہ التین، آیت 4)
یہ آیت مبارکہ انسان کے بلند مقام اور عظمت کو واضح کرتی ہے۔ قرآن کا یہ پیغام ہماری روزمرہ زندگی، سماجی رویوں اور اخلاقی ذمہ داریوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیگر مخلوقات کے مقابلے میں خاص فضیلت عطا کی ہے۔ انسان کو عقل، شعور، سیکھنے کی صلاحیت، فیصلہ کرنے کی طاقت اور معاشرتی نظام کو سمجھنے کی اہلیت دی گئی ہے۔
لیکن احسنِ تقویم کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان ہمیشہ جسمانی لحاظ سے مکمل اور بے عیب ہوگا۔ انسانی زندگی میں بیماریاں، معذوریاں اور حادثات پیش آ سکتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور آزمائش کا حصہ ہیں۔
احسنِ تقویم اور انسان کی فضیلت کا حقیقی مفہوم
اکثر لوگ احسنِ تقویم اور انسان کی فضیلت کو صرف ظاہری خوبصورتی، طاقت یا صحت سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ یہ تصور درست نہیں ہے۔ اگر جسمانی طاقت معیار ہوتی تو ہاتھی انسان سے افضل ہوتا، اور اگر بینائی معیار ہوتی تو عقاب انسان سے بہتر ہوتا۔
انسان کی بہترین ساخت دراصل اس کے اخلاقی وجود، شعور اور قوتِ فیصلہ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ صلاحیت عطا کی ہے کہ وہ اپنی جبلت کے خلاف جا کر اصولوں کا انتخاب کر سکتا ہے۔ بھوک کے باوجود روزہ رکھنا، غصہ آنے کے باوجود معاف کر دینا، اور طاقت ہونے کے باوجود ظلم نہ کرنا، یہی وہ صفات ہیں جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتی ہیں۔
انسانی زندگی کی حقیقت اور اللہ کی حکمت
انسانی زندگی میں سب سے بڑی حقیقت موت ہے، جو کسی بھی لمحے آ سکتی ہے۔ اسی طرح حمل کا ضائع ہو جانا، جسمانی اعضاء کا غیر متوازن ہونا، نابینا یا مفلوج ہو جانا بھی انسانی زندگی کا حصہ ہے۔
یہ حالات انسان کو انسانیت سے خارج نہیں کرتے بلکہ:
کبھی یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتے ہیں
کبھی درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتے ہیں
کبھی اصلاح اور تربیت کا ذریعہ ہوتے ہیں
اور بعض اوقات یہ انسان کے اعمال کا نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر حالت میں انسان کا وقار اور عزت برقرار رہتی ہے۔
عملی مثالوں سے احسنِ تقویم کی وضاحت
احسنِ تقویم کو سمجھنے کیلئے عملی مثالیں نہایت اہم ہیں۔
مثال نمبر 1
فرض کریں ایک خوبصورت اور صحت مند ہرنی کا بچہ کھیل رہا ہے جبکہ ایک ذہنی و جسمانی طور پر معذور انسان آپ کی مدد کا منتظر ہے۔ اگر آپ کے پاس صرف ایک کو بچانے کا موقع ہو تو آپ انسان کو ترجیح دیں گے، چاہے وہ معذور ہی کیوں نہ ہو۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کی فضیلت جسمانی حالت سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت سے وابستہ ہے۔
مثال نمبر 2
اگر کسی جانور کے ساتھ غیر فطری عمل ہو تو دنیا میں زیادہ ردعمل نہیں ہوتا، لیکن اگر یہی عمل کسی انسان کے ساتھ ہو تو پوری دنیا انصاف کے لیے آواز اٹھاتی ہے۔ یہ بھی انسان کے بلند مقام کو ظاہر کرتا ہے۔
مسلم معاشرے کا موجودہ بحران
آج مسلم معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے احسنِ تقویم اور انسان کی فضیلت کی حقیقت کو نظر انداز کر دیا ہے۔
ظاہری خوبصورتی کا جنون
آج انسان کی قدر اس کے کردار اور تقویٰ سے نہیں بلکہ اس کی دولت، رنگت اور سماجی حیثیت سے کی جاتی ہے۔ جب ہم کسی معذور یا غریب شخص کو حقارت سے دیکھتے ہیں تو دراصل ہم قرآن کی تعلیمات سے دور ہو جاتے ہیں۔
علم سے دوری
مسلمانوں نے تحقیق، علم اور ایجاد کو چھوڑ دیا ہے۔ جو امت کبھی دنیا میں علم و تحقیق کی رہنما تھی، آج دوسروں کی محتاج نظر آتی ہے۔
جدید دور کے سماجی چیلنجز
احساسِ کمتری اور ڈپریشن
سوشل میڈیا نے نوجوان نسل میں احساسِ کمتری پیدا کر دیا ہے۔ لوگ اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرتے ہیں اور خود کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسے حالات میں احسنِ تقویم کا تصور انسان کو اعتماد دیتا ہے کہ اس کی اصل قدر اس کے کردار اور ارادے میں ہے۔
جسمانی نقص اور انسانی وقار
اگر کوئی شخص پیدائشی طور پر معذور ہو یا کسی حادثے کا شکار ہو جائے تو اس کا انسانی مقام کم نہیں ہوتا۔ تاریخ میں سٹیفن ہاکنگ اور نابینا حفاظِ قرآن اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ہمیں معاشرے میں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ معذوری انسان کی توہین کا جواز نہیں بلکہ آزمائش ہے۔
احسنِ تقویم کا عملی اطلاق
1۔ خود شناسی
ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی قدر پہچانے۔ اگر کوئی شخص بیمار، بے روزگار یا مشکلات کا شکار ہے تب بھی اللہ نے اسے بہترین بنایا ہے۔ انسان کی روح اور شعور اس کے جسم سے زیادہ قیمتی ہیں۔
2۔ معاشرتی رویہ
معاشرے میں کمزور، معذور اور پسماندہ افراد کے ساتھ عزت اور محبت کا رویہ اپنانا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔ جب ہم کسی معذور بچے کو محبت دیتے ہیں تو دراصل اللہ کی تخلیق کی تعظیم کرتے ہیں۔
3۔ علم اور کردار کی اصلاح
مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اخلاق، علم اور تحقیق میں دنیا کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ جھوٹ، دھوکہ اور بددیانتی انسان کو پستی میں گرا دیتی ہے، جسے قرآن میں “اسفل السافلین” کہا گیا ہے۔
نتیجہ: احسنِ تقویم ایک مسلسل سفر
درحقیقت احسنِ تقویم اور انسان کی فضیلت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کی جسمانی صحت، طاقت یا رنگ و نسل میں نہیں بلکہ اس کے شعور، اخلاق اور کردار میں ہے۔ قرآن نے ہر انسان کو عزت اور وقار عطا کیا ہے، چاہے وہ بیمار ہو، معذور ہو یا کسی بھی قوم و نسل سے تعلق رکھتا ہو۔
احسنِ تقویم کوئی جامد خوبصورتی نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے۔ انسان زندگی کی مشکلات، آزمائشوں اور چیلنجز کے ذریعے اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو حیوانی سطح سے بلند کر کے روحانی اور اخلاقی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔
